موت کی جدید طبی تعریف اور اعضا کی پیوند کاری
پاکستان سے بہت امید افزا خبر ملی 57 سالہ محترمہ رفعت زرتاج صاحبہ نے فالج کا شکار ہو کر موت کو گلے لگاتے لگاتے اپنے گردے اور جگر عطیہ کر کے تین لاعلاج مریضوں کی زندگی میں روشنی کی کرن جگمگا دی۔ یکایک 1997 ء کی ایک رات یاد آ گئی ان دنوں ہم بحیثیت جونیئر انیستھیٹسٹ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن سے وابستہ تھے۔ اس رات ان تین گردوں کی پیوند کاری کے عمل میں شریک ہوئے جنہیں کسی دوسرے ملک میں فوت شدہ افراد کے جسم سے نکال کر ایس آئی یو ٹی تحفتا ”بھیجا گیا تھا۔
بیہوشی کی ٹیم کی سربراہی پروفیسر ٹیپو سلطان کر رہے تھے جبکہ جراحت کی قیادت پروفیسر ادیب الحسن رضوی فرما رہے تھے۔ یہ انہی رضوی صاحب کے عزم اور جہد مسلسل کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں بعد از مرگ اعضاء کا عطیہ عوامی بحث کا موضوع بن سکا ہے۔ 26 سال قبل ان اعضاء کا حصول اور پیوند کاری پاکستان میں ایک غیر قانونی اور غیر شرعی عمل تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے اس وقت کے انتہائی نگہداشت کے مراکز میں مریضوں کی دماغی موت کے تعین کے ٹیسٹ میڈیکل کالج کے طلباء اور زیر تربیت ڈاکٹروں کے سامنے کیے تو جاتے تھے لیکن ان کی قانونی اور شرعی حیثیت کوئی نہیں تھی۔ یاد رہے کہ 2007 ء میں کراچی کے سندھ میڈیکل کالج میں پیتھالوجی کے پروفیسر عبدالرزاق میمن کی دماغی موت کے بعد ان کے دونوں گردوں کو دو مریضوں کے جسم میں لگا دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن تھا جو ایس آئی یو ٹی میں ہی انجام پایا۔
بعد از مرگ کون سے اعضاء عطیہ کیے جا سکتے ہیں؟
جیسے جیسے طبی سائنس میں ترقی ہو رہی ہے اس دنیا سے رخصت ہونے والے انسان کے زیادہ سے زیادہ اعضاء کو محفوظ کرنا اور ضرورتمند مریضوں میں منتقلی ممکن ہوتی جا رہی ہے۔ روایتی طور پر حاصل کیے جانے والے اعضاء کو اگر مناسب طریقے سے محفوظ کیا جائے تو ان کی زندگی کچھ یوں بنتی ہے :
دل اور پھیپھڑے چار سے چھ گھنٹے
جگر آٹھ سے دس گھنٹے
آنت آٹھ سے سولہ گھنٹے
لبلبہ بارہ سے اٹھارہ گھنٹے
گردے چوبیس سے چھتیس گھنٹے
جبکہ قرنیہ اگر اڑتالیس گھنٹے میں محفوظ کر لیا جائے تو ہفتہ بھر میں کسی کی آنکھوں میں روشنی واپس لا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ متوفی کی ہڈیاں، جوڑوں کی نرم ہڈیاں (کارٹیلیج) ، رباط (لگامنٹ) ، دل کے والو، خون کی نالیاں اور جلد بھی کافی عرصے کے لئے محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔
اب تک چالیس چہرے اور تین سو ہاتھ کے ٹرانسپلانٹ بھی کیے جا چکے ہیں۔
اعضاء کی پیوند کاری کے بعد مریض کی زندگی کیسی گزرتی ہے؟
ایک جسم سے اعضاء لے کر انہیں دوسرے مریض میں نصب کر دینا ایک کار کے ٹائر بدلنا یا پارٹس نکال کر دوسری کار میں لگانے جیسا سادہ عمل نہیں۔ ان مریضوں کو اپنی بقیہ زندگی روزانہ بلاناغہ فطری مدافعت کو کچل دینے والی تیز اور زہریلی ادویات کھانی پڑتی ہیں ورنہ جسم ان مہمان اعضاء کو اس بری طرح مسترد یا ریجیکٹ کرتا ہے کہ جان کے لالے پڑ جاتے ہیں یہ ادویات لینے سے جسمانی مدافعت اتنی کم ہوجاتی ہے کہ ہلکا پھلکا انفیکشن بھی جان لیوا ہو سکتا ہے۔ یہ ادویات ذیابیطس سے لے کر جلد کے کینسر تک کا سبب بن سکتی ہیں۔ پیوند شدہ عضو کی کارکردگی اور زندگی کا دار و مدار وصول کنندہ مریض کی صحت، عطیہ کنندہ کی عمر اور لاحق بیماریوں اور سب سے بڑھ کر متعلقہ عضو پر ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں مردہ جسم سے حاصل کردہ گردہ پندرہ سے بیس سال اور جگر دس سال تک کام کر سکتے ہیں۔ دل اور پھیپھڑوں کی زندگی نسبتاً کم ہوتی ہے لیکن اس مدت میں متواتر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
موت کی تعریف کیسے بدلتی گئی؟
اپنے وجود کی ابتداء سے انسان موت کی ناگزیریت سے واقف رہا ہے مختلف ادوار میں موت کی متنوع مذہبی، دانشورانہ اور فلسفیانہ تاویلات پیش کی جاتی رہیں۔ اکیسویں صدی میں سائنس، ٹیکنالوجی اور طبی معلومات کے عام ہونے سے موت سے متعلق ہم سب کے رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔ یونانی اور رومی تہذیبوں میں موت کی علامات میں دل کی دھڑکن غالب ہوجانا، سانس رک جانا اور جسم سے تعفن پھوٹ پڑنا شامل تھا۔ قرون وسطی کے طبیب مریض کے منہ اور ناک کے قریب شمع لا کر اس کی لو کی حرکت سے اندازہ لگایا کرتے کہ زندگی باقی ہے یا نہیں۔
اعادۂ زندگی یعنی ری سسیٹیشن کی کوششوں کا ابتدائی سراغ پندرہویں صدی سے ملتا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں زندگی بحال کرنے کی سعی میں مریض کے آس پاس شور شرابا کرنا، دہشت ناک چیخیں مارنا، لہسن، پیاز اور دیگر تیز بو دار عرق کو ناک میں انڈیلنا، ہنٹر سے پٹائی، اسے کانٹوں پر لٹانا اور پیر کے ناخنوں کے نیچے سوئیاں چبھو کر دیکھنا شامل تھا۔ 1742 ء میں جان بروئیر نامی یورپی ڈاکٹر نے ایک سائنسی مقالے میں ان 52 افراد کی کہانی بیان کی جنہیں مردہ سمجھ کر دفن کر دیا گیا تھا۔
اس سے عوام میں سخت خوف و ہراس پھیلا اور ڈاکٹروں سے مطالبہ کیا جائے لگا کہ وہ موت کی تصدیق کے لئے قابل اعتبار نشانیاں تلاش کریں۔ 1819 ء میں سٹھیتھو سکوپ کی ایجاد نے اس گتھی کو کسی حد تک سلجھا دیا لیکن آنے والے برسوں میں مصنوعی تنفس کی مشینیں اور دل کو بجلی کا جھٹکا لگا کر دوبارہ فعال کرنے والے ڈی فبری لیٹر دستیاب ہو گئے۔ 1968 ء میں دل کا پہلا ٹرانسپلانٹ بھی کر لیا گیا تو نوع انسانی ایک دفعہ پھر شکوک و شبہات سے ہم کنار ہوئی۔
یہی وہ موقع تھا جب ہارورڈ میڈیکل سکول امریکہ میں ایک انیستھیٹسٹ کی سربراہی میں بنی کمیٹی نے وہ معیار مقرر کر لیا جس پر پورا اترنے والے مریض کی زندگی بحال نہیں کی جا سکتی۔ اس کا نام انہوں نے وہ کوما رکھا جس سے واپسی کا کوئی امکان نہیں ( ارری ور سیبل کوما) چند سالوں میں اس معیار کو تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ دنیا بھر کے اطباء نے تسلیم کر لیا۔ اسے ہم برین سٹیم ڈیتھ یا دماغ کے تنے کی موت کہتے ہیں۔ انسانی سانس کی باقاعدگی سے آمد و رفت کا کنٹرول یہیں سے ہوتا ہے۔
اس تشخیص تک پہنچنے کے لئے دو ماہر تجربہ کار ڈاکٹروں کی موجودگی لازمی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تعریف پر اتفاق کا مقصد اعضاء کی پیوند کاری ہرگز نہیں بلکہ ایسے ضابطہ کی تلاش تھا جس پر پورا اترنے والے مریضوں کے وینٹیلیٹر بند کر کے انہیں باعزت طریقے سے موت کی آغوش میں جانے دینا اور خالی ہونے والے بستر کو انتہائی نگہداشت کے منتظر کسی دوسرے مریض کے حوالے کرنا تھا۔
طبی تعریف میں موت کی دوسری قسم دل کی حرکت کا بند ہوجانا ہے۔ اسے گردشی موت یا سرکیولیٹری ڈیتھ کہتے ہیں۔ دماغی موت اور گردشی موت دونوں سے دوچار افراد اعضاء عطیہ کر سکتے ہیں۔
عالمی ارگن ڈونیشن آبزرویٹری
ہر گزرتے سال کے ساتھ اپنے اعضاء عطیہ کرنے والے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اعضاء کی پیوند کاری کی جا رہی ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد زندہ ڈونر کے اعضاء کی ہوتی ہے۔ 2021 ء کے اعداد و شمار کے مطابق 30 ہزار اعضاء فوت شدہ اجسام سے حاصل کیے گئے جن میں تقریباً اسی فیصد کی دماغی موت ہوئی تھی جبکہ 20 فیصد گردشی یا دل کی فوتگی سے ہم کنار ہوئے تھے۔
آپٹ ان یا آپٹ آؤٹ
دنیا میں اعضاء کی سب سے زیادہ پیوند کاری امریکہ میں کی جاتی ہے لیکن اقوام عالم کی قیادت کا سہرا یورپ کے ایک نسبتاً کم امیر ملک سپین کے سر بندھا ہے جہاں سب سے پہلے یعنی 1979 ء سے ہی آپٹ آؤٹ یعنی اعضاء عطیہ نہ کرنے کی وصیت کا قانون نافذ کیا گیا۔ مہذب دنیا میں اعضاء عطیہ کرنے کے خواہاں افراد کے لئے اس وقت دو نظام موجود ہیں۔ پہلا آپٹ ان یا اپنی مرضی سے اظہار کر کے ڈونر لسٹ میں اپنا نام لکھوانا ہے۔ پاکستان میں بھی حال ہی میں بنے قانون کے تحت شناختی کارڈ پر نشان کی موجودگی سے اعضاء عطیہ کرنے والے فرد کی شناخت ہو سکے گی۔
آپٹ آؤٹ سسٹم جو 2020 ء سے انگلستان میں بھی لاگو ہو گیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ برین ڈیتھ یا سرکولیٹری ڈیتھ میں مبتلا ہر شخص ایک ممکنہ ڈونر ہے جس کے اعضاء لے کر دوسرے انسان میں نصب کیے جا سکتے ہیں سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے باقاعدہ باشعور رہتے ہوئے اس سکیم سے باہر رہنے کا انتخاب یا آپٹ آؤٹ کیا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ شدید زخمی، دماغی چوٹ، فالج یا دل کے دورے کے ساتھ آئے مریض کا علاج معالجہ کرنے والے طبیب پر اب دہری ذمہ داری ہے۔
ایک طرف اسے مریض کی زندگی بچانے کی بھرپور کوشش کرنی ہے دوسری طرف اسے ٹرانسپلانٹ ٹیم کو مطلع کرنا ہے اور ان اعضاء کے بچاؤ پر توجہ مرکوز رکھنی ہے جو ضرورتمند مریضوں کے کام آسکتے ہیں۔ سپین میں ہر دس لاکھ افراد کے لئے اعضاء کے 47 ڈونر جبکہ امریکہ میں یہ شرح 37 کی ہے۔ اس فہرست میں پاکستان دنیا کی پست ترین اقوام میں شمار ہوتا ہے جہاں ابھی تک یہ تعداد صفر ہے۔
پاکستان میں ہر سال 50 ہزار افراد کسی اہم عضو ناکارہ ہونے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان میں گردے ناکارہ ہونے سے 15 سے 18 ہزار جبکہ جگر کی ناکامی سے 10 ہزار افراد۔ دوسری طرف پاکستان میں سالانہ کوئی ایک لاکھ افراد ایسے حالات میں فوت ہوتے ہیں جب ان کے اعضاء کسی دوسرے انسان کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔ قانون سازی، عوام میں سائنسی شعور کی بیداری اور دقیانوسی خیالات سے چھٹکارا اس پورے سلسلے میں بہت اہم لیکن محض ابتدائی کام ہے۔ اعضاء کی پیوند کاری کے لئے جدید سہولیات سے مزین طبی ادارے اور ٹرانسپلانٹ انفراسٹرکچر کے بغیر اس میدان میں کارکردگی دکھانا ناممکن ہو گا۔


