ادب کی دنیا میں بے ادب لوگ


میرا ایک پسندیدہ قول، جو میں اکثر فیس بک پر لگائی گئیں تحریروں پر، بحث و مباحثہ کے درمیان، اپنے تبصرے میں لکھتا ہوں :
”پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں“

یہ قول پہلی دفعہ فریڈرک ریوکرٹ ( 1788۔ 1866 ) نامی جرمن شاعر، جو عربی، فارسی، عبرانی، ہندی اور چینی زبانوں کے مترجم بھی تھے، نے استعمال کیا تھا۔

15.11.2022 کو آٹھ ارب کے ہندسے ( 1970 کی آبادی کا دگنا) کو چھونے والی وسیع و عریض آ بادی میں ہر شعبے کے لوگ بستے ہیں جن میں، جرمنی کے محکمہ شماریات کے مطابق، صرف جرمنی ہی میں، تقریباً 27 ملین باشندے کتابوں کے خریدار ہیں۔ 2023 ء میں، جرمن زبان بولنے والے، چودہ سال سے زیادہ عمر کے تقریباً آٹھ ملین اسی ہزار باشندوں نے، روزانہ کی بنیاد پر، ایک کتاب ہاتھ میں لی ہے۔ دنیا کی کل 3610 زبانوں میں کم از کم بائبل کی ایک کتاب ضرور موجود ہے۔ بائبل، دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب، کی تقریباً پانچ ارب کتب فروخت ہو چکی ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاتعداد افراد لٹریچر کی کسی نہ کسی صنف سے جڑے ہوئے ہیں۔

جو ادباء اپنی ساری عمر ادبیات میں گزار دیتے ہیں اور وہ لٹریچر کی دنیا میں نام نہاد ”قائم شدہ“ ہو چکے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے، اکثر و بیشتر میں اعلیٰ ظرفی کا فقدان رہتا ہے۔ وہ کبھی کسی نئے ادیب، لکھاری، شاعر وغیرہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔ خصوصاً ایک ہی علاقے سے تعلق رکھنے والے ادباء میں یہ عنصر نمایاں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ادبی معاملات صرف انہی کی اجارہ داری ہے اور کوئی نیا ادیب اس میں شامل نہیں ہو سکتا۔ وہ خوشی کا اظہار نہیں کریں گے۔ اگرچہ وہ برملا نہیں کہیں گے لیکن ان کے عمل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ نام نہاد ”قائم شدہ“ ادباء کو یہ ہضم اور برداشت ہی نہیں ہوتا کہ ان کے علاوہ دوسرے خواتین و حضرات بھی لٹریچر سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ وہ اندر ہی اندر جلتے کڑھتے رہتے ہیں اور اپنی حاسدانہ دلی بھڑاس منفی تنقید کے ذریعے گاہے بگاہے نکالتے رہتے ہیں لیکن نئے لوگوں کی تخلیقات پر خوشی کا اظہار نہیں کرتے۔

سب دوست سلامت رہیں۔
شیخ ریاض برلن جرمنی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments