انوکھے شہید: کلرک اور کمانڈو۔ آخری حصہ
” دوست بھاگو، تمہارا فرار ہونا ضروری ہے۔ میری جان اتنی اہم نہیں۔ “ ۔
الہ آباد میں قائم جنگی قیدیوں کے کیمپ 36 میں قید پاکستان ائر فورس سے تعلق رکھنے والے کمانڈو، کارپورل ٹیکنیشن نواب دین چوہدری نے ریڈیو فٹر، کارپورل ٹیکنیشن شوکت کو بتایا کہ کس طرح جنگ بندی کے بعد ، اس نے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ وہ ڈھاکہ میں گرفتاری سے بچتا رہا مگر بالآخر 28 دسمبر 71 کو اسے گرفتار کر کے ”نرائن گنج“ لایا گیا۔ جہاں سے اسٹیمر کے ذریعے ”کھلنا“ پہنچایا گیا۔ کھلنا میں ہزاروں قیدیوں کو بلا مبالغہ بھیڑ بکریوں کی طرح ریل گاڑی کے ایک ایک ڈبے میں ٹھونس دیا گیا۔
جہاں سانس لینا تک مشکل تھا۔ ریل گاڑی چلتے وقت اس کے دروازے اور کھڑکیاں، تختوں، کیلوں اور تالوں سے بند کر دیے گئے اور یوں پاکستانی قیدیوں کا سانس لینا مزید مشکل ہو گیا۔ نواب دین نے اسی حالت میں فرار ہونے کی دوسری کوشش کا سوچا۔ جب ریل گاڑی کھلنا سے انڈین صوبے بہار کے علاقے ”آسن سول“ پہنچی تو رات کے دو بج چکے تھے۔ نواب دین کو جیسے ہی حفاظت پر مامور ہندوستانی فوجی اونگھتے نظر آئے۔ اس نے کمانڈو ہوتے ہوئے اپنے پاس موجود قلیل چیزوں سے کسی طرح دروازے کا تالا کھول لیا۔ دروازے کے باہر گھپ اندھیرا تھا اور ٹرین تیزی سے سفر طے کر رہی تھی۔ ریلوے لائن کے اطراف میں روڑی کے نوکیلے پتھر کسی بھی شخص کو شدید زخمی کرنے کے لئے کافی تھے۔ پہلے خیال نے نواب دین کے رونگٹے کھڑے کر دیے کہ پیچھے پھر بھی زندگی موجود تھی مگر سامنے تو صرف موت تھی۔
نواب کو دوسری عالمی جنگ پر بنی ایک فلم کا منظر یاد آیا جب اسی طرح ایک مخصوص طریقے سے قیدی نے تیزی سے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگائی تھی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ فلم اصل حقیقت سے دور ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ کے کارپورل نواب دین نے خطرہ مول لیا اور اللہ کا نام لے کر چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی۔
فلم کے طریقے نے کام کیا یا نہیں۔ اللہ کی مدد ضرور نواب دین کے ساتھ تھی اور اسے صرف گھٹنے پر کچھ چوٹیں آئیں، جو کچھ ورزشوں اور مساج سے قابل برداشت تکلیف میں بدل گئی۔ آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو وہ جنگلات سے اٹے پہاڑی علاقے میں موجود تھا۔ جنگل میں رات جنگلی جانوروں کے ساتھ گزارنا ایک اور پرخطر معاملہ تھا۔ لیکن نواب دین بے خوف جنگل میں گھس گیا۔ اگلے کئی دن وہ ایک لمبا سفر کرتے جھاڑ کھنڈ، پٹنہ، بنارس، لکھنو سے ہوتا ہوا آگرہ کے تاج محل پر جا نکلا۔
پہلے نواب دین کا خیال تھا کہ لکھنو کے پاس سے نیپال میں داخل ہو جائے گا لیکن اس علاقے میں بے انتہا فوجی گشت پر موجود تھے۔ یوں آگرہ سے وہ پہلے دہلی اور وہاں سے امرتسر کے بعد لاہور کے نزدیک فیروز پور سے ملحق سرحد پر پہنچ گیا۔ سامنے پاکستان کی پاک سر زمین نظر آ رہی تھی مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا کیوں کہ ایک مقامی مسلمان کی مخبری کی وجہ سے وہ فیروز پور بارڈر پر پکڑا گیا۔ پھر ہندوستانی فوجیوں کی لاتیں تھیں اور نواب دین کا جسم۔ کئی تفتیشی مراکز سے ہوتا ہوا نواب دین انبالہ پہنچتا ہے۔ انبالہ پہنچ کر بھی نواب دین کو تسلی نہیں ہوتی اور ایک رات وہ یہاں سے بھی اپنے قید خانہ کا تالا کھول اور کئی حفاظتی جنگلے کاٹ کر بھاگ جاتا ہے۔ مگر پکڑا جاتا ہے۔ انبالہ سے اس مصیبت کو الہ آباد کے کیمپ نمبر 36 میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
زخموں سے چور ٹوٹے پھوٹے نواب دین نے الہ آباد میں دیکھا کہ ساتھی قیدیوں میں بلا کی مایوسی طاری تھی۔ سب خوف زدہ تھے۔ کیمپ میں بھارتی کیپٹن ورک سنگھ کا طوطی بولتا تھا جو بات بے بات بے عزتی کرنے کے علاوہ مار پیٹ اور قید تنہائی دینے میں خوشی محسوس کرتا تھا۔ لیکن یہاں نواب کو پہلی ہی نظر میں شوکت جیسا ایک ایسا دوست بھی مل گیا جس پر وہ بند آنکھوں سے اعتبار کر سکتا تھا۔
کیمپ کمانڈر میجر راؤ نے پہلی صبح ہی نواب دین کو اپنے سامنے پیش ہونے کا کہا۔ شوکت نے چند گھنٹے کی دوستی کا حق ایسے ادا کیا کہ کیمپ میں شوکت کی قیادت میں شور شرابا اور نعرہ بازی شروع ہو گئی کہ نواب دین کو واپس بھیجا جائے۔
اگست 72 کے پہلے ہفتے میں، پاکستانی اور ہندوستانی حکومتوں نے شملہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کشمیر اور دیگر علاقوں میں جنگ بندی اور مستقبل کے سرحدی معاملات طے کیے گئے۔ پاکستان میں اس وقت چونکہ کوئی آئین نہیں تھا اس لئے صدر بھٹو اور وزیر اعظم اندرا نے اس پر دستخط کیے ۔ بھٹو نے عقل مندی سے کام لیتے ہوئے جنگی قیدیوں کے معاملے پر بات کرنے کی بجائے، مغربی پاکستان کے جو علاقے ہندوستانی فوج کے قبضے میں چلے گئے تھے ان کی واپسی کے لئے ایک کامیاب معاہدہ کیا۔ یہ بات جنگی قیدیوں کے لئے ایک تکلیف دہ انکشاف تھا اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کی حکومت نے انہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے۔
ان حالات میں کمانڈو نواب دین سے مل کر شوکت کو ایک نئی راہ نظر آئی، اسے یہ بھی پتہ چلا کہ ہر جنگی قیدی کی منزل ایک ہی ہوتی ہے۔ ”دشمن کی قید سے آزادی“ ۔ یوں اس نے بھی ذہنی طور پر قید کو قبول کرنا چھوڑ دیا اور فرار کے منصوبے بنانا شروع کر دیے۔
یہ دونوں اب عام شام کیمپ کے باہر لگی خار دار تاروں کے ساتھ چلتے پھرتے پائے جاتے۔ زمین اور تاروں کی حالت کا جائزہ لیتے رہتے۔ انڈین فوج کے سنتری غصے سے پوچھتے کہ یہاں کیوں اس طرح گھوم رہے ہو تو دونوں ہنس کر جواب دیتے کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیمپ سے فرار ہونے کے لئے کون سی جگہ مناسب رہے گی۔ ہزاروں قیدیوں کو رکھنے کے لئے یہ کیمپ، کوئی مستقل جیل نہیں تھا۔ قیدیوں کو فرار سے روکنے کے لئے میدان کے گرد حفاظتی تاروں کی پہلی باڑ تھی۔
جس کے بعد کئی گز تک خالی جگہ تھی اور پھر ایک دوسری بلند خار دار تاروں کی حفاظتی باڑ تھی۔ رات کو ایک طاقت ور سرچ لائٹ ہر طرف گھومتی رہتی تھی۔ جبکہ زمین پر سنتری اسلحے کے ساتھ گشت کرتے رہتے تھے اور ان کو مدد دینے کے لئے اوپر مچانوں میں مزید فوجی دور تک دیکھتے رہتے تھے۔ جن کے پاس ایک منٹ میں ہزار بارہ سو راؤنڈ پھینکنے والی خود کار رائفلیں تھیں۔
نواب کے کمانڈو اور شوکت کے ٹیکنیکل دماغوں نے مل کر فرار کے کئی پلان بنائے۔ ان کا پہلا منصوبہ سردیوں میں شدید بارش کے دوران فرار ہونے کا تھا جب گارڈ سردی سے خود پریشان ہوتے تھے تو وہ قیدیوں سے فرار کی توقع کیسے رکھتے۔ اس منصوبے میں 15 قیدیوں نے مل کر فرار ہونے کی حامی بھری۔ آپریشن لیڈر نواب دین تھا۔ لیکن سب لوگوں کو جمع کر کے فائنل اشارہ شوکت نے دینا تھا۔ سردی میں شدید بارش کے دوران جس مقام پر مختلف قیدیوں نے پہنچنا تھا۔ ان میں سے اکثر مختلف وجوہات کی وجہ سے مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکے اور یوں فرار کا وہ اچھا موقع ضائع ہو گیا۔ ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں وہ زیادہ لوگوں کے ساتھ فرار کا منصوبہ نہیں بنائیں گے۔ دونوں نے اب چند روز بعد ، بقر عید یعنی عیدالاضحی کی رات اس منصوبے کے لئے منتخب کی اور اپنے علاوہ صرف دو کم عمر جونیئر ائرمین فرار ہونے کے پروگرام میں شامل رکھے۔ 16 جنوری 1973 کی رات تین بجے کا وقت منتخب ہوا، چار لوگوں میں شوکت اور نواب نے ایک ٹکڑی کا حصہ ہونا تھا اور دوسری ٹکڑی میں سینیئر ائر کرافٹس مین یعنی ایس اے سی بشیر اور یونس شامل تھے۔
پلان کے مطابق دونوں ٹکڑیوں نے دو مختلف مقامات سے ایک ساتھ خار دار تاریں کاٹ کر وہاں سے رینگتے نکلنا تھا۔ نواب دین کے پلان کے مطابق یہ لوگ پہلے لکھنو جا کر کسی سے مدد لیتے اور پھر کچھ دن بعد نیپال کی طرف چل پڑتے۔ ایک پلان یہ بھی تھا کہ بجائے پاکستان یا نیپال کی طرف جانے کے واپس بنگلہ دیش کی طرف جایا جائے کیونکہ یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا اور اس دوران کسی ساحلی علاقے سے بذریعہ کشتی پاکستان نکلا جائے۔
لیکن شوکت نے ایک اور خیال پیش کیا کہ بجائے لکھنو، بنگلہ دیش یا پاکستان جانے کے ان لوگوں کو پہلے ہندوؤں کے مذہبی شہر بنارس (اب وارانسی) پہنچنا چاہیے۔ جہاں کچھ دنوں تک چپ رہتے سادھو سنت کا روپ دھار کر مندروں میں بھوجن لیا جائے اور لوگوں سے ملنے والے دان یعنی مالی بھینٹ جمع کر کے، بعد میں کسی بڑے جلوس کے ذریعہ کسی اور شہر کا راستہ لیا جائے۔ آخر کار طے ہوا کہ سارے آپشن کھلے رکھے جائیں اور جس کو جو مناسب سمجھ آئے فیصلہ کرے۔
”ایسے حالات میں ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ یہ لوگ دہلی جا کر کسی طرح پاکستانی ہائی کمیشن میں داخل ہو جاتے یا اس کے کسی اہل کار سے رابطے کی کوشش کرتے جو (خود بھی ) انڈین انیٹلیجنس کی نظروں میں ہوتے۔ اسی طرح وہ کسی ایسے ملک کے سفارت خانے میں بھی جا سکتے تھے جو پاکستان کا دوست ملک ہوتا اور ان کو عارضی پناہ دینے کا رسک لے سکتا“ ۔
قدرت کو اس بار بھی کچھ الگ منظور تھا۔ ہڈیوں کے گودے کو جما دینے والی سرد رات میں تین بجے شوکت اور نواب دین، سرچ لائٹ سے بچتے خار دار تاروں کے پاس پہنچ گئے۔ ان کے پاس تھوڑا ہی وقت تھا کیونکہ زمین پر گارڈز کا گشت بھی ہو رہا تھا۔ جن کی مدد کے لئے بلندی پر واچ ٹاور میں بھی سنتری تعینات تھے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا بشیر اور یونس، کسی ان جانے خوف یا کسی اور وجہ سے دور کھڑے ان دونوں کو دیکھتے رہے۔ وہ مقام جس جگہ سے ان دونوں نے تاریں کاٹنا تھا، پہنچنے کی جرات نہ کر سکے۔
نواب دین اور شوکت کے پاس وقت کم بچا تھا۔ نواب دین نے مہارت سے تاریں کاٹیں اور رینگتے ہوئے باہر نکل ہی رہا تھا کہ گشت کرتے ایک سنتری نے بشیر اور یونس کو دیکھ لیا اور ساتھ ان کی آنکھوں کا تعاقب کرتے نواب دین کو بھی۔ ہالٹ کے ساتھ ہی پہلا فائر نواب دین پر کھلا اور دو گولیاں اس کی ران میں جا گھسیں۔ شوکت جو گارڈز اور نواب دین کے بیچ میں کہیں موجود تھا۔ اس کے پاس دو راستے تھے۔ واپس جا کر اپنی جان بچا لیتا یا فرار کی کوشش کرتا جس کے امکان اب کم ہی رہ گئے تھے۔ لیکن اس نے ایک تیسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ چلایا۔
”دوست بھاگو، تمہارا فرار ہونا ضروری ہے۔ میری جان اتنی اہم نہیں۔ میں اس گارڈ سے نبٹ لوں گا“ ۔
یہ کہہ کر وہ اس گارڈ کے اوپر جھپٹ پڑا جو نواب دین پر فائر کر چکا تھا۔ گارڈ اس اچانک حملے کے لئے تیار نہ تھا اور اس نے گتھم گتھا ہوتے شوکت پر فائر کھول دیا۔ عینی شاہدین نے دیکھا کہ بہتے خون کے ساتھ شوکت نے اس گارڈ پر بھوکے شیر کی طرح حملہ کر کے اس کی بندوق چھین کر اس کی سنگین، اسی گارڈ کے جسم میں گھونپ دی۔ نواب دین گشتی سنتری سے تو بچ گیا لیکن ٹاور پر موجود گارڈ الرٹ ہو کر اس پر مزید فائر کھول چکے تھے۔
اگر بشیر اور یونس وقت پر پہنچ جاتے یا گارڈ کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتے تو حالات کچھ بدل سکتے تھے۔ زخمی نواب دین جس کے جسم سے بہتا گرم لہو سردی میں گرمی پیدا کر رہا تھا۔ نواب دین گولیوں کی برسات کے باوجود کسی طرح کیمپ کے گرد دوسری باڑ کاٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ گشت پر موجود دوسرے سنتری نے پہلے سنتری سے لڑتے زخمی شوکت پر رائفل کے بٹ اور اس کی سنگین مارنا شروع کر دی۔ لیکن شوکت نے سنتری کا گلا اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اپنے جسم سے روح پرواز نہیں کر گئی۔ یہ اور بات کہ اس سے کہیں پہلے وہ سنتری بھی جہنم واصل ہو چکا تھا۔
نواب دین نے لنگڑاتے سڑک پر بھاگنا شروع کیا۔ سڑک جس پر باہر موجود گارڈز خوں خوار کتوں کے ساتھ پہلے ہی گشت کر رہے تھے۔ اور روشنی سے لیس پٹرولنگ گاڑیاں اس کے علاوہ تھیں۔ کیمپ کے ٹاوروں پر تعینات سنتری آٹومیٹک اسلحے سے اندھا دھند ہر طرف گولیاں چلا رہے تھے۔ سردیوں کی سناٹے دار رات میں، کیمپ کے سائرن کے ہوٹر کی بھیانک آواز اس کے علاوہ تھی۔ نواب دین بھاگتا رہا کیونکہ اب ہر طرف موت ہی اس کا بھی مقدر ہونا تھی۔
وہ اب ایک ایسے سفر پر تھا جو خود کشی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ٹوٹی ٹانگ کی ہڈی کے ساتھ نواب دین کا بغیر کسی کی مدد کے فرار ہونا ناممکن تھا اور یہی ہوا کہ بمشکل ایک دو فرلانگ فاصلے کے بعد ہی کتے اس کے بہتے خون کی بو سونگھتے وہاں پہنچ گئے۔ اسے کیمپ کے باہر اضافی بٹالین کے فوجیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔
نواب دین نے کچھ لمحے سوچا اور نعرہ تکبیر دھاڑتے ہوئے فوجیوں پر جھپٹ پڑا۔ نواب دین کے اچانک حملے سے سامنے آئے سپاہی گر گئے۔ جبکہ دو سورما رائفل پھینک کر بھاگ نکلے۔ نواب دین گری ہوئی ایک رائفل اٹھانے کے لئے جھکا تو اسی وقت ایک بھارتی فوجی نے پیچھے سے سنگین مارکر اسے مزید زخمی کر دیا۔ چوٹ اور زخم کاری تھے اور یوں وہ سنبھل نہ سکا۔ بیسیوں سورما فرار ہوتے ایک نہتے اور زخمی قیدی پر ٹوٹ پڑے اور رائفل کے بٹوں، گھونسوں اور ٹھڈوں سے اس پر اپنا غصہ اتارنے لگے۔
نیم جاں نواب دین کو بھارتی سپاہی بے رحمی سے گھسیٹتے ہوئے خار دار تاروں کے پاس اسی جگہ لے آئے جہاں شوکت کی لاش پڑی تھی۔ فوجیوں کی باتوں سے نواب دین نے اندازہ لگایا کہ وہ اسے بھی وہیں گولی ماریں گے تاکہ ریڈ کراس والوں کو یہ تاثر دیا جا سکے یہ دونوں بھاگتے ہوئے مارے گئے۔ نواب دین کو نیم بیہوشی میں گولیوں کو رائفلوں کے چیمبر میں ڈال کر لوڈ اور لاک کرنے کی آوازیں آئیں۔ نواب دین کو اب صرف ایک لفظ ”فائر“ کا انتظار تھا اور وہ اپنے شہید دوست سے جا ملتا۔
وہ جس نے کچھ دیر پہلے ہی اس کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دے دی تھی۔ نواب دین نے کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور مرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ اس لمحے زندگی میں پہلی بار وہ خود کو شہادت کے نشے میں چور پا رہا تھا۔ جس کو نہ کوئی بیان کر سکتا ہے اور نہ محسوس۔ نواب مکمل طور پر مطمئن اور خوش تھا کہ اس مختصر زندگی میں اس سے اپنے پاکستان کے لئے جو کچھ بن سکا اس نے کیا تھا۔
قدرت کو مگر نواب دین کی کچھ اور سانسیں منظور تھیں کیوں کہ عین وقت پر فائرنگ کی آوازیں سن کر بریگیڈ کمانڈر، مان سنگھ ادھر آ نکلا۔ اس نے فوجیوں کو حکم دیا کہ اس مسلے کو گولی سے ختم کرنے کی بجائے اذیتیں دے کر ہلاک کرو۔
ظلم اور بے حسی کی انتہا تھی کیوں کہ صبح تین بجے لگنے والی گولیاں اور شدید زخموں کے باوجود نواب دین کا جسم پانچ گھنٹوں تک وہیں پڑا رہا اور ہر آنے والے بھارتی فوجی کی اذیتیں سہتا رہا۔ یہ لوگ کبھی اس کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹتے، کبھی بال نوچتے یا سنگین چبھو دیتے۔ شدید سردی کے اس عالم میں اسے لوہے کی راڈ سے بھی ضربیں لگائی گئیں۔ نواب دین کی بد قسمتی تھی کہ وہ پاکستانی کمانڈو یعنی سخت جاں تھا یوں اس عالم میں پانچ گھنٹے تک اس نے سارے ظلم برداشت کیے ۔
اس کے بعد خوش قسمتی نے اس کے دروازے پر دستک دی یعنی وہ بے ہوش ہو گیا۔ بیہوشی کے عالم میں اسے پتہ ہی نہ چل سکا کہ کب اس کے گھٹنے کی چپنیاں اور ٹخنوں کی ہڈیاں توڑ دی گئیں تا کہ وہ دیدہ عبرت نگاہ بن جائے اور دوبارہ بھاگنے کے قابل بھی نہ رہے۔ اس عالم میں بھی انڈین فوجی اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ اس کی لاش کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے۔ اسپتال لے جاتے وقت نواب دین کو محسوس بھی نہیں ہو سکا کہ راستے میں اس کے ہاتھ اور پاؤں کے تمام ناخن بھی نوچ لئے گئے ہیں۔
کیمپ 36 کے تمام قیدی جاگ چکے تھے شوکت کو مرتے تو شاید صرف یونس اور بشیر نے دیکھا تھا لیکن نواب دین پر جو کچھ گزری اس کے چشم دید گواہ سینکڑوں تھے۔ اور جس طرح نواب دین کا لاشہ اٹھایا گیا تھا سب یہی سمجھ رہے تھے کہ دونوں قیدی شہید ہو چکے ہیں۔
پاک فضائیہ کو اس دن یہی پیغام بھیجا گیا کہ کارپورل شوکت اور نواب دین فرار کی کوشش میں مارے جا چکے ہیں۔ لیکن کئی دن بعد جب نواب دین کو ہوش آیا اور وہ سہارے سے کھڑا ہونے کے قابل ہوا تو پاک فضائیہ کے ائر چیف ائر مارشل ظفر چوہدری کو نیا پیغام ملا کہ الہ آباد کا چوہدری ابھی مرا نہیں، زندہ ہے۔ اس متضاد اطلاع نے پاک فضائیہ کے اہل کاروں کو نواب دین کے معاملے پر مزید تفصیلات حاصل کرنے پر مجبور کیا تو پتہ چلا کہ نواب دین نے قید سے فرار ہونے کی کم از کم چار کامیاب کوششیں کی تھیں یہ اور بات کہ وہ پاکستان پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور اب تقریباً مفلوج اور معذور کر دیا گیا تھا۔
شوکت کے کارنامے کا گواہ صرف نواب دین خود تھا کیونکہ بشیر اور یونس مناسب وقت دیکھ کر کیمپ میں اندر واپس چلے گئے تھے اور کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ یہ ایک عقل مند حرکت تھی کیونکہ اس طرح انہوں نے خود کو ہندوستانی فوجیوں کے ظلم سے بچا لیا۔ نواب دین کی جرات کی کہانیاں جان کر حکومت پاکستان نے پاک فضائیہ کی سفارش پر کارپورل ٹیکنیشن نواب دین چوہدری کو شجاعت، بہادری اور فرار کی متعدد کوششوں پر ”تمغہ جرات“ دینے کا اعلان کیا۔
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی فوجی کو جب کہ وہ دشمن کی قید میں ہو، جنگی تمغہ دینے کا اعلان کیا جائے کیوں کہ اس کے بعد اس پر ظلم کے مزید پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ لیکن کمانڈو نواب دین ایک خاص شخص تھا اور اب اس معذور شخص کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا، سوا اس کی جان کے۔
شملہ معاہدے کے بعد (جس میں جنگی قیدیوں کے لئے کچھ نہیں تھا) ، ہندوستان پر ایک زبردست اندرونی اور بیرونی دباؤ پڑا کہ وہ اتنے قیدیوں کا کیا کرے گا اور کیوں ہندوستانی قوم کا پیسہ ان پر ضائع کیا جائے۔ بنگلہ دیشی حکومت انتقام کی ایک الگ آگ میں جل رہی تھی اور آئے دن کسی نہ کسی پاکستانی فوجی یا قیدی پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر مقدمہ چلانے کے لئے مطالبہ حوالگی کر دیتی تھی۔
یوں ہندوستان حکومت کے اصرار پر ایک نیا معاہدہ 28 اگست 73 کو تین ملکوں (بشمول بنگلہ دیش) کے وزیروں کے درمیان طے پایا جسے ”معاہدہ دہلی“ کہا جاتا ہے اور جس نے تینوں ملکوں میں موجود قیدیوں کی واپسی کا راستہ کھولا۔ پاکستان سے لگ بھگ ایک لاکھ بیس ہزار بنگالی جو کسی نہ کسی طرح سرکاری نوکری سے وابستہ تھے، بغاوت یا کسی جنگی جرم میں گرفتار تھے انہیں پاکستان سے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ اسی طرح ایک لاکھ دس ہزار عام پاکستانی جو بنگلہ دیش یا ہندوستان میں موجود تھے۔ وہ پاکستان واپس پہنچ گئے۔
ستمبر 1973 سے پاکستانی افواج کے جنگی قیدیوں کی واپسی دہلی معاہدہ کے تحت شروع ہوئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دہلی معاہدے کے تحت محض ساڑھے آٹھ ہزار جنگی قیدی پاکستان واپس آئے۔ شاید فوجیوں کی یہی وہ اصل تعداد تھی جس نے ہتھیار ڈالے تھے۔
پاک فضائیہ کے آٹھ سو فوجی بھی پاکستان واپس آ گئے۔ کچھ دنوں بعد نواب دین کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں اسے ”تمغہ جرات“ دیا گیا۔ لیکن یہاں کہانی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ نواب دین نے پہلی بار پاکستانیوں (حکام بالا) کو اپنے کارنامے کے اصل ہیرو، ”شوکت ہاشمی“ کی شجاعت، بہادری اور جان پر کھیل کر نواب دین کی جان بچانے کی پوری روداد سنائی۔
نواب دین کی کہانی کی تصدیق کے بعد پاک فضائیہ نے ایک بار پھر حکومت پاکستان کو اپنے بہادر بیٹے شوکت ہاشمی کے لئے بھی جنگی اعزاز کی سفارش کی اور یوں کارپورل ٹیکنیشن سید شوکت ہاشمی کو بھی 4 مئی 1974 کو بعد از مرگ تمغہ جرات دیا گیا۔
جنگ میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ اپنے وطن کی حفاظت، قید میں دشمن سے مقابلہ اور سرحدوں پر ڈٹ جانے والا سپاہی سب قابل یکساں عزت اور احترام کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ جو گولیوں کی بو چھاڑ سے بچ جاتے ہیں اور دشمن کی قید سے رہائی پانے کے لئے سرنگ کھود کر یا کسی اور طرح سے فرار ہو جاتے ہیں۔ ایسے غازی بھی اتنے ہی قابل ستائش ہوتے ہیں جتنے اپنی جان کا نذرانہ دینے والے شہید لائق احترام ہوتے ہیں۔
سپاہی کا حالت جنگ میں گزارا ایک سیکنڈ، امن کے سینکڑوں دنوں پر بھاری ہوتا ہے۔ اور وہ لوگ جو موت کی آگ کے دریا میں نہاتے ہیں کیا کوئی ان کے عزم اور وطن سے محبت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
کارپورل سید شوکت ہاشمی شہید کی آخری آرام گاہ الہ آباد کے اسی کیمپ میں ایک جگہ بنائی گئی تھی۔ مقامی مسلمانوں نے ہی اس کے کفن دفن کا انتظام کیا اور پورے اسلامی طریقے اور اعزاز سے امانتاً دفن کیا۔ یہ اور بات کہ شہید کے جسد خاکی کو اس کے خاندان کے لوگوں نے واپس لانا مناسب نہیں سمجھا کہ شہید اسی مٹی کی امانت ہوتے ہیں جو ان کے خون کو خود میں جذب کر لے۔ پاکستان کے ایسے کئی نامور اور گمنام سپوت ہیں جو دشمن کی سرزمین پر دفن ہوئے اور اب نہ ان کی قبر کا کسی کو علم ہے اور نہ کوئی ان کے لئے وہاں فاتحہ پڑھتا ہے۔
ہلواڑہ میں اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا کے مزار میں فلائٹ لیفٹیننٹ ملک غلام مرتضی کی قبر کا تو مجھے علم ہے، لیکن فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسین، اسکواڈرن لیڈر علا الدین، فلائنگ افسر افضل خان اور 71 میں ہی جام نگر پر حملہ کرنے والے 6 پائلٹ اور نیوی گیٹروں کو شاید ہی کوئی قبر ملی ہو۔ اسکواڈرن لیڈر شبیر عالم صدیقی اور اسکواڈرن لیڈر اسلم قریشی کے گھر والوں کو چالیس سال بعد پتہ چلا کہ دونوں کی باقیات جام نگر کے ایک مسلمان کسان نے اپنے کھیت کے کونے میں دفنا دی تھیں۔ 65 اور 71 کی دونوں جنگوں میں پاکستانی فضائیہ کے لئے دو ستارہ جرات حاصل کرنے والے واحد پائلٹ، ونگ کمانڈر ”مارون لیزلے مڈل کوٹ“ کو سرے سے زمین ہی نہیں ملی کیونکہ اس نے سمندر میں ایسی جگہ اپنا پیراشوٹ کھولا جہاں نیچے شارک مچھلیاں منہ کھولے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
”دشمن کی قید میں ہمیں جب بھی موقع ملا۔ ہم ضرور فرار ہوں گے۔ کیوں کہ دشمن سے فرار ہمارا بنیادی حق ہے“ ۔






انوکھے شہید: کلرک اور کمانڈو۔ آخری حصہhttps://www.humsub.com.pk/532889/syed-razi-uddin-ahmad-11/
انوکھے شہید : کلرک اور کمانڈو۔ 1https://www.humsub.com.pk/532760/syed-razi-uddin-ahmad-10/