یہ سارے لیڈر کیوں اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں؟


پاکستانی سیاست میں انتخابات سمیت مستقبل کے بارے میں ہر معاملہ پر شکوک و شبہات کے سائے ہیں۔ سوشل میڈیا کے علاوہ ’پیش گوئیاں فروخت کرنے والے بعض نامور صحافیوں و کالم نگاروں‘ نے اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالانکہ ملک میں معاملات کو درست تناظر میں پرکھنے اور حقیقی صورت حال کے مطابق رائے دینے یا بات کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

اس مبہم اور غیر واضح صورت حال کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سیاسی امور کے حوالے سے کچھ مغالطے بھی موجود ہیں لیکن دوسری طرف سیاسی لیڈروں کی غلطیوں نے بھی معاملات کو پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے۔ عام لوگوں کی سہولت کے لیے بات کو سیدھی طرح بیان کرنے کی بجائے، مخالفین کو مورد الزام ٹھہرا کر گفتگو کا آغاز کیا جاتا ہے۔ اب یہ حالت ہے کہ جو جس قدر بلند آہنگ کے ساتھ جھوٹ بول سکتا ہے یا جس قدر ڈھٹائی کے ساتھ بے بنیاد باتوں پر اصرار کر سکتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر یا عوام کا دوست بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ گویا سیاسی مقبولیت کے لیے ہر سیاسی جماعت ایک ’بلبلا‘ پیدا کر رہی ہے جس کے ذریعے متعلقہ پارٹی یا لیڈر کو سب سے مقبول، سب سے باہمت، سب سے زیرک اور نہ جانے کیا کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مرحلے پر چونکہ انتخابی معرکہ درپیش ہے لہذا نہ تو یہ سوچنے کی زحمت کی جاتی ہے کہ جب حقیقت حال عیاں ہوگی تو گمراہ کیے گئے لوگوں پر کیا گزرے گی اور خوابوں کے جو محل تعمیر کیے جا رہے ہیں، ان کے ملبے کو کون سمیٹے گا؟

دیکھنے سننے میں تو ہر جماعت اور ہر لیڈر صرف پاکستان کا درد سینے میں چھپائے بیٹھا ہے اور صرف عوام کی بھلائی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ حالانکہ جب تک ہر کوئی اپنی اپنی بڑائی میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا رہے گا، اس وقت تک تو کسی مسئلہ کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ جب خود اپنا قد اونچا کرنے کے لیے دوسرے کا قد چھوٹا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک دوسرے کو کم تر، جرائم پیشہ، ملک دشمن، مفاد پرست اور نہ جانے کیا کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو درحقیقت سارے ہی لیڈر اور سب ہی پارٹیاں بونے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملکی مسائل اس حد تک گنجلک، سنگین اور حقیقی ہیں کہ انہیں حل کرنے کے لیے بونوں کی فوج بھی کم پڑے گی۔ ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے ایک دوسرے کا قد ماپنے کی بجائے حقائق کا ادراک کر کے کوئی حل تلاش کرنا ضروری ہو گا لیکن بدقسمتی سے ملکی سیاست میں ایک بھی لیڈر یا پارٹی حالات و معاملات کو اس پہلو سے دیکھنے کی زحمت گوارا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

یوں تو کسی بھی انتخاب سے پہلے سیاسی پارٹیاں مختلف مسائل کے حوالے سے اپنا منشور پیش کرتی ہیں تاکہ ووٹروں کو معلوم ہو سکے کہ اگر اس پارٹی یا لیڈر کو ووٹ دے کر کامیاب کروا دیا گیا تو وہ کن طریقوں سے ان مسئلوں کا حل تلاش کریں گے۔ دلچسپ پہلو البتہ یہ ہے ماضی قریب کی مالی بد اعتدالیوں، سیاسی نظام میں نقب زنی کی تاریخ، پارٹیوں کی بدنظمی و اقتدار کی ہوس کی وجہ سے ملکی معیشت کو گونا گوں مسائل درپیش ہیں۔ سادہ لفظوں میں خزانہ خالی ہے، آمدنی کے ذرائع مفقود ہیں، حکومتی مصارف پورے کرنے کے لیے عالمی اداروں یا دوست ممالک سے قرض لیے بغیر کام نہیں چلتا۔ اس صورت حال میں مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے اور کاروبار معطل و ناکام ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ یعنی پاکستان ایک ایسی معیشت ہے، جو اپنا خرچ اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتی لیکن آبادی میں بے تحاشا اضافہ کی وجہ سے ہر سال لاکھوں نوجوان سامنے آتے ہیں۔ ریاست کے پاس نوجوانوں کی اس بھیڑ کو تعلیم یا روزگار فراہم کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔

ایسی صورت حال میں سیاسی پارٹیاں اگر واقعی دیانت داری سے کام لیں تو مسائل حل کرنے کے لیے خود ستائی پر مبنی کسی منشور کی بجائے، ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہوگی جو اتفاق رائے سے ہی اختیار کی جا سکتی ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے یا زمام اقتدار تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں آئے، ان کے پاس مسئلہ حل کرنے کا ایک ہی راستہ ہو گا۔ کہ قومی وسائل میں اضافہ کیا جائے، بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور پیداواری صلاحیت بڑھا کر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ پاکستان کو جس معاشی صورت حال کا سامنا ہے، اس میں ان مسائل کا حل کسی حسابی سوال کا جواب تلاش کرنے کی مانند ہے۔ یعنی اگر آپ فارمولا کے مطابق کام کریں گے تو حل تک بھی پہنچ جائیں گے۔ لیکن فارمولا کی تفہیم یا اسے استعمال کرنے میں کوئی چوک کریں گے تو سوال کا جواب تلاش کرنے کی بجائے، الٹا اسے الجھا بیٹھیں گے۔ اس صورت حال میں سچ تو یہ ہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں ایکس، وائی، زیڈ، کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آئے، اسے اسی فارمولے پر عمل کرنا ہو گا۔ یا وہ ملک کی تقدیر کو مزید اندھیروں کی طرف دھکیل دے گی۔

اس پس منظر میں پاکستان کی حد تک کسی سیاسی پارٹی کے پاس ایسی گنجائش موجود نہیں ہے کہ وہ اپنے منشور میں متبادل حل پیش کرسکے اور عوام جس حل کو بہتر سمجھیں اسے ووٹ دے کر کامیاب کروائیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما کسی منشور کا ذکر کرنے کی بجائے نام نہاد جادو کی چھڑی کا حوالہ دیتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے نزدیک اس چھڑی کا نام نواز شریف ہے تو تحریک انصاف عمران خان کو تمام مسائل حل کرنے کا جادوگر قرار دیتی ہے۔ لیکن کیسے؟ کوئی یہ سوال نہ تو سننے پر آمادہ ہے اور نہ ہی اس کا جواب دینے کی نوبت آتی ہے۔ اسی لیے ملکی سیاسی مباحث اس وقت شخصیت پرستی، باہمی دشمنی اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ نواز شریف کو لگتا ہے کہ وہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا ریکارڈ قائم کر لیں تو ملکی مسائل از خود حل ہوجائیں گے۔ حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ سیاسی چیلنجز میں سب سے اہم معاشی استحکام پیدا کرنے کا سوال ہے لیکن نواز شریف کے پاس ماضی کی کہانیاں سنانے کے سوا مسئلہ کا کوئی حقیقی حل نہیں ہے۔

نواز شریف کی مصاحبت سے اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی تازہ دماغ، ماہر یا نابغہ کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے۔ اب بھی ان کے سب سے زیرک مالی مشیر اسحاق ڈار ہی ہیں جو مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی صورت میں وزارت خزانہ سنبھالیں گے۔ حالانکہ شہباز حکومت کی مالی ناکامی کی بنیادی وجہ اسحاق ڈار کا طرز عمل ہی تھا۔ ان کے ہتھکنڈوں اور طریقوں کو مالی پالیسی نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ان میں معاملات کا تقابلی جائزہ لے کر کوئی قابل عمل حال تلاش کرنے کا رویہ مفقود ہوتا ہے۔ وہ سیاسی ضرورت کو نعرہ بنا کر یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں گویا وہ مسیحا کے طور پر معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اگر کوئی ماہر معیشت اس دھوکے میں مبتلا ہو تو اس سے کسی پائدار مالی پالیسی کی توقع بے سود ہوگی۔ یادش بخیر نواز شریف کے دور میں روپے کو ڈالر کے مقابلے میں جعلی ہتھکنڈوں سے مستحکم رکھنے کی حکمت عملی بھی اسحاق ڈار ہی کی دریافت تھی۔ اب اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس کوتاہ اندیشی کی وجہ سے ہی ملک کے مالی خسارے میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔ اس خسارے کو روکنے کی کوشش میں شہباز حکومت ایسی پابندیاں لگانے پر مجبور ہوئی کہ ملکی پیداواری معیشت کا پہیہ جام ہو کر رہ گیا۔

دوسری طرف تحریک انصاف ہے جو ملک پر حکومت تو کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے پاس عمران خان کی تصویر دکھانے کے سوا کسی مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔ اگر ایک منٹ کے لیے عمران خان کے متوالوں کی اس دلیل کو مان لیا جائے کہ وہ دیانت دار اور دلیر انسان ہیں جو ملکی مفاد کے لیے کسی بھی بڑی طاقت کے سامنے ڈٹ جائیں گے۔ پھر بھی کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک دیانت دار آدمی کسی صلاحیت یا حکمت عملی کے بغیر معاشی بحالی کے منصوبے کا آغاز کرسکے گا؟ جہاں تک بیرونی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا سوال ہے تو اس کی بنیاد اس قیاس پر رکھی جاتی ہے کہ امریکہ یا دوسری بڑی طاقتیں پاکستان کا استحصال کرنے کے لیے کسی بھی قیمت پر اسلام آباد میں اپنی حکومت مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی و علاقائی حالات میں اتنی بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں کہ مستقبل میں کسی امریکی صدر کو یہ جاننے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوگی کہ پاکستان کا وزیر اعظم کون ہے۔

تحریک انصاف نوجوانوں کی پارٹی کہلاتی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک میں 18 سے 25 سال عمر کے دو سے تین کروڑ ووٹر صرف عمران خان کو ووٹ دیں گے خواہ وہ کسی کو بھی اپنے نام سے انتخاب میں امید وار بنا دیں۔ یہ دعویٰ اسی قدر دور از حقیقت ہے جس قدر یہ دعویٰ کہ ملک کا سارا نوجوان ووٹر عمران خان کا حامی ہے۔ پھر بھی اگر اس کلیے کو سو فیصد درست مان لیا جائے تو اس سوال کا جواب بھی تحریک انصاف کو ہی دینا چاہیے کہ جن دو تین کروڑ نوجوانوں کو خواب بیچ کر ان سے ووٹ وصول کیے جائیں گے، کامیابی کی صورت میں ان خوابوں کی تعبیر کیسے حاصل ہو گی؟ کون سا ایسا جھرلو ہو گا جس سے کام لے کر عمران خان ملک میں یک بیک دو کروڑ روزگار پیدا کر لیں گے یا کروڑ ڈیڑھ کروڑ نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کا راستہ ہموار کر دیں گے۔ ان سوالوں کا جواب عمران خان یا ان کے پرجوش حامیوں میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہے کیوں کہ وہ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ سارا زور صرف اس بات پر صرف کیا جا رہا ہے کہ جھوٹے خواب بیچے جائیں۔ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں ہے کہ اس سراب کا راز افشا ہونے میں دیر نہیں لگے۔ ثبوت کے طور پر 2018 میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی کی حکومت کا حشر ہم سب کے سامنے ہے۔

ان حالات میں غور کیا جائے تو معمولی عقل کا انسان بھی ایسے ملک کی حکومت سنبھالنے پر تیار نہیں ہو گا جہاں مسائل تو موجود ہیں لیکن ان کا حل اختیار کرنے کا حوصلہ کسی میں نہیں ہے۔ کون ہے جو یہ چیونٹیوں بھرا کباب کھانا چاہتا ہے اور کیوں؟ پاکستانی عوام اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں تو ان پر سب سیاسی رہنماؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آ سکتی ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2720 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments