بکنے والے ادیب


ؑعنوان ہی نہیں، آج کا کالم بھی تنازع کا شکار ہونے والا ہے۔ جو نہیں بکتے وہ بھی راقم کو نشانہ بنائیں گے او ر جو بک جاتے ہیں وہ بھی۔ بکنا ویسے تو بہت برا سمجھا جاتا ہے مگر یہاں بکنے والے زیادہ محترم ہوں گے کیوں؟ اس لیے کہ میں ان ادیبوں کی بات کر رہا ہوں جن کی لکھی ہوئی ہر تحریر، ہر کالم، ہر کہانی، ہر افسانہ، ہر شاعری اور ہر کتاب بک جاتی ہے۔ یہ ادیب کون ہیں اگرچہ وہ جو نہیں بکتے ان کا خیال ہے کہ یہ ادیب محض سٹیٹس سمبل ہیں او ر لوگ ان کی کتابیں اپنے گھر، دفتر یا لائبریری میں صرف یہ بتانے کو رکھتے ہیں کہ وہ ایسے بڑے ادیبوں کو بھی پڑھتے ہیں مگر میرا خیال اس کے بالکل متضاد ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ادیب اس قابل ہیں کہ انہیں پڑھا جائے اور خرید کر پڑھا جائے اس لیے لوگ انہیں خریدتے بھی ہیں اور پڑھتے بھی ہیں۔

کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر میں نے ایک پوسٹ کی تھی جو کتابوں کے نہ بکنے کے حوالے سے تھی تو یاد رکھیں وہ ادیب (بڑوں کے لیے لکھنے والے ہوں یا بچوں کے لیے، اس میں سب شامل ہیں ) آج کل کے دور میں زیادہ تر سوشل میڈیا سے تھوڑا بہت پڑھتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر ہی مختلف گروپوں میں لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر واہ واہ بھی بہت جلدی ہوتی ہے۔ اس واہ واہ کی وجہ تحریر کا معیاری ہونا ہر گز نہیں ہوتا بلکہ یہ واہ واہ یا تو ذاتی تعلقات کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر اس وجہ سے کہ فلاں نے میری تحریر کو سراہا تھا تو اب مجھے بھی اس کی تحریر کی تعریف کرنا پڑے گی۔

دوسرے الفاظ میں یہ انجمن ستائش باہمی کا اثر ہوتا ہے اور یوں چند دنوں میں ہی وہ لکھنے والے صاحب خود کو بڑا ادیب سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ مرحلہ طے کرنے کے بعد وہ ادیب عام طور پر بچوں کے رسائل کا انتخاب کرتے ہیں۔ بچوں کے اکثر رسائل لکھنے والے کو کوئی معاوضہ نہیں دیتے اس لیے عام طور پر وہ رسالے کا پیٹ بھرنے کے لیے کسی کو بھی شائع کر دیتے ہیں۔ بچوں کے رسائل ہی کیا میں تو بڑوں کے ان رسائل سے بھی واقف ہوں جو محض رسالے کی چند کاپیاں خریدنے پر ہی تحریر شائع کر دیتے ہیں۔

اب یہ ہی ”معروف ادیب“ کتاب لکھنے کا ارادہ کرتا ہے۔ اسے کتاب لکھنے پر سوشل میڈیا پر موجود کچھ پبلشر بھی اکساتے ہیں۔ یہ پبلشر دل لبھانے والے اشتہارات سوشل میڈیا پر چلاتے ہیں۔ مثلاً ”صاحب کتاب بنیں، اپنے کام کو محفوظ کریں“ ، ”اچھی کتابیں، سستی کتابیں“ وغیرہ وغیرہ، صاحب کتاب بننے کے شوقین نو مولود ادیب فوری کتاب چھپوانے پر آمادگی ظاہر کر دیتے ہیں اور پبلشر کو اپنی جیب سے کتاب چھاپنے کے جملہ اخراجات دے کر صاحب کتاب بن جاتے ہیں۔

چوں کہ پبلشر کتاب چھاپنے کا معاوضہ اور اپنا محنتانہ ادیب سے وصول کر لیتا ہے اس لیے اس کی بلا سے کہ کتاب معیاری ہے یا نہیں وہ چھاپ دیتا ہے اور پھر چھاپنے کے بعد چند کتابیں اپنے شو روم کے لیے یا پھر ”بک فیئر“ کے لیے رکھ کر باقی ادیب کے حوالے کر دیتا ہے جو وہ سوشل میڈیا پر بیچ رہا ہوتا ہے۔ اگر یہ کتاب کوئی قاری خرید لے تو وہ ہمیشہ کے لیے کتاب سے متنفر ہو جاتا ہے۔

ہم قاری کو دو گروپوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک وہ گروپ جو مذہبی، سیاسی، تاریخی یا فلسفے کی کتابیں پڑھتا ہے اور دوسرا وہ گروپ جو کہانی، ناول، افسانہ، شعر و شاعری پڑھتا ہے۔ پہلا گروپ کتاب معلومات میں اضافے، کسی خاص سوال کے جواب یا کسی تحریر و تقریر میں حوالہ دینے کے لیے پڑھتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کا قاری صرف تفریح کے لیے کہانی، ناول، افسانے اور شاعری کو ہاتھ لگاتا ہے اور جب قاری کو اس کتاب سے لطف نہیں آتا تو وہ کتاب سے ہی متنفر ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں سے ایسے لکھنے والے صاحب کتاب ادیبوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ کتاب بھی آہستہ آہستہ مر رہی ہے۔

بچوں کے لیے لکھنے والے نومولود ادیب اور بھی ظلم کرتے ہیں وہ تو بچوں کو ہی کتاب سے دور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ بچوں کی تفریح کے لیے لکھنے والے ویسے بھی آٹے میں نمک کے برابر ہیں، زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو مذہبی کہانیاں لکھتے ہیں۔ ان مذہبی کہانیاں لکھنے والوں نے بچوں کے ادب کو بھی اسلامی ادب اور غیر اسلامی ادب میں بانٹ دیا ہے۔ اسلامی رسائل کے وہ مالکان اور مدیر جن کے مدرسوں میں تعلقات اچھے ہیں وہ اسلامی ادب لکھنے والوں سے کہانیاں لکھواتے ہیں کیوں کہ انہیں اپنے رسائل مدرسوں میں ہی بیچنے ہوتے ہیں۔

یہ ہی رسائل مدرسوں کے علاوہ انگریزی سکولوں یا عصری علوم کی درسگاہوں میں پڑھنے والے بچوں کے ہاتھ جب لگتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ کہانیاں بھی صرف نصیحتیں کرنے کا ذریعہ ہیں اور اتنی نصیحتیں آج کا بچہ کہاں سنتا یا پڑھتا ہے۔ زندگی کی کہانیاں جسے اسلامی ادب والے غیر اسلامی ادب کہتے ہیں وہ کم لوگ ہی لکھتے ہیں اور جو لکھتے ہیں وہ بکتے بھی ہیں۔

میں با وجوہ یہاں ان ادیبوں کے نام نہیں لکھنا چاہتا جو بچوں یا بڑوں کے ادب میں آسانی سے بک جاتے ہیں کیوں کہ جگہ کی کمی آڑے آئے گی اور جن کے نام لکھنے سے رہ جائیں گے وہ ناراضی کا اظہار کر سکتے ہیں۔

اب اس طرف آتے ہیں کہ بکنے والا ادیب کیسے بنا جائے تو صاحبو یہ کام ہے مشکل مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے آپ کو پہلے اپنا مطالعہ وسیع کرنا ہو گا۔ آپ دنیا کے ہر زبان میں چھپنے والے ادب، فلسفے، تاریخ اور یہاں تک کہ سیاست کو بھی پڑھیں۔ اگر آپ سائنس فکشن کہانیاں لکھ رہے ہیں تو سائنس کا بھی بنیادی علم آپ کے پاس ہونا چاہیے، اگر آپ جاسوسی کہانیاں لکھتے ہیں تو حضور یہ تو جان لیجیے کہ جو سیکرٹ ایجنسیاں ہوتی ہیں وہ کام کیسے کرتی ہیں۔

پولیس یا فوج کے کام کرنے کا کیا طریقہ کار ہے۔ عدالت میں محرر کا کیا کام ہوتا ہے اور تھانے کا محرر کیا کام کرتا ہے۔ وکیل صفائی کون ہوتا ہے اور وکیل استغاثہ کس بلا کا نام ہے۔ جب تک آپ کے پاس یہ بنیادی معلومات نہیں ہوں گی آپ کی کہانیوں کے جھول دور نہیں ہوسکتے اور جھول والی کہانیاں کوئی نہیں پڑھتا۔ اب ایک سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کی ہر زبان کا ادب کیسے پڑھا جائے کون ایسا مہان ہو گا جو دنیا کی ہر زبان جانتا ہو تو جناب عالی اگر آپ کو دو زبانیں بھی آتی ہوں ایک اردو اور دوسری انگریزی تو آپ تقریباً ساری دنیا کا ادب پڑھ سکتے ہیں اگر آپ صرف اردو بھی پڑھ سکتے ہیں تو بھی آپ کئی زبانوں کا ادب پڑھ لیں گے کیوں کہ اردو اور انگریزی میں ترجمہ کرنے والے مترجم خواتین و حضرات نے دنیا کے ہر بڑا لکھنے والے کو ترجمہ کر رکھا ہے۔ اس مرحلے سے گزرنے کے بعد لکھنے کا سلسلہ شروع کریں، رسائل میں لکھیں جب آپ کی تحریروں میں پختگی آ جائے اور لوگ آپ کو پہچاننے لگیں تو ضرور کتاب بھی چھاپیں۔

ایک ذمہ داری پبلشرز کی بھی ہے کہ بھلے کتاب کا معاوضہ او ر محنتانہ وصول کر کے کتاب چھاپیں مگر پہلے یہ دیکھ لیں کہ کتاب چھاپنے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو نہ کتاب بکے گی اور نہ ادیب۔

Facebook Comments HS