زندگی تماشا، بقول زردشت

”زندگی تماشا“ ’کھوسٹ فلمز ”کی پیش کش، خدائی فوج داروں کی جانب سے لے دے، حسن نثار صاحب کی ان خدائی فوج داروں کی کھلی مذمت، یہ سب ایک طرف لیکن یہ تحریر ایک دوسرے زاویے سے ہے۔ فلم نے ذہن میں ایک سوال اٹھایا اور جواب سرہانے دھری فریڈرش نیتشے کی کتاب (مترجم ڈاکٹر ابوالحسن منصور، پروفیسر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، انجمن ترقی اردو (ہند ) دہلی 1940صفحات 58 تا 60) میں ملا۔ ہاتھ میں موبائل لے کر یوٹیوب پر عالم استراحت میں فلم دیکھی۔
سوال ذہن میں اٹھا، اسی ادھیڑ بن میں ترجمہ اٹھالیا تو جواب مل گیا۔ یہ ذہنی عمل ہے، مجھے اس کو خالصتاً معروضی عمل لکھتے ہوئے کسی اندرونی رکاوٹ کا احساس ہو رہا ہے کیوں کہ روشن خیال معاشروں میں انفرادی آزادی کے واضح تصور کے باوصف افراد کے غیر فطری یا ابنارمل اعمال کی بابت قانون سازی کی گئی۔ اس قانون سازی کے پیچھے طوعاً و کر ہاً سوچ بھی کارفرما ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی کسی مخصوص یا اجمالی صورت حال کے پیش نظر نہیں نہ ہی اجتماعی نکتہ نظر سے، ذات کی حد تک وضاحت کے لیے مجھے کافی شافی جواب مل چکا تھا، اسی کافیت شفافیت میں اس تحریر کے قارئین کو شریک کر رہی ہوں۔
فلم کے مرکزی کردار کی پچھلی نسل (باپ) نے رقص پر پابندی لگائی اور اگلی نسل (بیٹی ) جس کا تعلق شوبز سے دکھایا گیا ہے، رقص کے عمل کو برا جانا۔ کیوں؟ کیوں کہ وہ نعت خواں کی حیثیت سے معروف تھے۔ ان کی اس شناخت کے کچھ معاشرتی تقاضے تھے جس کو انہوں نے ایک محفل میں رقص کر کے گویا سبو تاژ کر دیا۔ ان کے اس اضطراری عمل کی پاداش میں خوب صورت بیگم کی دل نشیں مسکراہٹ ہی آئی باقی تو سب نے آڑے ہاتھوں لیا۔ یہ اس فلم کی کہانی کا میرے نزدیک پہلا دائرہ، اب اس دائرے کا قطر آگے بڑھتا ہے اور ایک بڑا دائرہ بناتا ہے جب یہ کردار دوسرے کردار یا کرداروں کے عمل پر اپنا فوری اور شدید رد عمل ہی نہیں دیتا بلکہ حجام کی دکان پر پولیس کے آدمی کو مخبری کر دیتا ہے۔ پولیس ’وہاں‘ چھاپہ مارتی ہے ’یہاں‘ سوال میرے ذہن پر چھاپہ مارتا ہے، اور
اچانک کہوں کہ اتفاق کہوں کہ حیرت انگیز؛ زردشت کی انٹری ہوتی ہے :
” زردشت یوں کہنے لگا:۔“ میرے نزدیک تو ایسا قیدی ہے جو آزادی کی فکر میں ہے۔ افسوس، ایسے قیدیوں کی روح میں ہوشیاری تو آجاتی ہے لیکن ساتھ ساتھ دھوکے بازی اور بد طینتی بھی۔
روح جو بندہ آزاد ہے اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو صاف ستھرا بنائے۔ ابھی تک اس میں قید اور کیچڑ کے بہت سے اجزاء باقی ہیں۔ اس کی آنکھ کو بھی پاک صاف ہونے کی ضرورت ہے۔ جان لے کہ نیک لوگوں کی راہ میں بھی ایک نہ ایک شریف حائل ہے اور جب لوگ اس کو نیک کے نام سے یاد کرتے ہیں اس وقت بھی ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ کہہ کر وہ اسے برطرف کر دیں۔
شریف نئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایک نئی نیکی۔ نیک پرانی چیزوں کا دل دادہ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ پرانی چیزیں قائم رہیں۔
لیکن شریف کو یہ خطرہ نہیں کہ کہیں وہ نیک نہ بن جائے بلکہ یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ منہ پھٹ اور ٹھٹھے باز اور مہلک نہ ہو جائے۔
آہ! میں ایسے شرفا سے واقف تھا جو اپنی اعلیٰ ترین امید کھو بیٹھے تھے۔ اور اب وہ تمام اعلیٰ امیدوں سے واقفیت کا اظہار کرتے ہیں۔
اب وہ بے حیائی کے ساتھ وقتی مسرتوں میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور ان کے مقاصد ایک دن سے آگے تجاوز نہیں کرتے۔
ان کا کہنا یہ تھا کہ روح بھی تو ہو اوہوس ہی کا نام ہے۔ لہٰذا ان کی روح کے بازو ٹوٹ گئے، اور اب وہ ادھر ادھر رینگتی پھرتی ہیں اور جہاں کہیں کترتی ہیں وہاں گندگی پھیلاتی ہیں۔
ایک دن وہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم سورما بن جائیں گے اور آج وہ ہوا و ہوس کا شکار ہو رہے ہیں اور سورما ہونے کو وہ نفرت اور خوف سے دیکھتے ہیں۔
مگر میں تجھے اپنی محبت اور امید کی قسم دیتا ہوں کہ تو اس سورما سے قطع تعلق نہ کر جو تیری روح کے اندر ہے بلکہ اپنی اعلیٰ ترین امید کی حرمت کر !
یہ تھی تقریر زردشت کی۔ ”اور یہ تھا میرے سوال کا جواب۔

