ناول نیلیاں سلہاں پچھوں: اچھوتوں کی ڈائری


رفعت عباس کا نیا سرائیکی ناول ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ اس دھرتی کے مقتولوں اور مقبوضہ شہروں کی وہ کتھا ہے جو پہلی مرتبہ مفتوحہ لوگوں کی طرف سے بیان کی گئی ہے۔ اس سے پہلے قاتل اور قبضہ گیر کا موقف معتبر ہو کر بول رہا تھا۔ یہ ناول اس بات کا اعلان ہے کہ اب دھرتی واسیوں کے بولنے کی باری ہے۔ وہ دھرتی واس جن کو فاتح کی لغت کے تحت راکھشس، داسو، اچھوت، شودر اور ملیچھ بنا دیا گیا۔ اب ان کے بولنے کی باری ہے۔ اب گھڑ سواروں کا نہیں گھوڑوں کے سنبھوں کے نیچے لتاڑے ہوئے لوگوں کی کہانی کا زمانہ ہے، جن کی کہانی سے کوئی سورما جنم نہیں لیتا، جیسے رامائن سے رام اور مہابھارت سے کرشن نے جنم لیا۔

یہ اچھوت سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ آپ جب کہانی کے ساتھ تلوار رکھو گے تو وہ دھرم بن جائے گی اور جب کہانی کے ساتھ بندوق رکھو گے تو وہ قبضہ گیری بن جائے گی۔ اس لیے اچھوت کی اس کہانی میں سورما، تلواریں اور بندوقیں نہیں ہیں بلکہ وہ واردات بیان کی گئی ہے جب دھرتی واسوں کو ان کی اپنی کھال میں لپیٹ کر دفنا دیا گیا تھا۔ اس کہانی میں اس تصوف پر سوال اٹھایا گیا ہے جو آدمی کی ”میں“ کو کھرل کر دیتا ہے اور آسمان کو دیس اور دھرتی کو پردیس کہتا ہے۔

اس کہانی میں حاکم کے دربار سے صوفی کی درگاہ تک پہنچنے والے لنگر پہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ اس ناول میں اس سوال کا شاندار اور سمجھ میں آنے والا جواب بھی لکھا ہوا ہے کہ لوگ حاکم کے آرام میں خلل نہ ڈالیں اور اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے صوفی کی درگاہ پہ منتیں مانیں۔ حاکم کے کانوں تک درد کی آواز نہ پہنچے اور وہ اپنے حرم میں سکون سے سوئے۔

اس کہانی میں اچھوتوں کے اس وطن کی خیر مانگی گئی ہے کہ جہاں مور ہرن اور پہاڑ سلامت ہوں۔ اس کہانی میں شہروں کے چوکوں سے توپیں ہٹا کر مور بٹھانے کی تمنا کی گئی ہے۔ ناول ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ میں حملہ آوری کے وہ منظر بھی ہیں جن میں ”ایک شہر کے لوگ دوسرے شہر میں اپنا سوداگر، اپنا حاکم اور اپنا خدا ساتھ لے کر آ رہے ہیں، ایک شہر کے لوگ دوسرے شہر کے لوگوں کو باندھ رہے اور قیدی بنا رہے ہیں۔ ایک شہر کے لوگ دوسرے شہر کی زمینوں اور عورتوں کی کوکھ میں اپنا بیج بونا چاہتے ہیں۔

باہر منجنیقیں اور توپیں چل رہی ہیں اور اندر کہرام مچ گیا ہے۔ لوگ نو گزی قبروں میں بغیر کفن کے دفن ہو گئے ہیں۔ شاہی تذکرہ نویسوں نے لکھا کہ شہر بڑی امان میں آ گیا۔ ان نو گزی قبروں کے بارے میں بولنا اور سننا جرم بن گیا۔ سو سالوں میں اس اجتماعی قتل کے گواہ چلے گئے اور ان قبروں پر مقبرے بن گئے۔ ایک قاتل پیڑھی در پیڑھی گدی پہ بیٹھ گیا۔ مقبرے کی اونچائی اور اس پہ لگی ہوئی نیلی سلہوں کے پیچھے ایک شہر کا قتل عام چھپ گیا۔

”سارے قتل روحانیت میں چھپ گئے“

اس ناول میں ایک شہر کی زبان کا ایک حرف ”ڑ“ قتل ہو گیا۔ یہ حرف شہر کی دھج اور للکار تھا۔ یہ حرف حاکم کی تلوار سے زیادہ تیز اور تند تھا۔ اس حرف کی ادائیگی سے لوگوں کی آواز میں ہمت اور جرات پیدا ہو جاتی۔ کیونکہ حاکموں کی اپنی زبان میں یہ حرف نہیں تھا، اس لیے یہ لفظ اندرون شہر میں قتل کر دیا گیا۔ اس لیے کہ حاکم جانتا ہے کہ اگر کسی قوم سے اس کی زندگی چھیننی تو سب سے پہلے اس قوم کی زبان کو قتل کرو۔

ہیر کے قتل کا مدعی اس ناول میں ان تمام قتل عام کا بھی مدعی بن گیا ہے جن کو عقیدت کے لبادے میں چھپایا گیا اور خود مقتول سے نو گزی قبروں میں دفن اس کے باپ دادا کی قبر پہ دھمال ڈلوائی گئی اور اس سے کہا گیا کہ:

” پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ورنہ پتھر کے ہو جاوٴ گے جبکہ پیچھے اجداد کا قتل تھا“

ایسی ڈراونی چتاونی کے پیچھے ہزاورں قتل چھپے ہوئے تھے بلکہ یوں کہیے کہ مقتول شہر پڑے تھے جن کو گھڑ سواروں نے خون میں نہلا دیا تھا۔ افسوس کہ ان قتل عاموں کو چھپانے کے لیے خوب صورت نیلی سلہوں کو استعمال کیا گیا۔ یہاں ہمارے شہروں کو قتل گاہ میں بدلنے والے قبضہ گیر حاکموں کو دیالو ثابت کرنے والے مقامی چترکاروں کا بھی ذکر ہے کہ جن کی پینٹنگز میں ہمارے خون میں تر محمود غزنوی کے گھوڑے کے گردن کے ایک ایک بال کو کمال کاریگری سے نقش کیا گیا ہے۔ اس ناول میں ان چترکاروں کے بارے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے :

”یہ چترکار کس کی طرف ہیں قاتل کے یا مقتول کے۔“

اس ناول میں محمد شاہ تغلق کے گھوڑوں کے آگے دوڑتا ہوا ملتان شہر ہے۔ اسی شہر کے ایک قبضہ گیر حاکم کشلو خان کو دوسرے قبضہ گیر حکمران محمد شاہ تغلق نے قتل کرنے کے بعد چوک پہ لٹکا دیا تھا جو آج تک لٹکا ہوا ہے کہ ناول نگار کے مطابق محمد شاہ تغلق کی حکومت مسلسل چلی آ رہی ہے۔ یہ ناول اس قبضہ گیر حاکم کی لاش کے لیے بھی انصاف چاہتا ہے جو آج بھی ایک میت خانے میں زنجیر سے لٹکی ہوئی ہے۔ یہ ناول موت سے خواہ وہ کسی کی بھی ہو سمجھوتہ نہیں کرتا۔

آج تک اندرون ملتان کا آدمی کسی مہمان کو اپنے ہاں رات کو نہیں ٹھہراتا اور خود سورج ڈوبنے سے پہلے گھر پنچ جاتا ہے۔ اس لیے کہ شہر کا وقت حاکم کے نقارے پہ چلتا تھا اور شہر کے دروازے ایک خاص وقت پر بند ہوتے اور کھلتے تھے۔ مہمانوں کا کوتوال کے پاس اندراج کرانا پڑتا اور ان کی پڑتال ہوتی۔ ایک عام آدمی آج بھی یہ محسوس کرتا ہے کہ گھر، دفتر، بازار، سفر ہر جگہ اس کا پیچھا کیا جا رہا ہے کیوں کہ قبضہ گیر کے دل سے مقامی کا ڈر نہیں جاتا۔ حاکم ڈرتا ہے اور مقامیوں کی جاسوسی کرتا ہے۔

اس ناول میں نیلی سلہوں سے ڈرے ہوئے وہ خواجہ سرا بھی ہیں جو حملہ آور کے گھوڑوں سے ڈرتے ہیں لیکن ان گھوڑوں سے نہیں ڈرتے جن پہ دولہا بیٹھا ہو۔ خواجہ سرا کیسر گرو کہتا ہے ہم لوگوں سے نہیں ڈرتے لیکن جب وہ حاکم، قاضی یا ملا بن جائیں ڈر جاتے ہیں۔ خواجہ سرا زندگی کے گیت گاتے ہیں اور موت والی گلی سے نہیں گزرتے۔ اس ناول میں خواجہ سراوٴں کی تالی کی حکمت بیان کی گئی کہ یہ تالی بکھری ہوئی چیزوں کو سمیٹتی اور اپنے مقام سے ہٹی ہوئی دنیا کو واپس اپنی جگہ پہ لاتی ہے۔ یہ تالی گھبرائے ہوئے جہاں کو آسرا دیتی ہے۔ یہ تالی ہر عہد میں خواجہ سراوٴں کی ذمہ داری ہے۔ یہ تالی ہمیں بکھرنے اور اپنے آپ کو بھولنے سے بچاتی ہے۔ قبضہ گیر حکمرانوں نے اس تالی کو بے توقیر کرنے کی بھرپور کوشش کی جبکہ اس میں ہماری خوشیوں کی گونج اور حیاتی کا شگن ہے۔

اس ناول میں اچھوت کی وہ حکمت ہے جس سے اس نے ایک لمبے عرصے سے درگاہوں کی دھمالوں کے پیچھے اپنے گلیوں کے چھوٹے چھوٹے ناچ سلامت رکھے۔ صوفی کے سماع کے پیچھے خواجہ سراوٴں کے گیت سلامت رکھے۔ ہر دور کے محمد شاہ تغلق کی ننگی تلوار کے سامنے موراں کے گھر کی دیوار پہ جلتے دیے کی لو کو سلامت رکھا۔

اس ناول میں ایک اور علامتی ناول کا ذکر بھی ہے ”ایک ننگی ریاست“ اس ناول کے لکھاری حبیب پھلائی کو یہ جنون تھا کہ وہ ریاست کا چہرہ دیکھے۔ وہ تھانوں، کورٹوں، کمشنروں، ججوں، افسروں کے دفتروں میں گیا۔ اس کو ریاست نظر نہیں آئی۔ پھر اس نے سوچا ملا ریاست ہے لیکن جلد ہی اس نے محسوس کیا ملا ریاست کا مددگار تو ہے، خود ریاست نہیں۔ پھر اسے دارالحکومت میں سیکریٹری، وزیر اعظم، صدر بھی ریاست نہیں لگتے۔ سوٹی والا بھی ملازمت ختم ہونے پہ باہر چلا جاتا ہے وہ بھی ریاست نہیں۔

” ریاست مقامیوں پر غیر مقامی وقت ہے“

ناول آسمان سے آگ چرانے جیسا جرم ہے کیوں کہ ناول اس دھرتی کے مقامی آدمی کی یاداشت کو تازہ کرتا ہے۔ یہ ناول اس دھرتی کے مقامی لوگوں شودروں، اچھوتوں، اور ملیچھوں کو اپنا اجداد قرار دیتا ہے۔ یہ ناول یاد دلاتا ہے کہ ہمارے نام بھی نیلی سلہیں ہیں جن کے پیچھے فاتحین کا نام چھپا ہوا ہے۔ یہ ناول ان زخموں کو پھر تازہ کر دیتا ہے جو زخم بھر چکے تھے۔ جن زخموں کو ہم بھول گئے تھے۔ جن زخموں پہ نیلیاں سلہاں لگ گئیں تھیں۔

یہ ناول ہیر کے قتل کی تفتیش میں تمام مقتولوں کے لیے انصاف مانگتا ہے۔ یہ ناول چاہتا ہے کہ ہیر جیسی بیٹیاں کسی مہر چوچک سیال کے گھر میں جنم نہ لیں کہ جہاں ان کو قتل کیا جاتا ہے بلکہ کسی جند وڈے سنار جیسے قصہ گو کے گھر میں پیدا ہوں۔ اگر ہیر کا قصہ کسی صوفی کے بجائے جند وڈے سنار جیسا قصولی کرتا تو ہیر کبھی قتل نہ ہوتی بلکہ وہ اس کو قصے سے نکال کر اچ شہر کے کسی پیپل والے گھر میں ٹھہراتا اور پھر اس کی ڈولی اوچ سے تخت ہزارے روانہ کرتا۔ یہ ناول بتاتا ہے کہ آج صوفی کا نہیں قصولی یعنی قصہ گو کا زمانہ ہے۔

یہ ناول اتنی جرات سے لکھا گیا ہے کہ مرے ہوئے اور زندہ محمد شاہ تغلق اپنی اپنی قبروں اور اپنی اپنی تخت گاہوں میں پریشان ہو جائیں گے کہ ”اچھوت کی یاداشت ابھی تک سلامت ہے۔“ یہ بہت بڑا واقعہ ہوا ہے رفعت عباس نے اس دھرتی کی کہانی ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ کے عنوان سے لکھ ڈالی ہے۔

Facebook Comments HS