جب ضرورتیں خواہش بن جائیں
دنیا کے بدترین معاشروں کی فہرست تیار کی جائے تو اس فہرست میں جہاں عصمت دری کے واقعات، بد انتظامی، کرپشن اور امن و عامہ کی ناقص کارکردگی جیسے معاشرے آتے ہیں وہیں سر فہرست وہ معاشرے ہیں جہاں ضرورت لوگوں کی خواہش بن جائے۔ اور جہاں ضرورت ہی لوگوں کی خواہش بن جائے وہ معاشرے ہر برائی کی فصل بہار ثابت ہوا کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو ایک سموسہ کھلائیں وہ آپ کے غلام ہیں یا اس سے بھی کوئی فضول کھانا کھلا کر آپ ووٹ خرید سکتے ہیں، ضمیر خرید سکتے ہیں، وقت یا جو بھی خریدنا چاہیں خرید لیں۔
لوگ کھانا زندہ رہنے کے لئے نہیں کھاتے بلکہ زندہ ہی اس لیے ہیں کہ کھانا کھاتے رہیں۔ اچھا کھانا لوگوں کی ضرورت نہیں زندگی کا بنیادی مقصد ہے۔ کھانے کی میز دیکھ کر لوگ حیوان بن جاتے ہیں۔ کلچر ہے کہ شادیوں میں کسی کو کھانا نہ ملے تو شادی تباہ ہو جاتی ہے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں لوگ کھانے کے لیے لڑتے نظر آئیں گے۔ کوئی شادی ہو، پارٹی ہو یا کوئی یونیورسٹی فنکشن کھانے کے میزوں پہ جنگ کا سا ماحول نظر آئے گا۔
آپ بازاروں کا رخ کر لیں، کہیں کسی کپڑے کی دکان پہ سیل لکھ کر لگا دے اگلے منٹ میں لوگ سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ آپ سوشل میڈیا دیکھ لیں، لوگ کھانے، کپڑوں، گاڑیوں اور عمارتوں کے ساتھ تصاویر شیئر کرتے نظر آتے ہیں اور ان تصاویر میں کھانے کی اشیا کے ساتھ لی گئی تصاویر سر فہرست ہیں۔ ابھی گئے دنوں کی بات ہے لوگ آٹے کی لائنوں میں مارے گئے۔ چلو مان لیا کہ غربت ہے لوگوں کو بنیادی ضروریات کے لئے بھی سامان مہیا نہیں لیکن میں تو ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو پیزے، برگر کھاتے اور ان کے ساتھ تصاویر بناتے ہیں پھر برینڈڈ کھاتے ہیں یعنی کھانے کی اشیا میں سٹیٹس بڑھانے کی دوڑ۔
پھر آپ کی نظروں سے ایسے کئی منظر گزرے ہوں گے کہ کہیں کسی دعوت یا اجتماعیت میں کھانا پیش کیا گیا اور لوگوں نے اپنے، رنگ، نسل، کنبہ، قبیلہ، حسب نسب، جنس اور جان کی پرواہ کیے بغیر سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ ہمارے معاشرے میں کھانے کی میز واحد ایسی جگہ ہے جہاں لوگ ہر قسم کا تعصب، نفرت، سٹیٹس کو بھول بھال کر تگڑ دن دنک کر گزرتے ہیں۔ آپ بوفے سسٹم دیکھ لیں لوگ نت نئے لباس پہنے ہوئے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ اس کھیل میں پڑھے لکھے، ان پڑھ، کالے، براؤن، گورے، امیر، غریب یا اپر کلاس اور مڈل کلاس کی کوئی تمیز نہیں۔ بلکہ اپر کلاس اپنے پورے وسائل کے ساتھ ایسی ایسی اوچھی حرکت کرتی ہیں کہ کوئی کیا شرمائے۔ پچھلے سال بحریہ میں ٹم ہارٹن نامی کافی برانڈ کے افتتاح پہ جو رقص ہوا وہ اس کی تازہ مثال ہے۔
لوگوں کا لباس سے دل نہیں بھرتا۔ ایک ہی کام کے لیے چھ چھ طرز کی اشیا خریدتے ہیں اور اس میں اپنی عزت افزائی گردانتے ہیں۔ اس میں امیر غریب، رنگ نسل کی کوئی تمیز نہیں ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالے ہوئے ہے۔ کپڑوں کو دیکھ کر پاگل ہو جاتے ہیں۔ سردیاں شروع ہوئی ہیں بازاروں میں جا کر دیکھ لیں، برے حالات ہیں وہ بھی تب جب لوگ گیس، بجلی کے بلوں پہ رو رہے ہیں لیکن اپر چار رنگ کے خرید کے دم لیں گے۔ خواتین میں یہ ٹرینڈ اور بھی زیادہ ہے لیکن اتنا خاص فرق نہیں۔
مجھے تو یاد نہیں کہ ہمارے معاشرے میں کسی بھی رنگ، نسل، قبیلے یا علاقے میں ثقافتی و علاقائی طور پر پزے، برگر اور کافی کا رواج رہا ہو یا ان میں دلچسپی رکھتے ہوں لیکن جیسے ہی جیب بھاری ہو ہم مہنگی مہنگی کافی شاپس کا رخ کرتے ہیں۔ میں نے اپنے اردگرد سینکڑوں لوگوں کو اس ٹرینڈ کو فالو کرتے دیکھا ہے۔ لوگ کافی پسند کریں نہ کریں لیکن اس کو پیتے ہوئے تصویر بنانا ضروری ہے۔ ریسٹورنٹ جتنا مرضی مہنگا ہو، کھانا اچھا ہو یا نہ ہو لیکن وہاں تصویر بنانا زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ میں نے اپنے کانوں اور آنکھوں سے لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی خواہش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اچھا کھانا کھانا ضرورت نہیں خواہش بن چکا ہے۔ اچھا لباس ضرورت ہو نہ ہو خواہش کی سیڑھی چڑھ کر سٹیٹس کو کا حصہ بن چکا ہے۔
اس ساری صورتحال کا تفصیلی جائزہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم معاشرتی گراوٹ کے اس درجے پہ پہنچ چکے ہیں جہاں محرومیوں نے ہمارے جینیات میں جگہ بنا لی ہے۔ ضرورت لوگوں کی خواہش بن چکی ہے۔ لوگ کھانے کو ضرورت سے کہیں زیادہ درجہ دیتے ہیں۔ کسی مہنگی اور مناسب جگہ پہ کھانا کھانے کا عمل ہر پہلے بندے کی خواہش ہے۔ لوگوں کے پاس جیسے ہی پیسے کی فراوانی ہو پہلی فرصت میں شہر کے سب سے مہنگے ریستوران کا رخ کر کے اپنا سکہ منواتے ہیں اور تواتر سے اس سرگرمی کو جاری رکھنے میں اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہیں۔
معاشرے میں پزے کی شاپ پہ کھنچی گئی تصویر ایک اولیٰ درجہ رکھتی ہے اور افضل ترین مقامات میں سے ایک مہنگے ریستوران ہیں۔ آپ کے نزدیک بلا شبہ یہ ذہنی پسماندگی کی علامات ہو سکتی ہیں مگر جو حقیقت ہمیں دکھائی دے رہی ہے وہ ذہنی پسماندگی سے ذرا کچھ زیادہ ہی ہے۔ مہذب معاشروں میں انسان اپنی شخصیت، ذہنی پختگی اور معیار زندگی بہتر کرنے پہ خرچ کرتے ہیں۔ پیسہ اور وسائل معاشرتی اقدار تشکیل دینے، معاشرتی دانش بڑھانے، فرد کی حرمت اور انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
وسائل کا مقصد ضروریات زندگی کا حصول ممکن بنانا ہوتا ہے نہ کہ محض ضروریات کی بطور خواہش تکمیل۔ ہمیں تاریخ اور سائنس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی انتہائی بنیادی ضروریات میں روٹی، کپڑا اور مکان شامل ہے اور یہ ضرورت ہر انسان کی ہر صورت پوری ہونا ضروری ہے، فلاحی ریاست اور مہذب معاشرے انھی ضروریات کی اہمیت پہ ہی تشکیل دیے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ایک لمبے عرصے تک کوئی انسان بنیادی کھانے سے ہی محروم کر دیا جائے تو کھانا اس کی ضرورت نہیں خواہش بن جایا کرتا ہے۔
ہمارے جیسے گرے ہوئے معاشرے اس کی زندہ مثال ہیں۔ یہاں ضروریات کا درجہ خواہش کا ہے۔ لوگ نسل در نسل اس خواہش کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں چاہے باقی دنیا میں آگ لگے یا طوفان آئے ہمیں اس سے کیا۔ آپ سوچیں کہ جن معاشروں میں لوگوں کی زندگی کا مقصد ہی ضرورت پوری کرنا ہو وہاں انسانی معیار زندگی کیا بہتر ہو اور انسانی حقوق، انسانی حرمت کیا بیچے۔


