گلاب پاش یا صندل کا پیڑ: زمانہ حال کی ایک نایاب کتاب
ادب میں نایاب کتاب اس کتاب کو سمجھا جاتا ہے جو یا تو انتہائی قدیم ہو اور بہت کم افراد کے کتب خانے کی زینت ہو یا پھر عرصے سے دوبارہ شائع نہ ہوئی ہو اور شائقین علم کی دسترس سے باہر ہو۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی کتاب شائع ہوئی ہے جو نہ تو مندرجہ بالا پہلی شرط پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی دوسری پر۔ لیکن میں اس کتاب کو پھر بھی نایاب کتاب کا درجہ اس لیے دینا چاہتا ہوں کیونکہ یہ کتاب بازار میں برائے فروخت نہیں ہے اور انمول بھی ہے کیونکہ اس کتاب کے ناشر کا نام اور قیمت ندارد ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک ایسی قد آور ادبی شخصیت ( زہرا نگاہ) جنہوں نے گزشتہ صدی کے اوائل میں اس وقت بطور شاعرہ اپنی ایک علیحدہ اور منفرد شناخت بنائی جب اردو ادب کے میدان میں خواتین شاعرات کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی کی طرف سے بطور بیٹی اپنی ماں کو ہدیہ عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کا نام بھی منفرد اہمیت کا حامل اس لئے ہے کہ عموماً کتاب کا ایک نام رکھا جاتا ہے۔ لیکن اس کتاب کا نام ”گلاب پاش یا صندل کا پیڑ“ دو عنوانات پر مشتمل ہے۔ جو شاید اردو ادب میں ایک نئی روایت کی داغ بیل ڈالتا ہے۔
یہ کتاب صرف 25 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آغاز میں زہرا نگاہ رقم طراز ہیں کہ ”بہت دنوں سے میرے دل و دماغ پر ایک قرض سوار تھا، جو ہر لمحہ اپنا سود تو بڑھائے جاتا۔ مگر اس سود کو اتارنے کی ہمت میری عمر کی طرح دن بہ دن کم ہو رہی تھی۔
یہ قرض اپنی ماں کی یاد تھی جسے معمولات اور مصروفیات زندگی نے دھندلا سا کر دیا تھا۔ اب چونکہ اپنا جہاز عمر کنارے سے آ لگا ہے تو وہ بستیاں وہ روشنیاں بہت قریب سے نظر آنے لگیں جنہیں ہم بہت دور سمجھتے تھے اور کبھی کبھی سوچتے تھے کہ واقعی ہمارے پیاروں نے بہت دور بستیاں بسا لی ہیں۔ ”
زہرا نگاہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کتاب دراصل انہوں نے اپنی بڑی بہن ( مسز صغریٰ کاظمی) کی تحریک پر لکھی جنہوں نے زہرا نگاہ سی صرف ایک جملہ کہا جس کو وہ اپنی 60 سالہ زندگی پر بہترین تنقید سمجھتی ہیں کہ ”یہ جو تم سالہاسال سے بے کار شاعری کرتی رہتی ہو کم از کم ایک مضمون ہماری ماں پر لکھ دو تاکہ ہم اپنے بچوں کے بچوں سے ان کا تعارف ہی کروا سکیں چلو قرض سمجھ کر ہی لکھ دو۔“
اور پھر ہوں یہ کتاب تخلیق پائی۔
کتاب کے دو عنوانات کے حوالے سے زہرا نگاہ کا کہنا تھا کہ ”پہلا مرحلہ عنوان کا تھا۔ ایسا عنوان جو ان کی شخصیت کی پوری طرح عکاسی کرتا ہو۔ خاندان کے بچوں سے پوچھا تو ایک بھانجے نے مشکل حل کردی“ گلاب پاش ”رکھ دیجیئے۔
واقعی یہ عنوان ان کی ذات کا آئینہ دار تھا۔ وہ گلاب کے پودوں کو اپنے بچوں کی طرح چاہتی اور پالتی تھیں۔ ایک ایک پتی اپنے ہاتھ سے دھوتی تھیں۔ کوئی تازہ گلاب کھلتا تو بچوں کی طرح خوش ہو جاتی تھیں۔ اور ہم سب کو یہ خوشخبری خاص طور سے سنائی جاتی کہ آؤ دیکھو کیسا خوش رنگ گلاب کھلا ہے۔
سچ پوچھو تو میری ماں گلاب پاش ہی تو تھیں گلاب کا عرق چاندی کی صراحیوں میں بھر کر بابرکت محفلوں میں چھڑکا جاتا ہے جو پوری محفلوں کو معطر کر دیتا ہے۔ میری ماں بھی اپنے ملنے والوں کو، اپنی اولادوں کو اپنی گفتگو سے معطر کر دیتی تھیں۔ ان کی باتوں میں گلوں کی خوشبو تو تھی ہی۔ ابھی میں اس عنوان کا لطف اٹھا رہی تھی کہ یکایک ایک دوسرا عنوان میرے ذہن میں آ گیا ”صندل کا پیڑ“ اب سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ”میں کس کو ترک کروں، کس کا انتخاب کروں“ پھر فیصلہ کیا، دو عنوان بھی تو ہو سکتے ہیں چنانچہ دونوں رکھ دیے اور دل مطمئن ہو گیا۔
دوسرے عنوان کے انتخاب کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ وابستہ ہے جو زہرا نگاہ کچھ ہوں سناتی ہیں کہ ”برسوں پہلے میں ہندوستان گئی تو ٹیپو سلطان کے مزار پر جانے کا شوق مجھے میسور لے گیا۔ مزار کی سادگی و پرکاری اور سنگ سیاہ کی دیواروں میں بسی ہوئی صندل کی گھنیری خوشبو نے مجھے مسحور کر دیا۔ میسور کا صندل پورے ہندوستان میں مشہور ہے۔ ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے بتلایا کہ صندل کا جنگل یہاں سے قریب ہے۔ گھنٹے بھر کی ڈرائیو ہے۔ آپ جانا چاہیں تو میں لے جا سکتا ہوں، میں فوراً راضی ہو گئی۔ اور گھنٹے سوا گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم وہاں پہنچ گئے دو رویہ درخت ایک دوسرے سے ملے جلے تھے۔ سایہ تھا خنکی بھی تھی۔ مجھے تھوڑی سی نا امیدی ہوئی۔ جنگل بھی نہیں تھا۔ درخت نہایت ترتیب سے لگائے گئے تھے۔ میں نے دیکھا ایک درخت کے پاس ایک رکھوالا سا بیٹھا ہے۔ میں فوراً اس کے پاس گئی اور پوچھا کیوں بیٹا یہ سب پیڑ صندل کے ہی ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے پھر سوال کیا مگر یہاں کوئی خوشبو نہیں ہے۔ وہ ہنسنے لگا۔ پھر بولا۔ ماں جی یہ پیڑ بھی ماں ہے، ماں زندہ ہے تو چھایا ہے، ٹھنڈک ہے، مر جائے تو پھر خوشبو ہی خوشبو ہے۔ معلوم نہیں وہ سچ کہہ رہا تھا یا نہیں۔ مگر اس جملے نے تھوڑی دیر کے لیے مجھے قید کر لیا۔ میں نے تفتیش بھی مناسب نہیں سمجھی اور نہ ہی مزید تحقیق کی کیونکہ اب میرے پاس بار بار دہرانے کے لیے اس کی زبان سے نکلا صرف ایک جملہ تھا۔ اس طرح اس مضمون کے دو عنوان ہو گئے۔ “
کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زہرا نگاہ کی والدہ کا اصل نام افسر تھا جو حیدرآباد دکن کے ایک ضلع رائچور میں تعینات تعلقدار سید نثار احمد کی صاحبزادی تھیں جن کے ایک بھائی ہاشم دو برس چھوٹے تھے جو سات سال کی عمر میں گھوڑا دوڑاتے گر کر وفات پا گئے۔ اس وقت افسر صرف نو برس کی تھی۔ غمزدہ باپ نے بیٹی کا دل بہلانے کے لیے اپنے کتب خانے کو بیٹی کے لیے کھول کر ان کی دوستی کتابوں سے کروا دی اور جب افسر پندرہ برس کی ہوئی تو ان کی شادی علی گڑھ کے گریجوایٹ 20 سالہ قمر مقصود سے کروا دی گئی۔ اب افسر بی بی کا نام رفتہ رفتہ تبدیل ہو رہا تھا، حیدرآباد دکن میں عام طور سے لڑکیوں کے نام کے ساتھ ”پاشا“ کا لقب لگایا جاتا ہے۔ تبدیلی کے ساتھ پاشا پاشی میں تبدیل ہو گیا پھر تو کیا میاں، کیا بزرگ، کیا دوست احباب سب ہی ان کو پاشی کہنے لگے۔
پاشی ہارمونیم بجانا بھی خوب جانتی تھی اور صبح کا آغاز حضور اکرم ﷺ کی شان میں نعت ”مدینے میں مورا پیا بالا ہے رے۔ سب سے اعلیٰ ہے رے“ سے کرتیں۔ جسے وہ راگ بھیرویں میں پڑھتیں۔ ساڑھی میں ملبوس رہتی۔ بیگم مجید ملک (آمنہ آپا) اور بیگم اختر حسین رائے پوری (حمیدہ خالہ) کا شمار قریبی سہیلیوں میں ہوتا تھا۔ بٹوارے کے باعث ہندوستان میں شان و شوکت سے رہنے والا یہ خاندان جب ”سڈنی کاٹن“ نامی بحری جہاز کے ذریعے جب کراچی پہنچا تو ہمراہ صرف کل متاع آہنی صندوق تھے جو کتابوں سے بھرے ہوئے تھے اور پس منظر میں حیدرآباد ریڈیو پر سہگل کا ریکارڈ بج رہا تھا ”کاہے ہوا اداس پنجرہ لے کر اڑ جا پنچھی چل پیا کے پاس“
مگر قیامت ابھی پوری طرح ٹوٹی نہیں تھی۔ قیامت تو جب ٹوٹی جب ڈھائی سال کے اندر 63 سالہ باپ اور 42 سالہ شوہر دونوں ہی ساتھ چھوڑ گئے۔
وقت گزرتا گیا کراچی کی شام کی فرحت آویز ہوا 38 سالہ بیوہ کے زخموں پر مرہم لگاتی رہی۔ رونے کی صدائیں رفتہ رفتہ معدوم ہوتی گئیں اور صبر و شکر کے ساتھ زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا بھر جب بڑی صاحبزادی سارہ نقوی شادی کے بعد لندن منتقل ہو گئی تو لندن کا تفصیلی دورہ بھی کیا۔ پھر ایک برس 6 محرم الحرام کو وہ اس دنیا سے ہنسی خوشی چلی گئی اس دن دوپہر کے کھانے پر سب بچوں کو بلایا۔ سب سے پوچھ کر سب کی پسند کے کھانے تیار کیے۔ لنچ تقریباً 4 بجے تک چلا۔ کچھ بچے چلے گئے اور کچھ رک گئے۔ جن میں ایک نواسہ ڈاکٹر بھی تھا۔ دیکھتے دیکھتے مغرب ہو گئی۔ بڑی صاحبزادی صغریٰ نماز پڑھنے ان کے کمرے میں آئیں تو کہا کرسی سیدھی کر لو تو قبلے کا رخ صحیح ہو جائے گا۔ پھر اپنے بستر میں لیٹ گئیں اور نہایت آرام سے اس راہ پر چلی گئیں جہاں پر جا کے کوئی واپس نہیں آتا۔ مغرب ہو چکی تھی جب انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے تخت پر بے شکن چادر تھی۔ صاف شفاف سفید، سفید تکیہ غلاف، بدن پر سفید ساڑھی، کانوں میں سفید پھول سفید بالوں کی اوٹ سے جھانک رہے تھے۔ یوں لگا جیسے مغرب کے بعد کمرے میں دھوپ بھر گئی ہو۔ شاید آفتاب خدا حافظ کہنے ان کے کمرے میں آ گیا تھا۔ کھڑکی کے باہر گلاب کے پودے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے جسے کوئی خدا حافظ کہتا ہو!
جاتے وقت بھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ زندگی بھر پانی کا ایک گلاس بھی کسی سے طلب نہیں کیا۔ ایسا باعمل بڑھاپا اللہ کے کشادہ دل بندوں ہی کو نصیب ہو تا ہے۔ اس انتہائی مختصر اور اپنی نوعیت کی منفرد سوانح حیات سے میں محروم رہتا اگر پاکستان میں بچوں کے ادبی میلے کی داغ بیل ڈالنے والی شخصیت اور معروف مصنفہ محترمہ عامرہ عالم جو زہرا نگاہ کی چچی زاد بہن ہیں اپنی چچی جان پر تحریر کردہ یہ گوہر نایاب مجھے ارسال نہ کرتیں جس کا معلوم مجھے فیس بک سے ہوا اور جو صرف زہرا نگاہ نے اپنے خانوادے میں تقسیم کرنے کے لیے تحریر کیا تھا۔ میں نے عامرہ آپا سے درخواست کی اور انہوں نے کمال مہربانی سے مجھے کراچی سے بھیج دی۔
اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ہر ماں اپنی اولاد کے لیے گلاب پاش یا صندل کا پیڑ کی حیثیت رکھتی ہے یہ اور بات ہے کہ ہر اولاد اتنا خوبصورت اظہار نہیں کر پاتی۔ کیونکہ بچے جب بوڑھے ہونے لگتے ہیں تو ماں باپ کے ساتھ گزارے ہوئے دن رات ایک اسکرین کی صورت میں ان کی تنہائی کی رونق ہو جاتے ہیں۔ اور شاہد میں بھی اب اسی کیفیت سے دن بدن دوچار ہوتا جا رہا ہوں۔
سجاد پرویز سینئر براڈکاسٹ جرنلسٹ ہیں اور ریڈیو پاکستان لاہور سے بطور کنٹرولر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز (پنجاب) منسلک ہیں۔




