شب ظلمت میں نکلا چاند قسط نمبر۔ 2
رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔ رحمان صاحب ہارن پر ہارن بجا رہے تھے۔ گھر پہنچنے پر گھر کے باہر انتظار کرنا ان کی شان کے سخت خلاف تھا کوئی ملازم بھی نہیں تھا اس لیے ماحد یا شاہ بانو ہی زیادہ تر گیٹ کھولنے آتے تھے۔ اس وقت بھی وہ سخت بیزار ہو رہے تھے تبھی ان کے پیچھے ایک اور گاڑی آ کر رکی۔ انہوں نے سائیڈ مرر پر کوفت زدہ نظر ڈال کر ہٹا لی پر اچانک ان کے دل و دماغ کو ایک کرنٹ سا لگا انہوں نے دوبارہ نظر ڈالی پر گاڑی آگے بڑھ چکی تھی وہ پورا گھوم کر دیکھنے لگے۔ سامنے والا گیٹ بند ہو گیا تھا۔ غائب دماغی سے انہوں نے سامنے دیکھا شاہ بانو گیٹ کھولے کھڑی تھیں۔ پورٹیکو سے اوپر اپنے کمرے تک آتے، لباس تبدیل کرتے اور پھر کھڑکی میں کھڑے سگریٹ پیتے ہوئے ایک چہرہ ان کے ذہن سے جیسے چپک سا گیا تھا۔
” کیا بات ہے رحمن اپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں“ ۔
شاہ بانو نے رحمان صاحب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو انہوں نے ایک تحقیرانہ نگاہ شعبانوں کے وجود پر ڈالی۔
” تمہاری منحوس صورت دیکھ کر پریشان ہی ہوا جا سکتا ہے“ ۔
شاہ بانو نے دھیرے سے ہاتھ کاندھے سے ہٹایا اور دل میں رحمان صاحب کے برے سلوک کا درد لیے بیڈ کی طرف آ گئیں۔
” سامنے والے بنگلے میں کون لوگ آئے ہیں“ ۔
شاہ بانو نے شدید حیرت سے انہیں دیکھا
” میں نہیں جانتی“ ۔
سامنے والے بنگلے میں ہفتہ بھر پہلے آنے والے لوگوں کو تو کیا وہ تو پانچ سال پہلے آنے والے برابر کے بنگلے کے مکینوں کو بھی نہیں جانتی تھیں۔ شروع شروع ایک دو بار وہاں سے کچھ خواتین آئیں مگر جب شاہ بانو کی طرف سے انہیں کوئی خاص توجہ نہیں ملی تو انہوں نے آنا اور بلانا چھوڑ دیا۔ زیر لب اللہ تعالی کے ناموں کا ورد کرتی وہ سونے کے لیے لیٹ گئیں لیکن رحمان صاحب پر وہ رات بہت بھاری تھی۔
” آلو کس طرح سے دے رہے ہو بھیا“ ۔
اتوار کا دن تھا اور خضر صاحب بنگلے کے سامنے سے گزرنے والے سبزی فروش سے بھاؤ تاؤ کر رہے تھے۔ تبھی رحمان صاحب بھی بنگلے سے باہر آئے دونوں کی نظر ایک دوسرے پر پڑی تو اپنی اپنی جگہ چونک سے گئے۔
” ارے سر آپ“ ۔
خضر صاحب رحمان صاحب کی طرف گرم جوشی سے بڑھے۔ وہ جس بینک میں ملازمت کر رہے تھے رحمان صاحب اسی بینک میں ان سے بڑے عہدے پر فائض تھے۔ رحمان صاحب اپنے جونیئرز کو کبھی گھاس نہیں ڈالتے تھے۔ یہاں چونکہ معاملہ الگ تھا اس لیے وہ خضر صاحب کی دعوت پر چائے پینے ان کے گھر تک چلے آئے۔
” بے غم۔ ارے بھئی بیگم کہاں ہو تم۔ یہ سنبھالو بھئی اپنی سبزی“ ۔ خضر صاحب نے رحمان صاحب کو لاؤنج میں بٹھا کر مہرین کو آوازیں دیں۔
” آتی ہوں بابا، آپ بھی نا، بس چھٹی والے دن ہنگامہ ہی مچا کر رکھا کریں“ ۔
گاجر کے حلوے میں کفگیر چلاتی مہرین خضر صاحب کی آوازوں پر کفگیر ہاتھ میں تھامے ہوئے ہی لانچ کی طرف آ گئیں لیکن دروازے سے آگے آتے ہی ان کے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے۔ ان کی آنکھیں رحمان صاحب کے چہرے پر جم سی گئیں۔ رحمان صاحب کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ مہرین کے وجود کو انکھوں کی گرفت میں لیے وہ اٹھ کھڑے ہوئے ایک عجیب سی سرشاری ان کے وجود میں بھر گئی تھی اور ادھر مہرین کا خون خشک ہو رہا تھا۔ سبزی کی تھیلیاں ڈائننگ ٹیبل پر رکھ کر خضر صاحب پلٹے
” ارے بھئی ان سے ملو یہ ہمارے پڑوسی اور میرے سینیئر ہیں رحمان صاحب اور سر یہ میری بیگم ہیں مہرین“ ۔
بادل نخواستہ مہرین نے انہیں سلام کیا جس کا انہوں نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔
” بہت خوشی ہوئی اپ سے مل کر“ ۔
واقعی ان کے لہجے میں ایک عجیب سی سر خوشی بول رہی تھی خضر صاحب تو نہ سمجھے پر مہرین اس خوشی کی وجہ اچھی طرح سمجھ رہی تھیں ”میں چائے لے کر آتی ہوں“ ۔
کونین کی گولی کی طرح تھوک نگلتے ہوئے مہرین نے کہا اور کچن میں آ گئیں۔
یہ کیا ہو گیا
کیسی غلطی ہو گئی
یہاں شفٹ ہونے سے پہلے یہ دیکھا کیوں نہیں کہ آس پڑوس میں کون کون رہتا ہے۔ اگر انہیں پہلے پتہ چل جاتا کہ رحمان یہاں رہتے ہیں تو وہ کبھی اس علاقے میں گھر نہ خریدتیں۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ گھر خریدنا اور بدلنا آسان تو نہیں ہوتا۔ رحمان صاحب ان کے چائے لے کر آنے کا انتظار کرتے رہے لیکن انہوں نے ایمن کے ہاتھ چائے بھجوا کر جان چھڑا لی۔ وہ سمجھ گئے اب وہ ان کے سامنے نہیں آئے گی۔ زمانوں سے دل میں دبی چنگاریوں کو ہوا مل چکی تھی انہوں نے بہت اصرار سے خضر صاحب کو رات کے کھانے پر اپنے گھر آنے کی دعوت دی جسے خضر صاحب نے اپنے سینیئر کی جانب سے دیے جانے والا اعزاز سمجھ کر قبول کر لیا۔
***********
مہرین کسی صورت رحمان صاحب کی طرف جانے کو تیار نہیں تھیں پر خضر صاحب ان کا کوئی بھی بہانہ ماننے کو تیار نہیں تھے بس ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ پڑوسیوں اور سینیئر سے بنا کر رکھنی چاہیے اب وہ انہیں کیا بتاتیں کہ رحمان صاحب سے تعلقات انہیں مہنگے بھی پڑ سکتے تھے۔ بیل کی آواز پر ماحد گیٹ کھولنے آیا۔ خضر صاحب کے پیچھے مہرین خود سے الجھتی اور آنے والے وقت کو سوچتیں گھر میں داخل ہو گئیں۔ ایمن کی توجہ گھر میں داخل ہوتے ہی گلاب کے پودوں کی طرف ہو گئی جس پر جا بجا گلاب کے پھول کھلے تھے۔ اس نے ایک پھول کی طرف ہاتھ بڑھایا
” دھیان سے“ ۔
پیچھے سے آنے والی ماحد کی آواز پر وہ چونکی ”گلاب خود تو بہت معصوم ہوتا ہے پر اس کے محافظ بہت ظالم ہوتے ہیں“ ۔
میں سمجھی نہیں ایمن نے اس کی گہری نگاہوں کو خود پر محسوس کرتے ہوئے پوچھا
” ہر گلاب کے ساتھ اس کی حفاظت کرنے والے کانٹے بھی ہوتے ہیں جو نشتر بن کر حسین ہاتھوں کو گھائل کر دیتے ہیں“ ۔
ایمن کو اس کی بات کچھ عجیب سی لگی
” آپ شاعر ہیں کیا“ ۔
اس کی بے ساختگی پر ماحد مسکرا دیا
” ہوں تو نہیں۔ لیکن۔ ہو نہ جاؤں کہیں“ ۔
” واٹ“
اس کے گمبھیر لہجے پر ایمن گھبرا کر واٹ کہتی جلدی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔ پیچھے گہری مسکراہٹ لیے ماحد اسے جاتا دیکھتا رہا۔ ڈرائنگ روم میں قدم رکھتے ہی رحمان صاحب کے ساتھ کھڑی شاہ بانو کو دیکھ کر مہرین چونک گئیں۔ شاہ بانو کا تو انہیں ابھی تک خیال ہی نہیں آیا تھا۔ رحمان صاحب گھر آئے مہمانوں کا تعارف کروا رہے تھے اور شاہ بانو کی نگاہیں ایک ٹک مہرین کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
اوہ! تو یہ وجہ تھی۔ اتنی اچانک اور اہتمام سے کروائی جانے والی دعوت کی۔ انہوں نے دل ہی دل میں سوچا۔ ایک زمانے کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے گلے ملیں تو عجیب سے احساسات کا شکار تھیں۔ باقی تمام وقت مہرین رحمان صاحب کی اور ایمن ماحد کی گہری نگاہوں سے الجھتی رہیں لیکن جہاں ماں کے لیے یہ الجھن ناخوشگوار تھی وہیں بیٹی کے لیے خوشگوار احساس بن رہی تھی۔ ادھر شاہ بانو کے دل و دماغ میں بھی ایک ہلچل مچ گئی تھی۔ دو چمکدار انکھیں ان کے خیالوں میں روشنی بکھیر رہی تھیں۔ کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد ہی مہرین ناسازی طبع کا بہانہ کر کے جلد اٹھ کھڑی ہوئیں۔ رحمان صاحب ان لوگوں کو چھوڑنے باہر تک آئے اور جب تک مہرین اپنے گھر میں چلی نہیں گئیں ان کی نگاہیں ان کے تعاقب میں ہی رہیں۔
***********
ایمن اس وقت عجیب شش و پنج کی کیفیت میں گھری ہوئی تھی۔ دو موٹر سائیکل سوار نوجوان مسلسل اس کے تعاقب میں تھے۔ روڈ بالکل سنسان تھا۔ یونیورسٹی سے واپسی پر آج بس ڈرائیور نے اسے کافی پیچھے ہی اتار دیا تھا اب زمان ٹاؤن تک کا سفر اسے پیدل ہی طے کرنا تھا۔ زمان ٹاؤن نئی آباد ہونے والی سوسائٹیوں میں سے ایک تھی۔ اس کا دل گھبرا رہا تھا۔ اچانک ہی ایک موٹر بائک اس کے قریب آ کر رکی۔ اس کا دم حلق میں اگیا۔ وہ سمجھی یہ ان کا تیسرا ساتھی ہے مگر جب آنے والے نے ہیلمٹ اتارا تو ماحد کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ سچویشن کو سمجھ کر ماحد نے اسے اپنے پیچھے بیٹھنے کو کہا تو وہ فوراً بیٹھ گئی۔ ماحد کو دیکھ کر موٹرسائیکل سوار اپنی اپنی جگہ ہی رک گئے تھے۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر ایمن نے اس کا شکریہ ادا کیا
” تم میرا شکریہ ادا کرو یا نہ کرو لیکن آئندہ اتنا پیچھے اترنے کی غلطی کبھی مت کرنا کیونکہ ہر دفعہ سنسان راستے پر تمہیں وہاں ماحد رحمان نہیں ملے گا“ ۔
ایمن نے اس کی انکھوں میں دیکھا پھر نگاہیں جھکا لیں
” میں خیال رکھوں گی“ ۔
یہ کہہ کر وہ گھر میں آ گئی دیر سے آنے کی وجہ پوچھنے پر ایمن نے سارا ماجرا مہرین کو سنا دیا۔ اس کی بات سن کر مہرین بھی پریشان ہو گئیں۔ تمام دن ایمن کے کانوں میں ماحد کی آواز گونجتی رہی ”ہر دفعہ سنسان راستے پر ماحد رحمان نہیں ملے گا“ اور ہر بار اس کا دل کہتا کاش زندگی کے ہر راستے پر مجھے وہاں ماحد رحمان کا ساتھ ملے۔
***********
جاری ہے


