نیو کالونیل عہد اور دیہی خداؤں کا پاکستان


سائیکل کے انتخابی نشان سے شروع ہونے والا سفر پہلے ایک جیپ میں بدلا، وہ جیپ پراڈو میں تبدیل ہو گئی اور اس پراڈو کی ہی ڈرائیونگ سیٹ کے برابر نشست پر میاں نواز شریف بیٹھ کر ہاتھ ہلاتے تھے اور ورکرز کے نعروں کے جواب دیتے تھے اس ڈرائیونگ نشست پر چوہدری نثار ہوتے تھے لیکن اب ڈرائیونگ سیٹ پر چوہدری نثار کو بٹھانے والے خود بیٹھ گئے ہیں تاکہ نواز شریف نعروں کا جواب دیتے وقت با ہمت رہیں باقی ہمت تو الیکیٹ ایبلز کے ذریعے سے بڑھائی جا رہی ہے۔

نواز شریف بھی سیاست کے دھنی ہیں، جمہوریت کی صدا لگاتے ہیں اور پھر ملک میں آمریت کا موجب بن کر ریاست میں پریٹورین راج کی تقویت کا باعث بن جاتے ہیں۔ یہ سیاست کے دھنی ہی تو ہیں کہ انھیں منصب اعلیٰ پر بٹھانے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد وجود میں لایا جاتا ہے، پریٹورین راج کی بیک ڈور پالیسی کے تحت میثاق جمہوریت کی دستاویز پر دستخط کرانے کے بعد با عزت وطن واپس بلایا جاتا ہے، پھر ایک کو مقتل گاہ کے ذریعے قبر میں اتار دیا جاتا ہے اس کی قیمت حکومت لے کر وصول کی جاتی ہے اور جب پیپلز پارٹی خود کو ہی راج سمجھنے لگی تو پھر وہی پرانا سیاسی گھوڑا میدان میں اتار دیا جاتا ہے اور شریف دوبارہ آ جاتے ہیں، پھر اقتدار کا اختتام پریٹورین راج کی صورت میں ریاست کو بہ طور تحفہ تھما دیا جاتا ہے۔

طیارہ ہائی جیکنگ کیس سے لے کر ایون فیلڈ لندن تک کے تمام کیسز پریٹورین راج کی نگرانی میں بنوائے جاتے ہیں اور پھر انھی کی بدولت یہ کیسز ختم کرا دیے جاتے ہیں۔ کرپشن کے بیانیے ہوں یا پھر ففتھ جنریشن وار کے قصے ہوں، یہ سب دماغ کی بجائے بذریعہ حلق قوم میں اتارے جاتے ہیں، ان قصوں سے حلق خشک ہو یا تر، دماغ ترو تازہ ہو یا باسی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ یہ نوآبادیاتی ورثہ ہے کہ ہیرو بناؤ، ولن بناؤ اور پھر سکرپٹ کے مطابق انھیں کردار سونپ دو، یہ کردار مرکزی بھی ہو سکتا ہے اور سائیڈ رول بھی بسا اوقات موثر ہوتا ہے جیسے استحکام پاکستان پارٹی بنوا کر انھیں ایک سائیڈ رول دینے کی پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔

یہ سائیڈ رول قوم کو پسند ہے یا نا پسند، انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، لیکن قومی جمہوری سیاست میں یہ سائیڈ رول ایلیکٹ ایبل کے نام پر ایسی ضرب کاری ہے جس سے قوم زیر ہوتی ہے یا پھر تقسیم ہوتی ہے جو زبر بننے کی کوشش کرے انھیں آپریشن سائیکلون، آپریشن ضرب عضب، آپریشن رد الفساد اور آپریشن محب وطن کی آہنی چکی تلے پسپا کر دیا جاتا ہے۔

چوہدری برادران کو جب مشرف نے حکومت دینے کے بعد واپس چھیننے کا فیصلہ کیا تو پھر آٹے چینی کا بحران پیدا کر دیا گیا اور یہ بحران ان کی حکومت لے ڈوبا، قائد اعظم لیگ جو کبھی قاتل لیگ کے نام سے پکاری گئی ان کی گود میں بھی ایلیکٹ ایبل بٹھائے گئے تھے اور ویسے بھی اس پارٹی کا جنم آمریت کی کوکھ سے ہوا جیسے ابھی پی ٹی آئی کے بطن سے استحکام پاکستان پارٹی کا پریٹورین بیج جمہوریت کی آڑ میں بویا گیا ہے۔

یہ ایلیکٹ ایبل، پاکستان کی سیاست کے دیمک کے کیڑے ہیں یا پھر نوآبادیاتی عہد کی باقیات، جنھیں ہر الیکشن سے پہلے تاج برطانیہ کی طرح سروں کا تاج بنا دیا جاتا ہے اور پھر انھی کے ذریعے سے جمہوریت میں ایسی ضرب لگائی جاتی ہے کہ ریاست سسکتے سسکتے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے کشکول زن ہو کر وطن کے تمام اداروں کو گروی رکھنے سے بھی دوچار ہو جائے، انھیں پرواہ نہیں ہے، یہ ایلیکٹ ایبل جمہوری اصطبل کے وہ گھوڑے ہیں جنھیں کنگ پارٹی بنانے کے لیے جماعتوں کے قلعوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور جب چاہے ان کی رسی چھوڑ دی جاتی ہے تاکہ جمہوریت میں دما دم مست قلندر کر کے پریٹورین راج کی جڑوں کو پانی دے کر تازہ رکھا جائے۔

کنگ پارٹی اب پرانی اصطلاح ہو گئی ہے جیسے سرد جنگ کے خاتمے پر تیسری دنیا کے ممالک کی جگہ گلوبل ساؤتھ کی اصطلاح کو مل گئی ہے ایسے ہی اب لاڈلا پلس ایک زبردست عوامی اصطلاح ہے، لاڈلہ پلس کے بت کی تراش خراش کر کے انھیں جمہوری اصطبل میں اتارے جانے کی تیاری آخری مراحل میں ہے، اس کی ابتداء تو بلوچستان کے ایلیکٹ ایبل سے شروع ہوئی تھی اب آمرانہ عہد کی باقیات اور اہل چوہدریوں کے ڈیرے پر ماتھا ٹیکنے تک پہنچ گئی ہے، آخر اس پارٹی کا انتخابی نشان بھی سائیکل ہے یہ سائیکل صرف عوام کو دکھانے کے لیے ہے وگرنہ خود یہ پرائیویٹ جیٹ، پراڈو اور عالیشان محلات میں زندہ رہنا اپنا بنیادی جمہوری حق تصور کرتے ہیں، اس حق کی خاطر دونوں چوہدری گتھم گتھا بھی ہو گئے۔

سیاست کے دھنی، جمہوریت کی تقدیر کے ہاتھوں پیالہ سقراط پینے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن یہ پیالہ سقراط نہیں بلکہ فکر شداد کے شاخسانہ لگتے ہیں جنھوں نے جمہور کے نام پر اپنی جنت بنانی ہے اور خود اسی جنت کے اندر زمین بوس ہوجانا ہے۔ البتہ، ایلیکٹ ایبل پھر کسی اور پارٹی کی گود میں بٹھا دیے جائیں گے اور پریٹورین راج کا یہ پہیہ پھر یوں ہی گھومتا رہ جائے گا۔ ایلیکٹ ایبلز کے پاس ایسے کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو یہ اپنے حلقوں کی عوام کو سنگھا کر انھیں پانچ سالوں کے لیے بے ہوش کر دیتے ہیں؟ ان کی حیات جاوداں، عوام کی بیہوشی یا پھر نیم مدہوشی میں ہی پنہاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک حلقہ کے عوام کی جمہوری شکن روایات کی قیمت ہر بار پوری قوم کیوں ادا کرتی ہے؟ یہ پریٹورین راج کا سائنسی فارمولہ ہے اگر یہ قومی اذہان کو سمجھ آ گیا تو جمہوریت کی الجھی گتھی سلجھ جائے گی۔

بس اتنا دیکھ لیجیے کہ ایلیکٹ ایبلز کی صورت میں وطن عزیز پر مسلط ان دیہی خداؤں کا نوآبادیاتی پس منظر کیا ہے؟ یہ برطانوی استعماریت کی باقیات ہیں یا پھر نیو کالونیل ریاست کا انتظامی و سیاسی ڈھانچہ کا وہ اہم ستون ہیں جس کی بناء پر وطن عزیز کے 24 کروڑ انسانوں کی زندگیوں پر استعماریت کا طوق ڈال دیا جاتا ہے۔ جمہور کا کیا ہے، انھیں روٹی چاہیے، وہ اگر کوئی وڈیرہ دے دے یا پھر شہروں کا سرمایہ دار۔ اصل مسئلہ تو، جمہور پر پریٹورین راج کی راہیں ہموار کرنے کے لیے رائے عامہ اور رائے سازی کرنے والے ان نابغہ روزگاروں کا ہے جنھیں اپنی لگژری گاڑیوں، گھروں اور ایلیٹ خاندانوں کے سپوتوں کے ساتھ شامیں گزارنے کا ٹھرک ہے، جنھیں یہ اپنی زندگی کی بقاء سمجھتے ہیں۔

ہمیشہ یاد رکھیے کہ پریٹورین راج میں کسی کو جمہوری گھوڑا بننے کی اجازت نہیں ہے، اگر گدھے خود کو گھوڑا سمجھتے رہیں تو یہ بس انھی کی حماقت ہے جس کا مظاہرہ آئندہ عام انتخابات میں وطن عزیز کی قوم دیکھے گی بالکل ویسے ہی جیسے عہد ایوب میں، عہد ضیاء میں عہد مشرف میں، عہد کیانی میں، عہد باجوہ میں مظاہرہ کیا گیا۔ باقی سب کہانیاں، داستانیں اور جھوٹے روپ کے درشن ہیں۔

Facebook Comments HS