انوکھے شہید : کلرک اور کمانڈو۔ 1


” دوست بھاگو، تمہارا فرار ہونا ضروری ہے۔ میری جان اتنی اہم نہیں۔ میں اس گارڈ سے نبٹ لوں گا“ ۔
آج سے اکیاون سال پہلے، یہ سید زادے شوکت ہاشمی کے آخری الفاظ تھے۔ جو اس نے اپنے کمانڈو دوست نواب دین کو بچاتے وقت کہے تھے۔

یہ شہادت کی ایک ایسی داستان ہے۔ میں جب جب دوستوں اور بچوں کو سناتا ہوں وہ ایسے سنتے ہیں جیسے میں کسی فلم کی کہانی سنا رہا ہوں۔ شاید آپ پڑھیں تو یہی سوچیں۔ یہ واقعہ کسی اور ملک کے لئے جان دینے والے شخص کی کہانی ہوتی تو اس پر ناول لکھے جاتے، ساتھ فلمیں اور ڈرامے بھی بنتے۔ بہت سارے مسلمان شہادت کی دعائیں تو مانگتے ہیں لیکن جوش اور جذبہ شہادت سے خالی ہوتے ہیں۔ قدرت ان کے سامنے متعدد بار ایسے مواقع بھی پیدا کرتی ہے لیکن وہ شہادت کی بلی کو دیکھ کر کسی کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔

شہادت تو سعادت ہے جسے دیکھ شہید یوں چوم لیتا ہے جیسا اسے اس کا رب مل گیا ہو۔ یہ تو ہنگو کے سولہ سال کے لڑکے اعتزاز احسن بنگش جیسوں کا نصیب ہوتا ہے جو کسی خود کش بمبار کو دیکھنے کے بعد ساتھی طلباء کی جان بچانے کے لئے اس سے یوں چمٹ جاتے ہیں کہ بم کا ایک ذرہ بھی کسی دوست کو خراش نہ پہنچا سکے۔ ایک شخص ملک پر اپنی جان نثار کر کے ڈاکٹر، انجینیئر، پائلٹ اور فوجی بنے بغیر ہی ملک و قوم کی خدمت کر دیتا ہے۔

خاکی فوج میں پھر بھی افسر اور باوردی سپاہی سے لے کر ڈرائیور تک کو اسلحہ چلانے اور دو بدو لڑنے کا ماہر ہونا پڑتا ہے کہ میدان جنگ میں ان کا سامنا کسی بھی صورتحال سے کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن دوران جنگ فضائی فوج میں براہ راست شہادت، پائلٹ یا اس کے ساتھ موجود عملے کے علاوہ بمشکل کسی کا نصیب ہو سکتا ہے۔ اور کسی فضائی اڈے پر تعینات دفتری کلرک یا ٹیکنیشن کے لئے تو ایسا کوئی موقع سوچ میں بھی نہیں آ سکتا۔

1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں جب زمینی فوج نے جنگ بندی کی تو فضائی فوج بھی کتنے عرصے ٹک سکتی تھی۔ یوں ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر موجود زمینی عملے نے بھی گرفتاری دے دی۔ متعدد عام پاکستانی اور ان کے خاندان کے لوگ جو فضائی اڈے سے باہر رہتے تھے۔ ان میں سے بیشتر نے مکتی باہنی کے حملوں سے بچنے کے لئے ڈھاکہ اور دوسرے شہروں کے فوجی مراکز میں پناہ لی ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد جب پاکستان کے قیدی فوجیوں کی فہرست تیار ہوئی تو ان سب عام پاکستانیوں کے نام بھی جنگی قیدیوں کی فہرست میں شامل تھے۔

ترانوے ہزار سے زائد فوجیوں اور سویلین قیدیوں کو انڈیا کے مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا رہا۔ جس میں پاکستانی فضائیہ کے آٹھ سو اور بحریہ کے ایک ہزار باوردی اہل کار شامل تھے۔ پاکستان میں کوئی حکومت موجود ہی نہیں تھی۔ اور انڈیا کو بھی اپنی فتح کے نشہ میں ان قیدیوں سے معلومات اگلوانے کی کوششیں بھی جاری تھیں۔ یوں ایک سال بیت گیا۔

سید شوکت ہاشمی، جس کے زمیندار اجداد کے نام پر اب بھی سیالکوٹ کے پاس گاؤں چک ہاشمیاں کہلاتے ہیں۔ بیس سال کی عمر میں 1962 میں پاک فضائیہ میں زمینی عملے کے طور پر بھرتی ہوتا ہے۔ نو سال میں ریڈیو ٹرانسمیشن کے آلات پر کام کرتے ہوئے کارپورل ٹیکنیشین بن چکا تھا۔ اس کا کام مختلف الیکٹرانکس آلات کی تنصیب اور مرمت تھا۔ شوکت نے ریڈار کی الیکٹرانکس میں مہارت حاصل کی اور یوں اپنی نو سالہ نوکری میں بدین اور سکیسر کے ریڈار پر تجربہ حاصل کیا۔

1971 میں شوکت کی پوسٹنگ ڈھاکہ میں نصب ریڈار اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ ریڈار کی نوکری عموماً آبادی سے دور مشکل، مگر ٹھنڈی ٹھار نوکری ہوتی ہے۔ پنجاب کا گھبرو ابھی حالات اور موسم کو سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ جنگ شروع ہو گئی۔ ایک زمینی عملہ اپنے ریڈار کو دشمن سے بچانے اور اسے ہر وقت کارآمد رکھنے کے علاوہ کیا کر سکتا تھا۔ 17 دسمبر 71 کو پاکستانی فوج نے مغربی پاکستان سے ملنے والے احکامات کے پیش نظر سیز فائر کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔ کیونکہ اردگرد موجود اپنے مسلمان بنگالی بھائی ہی ان کے خون کے پیاسے ہوچکے تھے۔ پاک فضائیہ کے تمام لوگوں کے ساتھ کارپورل شوکت بھی جنگی قیدی بن گیا۔ یہاں سے انہیں پہلے نرائن گنج، کھلنا، کلکتہ، بہار اور پھر بالآخر احمد آباد کے ایک جنگی قیدی کیمپ میں قید رکھا گیا۔

الہ آباد میں متعدد جنگی کیمپ تھے جن میں کیمپ نمبر 36 میں شوکت کی ملاقات ایک اور کارپورل نواب دین سے ہوئی جو تربیت کے لحاظ سے اسپیشل سروسز گروپ کا ٹرینڈ کمانڈو تھا۔ نواب دین الہ آباد کے کیمپ پہنچنے سے پہلے کم از کم تین مرتبہ ہندوستانی فوج کی قید سے فرار ہو چکا تھا۔ یہ اور بات کہ بے یارومددگار چند دن بعد گرفتار ہو جاتا۔ اس پر جب بھی ظلم ہوتا تو وہ ہنس کر سہ لیتا۔ اور کہتا جو کام میرا ہے میں کرتا رہوں گا۔ جو ان کا ہے وہ کرتے رہیں۔

الہ آباد پہنچ کر نواب دین کی ملاقات شوکت ہاشمی سے ہوتی ہے۔ اور چند دنوں میں دونوں کی فریکیوئنسی میچ کر جاتی ہے۔ قید کے بعد پہلے یوم آزادی پر 14 اگست 1972 کو ان دونوں نے لوگوں سے چندہ اکٹھا کر کے قیدیوں بالخصوص بچوں اور ہندوستانی گارڈز میں مٹھائی بانٹی۔ ساتھ وہ یہ پیغام بھی سب کو پہنچاتے کہ یہ اس خوشی کے دن کی یادگار ہے کیونکہ اگر پاکستان نہ بنتا تو پورا ہندوستان پوری مسلمان قوم کے لئے قیدی کیمپ بن جاتا۔ اب یہ دونوں کیمپ میں موجود لوگوں کی ہر وقت مدد کرتے رہتے۔ شوکت کو جب نواب دین کی فرار ہونے کی پچھلی کوششوں کا پتہ چلا اور مزید یہ کہ وہ ابھی بھی الہ آباد سے بھی فرار ہونے کی جستجو میں ہے تو شوکت نے اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ نواب اس کا گرو بن گیا۔ جو خود شوکت کو شاہ صاحب کہتا تھا۔

شوکت دفتر میں کام کرنے والا محض ایک بابو نہیں تھا۔ خوش شکل، لمبا تڑنگا گھبرو، غیر شادی شدہ مگر ساتھ میں والی بال کا ایک زبردست کھلاڑی۔ جس کے گھر اور کمرے ٹرافیوں اور میڈلز سے بھرے ہوئے تھے کیونکہ شوکت پاک فضائیہ کی ٹیم کا نہ صرف کپتان تھا بلکہ کئی ملکی ٹورنامنٹس میں قیادت اور انعامات بھی جیت چکا تھا۔ یوں فرار ہونے کے لئے شوکت اور نواب کی جوڑی اب ایک اور ایک گیارہ بن چکی تھی۔

نواب نے شوکت کو بتایا کہ وہ سرنڈر کے بعد کیسے ڈھاکہ میں گرفتاری سے بچتا رہا مگر 28 دسمبر 71 کو اسے گرفتار کر کے ”نرائن گنج“ لایا گیا۔ جہاں سے اسٹیمر کے ذریعے ”کھلنا“ پہنچایا گیا۔ کھلنا میں ہزاروں قیدیوں کو بلا مبالغہ بھیڑ بکریوں کی طرح ریل گاڑی کے ایک ایک ڈبے میں ٹھونس دیا گیا۔ جہاں سانس لینا تک مشکل تھا۔ ریل گاڑی چلتے وقت اس کے دروازے اور کھڑکیاں، تختوں، کیلوں اور تالوں سے بند کردی گئیں اور یوں پاکستانی قیدیوں کا سانس لینا مزید مشکل ہو چکا تھا۔

نواب دین نے اسی حالت میں فرار ہونے کی دوسری کوشش کا سوچا۔ جب ریل گاڑی کھلنا سے انڈین صوبے بہار کے علاقے ”آہن سول“ پہنچی تو رات کے دو بج چکے تھے۔ نواب دین کو جیسے ہی حفاظت پر مامور ہندوستانی فوجی اونگھتے نظر آئے۔ اس نے کمانڈو ہوتے ہوئے اپنے پاس موجود چند چیزوں سے کسی طرح دروازے کا تالا کھول لیا۔ دروازے کے باہر گھپ اندھیرا تھا اور ٹرین تیزی سے سفر طے کر رہی تھی۔ ریلوے لائن کے اطراف میں روڑی کے نوکیلے پتھر کسی بھی شخص کو شدید زخمی کرنے کے لئے کافی تھے۔ پہلے خیال نے نواب دین کے رونگٹے کھڑے کر دیے کہ پیچھے پھر بھی زندگی موجود تھی مگر سامنے تو صرف موت تھی۔

نواب کو دوسری عالمی جنگ پر بنی ایک فلم کا منظر یاد آیا جب اسی طرح ایک مخصوص طریقے سے قیدی نے تیزی سے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ فلم اصل حقیقت سے دور ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ کے کارپورل نواب دین نے خطرہ مول لیا اور چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
3 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments