کوڑا کرکٹ کا ورلڈ کپ

یک نہ شد دو شد۔ اس مہینے دو ورلڈ کپ منعقد ہوئے ہیں، ایک کرکٹ کا اور دوسرا کوڑا کرکٹ کا۔ کرکٹ کے ورلڈ کپ کا نظارہ تو ساری دنیا نے کیا ہے لیکن کوڑا کرکٹ کے ورلڈ کپ کو کسی نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ کرکٹ کے فائنل میچ میں گو ہماری قومی ٹیم شریک نہیں تھی مگر بغض ہمسایہ میں ہم تمام وقت ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھے رہے اور حریف دشمن کے حق میں دعائیں مانگتے رہے۔ آخرکار ہماری دعائیں قبول ہوئیں اور آسٹریلیا نے لال قلعے پر فتح کا جھنڈا لہرا دیا۔
اس موقعے پر ہماری خوشی دیدنی تھی لیکن ہم چوں کہ صاحب دل بھی ہیں اور یہ دل غم سے بھر بھی آتا ہے، سو فائنل میچ کے آخری لمحات میں بالی ووڈ کی اداکارہ انوشکا شرما کے مغموم چہرے کو دیکھ کر ہم دوسری بار اداس ہو گئے۔ پہلی بار ہم اس وقت اداس ہوئے تھے جب چند سال پہلے چیمپیئنز ٹرافی میں قومی کرکٹ ٹیم نے انڈیا کو شکست سے دوچار کیا تھا اور بالی ووڈ کی اداکارہ کرینہ کپور غم زدہ ہوئی تھیں۔ اس وقت تو اتنے اداس ہوئے تھے کہ ہم نے ایک نظم کی صورت میں کرینہ کپور سے معذرت بھی کی تھی:
کرینہ کپور!
ہم تمہارا دل توڑنا نہیں چاہتے تھے
کیوں کہ ہم تم سے بھی
اتنا ہی پیار کرتے ہیں
جتنا ہم کرشمہ کپور سے کرتے تھے
مگر اس روز انجانے میں
ہماری ٹیم نے میچ سے ذرا پہلے
گردے کپورے کھا لیے تھے!
اس بار انوشکا شرما کی تالیف قلب کے لیے ہم آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو یہ بددعا دیتے ہیں کہ اللہ کرے، ان کے کرکٹ کے بلوں میں کیڑے پڑیں۔ اور درویش کی صدا کیا ہے؟
کوڑا کرکٹ کا افتتاحی ورلڈ کپ جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہوا اور اس کا نام ”سپوگومی ورلڈ کپ“ ہے۔ ”سپوگومی“ انگریزی کے لفظ ”سپورٹس“ اور جاپانی لفظ ”گومی“ سے مل کر بنا ہے۔ ”گومی“ کا مطلب ہے کچرا، کوڑا کرکٹ، گندگی۔ اہل جاپان نے صفائی کو ایک کھیل بنا دیا ہے۔ اس کھیل میں کھلاڑی کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں اور مقررہ وقت میں جس ٹیم کی جمع آوری سب سے زیادہ ہوتی ہے، وہ فاتح قرار پاتی ہے۔ اس سال برطانیہ کی ٹیم ”دی نارتھ ول رائز اگین“ نے ستاون کلوگرام کچرا جمع کیا اور نو ہزار سے زائد پوائنٹس حاصل کر کے میزبان ٹیم جاپان کو ہرا کر ورلڈ کپ جیتا ہے۔
یہ نیرنگیٔ زمانہ ہے کہ انگریز جو کبھی ہندوستان میں زر و جواہر جمع کرتے تھے، آج جاپان میں آلائشیں جمع کرتے پھر رہے ہیں :
شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی
”انہی کی ہاتھ سے ہوتی صفائیاں دیکھیں“
پرانا تجربہ ضرور کہیں کام آتا ہے۔ گوروں کو چوں کہ ہندوستان میں جھاڑو پھیرنے کا وسیع تجربہ حاصل تھا، اس لیے انہوں نے باآسانی یہ ورلڈ کپ جیت لیا۔
اس ٹورنامنٹ میں اکیس ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی اور اس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ ”سپوگومی ورلڈ کپ“ کے منتظمین نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ ورلڈ کپ 2025ء میں منعقد کیا جائے گا جس میں مزید ممالک کی ٹیمیں بھی شرکت کریں گی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہاں سے ہماری قومی ٹیم بھی ٹوکیو روانہ ہو اور فائنل میچ میں انڈیا کے ساتھ ٹاکرا ہو اور وہ میچ دیکھنے کرینہ کپور اور انوشکا شرما بھی آئی ہوں اور پھر ان کے مغموم چہرے دیکھ کر ہم سے رہا نہ جائے اور ہم دونوں سے معذرت کے لیے ایک تازہ نظم تحریر کریں۔
