بائیکاٹ مہم
4 دسمبر 2023: اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اموات کی تعداد ساڑھے پندرہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ چالیس ہزار سے زائد نفوس زخمی ہوئے ہیں اور اٹھارہ لاکھ کے قریب شہری نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بسنے والے شہری بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے تاریخی مظاہرے کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی، انسانی حقوق کی پامالی اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر اسرائیل کو اس سے قبل کبھی اتنی شدید تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ دنیا کے کونے کونے میں اسرائیلی جارحیت اور غیر انسانی رویہ کے خلاف صدائے حق بلند کی جا رہی ہے۔
مختلف احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسرائیلی مصنوعات کا استعمال ترک کر کے سوشل میڈیا پر بائیکاٹ مہم کو زور و شور سے جاری رکھا ہوا ہے۔
مخالف فریق کو معاشی طور پر کمزور کرنا بھی ایک جنگی حکمت عملی ہے۔ اسرائیل کے مرکزی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ سے اسرائیلی معیشت کو یومیہ 26 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور اسرائیلی کرنسی شیکل مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
پاکستان میں بھی بائیکاٹ مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسرائیلی مصنوعات کا استعمال ترک کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف اکاؤنٹس سے صارفین کو اسرائیلی مصنوعات کی پہچان کروانے کے ساتھ بائیکاٹ کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی مصنوعات کے ساتھ ساتھ ان کے اتحادی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھی ترغیب دی جا رہی ہے۔
صارفین کی ایک بڑی تعداد واقف نہیں کہ جو پروڈکٹ وہ استعمال کر رہے ہیں وہ کس کمپنی کی تیار کردہ ہے اور خریداری کے نتیجے میں کون نفع حاصل کر رہا ہے۔
یہ بائیکاٹ مہم اشیاء کی فروخت پر کس حد تک اثر انداز ہو رہی ہے؟ تفصیلات حاصل کرنے کے لیے مختلف تاجروں کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے۔ حاجی محمد صابر جو گزشتہ تقریباً تین چار دہائیوں سے بیکری و گروسری کا ہول سیل اور پرچون کاروبار کر رہے ہیں نے بتایا کہ حماس اسرائیل حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں خریداروں نے اسرائیلی تعلق رکھنے کا ٹھپا لگنے والی کمپنیوں کی اشیاء کی خریداری کو کم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بائیکاٹ مہم میں بڑوں کی طرح نو عمر بچے بھی شامل ہیں جو چپس و پاپڑ وغیرہ لیتے وقت تحقیق کرتے ہیں کہ کس کمپنی کی پروڈکٹ خرید رہے ہیں اور نامی گرامی ملٹی نیشنل کمپنی کی مصنوعات خریدنے سے اجتناب کرتے دیکھے گئے ہیں۔ تاجر محمد صابر نے بتایا کہ کمپنیوں نے بچت سکیمیں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ دکانداروں کے لیے اقساط کی ادائیگی جیسی دیگر شرائط میں بھی آسانی کر دی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیوں نے بائیکاٹ مہم کے منفی اثرات نوٹ کیے ہیں۔
مین مارکیٹ کے تاجر ملک فیصل نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے صارفین کی بڑی تعداد متبادل کی جانب راغب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی طلب کے مطابق ہم نے بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اشیاء کی خریداری کم کر دی ہے لوگوں کو کمپنیوں کے متعلق معلومات نہیں لیکن خریدار اتنا کہتے ہیں کسی اسرائیلی کمپنی کی پروڈکٹ ہمیں فروخت نہیں کرنا۔
اختر نامی دکاندار نے کہا کہ متعدد گاہک کہتے ہیں کہ غیر معیاری چیز استعمال کر لیں گے لیکن کوئی ایسی معیاری چیز نہیں خریدنا چاہتے جس کا منافع ان لوگوں کو ملے جنھوں نے غزہ کے نہتے شہریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے۔
تاہم بیشتر تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور ترسیل کا معقول نظام نہ ہونے کی وجہ سے خریدار پریشان ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں بیشتر مقامی مصنوعات کا معیار بھی انتہائی ناقص ہے اور مقامی معیاری اشیاء کی قیمتیں عام طبقہ کی پہنچ سے دور ہیں۔
بائیکاٹ مہم کے اثرات کے حوالے سے موقف جاننے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں نیسلے، پیپسی کو اور میکڈونلڈ کی ویب سائٹس، واٹس ایپ اور ای میل ایڈریسز پر سوالات ارسال کیے لیکن ایک ہفتے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جوابات موصول نہیں ہوئے۔
بائیکاٹ مہم کس حد تک کامیاب ہے؟ اس سے اسرائیل اور اس کے مبینہ حامیوں کو کتنا نقصان ہو رہا ہے؟ اور کیا اس بائیکاٹ مہم کے نتیجے میں معاشی مسائل کا شکار ہو کر اسرائیلی حکمرانوں اور اتحادیوں کے عزائم تبدیل ہوں گے؟ ان سوالات اور جوابات سے قطع نظر اس میں دو رائے نہیں کہ دیگر ممالک کے شہری فلسطین میں بچوں، عورتوں اور نہتے عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ لاشوں کی بے حرمتی اور شہداء کے اعضاء نکال کر فروخت کرنے جیسے اقدامات پر اسرائیل کی مزاحمت کرنا تو بس سے باہر ہے۔
پناہ گاہوں، اسکولوں و ہسپتالوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی جیسے جنگی جرائم کو بہ زور طاقت روکنے سے تو عاجز ہیں۔ لیکن اسرائیلی ظلم و بربریت کے ردعمل میں ان کی مصنوعات کا احتجاجاً بائیکاٹ کر کے معاشی طور پر انھیں کمزور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انسانیت کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے ہر شہری کو بائیکاٹ مہم کا حصہ بننا چاہیے۔


