جاوید احمد غامدی بمقابلہ انجینئر محمد علی مرزا اور روایتی تسلسل

ہر دور میں وارثان مذہب نے علم الکلام کی اصل روح یا معرفت کو پانے کے لیے اپنے اپنے انداز میں مغز خوری کی ہے اور اپنے تئیں حقیقت کو پانے کی سعی کرنے کے بعد جو کچھ بھی ان کے ہاتھ لگا وہ سب کتابوں میں موجود ہے۔
قرآن مجید کی ہزاروں تفاسیر، احادیث مبارکہ کی درجنوں شرحیں و تشریحات اور ایک ایک موضوع پر کئی کئی درجن کتابوں کے سامنے آنے کے باوجود بھی علماء و آئمہ و مفتیان یا فقیہ دین ایک دوسرے سے متفق نہیں ہو سکے اور اس بات کا مستقبل قریب میں بھی کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
روایتی انداز فکر کو تو ایک طرف رکھ دیجیے اس مضمون کا مخاطب یہ طبقہ سرے سے ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا مخاطب تیسرا اور چوتھا گروہ ہو گا جس کا تذکرہ بالترتیب آگے آئے گا۔ البتہ اس طبقے کا مختصر سا تعارف کروانا بہت ضروری ہے تاکہ مضمون کا تسلسل بنا رہے۔ اس فکر کی آبیاری کرنے والوں میں زیادہ تر وہ چھوٹے موٹے مولوی ہوتے ہیں جو فقط درس نظامی ہوتے ہیں اور اپنی خوبصورت سی آواز کا جادو جگا کر ”بلبل مدینہ یا خطیب اعظم“ کے درجے پر فائض ہو جاتے ہیں، ان کا کل علم یا سرمایہ حیات چند رٹی رٹائی سی تقاریر اور حکایات پر مبنی اساطیری کہانیاں ہوتی ہیں۔ جنہیں یہ ساری عمر بیچتے رہتے ہیں اور درجنوں کوٹھیوں اور گاڑیوں کے مالک بن جاتے ہیں جس کی درجنوں مثالیں ہمارے سماج میں موجود ہیں۔
” بیچنے“ کا لفظ بڑا سوچ سمجھ کے استعمال کیا ہے، یہ طبقہ اپنی من موہنی وسریلی سی آواز اور قصہ خوانیوں کے سہارے اس قدر مقبول ہو جاتے ہیں کہ لوگ ان کو مختلف علاقوں میں بڑے بڑے جلسوں میں مدعو کرنے لگتے ہیں۔ جس کا ہدیہ یہ خطباء لاکھوں میں وصولتے ہیں۔
وطن عزیز میں دو بندوں کا تو صحیح داؤ یا جگاڑ لگا ہوا ہے ایک موٹیوشنل سپیکر کا اور دوسرا خطیب کا۔ جو زیرو انویسٹمنٹ کے ساتھ کروڑ پتی بن جاتے ہیں اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔ اس طبقے کی مثال لڑاکا مرغ کی طرح ہوتی ہے جو جتنا زیادہ لڑاکا ہوتا ہے وہ اتنا ہی قیمتی اور مہنگا ہوتا ہے بالکل اسی طرح سے جو خطیب جتنا زیادہ مجمع باز ہوتا ہے اس کی قدر و منزلت اور ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے جسے عقیدت مندان خوشی خوشی پورا بھی کرتے ہیں۔
اس طبقے میں وہ تمام مولوی شامل ہیں جن کی زبانیں منبر پر شعلے اگلتی ہیں اور اکثر و بیشتر ”مناظرہ مناظرہ“ کھیلتے رہتے ہیں۔ ان کی بنیادی اسکولنگ کوئی زیادہ نہیں ہوتی اور نا ہی ان کے مطالعے میں کوئی زیادہ گہرائی ہوتی ہے، اسی لیے یہ ہر وقت متنازع قسم کی گفتگو کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں، شاید ان کی بقا ہی ان جیسے متنازع بکھیڑوں میں ہوتی ہے۔
دوسرا طبقہ ان علماء کا ہے جو اپنے اپنے مکتبہ فکر کے ”بڑے، معتبر یا اسلاف“ کہلاتے ہیں۔ یہ صاحب مطالعہ اور زمانہ شناس تو ضرور ہوتے ہیں مگر ان کا اوڑھنا بچھونا بھی وہی روایات ہی ہوتی ہیں جن پر کئی صدیوں سے بحث چل رہی ہے بلکہ مناظرے تک ہو چکے ہیں۔ مگر اتفاق ندارد یا حاصل کچھ بھی نہیں سوائے ان تنازعاتی معاملات کی وجہ سے پیدا ہونے والی نفرتوں کے۔ جو اب تک نجانے کتنے فرقوں کو جنم دے چکی ہے۔
فرقوں کے یہ جید علماء نیوٹرل جگہوں پر تو اپنا سافٹ امیج پیش کرتے ہیں لیکن اپنی مجالس میں ان کا وہی رنگ ڈھنگ ہوتا ہے جو ایک چھوٹے موٹے سے روایتی مولوی کا ہوتا ہے، اس طبقے میں پروفیسر ساجد میر، ساجد نقوی، تقی عثمانی اور منیب الرحمن ایسے گوہر نایاب شامل ہیں جو خود تو بیک گراؤنڈ میں رہتے ہیں لیکن اپنے مسلک کے مولویوں سے منبر کے ذریعے سے اپنا ذکر خیر بلند کرواتے رہتے ہیں۔
تیسرا طبقہ ان علماء کا ہے جو مذہب کو ٹیکنیکل اصطلاحات اور فلسفیانہ ٹچ کے ساتھ پیش کرتے رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر تو ایسے ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان میں سرسید احمد خان، احمد دیدات، مولانا مودودی، علامہ پرویز ڈاکٹر اسرار احمد، سید کتب اور حسن البنا ایسی ہستیاں شامل ہیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنے فہم و فراست کے مطابق مذہب کو عام فہم اور آسان بنا کر پیش کرنے کی سعی کی لیکن کوئی خاطرخواہ کامیابی نہیں مل سکی بلکہ تنازعات و تقسیم بڑھتی چلی گئی اور انہی کے بھائی بندوں نے ان ہستیوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا۔ گمراہ اور بھٹکے ہوئے ہونے کے فتاویٰ صادر کیے گئے۔ چوتھا طبقہ ان علماء کا ہے جن کے نمائندہ لمحہ موجود میں جاوید احمد غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا ہیں، ان دونوں کے میدان بھی ایک دوسرے سے بالکل ہی مختلف ہیں البتہ بنیاد اور منبع ذرائع ایک ہیں۔
جاوید احمد غامدی لٹریچر کے بندے ہیں، مذہب کے علاوہ دوسرے فنون میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور خاصے صاحب مطالعہ اور پڑھے لکھے انسان ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ کبھی دعویٰ کی زبان میں بات نہیں کرتے۔ انتہائی نفیس اور نستعلیق انداز میں اپنا ماحصل پیش کر دیتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی شائستگی اور انکساری سے اپنا موقف پیش کرنے والے غامدی کے لیے بھی اس ملک میں کوئی گنجائش یا جگہ نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے تئیں مذہب کی وہ روایتی تشریحات جن کو بنیاد بنا کر ملحدین شروع دن سے اعتراضات کرتے چلے آرہے ہیں، ان کا عقلی بنیادوں پر جواب دینے کی سعی کی ہے۔ جس کی بنیاد پر انہیں اپنوں میں پرایا ہونا پڑا اور غیروں کے بیچ پناہ ڈھونڈنا پڑی۔
اب دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ غامدی جی اپنی کاوشوں میں کتنے فیصد کامیاب ہوئے؟
ظاہر ہے اس کا فیصلہ تو آ نے والا وقت ہی کرے گا البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے مذہبی طبقے کی ایک کثیر تعداد کو متاثر ضرور کیا ہے اور انہوں نے اپنے ”منفرد“ سے موقف کے ذریعے کئی بے چین دماغوں کو آسودگی و راحت بخشی ہے۔ لیکن حقائق کچھ اور بتاتے ہیں جس قدر تاویلات کے انبار بڑھ رہے ہیں کنفیوژن مزید بڑھتی چلی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پڑھے لکھے طبقے میں تشکیک کی شرح بڑھنے لگی ہے۔ رنگ برنگی تاویلات کی وجہ سے سوالات کا حجم بھی بڑھنے لگا ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز میں ذرا سی منفرد سوچ رکھنے والے کو عبرت کا نشان بنانے میں کوئی تاخیر نہیں کی جاتی اور وارثان مذہب کو ہر ”سوال“ میں سے توہین یا گستاخی کی بو سی آنے لگتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سماج میں رنگ برنگے جوابات کی تو بھرمار ہے لیکن سوال بیچارہ راندہ درگاہ اور بے یار مددگار ہو چکا ہے جو خوف کے مارے نجانے کتنے نوجوانوں کے ذہنوں میں ہی دفن ہو جاتا ہے۔
دوسری شخصیت کا نام انجینیئر محمد علی مرزا ہے جس کی فکر غامدی سے بالکل ہی مختلف ہے، مرزا جی کے مطابق جو کچھ بھی کتابوں میں محفوظ ہے اسے من و عن پیش کر دینا چاہیے اور وہ روایتی علوم کو خواہ مخواہ کی فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھانے کے قائل نہیں ہیں۔ بھلے اس کے نتائج کچھ بھی نکلیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان کا ماننا ہے کہ ہمارے مخاطبین عقیدہ پرست مسلمان ہیں اور مذہب میں جو کچھ بھی ہے اس پر یقین و ایمان رکھنے کا نام ہی تو مومن ہے اور عقیدے کے اندر سوال اٹھانے والا ہم میں سے نہیں ہے اور جو ہم میں سے نہیں ہیں ہمیں ان سے کیا غرض؟
اسی لیے وہ کسی ملحد سے مباحثہ وغیرہ نہیں کرتے، ان کی پہلی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ جو بندہ خدا پر یقین رکھتا ہے اس کے ساتھ تو مباحثہ ہو سکتا ہے لیکن جو بندہ خدا کے وجود کو ماننے سے ہی انکاری ہے اس سے بحث یا مکالمہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
اب ایک عام سے بندے کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جو بندہ یقین رکھتا ہے اس سے مباحثے کا کیا مطلب یا مقصد؟ اور جو یقین نہیں رکھتا اس سے مباحثہ یا مکالمہ نا کرنے کی کے پیچھے کیا منطق ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ دعویٰ کرنے والوں کے کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اصولاً جو بندہ دعویٰ کرتا ہے اسے ثابت کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
اب روایتی فکر کو دیکھنا ہے کہ کیا وہ اپنے دعووں کو سچ ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں۔
کیونکہ دوسری طرف تو صرف سوالات ہیں دعوے نہیں اور سوالات مرتے کبھی نہیں بلکہ سمے کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت و شکل تبدیل کر لیتے ہیں۔
روایتی فکر کے جن چار گروہوں کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے ان کے متعلق جائزہ لینا ہو گا کہ کیا یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟ اگر مختلف ہیں تو کن بنیادوں پر؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ انجینیئر صاحب جو کچھ بھی بابوں کی کتابوں سے نکال کر پیش کرتے ہیں یا روایتی فکر میں غلطیوں کی نشاندہی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں کیا اس قسم کی کاوشوں سے کوئی خاطر خواہ فرق پڑے گا؟
عقیدہ کی تہہ میں سے کچھ ایسا ”نیا“ دریافت کیا جا سکتا ہے جسے مشاہداتی و تجرباتی بنیادوں پر پرکھا یا ثابت کیا جا سکے؟
عقائد و یقین کے ذرائع اگر یکساں ہوں تو نتائج کیسے مختلف ہو سکتے ہیں، سوائے اپنے اپنے نقطہ نظر کے حساب سے ایک مختلف سا بیانیہ تشکیل دینے کے؟
اب روایتی فکر کے مابین جو گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے یا لفظی گولہ باری چل رہی ہے وہ اپنے اپنے بیانیے کی حقانیت کو ثابت کرنے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
کیا یہ سب کچھ دین کی سربلندی کے لیے ہو رہا ہے یا اپنے اپنے بیانیے کی سربلندی کے لئے ہو رہا ہے؟
جہاں تک غامدی فکر کا تعلق ہے وہ ایک طرح سے آج کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک کاوش ہے اور غامدی صاحب نے روایتی فکر پر جدیدیت کا غلاف چڑھا کر اسے فلسفیانہ انداز میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
اب وہ اپنی کاوش میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں وہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ روایتی فکر کے پاس بہت سارے سوالوں کا جواب نہیں ہے اور وہ آج کے منظر نامے میں زیادہ مناسب مقام پر نہیں کھڑے ہیں۔
اور ایسا لگتا ہے کہ وہ غیر متعلقہ سے ہوتے جا رہے ہیں۔

