ہنسنے میں کیا ہرج ہے؟


میرے ایک سکول کے ہم جماعت پپو جیسے گول مٹول تھے۔ میڈیکل کالج تک ساتھ پڑھتے رہے۔ ہم ان کے ”پپو پن“ کا مذاق اڑاتے تو وہ سے بڑھ چڑھ کر اپنے آپ پر کئی اور لطیفے گھڑ لیتے اور ہم سے اونچے قہقہے اسی کے لگتے۔ ایک دن میں نے انہیں پکڑ کر مصنوعی غصے سے کہا کہ ”تم اپنا مذاق خود اڑا کر ہمیں چھیڑنے سے محروم کر دیتے ہو“ وہ ہنس پڑا کہ اگر میں یہ نہ کرتا تو تم لوگ میرا جینا حرام کر دیتے۔

حس مزاح ایک بہت اہم خاصیت ہے جو نہ صرف چہرے پر مسکراہٹ پھیلاتی ہے بلکہ برداشت کی سطح بھی اونچی کر دیتی ہے۔ میرے کیے دوست سکھ ہیں۔ یقین کیجئے کہ وہ بسا اوقات فرمائش کر کے سکھوں والے لطیفے سنتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس مزاح میں کسی کی جسمانی یا ذہنی معذوری کا مذاق اڑانا شامل نہیں ہے۔ وہ نہ صرف تہذیب کے خلاف ہے بلکہ اللہ کے نزدیک بھی ناپسندیدہ ہے۔

دنیا کی تمام اقوام بارے لطیفے موجود ہیں جو کئی بار دوسری نسلوں پر بھی کسے جاتے ہیں لیکن یہ صرف مذاق سمجھ کر ہی نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی اس قسم کے نسلی لطیفے پر آپے سے باہر ہو جائے تو وہ مذاق اس پر چپک کر رہ جاتا ہے ۔ جتنی شدت سے اسے غصہ آتا ہے اسی قدر اس کی چھیڑ بڑھتی جاتی ہے۔

میرے سکول کالج کے زمانے میں پشاور جی ٹی اڈے کے باہر فٹ پاتھ پر ایک حجام بیٹھا ہوتا تھا۔ کسی نے اس کی چھیڑ ککڑ چور (چرگو غل) رکھ دیا تھا۔ اس کی بدقسمتی سے گورنمنٹ کالج قریب ہی تھا اور وہ آتے جاتے ککڑ چور کا نعرہ اچھال دیتے۔ بس پھر وہ حجام ہوتا اور جمع کیے ہوئے پتھر۔ گاہک آدھی شیو کیے حجام کا انتظار کے جھنجھٹ میں پڑے ہوتے۔ کالج کے طلبہ کا یونیفارم سفید قمیض اور شلوار ہوتا تھا۔ چنانچہ ہر ”سفید پوش“ کو سڑک کے دوسرے کنارے پر چلنا پڑتا۔ ایک دفعہ مجھے بھی صرف سفید کپڑوں کی وجہ سے ایک بھاری پتھر سینے میں لگا۔

جو لطائف ہم عموماً سکھوں سے منسوب کرتے ہیں، باقی قومیں پختونوں پر اچھالتے ہیں لیکن جہاں سکھ اس کا جواب ایک مضبوط قہقہے کی صورت میں دیتے ہیں۔ ہم پختون آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اور کوئی عجب نہیں کہ ایک معمولی سا مذاق نسلوں کی دشمنی میں بدل جائے۔ ”یہ مجھے گھورتا ہے“ کی بنیاد پر کئی قتل ہو جاتے ہیں۔ ہم اسے شاید غیرت کی نشانی مانیں لیکن جو خواتین بیوگی کا شکار ہوجاتی ہیں یا بچے یتیم ہو جاتے ہیں اس کے بارے میں کوئی سوچتا بھی نہیں۔

اس مذاق کا انجام اس کے ردعمل سے جڑا ہوتا ہے نہ کہ ابتدائی عمل۔ کل اگر کوئی کسی پختون کا مذاق اڑائے اور وہ جو اباً قہقہہ مارے یا خاموش رہے تو یہ اس کے تحمل کی نشانی سمجھی جائے گی نہ کہ بی غیرتی کی۔

مغربی ممالک میں رشتوں کے اشتہار لڑکا اور لڑکی خود دیتے ہیں۔ پہلے اخباروں میں چھپتے تھے لیکن اب تو مختلف موبائل ایپس یہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تقریباً سبھی کی رائے میں اچھے حس مزاح کی شرط اولین ہوتی ہے۔ اچھے حس مزاح والوں کے چہرے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور منہ پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔ بلکہ وہ تو ایک محاورہ سا بن گیا ہے کہ ”اگر تم کسی کو مسکراہٹ کے بغیر دیکھو تو اسے اپنی دے دو “ ۔ اور واقعی مسکراہٹ ہو یا ہنسی انفیکشن کی طرح پھیلتی ہے، جو سارے ماحول کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں اور اس لئے وہ بھی مسکراہٹ کا جواب قہقہے سے دیتے ہیں۔

آئیے اپنے لہجے سے تلخی بالکل ختم کر دیں۔ اپنے مخاطب کو بچہ سمجھ کر ایک مسکراہٹ دے دیں۔ سنجیدہ سے سنجیدہ ماحول ایک ذرا سی مسکراہٹ سے خوشگوار ہوجاتا ہے۔ کسی کے برا بھلا کہنے کو ایک پاگل کی بڑ سمجھ کر نظر انداز کریں۔ اس وقت کچھ وبا کی وجہ سے اور کچھ اقتصادی مشکلات کی وجہ سے ہر شخص کی حد برداشت کم ہو چکی ہے۔ اگر آپ کا مخاطب وہ برداشت کھو چکا ہے تو آپ تو اپنے عقل کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ ہاتھی اڑتا ہے تو آپ جواب دیں کہ جی بالکل بجا فرمایا۔ کل تو ہمارے گھر کے سامنے بجلی کی لائن پر بیٹھا ہوا تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments