آن لائن دنیا میں صحیح اور غلط کی پہچان


آج کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات کا وسیع ذخیرہ انسان کی دسترس میں ہے۔ معلومات کی اس آسان رسائی نے انسان کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ کئی نقصان بھی پہنچائے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان شاید غلط اور گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ ہے۔

پراپیگنڈہ کا ہتھیار بہت قدیم زمانہ سے معصوم انسانوں کے۔ خلاف اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے مگر آج کے دور میں اس کی شکل اور طریقہ کار بہت بدل گئی ہے۔ اب نہایت ہی مکاری کے ساتھ اور انتہائی منظم کوششوں کے ذریعہ گمراہ کن معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ اسی لیے اگر آج انسان کو اپنے آپ کو صحیح اور غلط کی پہچان دینی ہے تو اسے کچھ چیزوں کو سمجھنا ہو گا۔ ]

اگر آپ کسی بھی طرح کی معلومات کو جانچنا چاہتے ہیں کہ یہ کس قدر حقائق پر مبنی ہے تو ان چند باتوں کو دیکھ لیں۔

1۔ جو معلومات دی گئی ہیں۔ ان کا سورس کیا ہے؟ کیا یہ معلومات سوشل میڈیا کے کسی نا معلوم اکاؤنٹ سے دی جا رہی ہیں؟ یا پھر کسی متعلقہ ادارے کے سرکاری تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے دی جا رہی ہے؟

کیا معلومات دینے والے کے پاس اس معلومات کے بارے میں متعصب ہونے کی کوئی وجہ ہے؟ مثال کے طور پر اگر کوئی سیاسی پارٹی اپنی مخالف پارٹی کے دور حکومت کے بارے میں معاشی اعداد و شمار پیش کر رہی ہے تو کتنا ممکن ہے کہ وہ بالکل غیر متعصب ہو کر سارے اعداد و شمار پیش کرے؟

3۔ اگر کوئی خبر کسی مشہور جگہ یا انسان کے بارے میں کوئی خبر سنیں تو اس کو قابل اعتبار جاننے کا ایک طریقہ فیکٹ فائنڈنگ سائٹس بھی ہیں

4۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ صرف خبر کی سرخی کو پڑھ کر ایک تاثر قائم کر لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقی تصویر معاملے کی خبر کی تفصیل میں ہوتی ہے۔ بہت سارے معتبر ادارے بھی متوجہ کرنے کے لیے سنسنی خیز سرخیاں بنا دیتے ہیں۔

5۔ اپنے تعصبات کو بھی پہچانیں۔ جی ہاں۔ بعض اوقات خبر سے ایک خاص تاثر لینے میں آپ کے ذہنی تعصبات بھی آپ پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنے مخالف سیاسی لیڈر کے بارے میں کوئی خبر پڑھتے ہوئے ایسا عین ممکن ہے۔

اگر آپ اوپر دی گئی باتوں کو ذہن میں رکھیں گے تو امید ہے کہ آپ آن لائن ذرائع سے پڑھی جانے والی خبروں میں سے حقیقی اور جعلی خبروں میں فرق کر سکیں گے۔ اور سب سے آخری بات یہ کہ جب تک آپ کو یقین نہ ہو جائے کہ خبر سچی اور معتبر ہے اس کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

Facebook Comments HS