ثقافتی خودنمائی


علم بشریات کی رو سے دو اصطلاحات (ٹرم ) بہت اہمیت کے حامل ہیں ان میں سے ایک اصطلاح کے مطابق ایک گروہ اپنے آپ کو کامل، دوسروں سے برتر اور اعلی گردانتا ہے۔ اپنے ہر عمل کو مہذب اور تہذیب کے دائرے میں شمار کرتا ہے اور اپنے سے مختلف نسلی یا لسانی گروہ کو کمتر، کند ذہن، کم رتبے والا اور کم حیثیت خیال کرتا ہے۔ اس ٹرم کو نسلی تعصب کا (ethnocentrism) نام دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک گروہ اپنے آپ کو ایک نمونے کے طور پر دیکھتا ہے وہ گروہی تعصب کا شکار ہو کر اپنے سے دوسرے ثقافتوں کو کمتر، غیر مہذب پسماندہ یا غیر شائستہ خیال کرتا ہے۔ وجہ اس کی صرف اور صرف یہ ہے کہ دوسری نسلی گروہ کی ثقافت اس گروہ کی ثقافت سے میل نہیں کھاتی، یعنی کہ دوسرے نسلی گروہ اپنے رہن سہن، اٹھنے بیٹھنے اور رسم رواج میں ان جیسا نہیں ہے۔

پہلے والے اصطلاح کے برعکس علم بشریات میں دوسری اصطلاح جسے ثقافتی اضافت یا ثقافتی اضافیت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح نسلی تعصب کی ضد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ جس میں ہر ایک ثقافت کو اپنی جگے پر نرالا اور یکتا تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی ثقافت کو کمتر اور کسی کو برتر تصور نہیں کیا جاتا، کسی بھی ثقافتی اقدار کو اپنی عینک یا مخصوص نظریے سے نہیں دیکھا جاتا۔ بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ مخصوص گروہ کی ثقافت ہے جس پر اس کمیونٹی کے لوگ عمل کرتے ہیں اس لیے یہ قابل عزت ہے۔ اس رویے سے معاشرے میں برداشت، برابری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا مادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس قسم کے مثبت رویے کو ثقافتی اضافت (cultural relativism) کا نام دیا گیا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے ہم سب اپنی ثقافت کی برتری اور سب سے اچھا ہونے کی بات کرتے ہیں لیکن کبھی دوسری زبان اور ثقافتوں کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہمیں اتنا پتہ ہوتا ہے کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں اس میں کتنی ثقافتوں اور لسانی برادریوں کے لوگ رہتے ہیں۔ جن ثقافتوں کو ہم کمتر سمجھ رہے ہیں ان میں لوگوں کے اٹھنے بیٹھنے کے طور طریقے کیا ہیں۔ غمی، خوشی میں ان کا رویہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسا ہے۔ ضرورت پیش آنے پر ایک دوسرے کے ساتھ کس طریقے سے پیش آتے ہیں۔

ہم کسی دوسرے لسانی برداری کی بودوباش، ثقافت اور تہذیب کو اس لیے نظرانداز کرلیتے ہیں کیونکہ ہم ان ثقافتوں کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب وہ اپنی ثقافت سے کسی بھی طرح سے مختلف نظر آتی ہے تو اسے بدتہذیب ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ یہاں پر یاد رکھنے کی چیز یہ ہے دوسری ثقافتوں اور لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہم سے مختلف ضرور ہیں لیکن وہ ہم سے ہرگز بدتر یا کم تر نہیں ہیں۔ جب ہم کسی ثقافت کو اپنے ثقافتی عینک لگا کر دیکھتے ہیں وہ ہمیں بہت مختلف نظر آتا ہے لیکن جب ہم اسی ثقافت کو تعصب کی عینک اتار کر حقائق کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو وہ حقیقت میں کچھ اور ہوتا ہے۔

خوش قسمتی سے مجھے خیبر پختونخوا میں اکثریتی کمیونٹیز (لسانی برادریوں ) کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر کام کرنے، میل جول رکھنے کا موقع ملا ہے۔ میں جس جس کمیونٹی میں گیا ہوں ان کمیونیٹی کے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور وقت گزار نے کے بعد خوشگوار حیرت ہوئی ہے اور مجھے ان کے متعلق اپنی پہلی والی رائے بدلنا پڑی ہے۔

پاکستان میں یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے کہ ہم اجتماعی طور پر تنگ نظر ہیں اس وجہ سے ہم میں سے ہر ایک خودنمائی کا شکار ہے۔ ہماری نظر میں ہم ہی ہیں اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے جو ہم سے مختلف دکھتا ہے ہم اس کو عزت دینے اور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم ایک ثقافت کو ان کی نقطہ نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ ہم دوسری ثقافتوں کو بھی اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کو اپنی طرح بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہیں وجہ ہے ہمارا رویہ دوسری لسانی اور ثقافتی کمیونٹیز کے ساتھ ہمیشہ منفی رہتا ہے۔ اگر ہم کسی ثقافت کو حقیقی نظر سے دیکھنے اور قریب جا کے ان کا نقطہ نظر جاننے کی کوشش کریں تو ہر ایک ثقافت میں پائے جانے والے ہر ایک سرگرمی کو انجام دینے کے لیے منطقی دلائل موجود ہوتے ہیں۔ اس ثقافت کو ماننے والے اس سرگرمی کو کرتے ہوئے خوش بھی محسوس کرتے ہیں اور اس کے ساتھ جذباتی لگاؤ بھی رکھتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک کثیر السانی وا کثیر الثقافتی ملک ہے۔ یہاں پر بہت ساری ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ سب کی اپنی اپنی زبانیں اور ثقافتیں ہیں۔ موسم، علاقہ، جغرافیہ مختلف ہونے کی وجہ سے ہر ایک ثقافتی برادری کے کھانے سے لے کر بودوباش تک ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان ہی قنوطیت کی وجہ سے لسان سے لے کر ثقافتوں تک، موسموں سے لے کر خوراک تک، اور پہناوے سے لے کر معاشرت تک، یہاں پر رنگارنگی ہے یکسانیت نہیں۔ ایسی گوناگونی اور رنگارنگ ثقافتوں کے لیے دنیا کے دوسرے خطوں کے لوگ ترستے ہیں۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے پاکستان میں سرکاری سطح پر یک ثقافتی پالیسی رائج ہے کہ ساروں کو ایک ہی طرح دکھنا ہے۔ یہیں یک رویہ پالیسی نے پاکستان میں خودنمائی کو جنم دیا ہے۔ ہر ایک زاویے سے دیکھا جائے پاکستان میں لوگ تعصب، نسلی برتری کا شکار ہیں، اس سے بڑے کمیونٹی کے لوگ احساس برتری اور چھوٹی لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہیں۔ یہیں یک رنگ ریاستی پالیسی نے معاشرے میں احساس کمتری اور احساس برتری کی تفریق پیدا کی ہے۔

اس لسانی تفریق کو ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ حکومتی سطح پرایک واضح ثقافتی پالیسی مرتب کی جائے۔ ہر ایک چھوٹی بڑی لسانی برادریوں کی حوصلہ افزائی ہوں، لسانی گوناگونی کو فروغ ملے۔ تاکہ پاکستان سے ثقافتی تنگ نظری کا خاتمہ ہوں۔ اس کے نتیجے میں لوگ ایک دوسرے کو مختلف ہونے کے ساتھ قبول کریں۔ پاکستان میں رہنے والے ہر ایک کمیونٹی کے لوگ اپنی ثقافت سے پیار کرتے ہیں، اور اپنے اس مختلف ہونے پر فخر بھی کرتے ہیں۔ لیکن اپنے سامنے والے کو یہ حق دینے پر تیار نہیں۔ آخر میں یہاں پر ہمیں یاد رکھنے کی چیز یہ ہے دوسری ثقافتوں اور لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہم سے مختلف ضرور ہیں لیکن وہ ہم سے ہرگز بدتر یا کم تر نہیں ہیں۔

Facebook Comments HS