عوامی سیاستدان۔ آغا شورش کاشمیری


اس کارخانہ ہائے رنگ و بو میں شب و روز کتنے ہی لوگ چشم حیات کھولتے ہیں اور کتنے ہی لوگ دام اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ موت و حیات کا یہ نظام ہمیشہ سے سلسلہ بند ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس کارخانہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس ”حیات ارضی“ کی آسائشوں کو حاصل کرنے میں صرف کر دیتے ہیں اور حیات بعد از مرگ کی تجہیز سے بالکل ناواقف رہتے ہیں، اور پھر ان کی سانس کے چند ہوتے ہی صفحہ ہستی سے ان کا نام مٹنا شروع ہوجاتا ہے۔

لیکن اسی معاشرے میں چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس زندان پنہاں کی حقیقت سے واقف رہتے ہوئے اس ”مختصر حیات“ کو اپنی آخرت سنوارنے میں صرف کرتے ہیں اور حقیقت میں وہی لوگ ہی بہترین ہوتے ہیں۔ وہ اس زندگی کی روشن ماہیت کو سمجھ کر اسے اتنا ہی اختیار کرتے ہیں جتنا اس جامۂ ہستی میں ایک انسان کے متنفس رہنے کے لیے ضروری ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو ”الدنیا سجن المؤمن“ کے حقیقی مفہوم کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور آخرت میں اجر عظیم کے مستحق و حقدار بنتے ہیں۔ ایسے لوگ پھر بعد از مرگ بھی اپنے عشاق کے دلوں میں زندہ و جاوید رہتے ہیں۔

تودہ خاک کو مت جانیو تربت میری
میرا مرقد میرے احباب کے سینے ہوں گے

آغا شورش کاشمیری رح ماضی قریب کے ایک ایسے ہی کامیاب و نامور انسان تھے۔ آغا صاحب رح 14 اگست 1917 ء کو متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ آغا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا اصل نام عبد الکریم تھا۔ آغا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی ذات ادب و سیاست اور صحافت کا کمال امتزاج تھی، آپ ایک نڈر و بے باک صحافی، حق پرست و حق گو عوامی سیاستدان، شعلہ بیاں مقرر، نکھرے ہوئے ادیب اور باذوق شاعر تھے۔ آغا صاحب کے ادبی ذوق میں بنیادی کردار مولانا ظفر علی خان رحمتہ اللہ علیہ کے روزنامہ ”زمیندار“ کا تھا۔

آپ بچپن ہی سے ”زمیندار“ اور ”ظفر علی خان“ رحمتہ اللہ علیہ کے مداح تھے۔ آغا صاحب اپنے سکول کے دور سے ہی زمیندار پڑھتے تھے۔ سکول کا دور ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ ”مسجد شہید گنج“ کا واقعہ ہو گیا۔ آغا صاحب نے بھی مسجد شہید گنج سے اپنی ”سیاسی زندگی“ کا آغاز کیا اور زندگی کی پہلی جیل بھی اسی مسجد شہید گنج کے لئے کاٹی۔ یہی وہ نقطہ آغاز ہے کہ جہاں سے آغا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سیاسی زندگی کا سفر شروع کیا اور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ آپ کی حیات ”منبر و زنداں“ کے لیے وقف ہو کر رہ گئی۔

خطابت میں فصاحت و بلاغت آپ نے مکمل طور پر بطل حریت، خطیب الامت، عظیم مجاہد ختم نبوت حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رح کے قرب میں رہتے ہوئے حاصل کی اور پھر کچھ امام الہند کو پڑھ کر اور باقی اپنے ذاتی علمی و ادبی ذوق سے آپ نے اپنی تقریر کے پیرہن کو اردو مترادفات سے سنوار کر اس میں مزید نکھار پیدا کیا جو آہستہ آہستہ آپ کی شخصیت اور خطابت دونوں کی پہچان بن گیا۔ آپ نے سیاست و خطابت کے ساتھ ساتھ صحافت میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور اس میں اعلی و ارفع مقام و مرتبہ حاصل کیا۔ صحافت میں آپ مولانا محمد علی جوہر، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا ظفر علی خان کے سلسلے کی آخری کڑی تھے۔ آپ کے اخبارات آزاد، عادل اور چٹان ملکی، سیاسی و ادبی حلقوں میں پڑھے جانے والے معروف و مقبول اخبارات تھے۔ آغا صاحب کا ہی شعر ہے کہ :

تہذیب خطابت ہو کہ تہذیب صحافت
ان دونوں محاسن کا نمائندہ رہوں گا

چٹان کی مقبولیت کا عروج اس حد تک تھا کہ ملکی سطح پر یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ جس بھی ادیب، شاعر اور سیاستدان کا تذکرہ یا پھر اس کی تصویر آغا صاحب چٹان میں لگا دیتے تو وہ چند ہی دنوں میں ”شخص“ سے ”شخصیت“ بن جاتا۔ دور حاضر کی بہت سی شخصیات ایسی ہیں کہ جن کی مقبولیت میں آغا صاحب رح کا اور ”چٹان“ کا بڑا نمایاں کردار رہا ہے۔ ان میں سے سرفہرست نام مشہور و معروف سیاستدان ”جناب شیخ رشید احمد صاحب“ کا ہے۔ شیخ صاحب کو محض ایک شخص سے شخصیت بنانے بلکہ ملک کی نامور ترین شخصیت بنانے میں بھی شورش کاشمیری رح کا بڑا اہم اور کلیدی کردار ہے، یہ الگ بات ہے کہ شیخ صاحب کے سیاسی ”قول و فعل“ میں بلا کا تضاد ہے، جس سے شیخ صاحب کی شخصیت اب محض شخص بلکہ ”عامی شخص“ میں بدل چکی ہے۔

شعر و نثر لکھنے میں بھی آغا صاحب رح کو کمال مہارت اور دسترس حاصل تھی۔ آغا صاحب شعر ظفر علی خان کی طرز پر کہتے تھے اور نثر امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد رح کی طرز پر لکھتے تھے۔ نثر کے بارے میں شورش نے خود لکھا ہے کہ ”مولانا آزاد کے اسلوب تحریر کا آستانہ میرے قلم کی سجدہ گاہ ہے“ ۔ اشعار کے بارے میں احمد ندیم قاسمی نے اپنی تحریر ”شورش اور شاعری“ میں لکھا ہے کہ :

”مولانا ظفر علی خان کے بعد فی البدیہہ شعر، جچے تلے اشعار کہنے اور کہتے چلے جانے میں شورش کا کوئی مثیل نہ تھا“

شعر و نثر میں کسی کی تعریف و تضحیک کرنے کا فن جو آغا صاحب رح کو آتا تھا دور حاضر میں شاید ہی کوئی اس کو اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

آغا صاحب رح نے اپنی بے پناہ اور خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر عروج کا یہ مقام بھی دیکھا کہ جس ”زمیندار“ کے وہ ایام طفلی سے مداح ہوا کرتے تھے اور جس ظفر علی خان سے انہوں نے ادب اور صحافت کو سیکھا تھا اسی ظفر علی خان نے اپنے زمیندار میں ہی شورش کے لیے شعر کہا کہ :

”شورش سے مرا رشتہ ہے اور وہ ازلی ہے
میں وقت کا رستم ہوں وہ ثانی سہراب ”

اتنے عروج پر ہوتے ہوئے بھی آغا صاحب رح کو ”احراری“ اور حق گو عوامی رہنماء ہونے کے ”جرم عظیم“ میں ( گورے ) انگریز نے تحریک مسجد شہید گنج میں حصہ لینے پر آغا صاحب رح پر جیل میں جس ظلم و تشدد کے سلسلے کا آغاز کیا تھا ( کالے ) انگریز نے اپنے حقیقی نسب کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے اسے جاری رکھنا اپنے لئے سعادت سمجھا۔ آغا صاحب رح کو اپنا ایک جائز، آئینی و قانونی مطالبہ منوانے کے لیے وطن عزیز ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں ہی 35 دن کی بھوک ہڑتال کرنا پڑی، یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے اعلان کر دیا کہ اب اگر ایک دن کی بھی آغا صاحب رح نے مزید بھوک ہڑتال جاری رکھی تو شورش کاشمیری کا اسباب کی دنیا میں زندہ بچنا ممکن نہیں۔ دوسری جانب جناب آغا صاحب رح اپنے موقف سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہ ہٹے کیونکہ انہوں نے کبھی حق بات سے پیچھے ہٹنا سیکھا ہی نہ تھا۔

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

آغا صاحب رح کو صرف ایک بیان کرنے کے جرم میں ”مدینتہ الاولیا“ ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ سے گرفتار کر کے تھانے کپ (چوک بازار، حسین آگاہی) تک گھسیٹتے ہوئے لایا گیا اور پھر حوالات میں ان پر وہ جبر و تشدد کیا گیا کہ جس کا سوچ کر ہی انسان کی روح کانپ جائے۔ مگر آغا صاحب رح نے ”مشن امیر شریعت“ کبھی نہ چھوڑا۔ ہمیشہ ظالم و جابر حکمران کو جوتے کی نوک اور پاؤں کی ٹھوکر پر رکھا۔ آغا صاحب رح کا ہی شعر ہے کہ :

”شب و روز کہہ رہی ہیں یہ شکستہ حال قبریں

ترا اقتدار فانی، ترا اقتدار کیا ہے؟
آغا صاحب رح نے اپنے ایک کالم میں اپنی موت کا ذکر کرتے ہوئے ایک قسم کی اپنی وصیت لکھی کہ :
”میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد وہ شخص مجھے غسل دے جس نے منبر و محراب کی عظمت کو داغدار نہ کیا ہو“ ۔
”کوئی حکمران میری قبر پر فاتح نہ پڑھے“ ۔
”جو کبھی انگریزی فوج میں بھرتی ہو کر ملکہ معظمہ کی حکومت کے لئے نہ لڑا ہو“ ۔
” جس کا اوڑھنا بچھونا صرف اسلام ہو“ ۔
” مجھے وہ شخص کفن پہنائے جس کی غیرت نے کبھی کفن نہ پہنا ہو“ ۔
” مجھے وہ اشخاص کندھا دیں جو ظلم و جور کے خلاف لڑتے رہے“ ۔
” میرا قلم اس شخص کو دیا جائے جو اس کو تیشہ کوہ کن بنا سکے جس کو لہو سے لکھنے کا سلیقہ آتا ہو“ ۔

” میری قبر پر ایک ہی کتبہ لکھا جائے کہ“ یہاں وہ شخص دفن ہے جس کی زندگی تمام عمر عبرتوں کا مرقع رہی ہے ”۔

اللہ پاک ہمیں آغا شورش کاشمیری رح کے فکر و نظر، مشن و قلم کا حقیقی وارث بنائے۔ آمین!

Facebook Comments HS