بلوچستان؛ ایک بہترین سیاحتی مقام
بلوچستان کا نام سنتے ہی قدرتی ذخائر، بے شمار پہاڑی سلسلے، چشمہ و کاریزات اور دیگر انعامات خداوندی کا تصور ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔ یہ سرزمین خدا کی خاص خصوصی نظر کرم اور مہربانیوں کا گہوارہ ہے۔ جہاں سرزمین بلوچستان زیر زمین ہزاروں ذخائر معدنیات و قیمتی اشیاء سے مالامال ہے تو وہی محل و وقوع کے اعتبار سے تین ملکوں سے ملنے والی ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں ملک کے سمندری حدود اور آبی بندرگاہیں وقوع پذیر ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں بسنے والے لوگوں کا اس دھرتی سے لگاؤ کا ایک بہت بڑی وجہ یہاں موجود سیاحتی و تاریخی مقامات، بلند و بالا اونچی پہاڑ بھی ہیں کہ اگر بلوچستان میں سیر و سیاحت کی بات کی جائے تو نہ جانے کیوں بہت ہی کم لوگوں کی نظر اس سر زمین پر بسنے والے مظلوم لوگوں اور دلنشین جگہوں پر آ ٹھہرتی ہے۔
بلاشبہ زمین پر جنت کی مثل ڈھونڈنا چاہو تو بلوچستان سے بڑھ کر شاید ہی کہیں پا سکو۔ مگر لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے حکومتی تعمیراتی کام کی حد درجہ کمی اور ان تاریخی و سیاحتی مقامات کو دنیا کے سامنے عیاں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی کام کا آغاز کرنے کا تہیہ شاید میں مختلف مضامین میں کرچکا ہوں تاکہ بلوچستان میں پائے جانے والے پہاڑی سلسلے، میدانی علاقے، صحرا و بیابان جو اپنے سینے پہ تنہا چلنے والے مسافروں کو صدیوں کے داستان سنا رہے ہوتے ہیں جن پر سفر کر کے اکتاہٹ نہیں بلکہ تاریخی دریچوں میں کھو کر انسانی ذہن پر علم کے نئے دروازے کھلنا شروع ہوجائیں گے۔
ان کے علاوہ سمندر و دریاؤں کے ساتھ ساتھ تاریخی مقبرے اور مقامات کا ذکر کیا جائے گا جس سے سیاحوں کی آمد کا قوی امکان ہے۔ امید ہے کہ میری یہ کاوش تمام حضرات کو مسرور کر دے گی۔
جسے کہ بیان کیا گیا کہ بلوچستان میں بے تحاشا خوبصورت اور دلکش سیاحتی مقامات پائے جاتے ہیں مگر کمی تو اس بات کی کہ حکومت لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرنے میں ناکام رہ چکی ہے۔ مگر جب حکومت کرنا حکومتی کرنا چاہے تو ان خوبصورت مقامات کے لئے سونے پہ سہاگا۔
ترقیاتی کام سے ان مقامات پر مثبت اثرات کی ایک بہترین مثال مکران کوسٹل ہائی وے کا 2004 میں تعمیر تھی جس نے دور سے نا سہی مگر بلوچستان اور سندھ کے لوگوں کیلے قدرتی نظاروں کا آنکھوں دیکھے حال دیکھنے کا ایک موقع فراہم کر ہی دیا جہاں ہنگول نیشنل پارک کی طویل مگر خوبصورت اور دلکش مناظر کہ جس پارک کو 1988 میں ملک کے قومی پارک کا درجہ دیا جا چکا ہے جو اپنے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بہت سے اعلٰی اور نمایاں خصوصیات کی وجہ سے بے مثال واقع ہوا ہے۔
کراچی یونیورسٹی کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق یہاں مختلف جانوروں کی ناپید اسپیشیز پائے جاتے ہیں جن میں ہرن، مچھلی مگرمچھ اور دنیا بھر سے ہجرت کر کے آنے والے پرندوں کی سینکڑوں نایاب اقسام اور نباتات بھی قابل ذکر ہے۔ ہنگول نیشنل پارک اندازہً 19600 رقبے کے ساتھ بلوچستان کے تین اضلاع میں پھیلا ہوا پاکستان کے بڑے پارکوں میں شامل ہوتی ہے جس کے حدود میں کنڈ ملیر کے ساحل کی دلفریب اور دل میں گر کرنے والی مناظر جس کو 2018 میں ایشیاء کی خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل کر لیا گیا اور اسی سے ملحق ساحل گولڈن بیچ (Golden Beach) جو بین الاقوامی سطح پر ایک خاص مقام و حیثیت رکھتا ہے سے منہ پھیرنا قدرت کی کرشموں کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ حیران کرنے والی بات ہے کہ اتنی دلکش اور پر کیف قدرتی رنگوں نے بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو بلوچستان پر متوجہ کرنے میں ناکام کیوں رہے؟
وہ جگہیں کہ جہاں بزی ٹاپ اور ”پرنسز آف ہوپ“ یا ”امید کی شہزادی“ جیسے بے مثل و بے مثال کھڑی مجسمہ جو انسانی ہاتھوں کا نہیں بلکہ ہواؤں اور قدرتی تدابیر کا ایک تعمیری حصہ ہے۔
یاد رہے پرنسز آف ہوپ کا نام معروف ہالی وڈ اداکارہ ”انجلینا جولی“ نے 2004 میں اپنی خیر سگالی مشن کی دورے کے موقع پر رکھا اس سے پہلے یہ لوگوں کی نگاہ سے ویسے اوجھل تھا جس طرح کیچ، پسنی اورماڑہ اور گوادر میں پائے جانے والے تاریخی و تفریحی مقامات سے اکثر لوگ ناواقف ہیں جہاں گوادر کی آنکھوں میں سما جانے والی گہری اور نیلی سمندر کا اپنا معیار اور معرفت ہے تو وہی ان جیسے کئی نایاب مقامات بھی موجود ہے۔
ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں موجود ہنگول نیشنل پارک میں ایک انوکھی چیز دو ہزار برس پرانی تاریخی مندر ”ہنگلاج مندر“ ہے جہاں ہر سال بلوچستان اور سندھ سے ہندوں اپنے مخصوص پوجا پاٹ کے لئے تشریف لاتے ہیں، کہاں جاتا ہیں کہ چند برس پہلے بھارت سے لوگ آ کر اس مندر کی زیارت کیا کرتے تھیں مگر اب شاید یہ ان کے لئے نا ممکن ہوتا دکھائی دیتا ہے اور باہر سے آنے والوں کی آمد یہاں ماند پڑ چکی ہے جن کی مذہبی رسومات ہنگلاج مندر کے علاوہ وہاں سے چند میل دور میانی ہور کے علاقے میں موجود 800۔
1500 اونچی مٹی فشاں (Mud volcano ’s) پہاڑ کے بغیر ادھورے رہیں گے جن کی تعداد مختلف لوگ مختلف بتاتے چلے آرہے ہیں مگر بغیر سڑک اور شناسائی کے وہاں پہنچنا اور ان کی صحیح تعداد بتلانا ناممکنات میں سے ہیں۔ افسوس کا عالم یہ ہے کہ وہی مٹی فشاں سالہا سال مٹی ابھرنے کا ہنر جان کر بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیوں؟ حکومتی ارکان سیاحوں کی آمد کے فوائد سے باخبر تو نہیں کہ جن سے صرف بلوچستان کے لوگوں پر نہیں بلکہ پورے ملک کے جی۔ڈی۔ پی پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے مگر ان خزانوں تک رسائی ممکن نہ ہونا اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا کر روکنا تعجب کی بات ہے۔ یونیسکو (Unesco) کی سیر و سیاحت کے حوالے سے پوسٹ ”ترقی پذیر ممالک کے لئے سیاحت کا موقع فراہم کرنے کا مطلب اپنے ثقافت اور معیشت کا فروغ“ دیکھ کر شدید افسوس اور ملا ہونے لگا کہ ہمارے پاس جہاں مکران کے اندر سیاحتی مقامات ہے تو وہی لسبیلہ اوتھل میں سسی پنوں جن کی عشقیہ داستان ہر زبان پر عام ہے، کے تاریخی مقبروں کے ساتھ ساتھ‘ کراڑی اوتھل ’کے دلکش مناظر، مہینوں بہنے والا پانی جو مٹھاس اور ٹھنڈک میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور ان جیسے کہی مقامات ہماری نظروں سے دور اس لیے بھی ہے کہ وہاں تک پہنچنا سڑک اور حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے دشوار گزار ہے۔
اگر چھپن چھپی کا یہ کھیل نہ کھیلا جاتا اور بلوچستان کی سرزمیں، اس میں بسنے والے قدرت کے حسن و رنگینیوں اور مسائل کو دنیا کے سامنے لانے کا تہیہ کیا جاتا تو اب تک بیلہ میں پائے جانے والے جنرل ہارون (محمد بن قاسم کے دست راست) کی تاریخی مقبرہ، برطانوی جنرل رابرٹ سنڈیمن کی یاد گاریں، اور بالاخصوص شیرین و فرہاد کے دل دہلا دینے والی داستان کو سننے کے ساتھ ان کے مقبروں کو اب تک اہرام مصر کی طرح ہر آنکھ نے دیکھا ہوتا۔ مصر تو مصر ہے مگر میرا بلوچستان بھی کچھ کم نہیں جس کو زمین پر جنت کی مثل اور سکون کا گہوارہ کہنا غلط نہیں ہو گا۔
(جاری ہے )


