راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری


ہم اردو سے محبت کرنے والوں، اردو کو سر سری لینے والوں، اردو کو غیر اہم کہنے والوں اور اردو کو انگریزی یا مقامی زبانوں سے کم تر سمجھنے والوں کے رویوں اور آراء کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ اردو پر ملک کی قومی زبان ہونے کا الزام ہے۔ آئین کی شق نمبر 251 کے مطابق اردو ملک کی قومی زبان ہو گی اور یہ الفاظ بھی انگریزی زبان میں درج ہیں۔ 2003 ء تک اردو کی بے ادبی جاری رہی اور کوکب اقبال اور محمود نقوی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

سست رو عدالت نے بارہ سال بعد 2015ء کو اردو کے حق میں فیصلہ ( جو انگریزی زبان میں لکھا گیا) سنایا۔ مگر سنانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اردو اب بھی اپنے حقوق سے محروم ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اردو کے فروغ اور نفاذ کی خاطر پاکستان میں 1979ء میں ادارہ مقتدرہ قومی زبان بھی تشکیل پایا۔ علاوہ ازیں مجلس ترقی ادب، اردو سائنس بورڈ، قومی لغت بورڈ، اکادمی ادبیات، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن، اردو لغت پاکستان، اقبال اکادمی، قائد اعظم اکادمی، مرکز تحقیقات اور اردو پروسیسنگ وغیرہ کو بھی یہی کام سونپا گیا۔

دھیلے کا کام نہ ہو پایا تاہم بے روز گاروں کو ملازمتوں کے ساتھ ساتھ آرام و استراحت اور سماجی وقار کے مواقع خوب ہاتھ لگے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم مدت سے ”اردو بے ادبی“ کے دور میں جی رہے ہیں۔ دوسرا رخ دیکھیں تو ماننا ہو گا کہ صرف زبان کے بل بوتے پر قومیں ترقی نہیں کرتیں بلکہ فی زمانہ قوموں کی ترقی کے موجب زبانیں معتبر ٹھہرتیں ہیں۔ یوں تو آئین کی رو سے یہ ملک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسی آئین کی رو سے اس کی قومی زبان اردو ہے جبکہ آئین شکنی کی بھاری سزائیں بھی آئین میں ہی درج ہیں مگر شب و روز کے عملی تماشے ہمارے سامنے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ اس ملک میں تعلیمی اداروں کے باہر ”اردو میڈیم اسکول“ لکھواتے ہوئے لوگ شرماتے اور ہچکچاتے ہیں۔ ادھر ہم بھی سوال دہراتے ہیں کہ،

کوئی داغ سے پوچھ کر یہ بتا دے

کہاں رہ گئی یہ زباں آتے آتے؟

کوئی شک نہیں کہ حکومتی اراکین، سول و ملٹری بیوروکریٹس، جج، اساتذہ، شعرا و ادبا اور خاص کر صحافی حضرات اردو بے ادبی کے مرتکب طبقات ہیں۔ جب ہماری عدلیہ اس قوم کے فیصلے اردو میں لکھنا شروع کردے گی، ہماری سول و ملٹری افسر شاہی فرنگی اصطلاحات کی جگہ اردو رائج کر لے گی، اساتذہ اپنے رزق سے انصاف کرنے کی ٹھان لیں گے اور میڈیا ارد و پر رحم کرتے ہوئے اردو شناس ہو جائے گا تو یقین مانیے اردو تب ہی سرکاری و دفتری زبان بن پائے گی۔ تاریخ کا سبق ہے کہ محض خواہشات سے منزلیں نہیں ملتیں۔ ہم دنیا میں بغیر کچھ کیے اپنے دین، وطن، سماج اور زبان کی معراج کی تڑپ رکھتے ہیں مگر جن راہوں کے ہم مسافر ہیں کیا ان راستوں کی سمت درست ہے؟ تسلیم کرنا ہو گا کہ،

راستہ بھول گیا یا یہی منزل ہے مری

کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں

کاش ہم اس قابل ہوجائیں کہ ہماری زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان بن سکے اور اس خورشید منتظر کا نور ظہور ہو جس کے منتظر انور مسعود کے ساتھ ہم سب بھی ہیں کہ،

” کوئی گورا ہو جس نے ہاتھ میں اک فارم پکڑا ہو اور وہ فارم اردو میں ہو۔ وہ میرے پاس آئے اور درخواست کرے کہ صاحب مجھے یہ پر کر دیجئیے۔ میری دو سو سال کی تھکن اتر جائے گی“۔

Facebook Comments HS