مین آف ٹورنامنٹ۔ ڈاکٹر جمال ناصر


کسی سیاسی یا غیر سیاسی شخصیت کی ناقص کارکردگی پر قلم اٹھایا جائے تو ہر طرف سے دادو تحسین کے ڈوگرے برسائے جاتے ہیں لیکن اگر اس کی کارکردگی کو سراہا جائے تو پھر ”خوشامد اور مدح سرائی“ کے طعنے سننا پڑتے ہیں میں بہت کم لوگوں کی کارکردگی کا معترف ہوتا ہوں لہذا اس کا اعتراف کرنے میں بھی خاصی ”کنجوسی“ سے کام لیتا ہوں تاکہ خواہ مخواہ کی تنقید سے اپنے آپ کو بچائے رکھوں لیکن میں راولپنڈی کی ایک شخصیت کے بارے میں ”تعصب“ کا شکار ہوں۔

وہ ہے ڈاکٹر جمال ناصر۔ ان سے تعلق خاص ان کے والد نثار احمد نثار مرحوم سے زمانہ طالبعلمی سے قائم ہوا جب میں اور ”فرزند پاکستان“ (دعوے دار) اکثر و بیشتر دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد صرافہ بازار میں نثار احمد نثار کی بیٹھک پر چائے نوشی کے بعد اگلی منزل کو روانہ ہو جاتے تھے اس لحاظ سے سہارنپور کے اس خانوادے سے نصف صدی سے زائد کا تعلق ہے جو تام تحریر قائم ہے ڈاکٹر جمال ناصر نے دنوں میں نہیں سالوں کی محنت سے مقام حاصل کیا گو کہ نثار احمد نثار کا تعلق سہارنپور سے تھا لیکن انہوں نے کبھی سہارنپور کو اپنی شناخت نہیں بنایا۔ باپ بیٹے نے راولپنڈی میں ایسا بسیرا ڈالا کہ ”پنڈی وال“ ہو گئے اس تناظر میں اگر ڈاکٹر جمال ناصر کو ”فرزند راولپنڈی ’“ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گا۔

ڈاکٹر جمال ناصر نے مسلم لیگی خاندان میں آنکھ کھولی نثار احمد نثار تحریک پاکستان کے کارکن تھے مسلم لیگ (قیوم ) کے سیکریٹری جنرل تھے بی ڈی ممبر کی حیثیت سے 1965 ء کے صدارتی انتخاب میں مادر ملت فاطمہ جناح کے کاغذات نامزدگی میں بطور تجویز کندہ تھے ڈاکٹر جمال ناصر بھی کٹر مسلم لیگی ہیں لیکن ان کا ”باغیانہ مزاج“ جاگیر دارانہ و سرمایہ دارانہ سیاست کو قبول نہیں کرتا جس کے باعث انہوں نے خود ہی اپنے کئی دشمن بنا لئے ہیں یہی وجہ ہے مسلم لیگ کے کسی دھڑے نے ان کو آگے بڑھنے نہیں دیا بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہونے کے باوجود کسی مسلم لیگ نے ان کو ناظم شہر یا پارلیمنٹ کا رکن نہیں بنایا وہ راولپنڈی کی سیاست کا وہ تابندہ تارہ ہے جو بیک وقت شہر کا مسیحا بھی ہے اور شہر کی سیاست کا نبض شناس بھی۔

پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی ان پر نظر پڑی تو ان کو اپنی کابینہ میں شامل کر لیا اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور ڈاکٹر جمال ناصر کا انتخاب 90 دن کی کابینہ کے لئے ہوا لیکن یہ حکومت 27 جنوری 2023 ء سے قائم ہے اور 8 فروری 2024 تک ہونے والے انتخابات کے انعقاد تک قائم رہے گی ممکن ہے اس حکومت کو کچھ دن اور کام کرنے کا موقع مل جائے اس وقت تک ڈاکٹر جمال ناصر کو بہت کچھ کرنے کا موقع مل جائے گا ممکن ہے کل تک ڈاکٹر جمال ناصر اپنی شناخت بنانے کے لئے کسی بڑے پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی لیکن انہوں نے چند ماہ میں پنجاب کی نگران حکومت میں اپنا سیاسی پروفائل اس قدر بلند کر دیا ہے جو سیاسی لوگ سالہاسال کی محنت و کاوش کے باوجود حاصل نہیں کر پاتے انہوں نے محنت و لگن سے وزارت پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب میں شاندار کارکردگی کا ہمالیہ کھڑا کر دیا ہے جو آنے والے کسی صوبائی وزیر کے لئے سر کرنا ممکن نہیں ہو گا بعد میں آ نے والوں کے لئے کارکردگی کا امتحان کھڑا کر دیا ہے میں ڈاکٹر جمال ناصر کو 4 عشروں سے جانتا ہوں ان کے عظیم والد نثار احمد نثار سے دوستی تھی وہ ہر روز میری دعاؤں میں یاد ہوتے ہیں ان کی سیاسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب مسیحا و سیاست دان بن گئے ہیں۔ ان کی کتاب میں ناممکن کا لفظ نہیں وہ جس کام کا بیڑہ اٹھاتے ہیں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔

وہ لاہور میں ہونے کے باوجود راولپنڈی کی سماجی و سیاسی تقریبات کے لئے وقت نکال لیتے ہیں لہذا ہفتہ میں تین چار روز ان کا موٹر وے پر ہی آنا جانا لگا رہتا ہے گزشتہ ہفتہ شادی کی ایک تقریب میں ان سے اچانک ملاقات ہو گئی انہوں نے مداحوں کے جھرمٹ سے نکل کر گلے لگا لیا ایسے ملاقات کی جیسے سالہا سال بعد ملاقات ہوئی ہو جب سے انہوں نے نگران وزارت کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہے ان کا بیشتر وقت لاہور میں گزرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ راولپنڈی کو نظر انداز نہیں کرتے بلا شک و شبہ وزیراعلٰی پنجاب محسن نقوی نے دن رات کام کرنے کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر جمال ناصر ان کی ٹیم کے متحرک رکن ہیں وہ مختصر مدت میں شاندار کارکردگی کے ریکارڈ قائم کر رہے وہ چار ماہ بعد وزارت چھوڑیں گے ان کی خدمات تا دیر یاد رکھی جائیں گی ڈاکٹر صاحب خاصی دیر تک محو گفتگو رہے اس دوران انہوں نے اپنی وزارت کی اب تک کی کارکردگی پر مشتمل ایک کتابچہ پیش کیا جس کا مطالعہ کرتے ہوئے میں ورطہ حیرت میں ڈوب گیا۔ یہ سب کچھ مختصر عرصے کے لئے قائم ہونے والی نگران حکومت میں کیونکر ممکن ہے؟

میں نے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا تو ان کی باتوں میں صداقت پائی ڈاکٹر صاحب نے مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوا کہ ان کو وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی طرف سے فری ہینڈ ملا ہوا تھا جو کچھ ڈاکٹر جمال ناصر نے چند ماہ میں کر دکھایا یہ اس وقت تک ممکن نہ ہوتا جب تک ان کو عوامی وزیر اعلیٰ کی آشیرباد حاصل نہ ہوتی ڈاکٹر جمال ناصر نے نگران حکومت کے اس ٹورنامنٹ میں جہاں مختلف ٹیمیں اپنا اپنا کھیل کھیل رہی ہیں ”مین آف ٹورنامنٹ“ کا اعزاز حاصل کر لیا سرکاری ہسپتال ہو یا غیر سرکاری ڈاکٹر صاحب ہر وقت مستحق افراد کی مدد کرتے نظر آتے ہیں ان کی ذاتی لیبارٹری میں آنے والے مستحق شخص کو مطلوبہ رقم نہ ہونے پر واپس نہیں بھجوایا جاتا اسی لئے راولپنڈی کے لوگ انہیں مسیحا کے نام سے یاد کرتے ہیں وزیر اعلٰی نے پنجاب کی 43 جیلوں کے 52 ہزار قیدیوں کے فری ہیپاٹائٹس، بی، سی، ایڈز، ٹی بی، ذیابیطس اور خون کی کمی کے ٹیسٹ، جنرل میڈیکل چیک اپ، ویکسینیشن اور مکمل علاج کرا یا ماضی میں ایسا ہوا اور نہ ہی مستقبل میں کوئی کر دکھائے گا۔

پنجاب کی جیلوں کے لئے ماضی میں 45 کروڑ روپے میں خریدے گئے طبی آلات جن کی اب مالیت ڈیڑھ ارب سے زائد ہے گزشتہ 8 ماہ سے ”کمشن نہ ملنے کی وجہ سے ڈمپ پڑے تھے ان کو ہسپتالوں میں تقسیم کرایا گیا 3500 سے زائد ڈاکٹروں کی اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی، 1045 میڈیکل آفیسرز اور سپیشلسٹس کی آسامیاں تخلیق کی گئیں، محکمہ صحت میں LHVs کی گریڈ 5 سے 8، 1700 لیڈی ہیلتھ سپر وائزرز کی گریڈ 8 سے گریڈ 12 اور گریڈ 14 میں ترقی دی گئی، وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور ڈاکٹر جمال ناصر نے 6 ماہ کے دوران جو کچھ کر دکھایا ہے وہ شاید 5 سال کی آئینی حکومت میں ممکن نہیں اس کارکردگی کو ایک کالم میں سمیٹنا ممکن نہیں اس بارے میں تفصیلات قلم بند کرنے کے لئے خاصا وقت درکار ہے وزیر، اعلٰی پنجاب کی نگرانی میں ڈاکٹروں پیرا میڈیکل سٹاف کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے انقلابی اقدامات کیے گئے پہلی بار BHU میں شام کو ویکسینیشن سنٹر کا آغاز کیا گیا ادویات کی تیاری میں کوالٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں 11 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں طبی منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے 10 کروڑ روپے کی لاگت سے بے نظیر بھٹو ہسپتال میں OPD، کی بہتری کے منصوبہ کی منظوری دی گئی

Facebook Comments HS