میں ہوا ناکام تو فاروق ساغر بن گیا


حسب معمول اٹھا اور ضروری عوامل کے بعد دفتر پہنچ گیا۔ عموماً دفتر میں سوشل میڈیا کے استعمال سے احتراز برتتا ہوں کیونکہ اول تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا اور دوئم ایک بار سوشل میڈیا کی طرف دھیان گیا تو پھر آدھا پون گھنٹہ لمحوں میں ادھر ادھر کہیں دبک جاتا ہے مگر آج اچانک موبائل پر ابھرتے غائب ہوتے نوٹیفکیشن میں سے واٹس ایپ کے ایک نوٹیفکیشن نے جکڑ لیا۔ ”انتہائی افسوس ناک خبر ہے کہ معروف و منفرد اسلوب کے حامل شاعر فاروق ساغر برمنگھم میں انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون“

دل و دماغ سن ہو کر رہ گیا۔ آخری بار ملا تھا تو بہت یاسیت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔ کہتا تھا اندر کسی کونے کھدرے میں پاکستان جم کر رہ گیا ہے۔ جتنا بھی کھرچوں، مٹتا ہی نہیں ہے۔ پورا سالم ثبوتا اندر ہی بیٹھا ہوا ہے۔ ہجرت کے دائروں میں الجھتا ہوں۔ کبھی انگلستان اچھا لگتا ہے تو کبھی قبرستان کی مانند محسوس ہوتا ہے۔ اسی کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ ”یار میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد مجھے پاکستان کی مٹی نصیب ہو۔“

کیسا بدنصیب ہے میرا یار۔ ہجر کے موسم میں اسے اذن ہجرت ملا بھی تو بدیسی مٹی میں۔ نہ میں اسے دیکھ سکتا ہوں نہ وہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کی محبتوں کے مقروض کتنے پھول لے کر آئے ہیں۔ فاروق ساغر ہی کے کہے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے :

اسے بھلاتے تو دل بے چراغ ہو جاتا
وگرنہ ایسا بھی مشکل نہ تھا بھلانا اسے
اسے پسند ہیں ساون کی بارشیں ساغر
برس رہی ہیں یہ آنکھیں ذرا بلانا اسے
(فاروق ساغر)

فاروق ساغر ہجرتوں کی مٹی میں گندھا ہوا انمول شخص تھا۔ یہاں وہاں جہاں بھی رہا، دیس اس کی سوچوں میں نمایاں رہا۔ وطن کا نوحہ، وطن کا المیہ اس کی آواز میں سلگتا رہا، گونجتا رہا۔ وہ بلکتا رہا، روتا رہا، چیختا رہا۔ سوچ بدلو، نظام بدلو، انداز فکر بدلو، شعور کے پیرہن بدلو، نظام کے اوقات بدلو۔ مگر سنتا کون ہے؟

یہ سوچ بدلے تو شاید نظام بھی بدلے
جو اس زمین پہ صدیوں سے اقتدار میں ہے
میرے وطن کا ہے ساغر یہ المیہ کے یہاں
شعور وقت جہالت کے اختیار میں ہے
(فاروق ساغر)

ہمدم دیرینہ کا رخصت ہونا بھی ایک عجب سانحہ ہے۔ ایک ایسا ہی یار غم خوار آج دیار غیر میں اپنی ہجرتوں کا بن باس مناتا رخصت ہوا ہے کہ چاہ کر بھی مٹھی بھر مٹی کی الوداعی پرسہ نہیں دے سکتا۔ وہ کچھ یوں رخصت ہوا ہے کہ مٹانا چاہوں بھی تو ہم دونوں کے درمیاں موجود فاصلہ مٹ نہیں پائے گا۔ میرے قدموں تلے زمین سات سمندر پار تک کا رستہ دینے سے قاصر ہے اور میں اپنے دیرینہ دوست کی مرگ ناگہانی پہ اسے اپنوں ہاتھوں سے رخصت کرنے سے عاجز ہوں۔

اس عشق میں اب وصل کا امکان نہیں ہے
تقدیر نے وہ ہجر بلا دے دیا مجھ کو
ایک شخص سے پوچھا تھا ترے شہر کا رستہ
اس شخص نے کوفے کا پتہ دے دیا مجھ کو
(فاروق ساغر)

برمنگھم کی اردو شاعری کا توانا نام اپنے دیرینہ ہم نام، رنگ محل کے پرانے دیوانے ساغر صدیقی کی طرح ہجرتوں کا بن باس مناتا ہوا برمنگھم میں آج کی کہر آلود برفیلی صبح کو رخصت ہوا۔ الوداع! اے میرے دوست الوداع!

عشق میں کوئی ولی، کوئی قلندر بن گیا
میں مقام عشق پر آ کر سخن ور بن گیا
عشق میں ناکام ہونے والے مجنوں ہو گئے
میں ہوا ناکام تو فاروق ساغر بن گیا
(فاروق ساغر)

انگلستان کا دیسی شہر برمنگھم لندن کے بعد دوسرا بارونق اور بڑا شہر ہے۔ ایسا شہر جس کے دامن میں لاکھوں اردو بولنے والے بس رہے ہیں۔ ممکن ہے مانچسٹر، بلیک پول و آکسفرڈ جیسے دوسرے شہر یہ بات نہ مانتے ہوں مگر 60 ہزار سے زائد تو پاکستانی ہی برمنگھم میں رہائش پذیر ہیں۔ پھر ہندوستانی و بنگالی بھی نہ صرف اردو سمجھتے ہیں بلکہ بولتے ہیں تو ایسے میں برمنگھم کی دوسری سب سے زیادہ سمجھی جانے والی اردو ہی تھی۔ پھر اردو کو جو فاروق ساغر جیسا منفرد شاعر ہی برمنگھم میں میسر آ جائے تو وہ بھرے شہر میں گمنام کیسے ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے برمنگھم میں ہر اردو بولنے والا جانتا تھا، پہچانتا تھا۔ وہی برمنگھم اس پہچان والے چہرے سے آج محروم ہو گیا ہے۔

ہر رند کو حاصل ہے یہاں شیخ کی صحبت
اب شہر میں کوئی بھی گنہگار نہیں ہے
(فاروق ساغر)

فاروق ساغر اپنے عہد کی ایک توانا آواز تھی۔ ذرا اس غزل میں ان کا لہجہ تو دیکھیے :
شہر بھر میں میرے کردار کا چرچا کر کے
وہ بھی بدنام ہوا مجھے رسوا کر کے
کرچیاں پھر سے سمیٹوں گا شکستہ دل کی
پھر سے دیکھوں گا تیرے عکس کو یک جا کر کے
فیصلہ کرتے ہوئے خود اسے معلوم نہ تھا
وہ بھی ہو جائے گا تنہا مجھے تنہا کر کے
گھر گیا ہوں میں اماوس کی سیاہ راتوں میں
اپنی آنکھوں سے تیرے خواب کو منہا کر کے
ہجر کی آنچ پہ پگھلا ہوں میں لمحہ لمحہ
ایک بھولے ہوئے وعدے پہ بھروسا کر کے
ایک پتھر تھا جسے میری جبیں نے ساغر
جانے کس رو میں خدا کر دیا سجدہ کر کے

Facebook Comments HS