وہالی کے سرداروں کی 76سال بعد آمد


بدھ کا دن ( 29 نومبر) چوآسیدن شاہ کی دلربا جھنگڑ وادی میں آباد تاریخی گاؤں وہالی زیر کی تاریخ کا ایک یاد گار اور غیر معمولی دن تھا کہ کل وہالی کے بانیوں کے وارثان 76 سال کے بعد پہلی دفعہ اپنے اس آبائی گاؤں آئے جو کبھی ریاستِ وہالی کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اور جسے 1947 میں ایک بپھرے ہوئے جتھے نے ایک ہزار سے زائد انسانوں سمیت آگ لگا کر بھسم کر دیا تھا۔

بدھ کے روز امریکہ سے وہالی آنے والے معزز سکھ مہمانوں میں سردار مکشندر سنگھ وہالی اور ان کی اہلیہ، سردار دلویر سنگھ اور ان کی اہلیہ اور سردار راجندر سنگھ اور ان کی اہلیہ شامل تھے۔ بدھ کی صبح سے ہی وہالی کے باسیوں کی نظریں سڑک کی جانب لگی ہوئی تھیں۔ جوں ہی سکھ مہمانوں کی آمد کی گھڑی قریب آئی ان کے استقبال کے لیے پورا گاؤں امڈ آیا۔ گاؤں کے باسیوں نے گاؤں کے بانیوں کی اولاد کا پرتپاک استقبال کر کے تاریخ رقم کر دی اور ثابت کر دیا کہ حیوانیت جتنی بھی تباہی مچا دے جیت آخر انسانیت کی ہی ہوتی ہے۔ معزز سکھ مہمانوں کو 76 سال کے بعد اپنا آبائی گاؤں دکھانے کا سہرا وہالی کے ایک نوجوان نعمان کے سر ہے جس نے سوشل میڈیا پر نہ صرف اپنے گاؤں کے بانیوں کے وارثان کو ڈھونڈا بلکہ ان سے دبئی میں ملاقات بھی کی۔

جوں ہی معزز سکھ مہمان وہالی گاؤں کے سامنے سے گزرتی سڑک پر اترے تو وہاں موجود گاؤں کے لوگوں نے ان کے گلوں میں پھولوں کے ہار پہنائے اور انہیں ڈھول کی تھاپ میں گاؤں کے اس سکول لے کر آئے جو کبھی سردار مکشندر سنگھ وہالی کے دادا سردار ہری سنگھ کا محل ہوا کرتا تھا۔ سکول میں معزز مہمانوں کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام ہوا اور سکول کے بچوں نے لڈی ڈالی۔ لوک گلو کاروں نے معزز سکھ مہمانوں کو چکوال کے لوک گیتوں سے محظوظ کیا۔ 1947 کے بعد پہلی دفعہ اپنی جنم بھومی پر آنے والے وہالی کے سرداروں کے یہ وارثان گاؤں کی جس گلی سے گزرے، دیواروں اور دروازوں کو ہاتھوں سے مس کر کے گزرے اور ان کی آنکھوں سے مسلسل اشک رواں تھے۔ سکول کی تقریب کے بعد معزز مہمانوں کو ایک پرائیویٹ سکول میں لے جایا گیا جہاں ان کے اعزاز میں ایک اور تقریب ہوئی۔ اس تقریب کے بعد نعمان صاحب معزز سکھ مہمانوں کو اپنے گھر لے کر گئے جہاں ان کی والدہ نے ان خاص مہمانوں کے لیے سرسوں اور تارا میرا کے ساگ، لسی اور مکھن کے ساتھ ساتھ مختلف کھانے بنائے ہوئے تھے۔ گاؤں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور محبت دیکھ کر امریکہ سے آنے والے سکھ مہمان دنگ رہ گئے۔

وہالی کی عورتوں نے سکھ سرداروں کی بیگمات کو شالیں اور چکوال کی مشہور سوغات پہلوان ریوڑی کے تحائف دیے۔ جبکہ وہالی کے مندر سے ملنے والے 1947 کے برتن بھی معزز مہمانوں کو دیے گئے۔

میں نے جب سردار مکشندر سنگھ وہالی سے جمعرات کی شام موبائل پر بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ وہالی کے لوگوں کا پیار زندگی بھر نہیں بھلا سکیں گے۔ سردار مکشندر سنگھ نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں بھی پاکستان اور وہالی آتے رہیں گے۔ ”ہم بہت ڈرے ہوئے تھے کہ پتہ نہیں لوگ کس طرح سے پیش آئیں گے لیکن وہالی جا کر ایسا لگا جیسے ہم کوئی بہت ہی سہانا خواب دیکھ رہے ہوں“ ۔

ہندوستان کی تقسیم سے پہلے وہالی ایک ریاست ہوا کرتی تھی اور اس کا دارالحکومت وہالی گاؤں تھا۔ 1909 میں وہالی کے سرداروں کو پنجاب کے سب سے بڑے جاگیردار قرار دیا گیا کہ اس وقت یہ سردار چودہ ہزار ایکڑ رقبے کے مالک تھے۔ وہالی کے سرداروں کی ملکیت میں کھیوڑہ میں نمک کی کانیں بھی تھیں۔ وہالی میں 128 کے قریب کنویں تھے اور وہالی کا گنا ہندوستان بھر میں اپنے ذائقے کے اعتبار سے مشہور تھا۔ وہالی کے سردار صرف بڑے جاگیردار ہی نہیں تھے بلکہ مغل اور سکھ حکمرانوں کے درباروں میں اعلی عہدوں پر فائز بھی تھے۔

سکھ سکالر نہیا سنگھ گوہل کے مطابق وہالی کا بانی سردار دیوان کرن مل تھا جو مغل بادشاہ شاہجہان کا مشیر تھا۔ سردار دیوان کرن مل نے شاہجہان کو بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کرنے کا مشورہ یہ کہہ کر دیا تھا کہ ایسے منصوبوں سے نہ صرف ملک ترقی کرے گا بلکہ شاہجہان کا نام بھی تاریخ میں زندہ رہے گا اور لوگوں کو روزگار بھی مل سکے گا۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیں کہ شاہجہان کے اس مشیر جس نے تاج محل آگرہ جیسے عجوبے کو اپنی نگرانی میں تعمیر کروایا اور جس کا شاہجہان کی نظر میں ایک خاص مقام و مرتبہ تھا اس سردار دیوان کرن مل کو شاہجہان کا بیٹا اورنگزیب اس وجہ سے چیر دیتا ہے کہ وہ تلوار کے زور پر اپنا مذہب ترک کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔

یہ وہالی گاؤں کی جوالا دیوی ہی تھی جس نے چکوال میں موجودہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کی جگہ عورتوں کا پہلا ہسپتال بنایا اور آریہ ہائی سکول کی تعمیر میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

وہالی گاؤں کے مسلمانوں نے جب بٹوارے سے کچھ سال قبل گاؤں میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو اس مسجد کی چھت کے لیے لکڑی وہالی کے ایک ہندو رمتار نے مفت دی۔ آج بھی وہ مسجد موجود ہے۔ مسجد کی چھت کے لیے لکڑی عطیہ کرنے والا رمتار 1947 میں بمشکل جان بچا کر نکلا۔

1947 کی گرمیوں کی ایک شام آس پاس خصوصاً منہالہ گاؤں سے ایک جتھے نے وہالی پر حملہ کر دیا۔ وہالی کے سردار گرمیاں گزارنے کے لیے شملہ گئے ہوئے تھے۔ جب بپھرا ہوا جتھا وہالی پہنچا تو وہالی کے ہندو جوہروں کی ماڑی میں یہ سوچ کر گھس گئے کہ چونکہ سردار اس علاقے کے مالک ہیں لہذا یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ لیکن ہجوم ماڑی کے دروازے پر آ گیا۔ ہندو عورتوں نے اپنے دو پٹے جتھے میں موجود لوگوں کے قدموں میں رکھ کر التجا کی وہ مسلمان ہونے کو تیار ہیں، ان کے بچوں کو قرآن پڑھا دیں اور انہیں بخش دین لیکن ان عورتوں کی کسی نے نہ سنی اور ایک ہزار سے زائد ہندو مردوں، عورتوں اور بچوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ جوہروں کی ماڑی کو لوٹ کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔

Facebook Comments HS