موسیقار رشید عطرے


( 15 فروری 1919 سے 18 دسمبر 1967)

امرتسر میں واقع خوشی محمد کے گھرانے میں 15 فروری 1919 کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔ بچے کا نام عبد الرشید رکھا گیا۔ یہ موسیقی کا ربابی گھرانا تھا۔ کس کو پتہ تھا کہ عنقریب یہ بچہ موسیقی کی دنیا میں اپنی پہچان بنائے گا۔ ویسے بھی خواہ وہ موسیقی کا گھرانا ہی کیوں نہ ہو، ضروری نہیں کہ گھر کے تمام افراد مشہور ہو جائیں! اس بچے کے والد خوشی محمد بہت اچھے گلوکار اور ہارمونیم نواز تھے۔ عبد الرشید نے ابتدا میں اپنے والد سے اسرار و رموز سیکھے پھر خاں صاحب عاشق حسین خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔

کئی ایک سازوں میں مہارت حاصل کر لی خاص طور پر طبلہ جو ردھم اور تال کی اکائی ہے۔ موسیقی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایف اے بھی کیا۔ ان کے تذکروں میں اس وقت کے ایک عظیم گائیک استاد فیاض علی خان بڑودا والے کے شاگرد ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ غالباً انہی دو اساتذہ کے ہاں تعلیم کے دوران عبد الرشید کو دھنیں کمپوز کرنے کا شوق ہوا۔ پھر وہ پنجاب سے کلکتہ منتقل ہو گئے اور عظیم فلمی موسیقار رائے چند بورال کی معاونت کرنے لگے جو بچوں کا کھیل نہیں تھا۔ بورال صاحب کو پنکھج ملک کے ساتھ بھارتی فلمی موسیقی کا بابا آدم مانا جاتا ہے۔ یہ رائے چند بورال ہی تھے جنہوں نے 1935 میں سب سے پہلے فلموں میں پلے بیک سنگنگکو متعارف کروایا۔ وہ اولین فلم ” دھوپ چھاؤں“ تھی۔ علی سفیان آفاقیؔ صاحب کا کہنا ہے کہ موسیقار رشید عطرے اکثر رائے چند بورال کا تعریفی انداز میں ذکر کرتے تھے۔ کیوں کہ بورال صاحب نے ان کو انگلی پکڑ کر موسیقی ترتیب دینا سکھایا تھا۔ یوں پھر عبد الرشید کے باقاعدہ فلمی سفر کا آغاز ہو گیا۔

یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسیقار رشید عطرے کا نام عبد الرشید اور والد کا نام خوشی محمد تھا۔ پھر ان کے نام میں ’عطرے‘ کی اضافت کا کیا پس منظر ہے؟ میں نے ان کے پوتے جنید عطرے سے یہ سوال پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ میں اپنے والد سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ کاش میں نے یہ سوال آفاقیؔ صاحب سے کیا ہوتا۔

غیر منقسم ہندوستان میں موسیقار رشید عطرے کی معروف فلمیں :

رشید عطرے لاہور ہی سے فلمی موسیقار کی حیثیت سے کام شروع کرنا چاہتے تھے اس لئے بورال صاحب سے موسیقار بننے کی عملی تربیت حاصل کر کے لاہور واپس آ گئے۔ ان کی بھاگ دوڑ رنگ لائی اور انہیں بتدریج کامیابیاں ملنے لگیں۔

فلم ”پگلی“ 1940 کے اوائل میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے دو گیتوں کی موسیقی مرتب کی۔ باقی گیتوں کی دھنیں استاد جھنڈے خان نے بنائیں۔ فلم ”مامتا“ ( 1942 ) وہ پہلی فلم ہے جس کے تمام گیت موسیقار کی حیثیت سے رشید عطرے نے کمپوز کیے۔ فلم ”پنا“ ( 1944 ) میں ان کے ساتھ موسیقار امیر علی بھی تھے۔ پنچولی پکچرز ( لاہور ) کی فلم ”شیریں فرہاد“ ( 1945 ) اپنے وقت کے بڑے بجٹ کی فلم تھی۔ مذکورہ فلم میں پہلے ماسٹر غلام حیدر کو موسیقار منتخب کیا گیا۔

اس وقت ان کا ڈنکا بجتا تھا۔ کسی معمولی بات پر انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ ویسے بھی اب مستقل طور پر بمبئی منتقل ہونا چاہتے تھے۔ ان کی جگہ ایک غیر معروف نوجوان کو موسیقار لے لیا گیا۔ یہ رشید عطرے تھے۔ اس فلم میں پنڈت امر ناتھ نے بھی بعض گیتوں کی موسیقی موزوں کی۔ فلم ناکام رہی۔ مذکورہ فلم کے نمایاں اداکار اپنے وقت کی مشہور اداکارہ راگنی اور جے انت تھے جن کا اصل نام زکریا خان تھا۔ یہ بھارتی اداکار امجد خان کے والد ہیں۔ موسیقار رشید عطرے کی فلم ”کمرہ نمبر 9“ بھی لگ بھگ اسی زمانے میں ریلیز ہوئی۔

بھارتی فلمی صنعت میں موسیقار روی شنکر شرما المعروف روی ( 1926 سے 2012 ) کو ’مسلم سوشل‘ فلموں کی موسیقی موزوں کرنے کا ماہر مانا جاتا ہے۔ بے شک انہوں نے گرودت فلمز کی فلم ”چودھویں کا چاند“ ( 1960 ) میں لازوال گیت موزوں کیے لیکن غیر منقسم ہندوستان کی اولین ’مسلم سوشل‘ فلم ”نتیجہ“ ( 1947 ) تھی جو بمبئی ٹاکیز کے تحت بنی۔ یہ اپنے وقت کی سپر ہٹ فلم تھی جس کے موسیقار رشید عطرے تھے۔ اس میں فلمساز اور گیت نگار نخشبؔ جارچوی کا یہ گیت بہت مقبول ہوا :

کہاں میں اور کہاں دین حرم کی کشمکش، نخشبؔ
کس کے نقش پا پر رکھ دیا گھبرا کے سر میں نے

پھر فلم ”پارو“ میں بھی عطرے صاحب کے گیت پسند کیے گئے۔ ہدایتکار شاہد لطیف (عصمت چغتائی کے شوہر) کی فلم

” شکایت“ ( 1948 ) کو بھی موسیقار رشید عطرے کی یادگار فلم مانا جاتا ہے۔

پاکستان بننے سے پہلے غیر منقسم ہندوستان میں انہوں نے 8 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ان میں 4 فلموں کے وہ اکیلے موسیقار تھے۔ باقی چار فلموں میں شریک موسیقار بھی تھے۔

پاکستان میں عطرے صاحب کی مشہور فلمیں :

ان کے تذکروں میں پاکستان ہجرت کے سن کو نہیں لکھا گیا۔ البتہ ہدایتکار مسعود پرویز کی پنجابی زبان میں بننے والی فلم

” بیلی“ ( 1950 ) موسیقار رشید عطرے کی پاکستان میں پہلی فلم ہے۔ مذکورہ فلم کی کہانی سعادت حسن منٹو اور مکالمے بابا عالم سیاہ پوش کے تھے۔ گیت نگاروں میں احمد راہیؔ، بچوں کی نظموں کے مشہور شاعر قیوم نظرؔ، خود مسعود پرویز، بمبئی سے آنے والے مشہور گیت نگار ناظمؔ پانی پتی، بابا عالم سیاہ پوش اور امرتا پریتم تھے۔ امرتا پریتم نے گیت: ’اج اکھاں وارث شاہ نوں۔ ‘ لکھا تھا۔ اس فلم میں مسعود پرویز صاحب کا لکھا ایک گیت بہت مشہور ہوا : ’سنو سنو اس دل کی دھڑکن میں تیرا ہی افسانہ ہے۔ ‘ آوازیں منور سلطانہ اور اللہ بخش ظہور کی تھیں۔ یہ فلم ناکام رہی۔

آزاد کشمیر کا ملی نغمہ عطرے صاحب کا اعزاز:

فلم ”بیلی“ کی ناکامی کے بعد موسیقار رشید عطرے ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں میوزک ڈائریکٹر کی حیثیت سے منسلک ہو گئے۔ یہیں انہوں نے ایک زبردست ملی نغمہ تخلیق کیا:

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن
ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے ایک دن

اس نغمہ کو ملک بھر میں بہت پسند کیا گیا تھا۔ حکومت آزاد جموں کشمیر نے اس کو اپنا ملی نغمہ قرار دے دیا۔ وہاں کے ریڈیو اسٹیشنوں سے یہ تب سے اب تک برابر نشر ہو رہا ہے اور انشاء اللہ جموں کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گا۔ یہ موسیقار رشید عطرے کے لئے ایک اعزاز ہے۔

فلم ”شہری بابو“ عطرے صاحب کی زندگی کا اہم موڑ:

ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں موسیقی کے شعبے سے منسلکی کے زمانے میں ہدایتکار اور اداکار نذیر کے بہت اصرار پر عطرے صاحب ان کی فلم ”شہری بابو“ کی موسیقی ترتیب دینے پر تیار ہو گئے۔ فلم کے گیتوں نے ہر طرف دھوم مچا دی اور واہ واہ ہو گئی۔ فلم ”شہری بابو“ ( 1953 ) کے ایک گیت نے تو قبول عام حاصل کر لیا : ’بھاگاں والیو نام جپو مولا نام۔‘ گیت نگار ( غالبا) بابا عالم سیاہ پوش، آواز عنایت حسین بھٹی۔ یہ پاکستانی فلمی صنعت کا ایک امر گیت ہے۔

اس گیت کو بعد کے آنے والے گلوکاروں نے بھی ٹیلی وژن پر آ کر گایا۔ عطرے صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ زبیدہ خانم نے پہلی مرتبہ اسی فلم میں گیت ریکارڈ کروایا۔ مذکورہ فلم میں عطرے صاحب کی معاونت صفدر حسین نے کی جو ان کے بھانجے بھی تھے۔ صفدر حسین صاحب آگے چل کر خود اچھے موسیقار ثابت ہوئے۔ اس فلم کی کامیابی نے موسیقار رشید عطرے کی قسمت کے بند دروازے کھول دیے۔ پھر انہوں نے ریڈیو پاکستان راولپنڈی کی ملازمت چھوڑ دی اور واپس لاہور کی فلمی صنعت میں آ گئے۔

پاکستان فلم سنسر بورڈ کی پہلی مسترد کردہ فلم ”روحی“ :

فلم ”روحی“ ( 1954 ) پاکستان کی پہلی فلم ہے جو فلم سنسر بورڈ نے مسترد کر دی تھی۔ اس کی وجہ طبقاتی کشمکش بتلائی گئی۔ مذکورہ فلم عید الاضحی کے موقع پر 11 اگست 1954 کو نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ سی آر گولانی اور ڈبلیو زیڈ احمد اس کے فلمساز، مصنف و ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد صاحب، گیت نگار طفیلؔ ہوشیارپوری صاحب اور کیمرہ مین جعفر علی شاہ بخاری صاحب تھے۔

دوبارہ تدوین کے بعد جب نمائش کی اجازت ملی تو یہ لکھنا بیکار ہے کہ صرف اسی ایک بات کے لئے بہت سے لوگ مذکورہ فلم دیکھنے آئے۔ اس فلم کا ایک گیت بہت پسند کیا گیا: ’میری دنیا میں انقلاب آیا ہے، اس طرح کوئی بے نقاب آیا ہے۔ ‘ آواز عنایت حسین بھٹی۔

اداکارہ بہار کی پہلی فلم ”چن ماہی“ :

سن 1956 اپنے ساتھ عطرے صاحب کے لئے مزید کامیابیاں لایا: سلور جوبلی فلم ”چن ماہی“ ( 1956 ) ہدایتکار انور کمال پاشا، گیت نگار طفیلؔ ہوشیارپوری اور موسیقار رشید عطرے کی یادگار فلم ہے۔ نیز اداکارہ بہار کی یہ پہلی فلم ہے۔ اس کے گیت بے انتہا مقبول ہوئے۔ بعد کے آنے والے گلوکاروں نے انہیں ری مکس کر کے گایا۔ ’بندے چاندی دے، سونے دی نتھ لے

کے آ جا ہو ’آوازیں زبیدہ خانم اور ساتھی، ‘ نی چٹھئیے سجنا دی اے، تینوں گھٹ گھٹ جپھیاں پاواں۔ ’آواز زبیدہ خانم۔

سپر ہٹ سلور جوبلی فلم ”سرفروش“ :

دوسری سپر ہٹ سلور جوبلی فلم ”سرفروش“ ( 1956 ) بھی ہدایتکار انور کمال پاشا ہی کی ہے۔ ’تیری الفت میں صنم دل نے بہت درد سہے اور ہم چپ ہی رہے۔ ‘ گیت نگار طفیل ہوشیار پوری اور موسیقار رشید عطرے کا یہ گیت بے مثال ہے۔ زبیدہ خانم نے بھی اس کو دل سے گا کر امر کر دیا۔ یہ آج بھی شوق سے سنا اور گایا جاتا ہے۔ ’تاروں کا بھی تو مالک یہ چاند بھی تیرا ہے، پھر بھی میری قسمت میں دنیا کا اندھیرا ہے‘ گیت طفیلؔ ہوشیار پوری اور آواز اقبال بانو۔

اس گیت میں بولوں اور دھن کا ایک بہت اثر انگیز ماحول بنتا ہے۔ غور سے سنیں تو گیت شروع ہوتے ہی اس کا ردھم یا چال بھی فریاد کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انٹرول میوزک کے بعد انترے میں ردھم کی چال کے معمولی فرق سے بولوں پر بھرپور توجہ مرکوز ہوجاتی ہے۔ پھر انترے سے واپس استھائی میں کی گئی وہ خفیف سی تبدیلی دوبارہ محسوس ہوتی ہے۔ بظاہر معمولی لیکن در اصل یہ ایک عظیم اختراع ہے۔ میں نے ایسا کام اس سے پہلے نہیں دیکھا۔

ڈبلیو زیڈ احمد کی فلم ”وعدہ“ :

پھر فلم ”لیلیٰ مجنوں“ ( 1957 ) : ’تڑپتی ہیں تمنائیں ستار و ان سے کہہ دینا۔‘ گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی، آوازیں ناہید نیازی اور منیر حسین۔ اس کے بعد فلمساز و ہدایتکار وحید الدین ظہیر الدین احمد المعروف ڈبلیو زیڈ احمد کی فلم ”وعدہ“

( 1957 ) کے مشہور زمانہ گیت آتے ہیں : ’بار بار برسیں مورے نین۔‘ گیت سیف الدین سیفؔ، آوازیں شرافت علی اور کوثر پروین، ’جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔ ‘ گیت سیف ؔ الدین سیف، آواز گلوکار شرافت علی، ’نین سے نین ملائے رکھنے کو۔‘ گیت طفیلؔ ؔہوشیارپوری، آوازیں استاد فتح علی خان، زاہدہ پروین اور ساتھی۔ فلم ”وعدہ“ اپنے گیتوں کی وجہ سے سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔

سیف الدین سیف ؔ صاحب کی فلم ”سات لاکھ“ :

فلم ساز اور گیت نگار سیف الدین سیفؔ کی فلم ”سات لاکھ“ ( 1957 ) بھی ایک تاریخ ساز فلم ہے : ’آئے موسم رنگیلے سہانے، جیا نہیں مانے تو چھٹی لے کے آ جا بالما‘ ، گیت سیف الدین سیفؔ، آواز زبیدہ خانم، ’گھونگٹ اٹھا لوں یا گھونگٹ نکالوں۔ ‘ گیت سیف الدین سیفؔ، آواز زبیدہ خانم، ’قرار لوٹنے والے تو قرار کو ترسے۔ ‘ گیت سیف الدین سیف، ؔ آواز منیر حسین، ’یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں۔ ‘ گیت سیفؔ الدین سیف، آواز سلیم رضا۔ سیف الدین سیفؔ کی یہ فلم سپر ہٹ رہی۔ عطرے صاحب کی دھنوں کی وجہ سے منیر حسین اور سلیم رضا شہرت کی بلندی پر چلے گئے۔ مذکورہ فلم کے ہدایتکار اور اسکرین پلے لکھنے والے جعفر ملک کے معاون حسن طارق تھے۔ انہوں نے اس کے بعد فلم۔ ’‘ نیند ’‘ بنائی اور پاکستانی فلمی صنعت کے نامور ہدایتکار ثابت ہوئے۔

فلم ”چنگیز خان“ :

پاکیزہ پروڈکشنز لمیٹڈ کی یہ فلم مرحوم نسیم حجازی کے تاریخی ناول ’آخری چٹان‘ پر مبنی ہے۔ اس کے فلمساز چوہدری حسن الدین صاحب نے چنگیز خان کا کردار ادا کیا اور منظر نامہ بھی لکھا۔ ریڈیو پاکستان پشاور کے فنکار کامران اس فلم کے ہیرو تھے۔ ہدایات رفیق سرحدی صاحب نے انجام دیں۔ فلم ”چنگیز خان“ ( 1958 ) کے ایک نغمۂ بیدار نے تو کمال ہی کر دیا :

االلہ کی رحمت کا سایہ
توحید کا پرچم لہرایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا
اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ اکبر اللہ اکبر

یہ ملی نغمہ طفیلؔ ہوشیار پوری، آوازیں عنایت حسین بھٹی اور ساتھی۔ اس گیت کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کو پاکستانی فوج کے ترانے کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ فوجی بینڈ پریڈ کے دوران یہ دھن بجاتے ہیں۔ اس فلم میں ایک نعت بھی مشہور ہوئی تھی: ’اے ختم رسل ﷺ آپ سے فریاد ہے ہماری۔‘ بہزادؔ لکھنوی کی نعت کو منور سلطانہ نے ریکارڈ کروایا۔

فلم ’‘ جان بہار ” ( 1958 ) : تدوین کار، ، فلمساز و ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی اور ملکۂ ترنم نورجہاں کی اپنی زندگی کی کہانی ہے : ’اب تو جی بھر کے خنجر چلائیں گے ہم۔ ‘ گیت قتیلؔ شفائی، آوازیں نسیم بیگم اور زاہدہ پروین، ’نہ آنسو بہے تھے نہ صدمے سہے تھے۔ ‘ گیت قتیلؔ شفائی، آواز نورجہاں۔

پھر معرکۃالآراء فلم ”انار کلی“ ( 1958 ) کا ذکر آتا ہے : ’بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری چندا سے پیار۔‘ گیت طفیل ؔہوشیارپوری اور قتیل ؔ شفائی، آواز نورجہاں۔ مجھے علی سفیان آفاقیؔ صاحب نے بتایا کہ پہلے اس فلم میں موسیقی کی ذمہ داری ماسٹر عنایت حسین کو دی گئی تھی۔ انہوں نے دو خوبصورت گیت ریکارڈ بھی کرا لئے تھے۔ لیکن فلمساز انور کمال پاشا کو جلدی تھی جب کہ ماسٹر صاحب بقول آفاقی صاحب، خاصے اطمینان سے کام کرتے تھے۔ ماسٹر صاحب کی مشاورت اور مرضی سے معینہ مدت کے اندر اندر ریکارڈنگ مکمل کروانے کے لئے عطرے صاحب کو باقی کے گیت سونپے گئے۔

سلور جوبلی فلم ’‘ مکھڑا ” ( 1958 ) موسیقی اور گیتوں کے لحاظ سے ایک یادگار فلم ہے : ’دلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے‘ وارث لدھیانویؔ کے اس گیت کو زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے الگ الگ ریکارڈ کروایا۔ اس فلم کے ہدایتکار جعفر ملک اور معاون ایس سلیمان تھے جنہوں نے آگے چل کر خود ہدایتکاری میں بہت نام پیدا کیا۔ یہ سنتوش کمار اور درپن کے چھوٹے بھائی تھے۔ مذکورہ فلم عطرے صاحب کی سپر ہٹ پنجابی فلم ہے۔

سن 1959 کی ایک یادگار سلور جوبلی فلم ”نیند“ ( 1959 ) کے گیت بھی اب تک بے حد مقبول ہیں : ’چھن چھن چھن چھن بولے پائل بولے۔ ‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نورجہاں، ’تیرے در پر صنم چلے آئے۔ ‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نورجہاں۔ مذکورہ فلم کا اسکرین پلے بھی حسن طارق نے لکھا اور یہ بحیثیت ہدایتکار ان کی اولین فلم ہے۔

اگلے سال سلور جوبلی فلم ”سلمیٰ“ ( 1960 ) کا ایک گیت تو غالباً ملکۂ ترنم نورجہاں کے سدا بہار گیتوں میں شامل ہے :

’ زندگی ہے یا کسی کا انتظار۔‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نورجہاں، ’سانوریا من بھایؤ رے۔ ‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نسیم بیگم، ’جھولے میرے پاؤں جھولے میرے جھمکے۔ ‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نسیم بیگم۔

پھر فلم ”شام ڈھلے“ ( 1960 ) : ’سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی۔‘ غزل صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم، آواز نسیم بیگم۔

گولڈن جوبلی فلم شہید :

اس کے بعد گولڈن جوبلی فلم ’‘ شہید ” ( 1962 ) : ’حبیبی ہیا ہیا، حبیبی ہیا ہیا۔ ‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نسیم بیگم، ’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو۔‘ گیت منیرؔ نیازی۔ اصل دھن موسیقار حسن لطیف للک نے بنائی جس کوفلم کے لئے عطرے صاحب نے ارینج کر کے ریکارڈ کرایا۔ مجھے یہ بات خود علی سفیان آفاقی صاحب نے بتلائی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ( اداکار اور گلوکار علا الدین یہ بقول آفاقی صاحب بمبئی میں گلوکاری کے لئے گئے تھے ) علا الدین صاحب کے گھر میں موسیقی کی محفل ہوتی جس میں ریڈیو پاکستان لاہور کے موسیقار اور گلوکار حسن لطیف اکثر منیرؔ نیازی کی غزلیات اور گیت سناتے تھے۔ کبھی خود منیر نیازی بھی

آ جاتے۔ منیر ؔنیازی کی غزل ’اس بے وفا کا شہر ہے۔ ‘ حسن لطیف کی آواز میں سننے والے بہت پسند کرتے۔ ایسے ہی ایک موقع پر فلمساز اور ہدایتکار ریاض شاہد نے اس غزل کے موسیقار اور گلوکار حسن لطیف سے بات کی کہ وہ یہ دھن اور غزل اپنی فلم ”شہید ’‘ میں لینا چاہتے ہیں۔ عطرے صاحب خود ان محافل میں ہوتے تھے۔ انہوں نے برملا کہا کہ واقعی یہ بہت اچھی دھن ہے۔ آفاقیؔ صاحب کا کہنا ہے کہ میلوڈی میں رشید عطرے نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ فلم شہید کے اس گراموفون ریکارڈ پر موسیقار کا نام رشید عطرے ہے۔ آفاقی صاحب کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

موسیقار رشید عطرے صاحب بطور فلمساز:

موسیقار رشید عطرے صاحب نے ساؤنڈ اینڈ شیڈز فلم کمپنی کی جانب سے فلم ”موسیقار“ کی فلمسازی بھی کی۔ جس کے ہدایت کار قدیر غوری صاحب تھے۔ یہ 22 جون 1962 کو نمائش پذیر ہوئی۔ کراچی میں ناز سنیما اس کا مین تھیٹر تھا۔ فلم نے سلور جوبلی کی۔ مذکورہ فلم میں 16 عدد نغمات تھے جن میں اکثر گیت سپر ہٹ ہوئے : ’گائے گی دنیا گیت میرے۔ ‘ آواز نورجہاں، ’جا جا میں تو سے ناہیں بولوں۔ ‘ آواز نورجہاں، ’تم جگ جگ جیو مہاراج رے ہم تیری نگریا میں آئے‘ حضرت تنویرؔ نقوی کے اس گیت کو سلیم رضا اور نورجہاں نے الگ الگ گایا۔

فلم ”قیدی“ ( 1962 ) کا ریکارڈ:

نجم نقوی صاحب کی فلم ”قیدی“ ( 1962 ) عید الاضحی کے موقع پر 15 مئی 1962 کو نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اس کے فلمساز آغا جی اے گل صاحب تھے۔ فلم کی کہانی حسرت لکھنوی کی اور مکالمے احمد راہی صاحب نے لکھے۔ مذکورہ فلم پاکستانی فلمی صنعت میں ایک ممتاز درجہ رکھتی ہے۔ یہ ایک ریکارڈ ہے کہ فلم ”قیدی“ میں 8 گیت تھے جو 8 مختلف شعراء نے لکھے۔ ان میں نخشبؔ جارچوی، حضرت تنویرؔ نقوی، فیض احمد فیضؔ، قتیلؔ شفائی، حبیب جالبؔ، مظفرؔ وارثی، احمدؔ راہی اور عزیزؔ کاشمیری۔ ان میں گیت، نظم اور غزل شامل ہے :

1 ’اک دیوانے کا اس دل نے کہا مان لیا۔‘ گیت قتیلؔ شفائی، آوازیں مہدی حسن اور نورجہاں۔

2 قوالی انگ میں حضرت تنویرؔ نقوی کا گیت ’محفل میں تیری، تیرے طلبگار آ گئے، آ سامنے کے طالب دیدار آ گئے‘ ۔ آوازیں سلیم رضا، سائیں اختر حسین اور ہم نوا۔

3 ’میرے دل کی انجمن میں تیرے غم سے روشنی ہے۔ ‘ گیت حبیب جالبؔ، آواز سلیم رضا۔
4 ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔‘ نظم فیضؔ احمد فیض، آواز نورجہاں۔
5 ’کس کی محبت میں ہم کھو گئے ہیں۔ ‘ مظفر وارثی صاحب، آواز میڈم نورجہاں۔
6 ’میری سرکار تو بیکاربگڑ جاتی ہے۔ ‘ عزیزؔ کاشمیری، آوازیں احمد رشدی اور آئرین پروین۔
7 ’سن سانولی صورت والے، اک پیار بھرا دل کیا بولے‘ ، نخشب ؔ، آوازیں نسیم بیگم اور مالا۔
8 ’یاد کر کر کے ساری ساری رات میں روتی رہی۔‘ احمد ؔ راہی، آواز نورجہاں۔


گولڈن جوبلی فلم فرنگی:

کے کے پروڈکشنز کی فلم ”فرنگی“ 18 دسمبر 1964 کو نمائش پذیر ہوئی۔ اس کے فلمساز اور ہدایتکار خلیل قیصر صاحب تھے۔ اس فلم میں ساحرؔ لدھیانوی کا گیت ’اے وطن مرنے والوں کی دم توڑتی آرزو دیکھ۔ ‘ بھی شامل ہے۔ مذکورہ فلم نے کراچی میں گولڈن جوبلی کی۔ مین سنیما اوڈین تھا۔ فلم ”فرنگی“ کے بغیر موسیقار رشید عطرے کا ذکر نا مکمل رہے گا۔ اس گولڈن جوبلی فلم کے بعض گیت تو امر ہیں : ’آ بھی جا دلدارا آ بھی جا دلدارا، جب سے تو بچھڑا ہے میرا دل ہے پارہ پارہ، آ بھی جا دلدارا‘ گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز نسیم بیگم، ’بن کے میرا پروانہ آئے گا اکبر خانہ، کہہ دوں گی دلبر جانا پخیر ر اغلے‘ ، گیت حضرت تنویرؔ نقوی، آواز مالا، راگ جھنجھوٹی میں موزوں کی گئی غزل : ’گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے، چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘ غزل فیض احمد فیضؔ، آواز مہدی حسن، نعت حضرت تنویرؔ نقوی، ’تیری ذات ہے مظہر نور خدا، میری بگڑی ہوئی تقدیر بنا‘ آواز نورجہاں اور ساتھی۔

گولڈن جوبلی پنجابی فلم ”جی دار“ ( 1965 ) نے کراچی میں سلور اور لاہور میں گولڈن جوبلی کی۔ کراچی میں پلازا سنیما اور لاہور میں رٹز سنیما مین تھیٹر تھے۔ مشہور ہے کہ رٹز سنیما میں نمائش کے پانچویں ہفتے بے پناہ رش کی وجہ سے گیلری منہدم ہو گئی۔

مذکورہ فلم کے مشہور نغمات میں مالا کی آواز میں حزیں ؔ قادری کا گیت ’اساں نویاں بنا لیاں راہواں، تے منڈے بڑا تنگ کردے‘ بہت مشہور ہوا۔

عطرے صاحب کی موسیقی میں فلم ”پائل کی جھنکار“ ( 1966 ) کے گیت بھی بہت زیادہ مقبول ہوئے : ’ہم نے تمہیں دل دے ہی دیا۔‘ گیت قتیلؔ شفائی، آوازیں سلیم رضا اور نسیم بیگم، ’حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں، ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘ ، غزل قتیلؔ شفائی، آواز سلیم رضا، ’میرے دل کے تار بجیں بار بار ہوا تجھ سے پیار آ جا، رہوں بیقرار کروں انتظار گئے نین ہار آ جا‘ گیت قتیلؔ شفائی۔ یہ گیت دو الگ الگ طور سے ریکارڈ کیا گیا۔ ایک مہدی حسن کی آواز میں دوسرا نسیم بیگم اور مہدی حسن کی آواز میں۔ مذکورہ فلم کے تذکرے میں یہ بھی ملتا ہے کہ گلوکار سلیم رضا کی یہ ریلیز شدہ آخری سپر ہٹ فلم تھی۔

پھر 1966 میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی، علی سفیان آفاقی کی کہانی پر مبنی فلم ”سوال“ ( 1966 ) کا گیت خاص و عام میں مقبول ہوا : ’ارے او بے مروت ارے او بے وفا، بتا دے کیا یہی ہے وفاؤں کا صلہ‘ ۔ رشید عطرے صاحب کی موسیقی میں اس لازوال گیت میں فلم اور ٹیلی وژن کے مشہور بانسری نواز استاد سلامت حسین صاحب نے تینوں انتروں کے انٹرول میوزک میں وائلن کے ساتھ بانسری بجائی ہے۔ توجہ سے اس گیت کو سنیں تو یہ غم کے تاثر کو مزید بڑھاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

اس مشہور زمانہ گیت کے لکھنے والے فیاضؔ ہاشمی ہیں اور آواز نورجہاں کی ہے۔ مذکورہ فلم کا ایک اور گیت بھی آج تک گایا جاتا ہے : ’لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم، میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے۔ ‘ ، گیت فیاضؔ ہاشمی، آواز نورجہاں، ’رات کی بے سکوں خاموشی میں رو رہا ہوں کہ سو نہیں سکتا۔‘ گیت فیاضؔ ہاشمی، آواز مہدی حسن۔ اس گیت کی دھن بہت ہی عجیب سے تاثرات لئے ہوئے ہے۔ کبھی آپ اکیلے میں اس کو سنیں تو آپ اپنے آپ کو کسی اور ہی دنیا میں پائیں گے۔

فلم ”چٹان“ ( 1967 ) : ’گوری کر کے ہار سنگھار ہو جا چلنے کو تیار، سجن تجھے لینے آئے‘ گیت قتیلؔ شفائی، آوازیں مالا، نذیر بیگم اور ساتھی۔

فلم ”محل“ ( 1968 ) : ’آواز جب بھی دیں ہم پہچان جائیے گا، آئیں گے یونہی ملنے جب بھی بلائیے گا‘ گیت فیاضؔ ہاشمی، آوازیں نگہت سیما اور مہدی حسن، ’جیا را ترسے دیکھن کو، لگی ہے آس ملن کی‘ ، گیت فیاضؔ ہاشمی، آواز نورجہاں۔

ڈائمنڈ جوبلی فلم ”زرقا“ ( 1969 ) : ’ہمیں یقیں ہے ڈھلے گی اک دن ستم کی یہ رات اے فلسطین۔‘ گیت حبیب جالبؔ، آوازیں منیر حسین، نسیم بیگم اور ساتھی، ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے، تو کہ نا واقف آداب غلامی ہے ابھی‘ ، گیت

حبیب جالبؔ، آواز مہدی حسن۔
فلم ’‘ بہشت ” ( 1974 ) : ’ستارو میری راتوں کے سہارو۔‘ آواز نورجہاں۔

عطرے صاحب اپنی آخری چند فلموں کے گیت اپنی وفات سے پہلے ریکارڈ کرا چکے تھے اور وہ فلمیں ان کے انتقال کے بعد نمائش کے لئے پیش ہوئیں۔

موسیقار رشید عطرے نے پاکستان میں کل 55 فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ان میں 48 اردو اور 7 فلمیں پنجابی زبان میں ہیں۔ ان کے بعض تذکروں میں یہ تعداد 150 بھی لکھی گئی ہے۔

عطرے صاحب کو ملنے والے نگار ایوارڈ:
موسیقار رشید عطرے کو تین مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل ہوئے :
پہلا ایوارڈ 1957 میں فلم ”سات لاکھ“ ۔
دوسرا نگار ایوارڈ 1959 میں فلم ”نیند“ ۔
تیسرا نگار ایوارڈ 1961 میں فلم ”شہید“ ۔
موسیقار رشید عطرے نے 27 سال فلمی دنیا میں گزارے۔ ان میں سے 7 سال غیر منقسم ہندوستان، 1 سال بھارتی
اور 19 سال پاکستانی فلمی صنعت میں اپنی محنت سے نام کمایا۔

میری کبھی عطرے صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن موسیقار رشید عطرے کے ساتھ کام کرنے والے بانسری استاد سلامت حسین صاحب اور مصنف، ایڈیٹر، فلمی تاریخ داں، مکالمہ نگار، فلمساز اور ہدایتکار علی سفیان آفاقیؔ صاحب سے میری نشستوں میں عطرے صاحب کا اکثر ذکر ہوتا۔ میرا عطرے صاحب کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ فلمی موسیقی کے لئے نہایت موزوں شخص تھے۔ روز مرہ معاملات زندگی میں سادا اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والوں میں سے تھے۔

ان کو بچھڑے ہوئے 56 سال ہو گئے۔ ہمارے ہاں دو نسلیں آ چکیں۔ مجھے اس وقت بہت اچھا لگتا ہے جب نئی نسل کے گلوکار موسیقار رشید عطرے کے گیت ٹی وی چینلوں اور لائیو پروگرام میں پیش کرتے ہیں۔ اور تو اور لندن میں جب بھنگڑے گروپ والے بھی سیف الدین سیفؔ کا گیت ”آئے موسم رنگیلے سہانے۔ “ گاتے ہیں تو مجھے موسیقار رشید عطرے واقعی یہ کہتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں : ”گائے کی دنیا گیت میرے“ ۔ اور ہے بھی ایسا ہی!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).