ہائی پروفائل خودکشیاں: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

ایک سی ایس پی افسر بلال پاشا کی خودکشی کی باز گشت ہے۔ کئی دن تک یہ خبر سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہی۔ بلال کا تعلق خانیوال کے قصبے عبدالحکیم کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔ والد احمد یار کے پانچ بیٹوں میں یہ سب سے چھوٹا تھا، جسے اس کے چچا بشیر احمد نے اولاد نہ ہونے کے سبب گود لیا۔ 2019 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ اس وقت مرکز نگاہ بنا جب پہلی بار بلال پاشا نے اپنی جد و جہد کی کہانی منہ بولے والد بشیر احمد کے ساتھ اینٹوں کی دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر سنائی جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں بلال کا کہنا تھا کہ، ’یہ میرے قابل فخر والد بشیر احمد ہیں جنھوں نے ساری زندگی مزدوری کی، الحمدللہ مجھے ایک مزدور کا بیٹا ہونے پر فخر ہے۔ میرے خاندان میں صرف دو تین لوگوں نے میٹرک کیا، اس کے بعد کوئی بھی انٹر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ ویڈیو کے اختتام پر بلال نے یہ بھی کہا کہ‘ لاہور پہنچنے کے بعد ایسے طلبا کے لئے، اپنے سی ایس ایس ٹاپرز دوستوں کے ساتھ مل کر لیکچرز کا انتظام کروں گا جو اچھی اکیڈمیوں میں داخلے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
بلال نے یوٹیوب ویڈیوز کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر طلبا کو سی ایس ایس امتحان کے متعلق رہنمائی دی۔ وہ ’لرن ود بلال پاشا‘ نامی یوٹیوب چینل بھی چلاتا تھا، جہاں اس نے آخری ویڈیو موت سے 9 روز قبل شیئر کی تھی۔ آخری ویڈیو سی ایس ایس کے اسکریننگ ٹیسٹ یعنی ایم سی کیوز بیسڈ پریلمنری ٹیسٹ (ایم پی ٹی) کے حوالے سے رہنمائی پر مبنی تھی۔
بلال پاشا نے مشکل حالات دیکھے، گزر اوقات کے لئے معمولی نوعیت کی ملازمتیں کیں۔ 17 ویں گریڈ کی مختلف سرکاری نوکریاں کیں، آخر کار کامیابی نے قدم چومے اور سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ میں بطور سول سرونٹ کیرئیر کا آغاز کیا۔ اس کامیابی پر کہا گیا کہ صرف بڑے اور با اثر خاندانوں کے چشم و چراغ ہی سی ایس ای نہیں کر سکتے، پسماندہ علاقوں کے غریب بچے بھی سول سرونٹ بن سکتے ہیں۔ نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ والی گاڑی ملی تو اچھے گھرانے میں شادی بھی ہو گئی۔ جس سے کچھ عرصہ قبل علیحدگی ہوئی، وہ خاتون راولپنڈی میں تعینات ہے۔
بلال پاشا کو بنوں سے راولپنڈی تعینات کیا گیا مگر اس نے چارج چھوڑ کر یہاں آنے کے بجائے دنیا ہی چھوڑ دی۔ بلال پاشا کے والد کے بقول مرنے سے ایک ہفتہ پہلے اس نے ٹیلی فون پر کہا، بابا! دل چاہتا ہے، نوکری چھوڑ دوں یا چھٹی لے کر گھر آؤں تاکہ جی بھر کر سو سکوں۔ سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر اسے ہیرو بنایا گیا کہ ”ہم جیسوں کے دن آتے ہیں تو موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے“ ۔ خودکشی پر یہ جملہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے بلال نے کوئی تابندہ روایت قائم کی اور قابل تعریف کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ پہلے یہ سنا کرتے تھے کہ غربت سے تنگ آدمی نے موت کو گلے لگا لیا۔ گزشتہ چند برسوں سے اعلیٰ افسروں کی بڑی تعداد کی خودکشیوں واقعات سامنے آئے ہیں۔
»جون 2016 ءمیں ایس ایس پی جعفر آباد جہانزیب خان کاکڑ۔
»مارچ 2018 ء میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل ٹیپو۔
»جنوری 2020 ء میں ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ پرنسپل پولیس ٹریننگ اسکول۔
»دسمبر 2020 ءمیں ایک سینئر بیوروکریٹ خرم ہمایوں۔
»جنوری 2022 ء میں ایڈیشنل کمشنر ریونیو عمران رضا عباسی۔
» نومبر 2021 ء میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید فرمان باچا نے خودکشیاں کیں۔
پے درپے رونما ہوتے ان افسوسناک واقعات پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ ان عوامل کو سامنے لایا جاتا جو خود کشی سبب بنے تاکہ والدین اپنے اولاد کے اس کرب سے گزرنے کی بجائے اس کا علاج کروا کر معاشرے کا فعال رکن بنا سکتے۔ مگر ہمارے ہاں اس کا رواج نہیں۔ بلال کی خودکشی پر مختلف تجزیے اور، تبصرے ہوئے لیکن اس ضمن میں کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جس سے واقعہ کی اصل حقیقت واضح ہوتی۔
بظاہر یہ نظر آتا ہے شادی کے مرحلے میں اس سے بھی وہی غلطی ہوئی جو لوئر یا مڈل کلاس کے لوگوں سے ہوتی ہے، جس کی قیمت ان شکلوں میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ 1۔ سکون کا خاتمہ 2۔ ازدواجی زندگی کی شکست و ریخت۔ 3۔ خون کے رشتوں سے قطع تعلق۔ 4۔ کیرئیر کی خرابی۔ 5۔ اپنے جسم و جان کا تعلق اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کرنا وغیرہ۔
اسی لیے اسلام میں شادی ”کفو“ میں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی جہاں مالی ہم آہنگی اور سماجی برابری ہو۔ دونوں گھرانوں کی مالی حیثیت میں فرق ہو تو رہن سہن ’سوشل سرکل‘ تعلیمی معیار ’نفسیات، سب کچھ مختلف ہوتے ہیں۔ یہ فرق اوپر کی طرف ہویا نیچے کی جانب‘ دونوں مہلک ہوتے ہیں! بلال نے شاید بڑے گھرانے میں شادی کر لی۔ جس کا نتیجہ اکثریہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سماجی فرق کے باعث لڑکی ایڈجسٹ نہیں کر پاتی۔ عموماً لڑکے اور اس کے والدین کے ساتھ لڑکی اور اس کے خاندان کا رویہ ہتک آمیز ہوتا ہے جو لڑکے کی زندگی میں زہر گھولتا اور اسے خود کشی پر مجبور کر دیتا ہے۔
جہیز کی لعنت بھی غیر متوازن شادیوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے! بیوی لائے ہوئے پر اپنا حق جتاتی ہے بلکہ کئی تو ایسی ہوتی ہیں کہ اگر شوہر کے خاندان کا کوئی فرد آئے تو اسے جہیز کے صوفوں تک پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ گویا:
خود جلائی آگ اپنے سر پہ ہم نے کیوں کرمؔ
دوسروں کو دیکھتے انجام اپنا جانتے۔
دوسروں کو دیکھنے اور ان کی زندگی سے سبق نہ سیکھنے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو بلال کی خودکشی کی صورت میں سامنے آیا۔ خودکشی کا اصل محرک بے توکلی ہے جو مایوسی کو جنم دیتی ہے اور دین کے مطابق مایوسی کفر ہے، چاہے وہ عام خاندان سے تعلق رکھنے والا کرے یا کسی عالم دین کا بیٹا۔
انسان کو زندگی ایک بار ملتی ہے، لیکن حالات انسان کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کر دیتے ہیں کہ وہ دنیا سے راہ فرار اختیار کر کے اپنے ہاتھوں اپنی موت کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب نفسیاتی ماہرین کو ضرور سوچنا چاہیے، کہ ایک شخص نے غربت میں آنکھ کھولی اپنی محنت اور لگن سے اعلیٰ مقام تک پہنچا لیکن خود سے انصاف نہیں کر پایا۔ بلال اور عاصم کے دو کیس ہمارے سامنے ہیں اگر ان پر غور و فکر کیا جائے تو ماہرین نفسیات نسل نو کو یاسیت سے نکال سکتے ہیں۔ خودکشی کا فیصلہ انسان فی الفور نہیں کرتا بلکہ اس میں کافی وقت لگتا ہے اپنی جان گنوانا کوئی آسان کام نہیں ہو تا۔
خود کشی کا جواز گھڑنے والے نے یہ تو سوچ لیتے کہ ہم مسلمان ہیں اور حضور اکرم ﷺ نے ایسی موت کو حرام قرار دیا ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی خود کشی جس کے پاس دنیا کی ہر نعمت موجود ہو، ناشکری کی انتہا ہے۔ وہ تمام لوگ کیا کریں جن کی تنخواہیں لاکھوں میں نہیں۔ جو بے روزگار یا بیمار ہیں کیا وہ سب بھی خود کشیاں کر لیں۔ خدارا ایسے لوگوں کو آئیڈیل نہ بنائیں۔ اس سے مزید خودکشیوں کے راستے کھل سکتے ہیں۔ زندگی میں جدوجہد کریں، اپنے لئے اور ان کے لئے جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ اپنی دنیا کو اپنی ہمت اور جرات سے اچھا بنائیں۔ خود کشی بہادر نہیں بزدل کرتے ہیں۔ حدیث نبوی کے مطابق انہیں یہ موت بار بار دیکھنی پڑے گی۔
اللہ کا فرمان ہے کہ ”میں کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔“ تو پھر رب کی رحمت سے مایوسی کیوں؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم جتنا اسلامی تعلیمات اور فطرت سے دور ہو ریے ہیں۔ مصائب اور آلام ہمیں گھیر رہے ہیں۔
بے شک دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں پوشیدہ ہے۔ جتنا ہمارا رب پر ایمان مضبوط ہو گا، دنیاوی پریشانیوں کا مقابلہ احسن انداز میں کر پائیں گے۔

