بس سٹاپ والا شخص


”دراصل تم جانتے ہی نہیں ہے کہ قیامت برپا ہوئے سینکڑوں سال بیت چکے ہیں، یہ دنیا جو تمہیں دکھائی دے رہی ہے مصنوعی ہے، اصل دنیا تو کب کی ختم ہو چکی!“ نامعلوم شخص نے کہا۔

”اور تمہیں اس بات کا کیسے علم ہے؟“
”کیونکہ میں نے جنت میں خدا سے التجا کی تھی کہ مجھے ویسی دنیا دوبارہ تخلیق کردے۔“
”اور خدا نے تمہاری بات مان لی؟“
”ظاہر ہے، جنت میں تو ہر خواہش پوری کی جاتی ہے۔“ اس نے اطمینان سے جواب دیا۔

اس نامعلوم شخص کو پہلی مرتبہ میں نے بس سٹاپ پر دیکھا تھا، اس روز مجھے جلدی تھی اور میری کوشش تھی کہ سب سے پہلے میں بس میں سوار ہو جاؤں۔ یہ شخص پہلے سے وہاں موجود تھا، جونہی بس آئی میں فوراً بھیڑ کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور لوگوں کو پیچھے دھکیل کر بس میں سوار ہو گیا۔ میں عموماً ایسی حرکت نہیں کیا کرتا مگر اس دن مجھے تاخیر ہو رہی تھی اس لیے میں نے سوچا کہ ایک آدھ مرتبہ ایسی بد تمیزی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

یہ بس سٹاپ میرے گھر کے قریب ہے اور کام پر جانے کے لیے میں یہیں سے بس میں سوار ہوتا ہوں، گزشتہ چند ماہ سے میرا یہی معمول ہے، میں ٹھیک آٹھ بجے بس سٹاپ پہنچ جاتا ہوں اور اکثر پہلی ہی بس میں جگہ مل جاتی ہے، لیکن اگر رش زیادہ ہوتو پھر مجھے اگلی بس کے لیے مزید پندرہ بیس منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ شخص روزانہ مجھ سے پہلے بس سٹاپ پر موجود ہوتا تھا، شروع شروع میں تو میں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی لیکن بعد ازاں میں نے اس میں دلچسپی لینی شروع کردی۔

وہ ایک قبول صورت شخص تھا، عمر تیس سال کے لگ بھگ ہوگی، آنکھوں پر سیاہ فریم کا چشمہ لگاتا تھا جس سے اس کی عمر چار پانچ سال زیادہ لگتی تھی، اپنے رکھ رکھاؤ سے وہ کسی پڑھے لکھے خاندان کا فرد لگتا تھا، رکھ رکھاؤ میں نے اس لیے کہا کہ وہ ہمیشہ سوٹ اور ٹائی پہن کر بس سٹاپ آتا تھا اور میں نے کبھی اسے دھکم پیل کرتے ہوئے بس میں سوار ہوتے نہیں دیکھا تھا، اگر بس میں جگہ نہ ہوتی تو وہ اطمینان سے اگلی بس کا انتظار کرتا اور اس وقت تک بس میں سوار نہیں ہوتا تھا جب تک پہلے سے موجود لوگ سوار نہیں ہو جاتے تھے۔

لیکن بس سٹاپ پر میرے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا آدمی ہو جس نے اس نامعلوم شخص کی شائستگی کو نوٹ کیا ہو۔ شاید میں بھی یہ بات نوٹ نہ کرتا مگر اس شخص کی خوش لباسی نے مجھے اس میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا۔ دوسری بات جس نے مجھے اس کی جانب متوجہ کیا وہ اس کی اخبار پڑھنے کی عادت تھی، بس کا انتظار کرتے ہوئے وہ اطمینان سے بس سٹاپ کے ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر اخبار کی ورق گردانی کرتا رہتا، جب میں نے پہلی مرتبہ اسے یوں اخبار کا مطالعہ کرتے دیکھا تھا تو بہت متاثر ہوا تھا اور تب ہی ہماری بات چیت شروع ہوئی تھی۔

ابتدا میں وہ شخص خاصا لیے دیے رہا، کچھ میری بھی عادت ایسی ہے کہ میں جلد لوگوں سے بے تکلف نہیں ہوتا، اس لیے ہماری بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ پھر ایک دن ہمیں بس میں اکٹھے سوار ہونے کا موقع مل گیا، اس روز موسم کچھ ابر آلود تھا اور زیادہ رش نہیں تھا، بسوں میں بھی نشستیں خالی تھیں، ہم دونوں ساتھ بیٹھ گئے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس شہر میں نووارد ہے اور ایک مقامی فرم میں ملازمت کرتا ہے، بیوی بچے آبائی شہر میں ہوتے ہیں اور فی الحال وہ یہاں تنہا رہ رہا ہے۔

میں نے اس کی خوش لباسی کی تعریف کی جس کے جواب میں اس نے فقط مسکرا کر میرا شکریہ ادا کیا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ میرے بارے میں بھی استفسار کرے گا مگر اس کا سٹاپ آ گیا اور وہ مجھ سے مصافحہ کر کے اترا گیا۔ اس کا ہاتھ بے حد نرم تھا، مجھے یوں لگا جسے میرے ہاتھ میں روئی کا گالا آ گیا ہو۔ اگلے چند ہفتوں میں ہمارے درمیان خاصی بے تکلفی پیدا ہو گئی، اسے چونکہ مطالعے کا شوق تھا اس لیے یہ بھی وجہ دوستی بن گیا اور ہم ہر دوسرے تیسرے روز ملاقات کرنے لگے۔

بس سٹاپ کے پاس ہی ایک باغ تھا، وہاں درختوں کے درمیان لوگوں کے بیٹھنے کے لیے بنچ بنے ہوئے تھے، ہم واپسی پر وہاں بیٹھ جاتے اور بعض اوقات دو دو گھنٹے تک کسی کتاب پر گفتگو کرتے رہتے۔ گویا جس سست رفتاری سے ہمارے درمیان جان پہچان پیدا ہوئی تھی اب اسی سرعت کے ساتھ ہمارے تعلقات میں پیش رفت ہونے لگی۔ مگر پھر ایک عجیب بات ہوئی۔

ایک روز حسب معمول ہم اپنے مخصوص بنچ پر بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک بس سٹاپ والے شخص نے کہا کہ اگر میں تمہیں کوئی ناقابل یقین بات بتاؤں تو کیا تم یقین کرو گے۔ ویسے تو میں نے اسے کبھی غیر سنجیدہ موڈ میں نہیں دیکھا تھا مگر اس دن وہ ضرورت سے زیادہ ہی سنجیدہ تھا۔ اس کا چہرہ مجھے کچھ عجیب سا لگا لیکن میں نے اس کی سنجیدگی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ اگر بات ہی ناقابل یقین ہوتو اس پر یقین کیسے کیا جا سکتا ہے۔

میری بات سن کر بھی اس کی سنجیدگی میں فرق نہیں آیا اور اس نے اپنا سوال دہرایا۔ اس لمحے مجھے اس کی آنکھوں میں عجیب سی دیوانگی نظر آئی، کچھ خوف بھی محسوس ہوا لیکن پھر میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ یہ وہی بے ضرر سا شخص ہے جسے میں روزانہ بسوں میں دھکے کھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، زیادہ سے زیادہ یہ مجھے کی کہہ دے گا۔ یہ سوچ کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا او ر پھر ہماری وہی گفتگو ہوئی جو میں بیان کرچکا ہوں۔ اس کا اصرار تھا کہ میں اس کی بات پر یقین کرلوں جبکہ میرا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، مجھے لگا کہ یہ شخص کسی خطرناک قسم کے نفسیاتی مرض کا شکار ہے جس کی وجہ سے یہ چلتے پھرتے زندہ لوگوں کو جعلی کہہ رہا ہے۔ اصولاً مجھے اس وقت وہاں سے اٹھ کر چلے جانا چاہیے تھا، میں نے اٹھنے کی کوشش بھی کی مگر مجھے لگا جیسے کسی نے مجھے جکڑ لیا ہو۔ اس شخص کی گفتگو جاری تھی۔

”تم لوگ سمجھتے ہو کہ اس دنیا کے غم اور خوشیاں حقیقی ہیں جبکہ تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ حقیقت کیا ہے، جسے تم حقیقت سمجھ رہے ہو وہ تو محض وہم کا کارخانہ ہے۔“

”اور تمہارے پاس اپنی اس بات کا کیا ثبوت ہے؟“ نہ جانے کیوں میں نے نا چاہتے ہوئے بھی یہ سوال کر دیا۔

”ثبوت مانگنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ تم حقیقت سے نا واقف ہو، حقیقی دنیا کا ثبوت مصنوعی دنیا سے نہیں دیا جا سکتا۔“

”یہ دعویٰ تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ اور پھر تم یہ سب کچھ مجھے کیوں بتا رہے ہو، اگر حشر برپا ہو چکا ہے اور یہ دنیا تمہاری خواہش پر سجائی گئی ہے تو تم مجھ ایسے جعلی آدمی سے گفتگو ہی کیوں کر رہے ہو؟“

”اس لیے کہ اب میں اپنی دنیا میں واپس جانا چاہتا ہوں۔“

یہ کہہ کر وہ شخص بنچ سے اٹھا اور بس سٹاپ کی طرف بڑھنے لگا، ابھی وہ سڑک کے درمیان ہی تھا کہ اچانک دوسری جانب سے ایک تیز رفتار گاڑی آئی اور اس سے ٹکرا گئی، میری چیخ نکل گئی، گاڑی کے ڈرائیور نے رکنے کی زحمت نہیں کی اور اسی رفتار سے گاڑی بھگا کر نکل گیا۔ میں فوراً اٹھ کر اس کی طرف بھاگا، میرا خیال تھا کہ اس خوفناک حادثے کے بعد یک دم وہاں بھیڑ لگ جائے گی اور اس شخص کو اسپتال لے جایا جائے گا مگر میں سڑک کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ وہاں کسی حادثے کا کوئی نشان نہیں۔ میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی مجھے وہ شخص کہیں نظر نہ آیا۔ ٹریفک اسی طرح رواں دواں تھی۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada