پاکستان میں شہری منصوبہ بندی کے ادارے غیر فعال کیوں ہیں؟


جنرل ایوب نے 1960 میں پہلی بار میونسپل ایڈمنسٹریشن آرڈیننس متعارف کروایا۔ بیورو کریسی لوکل گورنمنٹ کو کنٹرول کرتی تھیں۔ پھر 1979 میں دوسرا لوکل آرڈیننس منظور ہوا۔ جو مارشل لاء کی گود میں بیٹھ کر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی غیر موجودگی میں 2000 تک چلا۔ دونوں فوجی امراء نے لوکل حکومتوں کو بنانے میں بڑی دلچسپی دکھائی لیکن ان کو قانونی طور پر مستحکم کرنا ان کا مطمح نظر نہیں تھا۔ وہ دوسرے فوائد کے حصول کے لئے آسان راستے کے طور پر بنائی گئیں نہ کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے۔ اختیارات کی منتقلی نچلی سطح تک کرنا کبھی بھی نیت نہیں رہی۔ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں 2001 میں مختلف انتظامی و قانونی اختیارات کے ساتھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس منظور ہوا۔ اور اسی کے نتیجے لوکل گورنمنٹ ایکٹ بلوچستان میں 2010 جب کہ باقی صوبوں سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں 2013 میں منظور ہوئے۔

مقامی سطح پر ’ڈیلیگیشن آف پاورز‘ کے پیچھے کیا وجوہات اور عوامل تھے۔ وہ کتنی کارآمد رہیں؟ کمی، کوتاہیاں کیا تھیں؟ ہم اس میں نہیں جاتے۔ جو بات قابل ذکر اور توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں وفاق کے ملا کر کل ایک سو ستر اضلاع ہیں اور 624 ’اربن ایریاز‘ ہیں۔ لیکن ابھی تک ہمارے شہری علاقے اس بات کی منظر کشی نہیں کر پاتے کہ ان میں میونسپل کارپوریشنز، میونسپل ایڈمنسٹریشنز، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، ہاؤسنگ، سولڈ ویسٹ، پانی اور نکاسی کے ادارے کم یا زیادہ کسی نہ کسی صورت موجود ہیں۔ ہماری عمومی طور پر بے ہنگم، بے ربط، ابلتی شہری آبادیاں بذات خود اس بات کی دلیل ہیں کہ ادارے فعال اور منظم نہیں۔ اور ان دفاتر میں بدنیتی، بے ایمانی، پروفیشنلزم جیسی اخلاقی اقدار کے فقدان کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچوں میں درج ذیل تکنیکی پہلووں پر غور کرنے کی ضرورت ہے :

ریسرچ کا کوئی ڈیپارٹمنٹ نہیں : ہماری میونسپل کارپوریشنز اور ترقیاتی اداروں میں کئی طرح کے ذیلی ڈائریکٹوریٹ اور شاخیں ہیں جیسے کہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک، کمرشلائزیشن، ہاؤسنگ اسکیمز، لیگل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کمیونیکیشن وغیرہ وغیرہ۔ لیکن شہر کس ڈھب بڑھ رہے ہیں؟ پوری دنیا میں ہمارے جیسے مسائل سے ملتے جلتے ملک کس طرح ان سے نبرد آزما ہیں؟ ترقی یافتہ دنیا سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ نئی تحقیقات اور ٹیکنالوجی کو کیسے بروئے کار لایا جا رہا ہے؟ مقامی شہری مسائل کو حل کرنے کے لئے کون سے ’ٹولز اور ایپلیکیشنز‘ بن چکے ہیں؟ مستقبل کے کیا عنوانات ہیں؟ بین الاقوامی کون سے فورمز ہیں جن کے ساتھ روابط قائم ہو سکتے ہیں؟ اس پر بات کرنے، لکھنے، اور کام کرنے کے لئے کوئی ’ریسرچ ونگ‘ اور محققین ان اداروں کا حصہ نہیں۔

افسران ریفریشر کورسز نہیں کرتے : اربن اور ریجنل پلاننگ، ٹاؤن پلاننگ، ماحولیات یا اور جس بھی متعلقہ ڈگری میں چار سالہ گریجویشن ڈگری کرنے کے بعد سترہویں گریڈ پر جو بھرتیاں ہوتی ہیں۔ ان میں سے دس پندرہ فی صد ہی آگے مزید پڑھتے ہیں۔ باقی کنویں کے مینڈک کی طرح سرکاری نوکری میں ریٹائرڈ بھی اسی بنیادی ڈگری کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں سالانہ ’پروفیشنل کورسز‘ یا قومی یا بین الاقوامی ’ایکسپوزر‘ دورے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ علمی اور عملی دونوں لحاظ سے علم ’اپڈیٹ‘ نہیں ہو پاتا۔ تجربہ ضرور بڑھتا ہے لیکن ڈگری اور مہارتیں ہر سال گہنا رہی ہوتی ہیں۔ ذاتی یا دفتری سطح پر کوئی اس ’انویسٹمنٹ‘ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

فائلوں کی دنیا: سرکار کی سلطنت فائلوں کے ڈھیر کی دنیا ہے جس میں ’فائل موومنٹ‘ اور ’ڈاک اطلاع‘ نائب قاصد، کلرک، سینیئر، جونیئر اسٹاف سے گزرتے ہفتہ نہیں تو دنوں میں متعلقہ عملے تک پہنچتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام یا ہے ہی نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ سپر کمپیوٹرز، وائی فائی انٹرنیٹ، ڈیجیٹل لائبریری، نقشوں کی ڈائریکٹری، دفتری استعمال کو مشینیں عملی طور نہ ایکٹو ہیں نہ سب کے لئے موجود۔ کیونکہ ’ایفیشنسی اور ٹرانسپرنسی‘ یہ وہ ہتھیار ہیں جس سے ہمارے ادارے لیس ہونا ہی نہیں چاہتے۔

فیلڈ ورک کو کرنے اور جانچنے کے لئے جدید ٹولز اور ایپلیکیشنز کا عدم استعمال: ابھی تک ہمارے اداروں کے بلڈنگ انسپیکٹرز، سروے ٹیم، اور مانیٹرنگ دورے عموماً کسی بھی ’ٹینجیبل پرفارما‘ اور موبائل ٹولز ’اور تصدیق کے بغیر ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو آدھا‘ ڈیسک ورک ’‘ سافٹ ویئرز ’کی بدولت دفتر میں ہی ہو سکتا ہے۔ وہ بھی نہیں ہو پاتا کیونکہ لیپ ٹاپ، موبائلز، جی پی ایس وغیرہ اسٹاف کو دستیاب نہیں۔ ‘ اسٹینڈرڈ ’پریکٹس اور پرفارما کی کمی ہے۔ ایسا ہر قدم سیٹ پر موجود افسر کی اہلیت اور ہمت کے مرہون منت ہے۔

نقشہ جات پر منصوبہ بندی: روٹ پلان بنانا ہو یا گرائیوں کے لئے وزٹ کرنا ہو، قانونی، غیر قانونی عمارتوں اور رہائشی کالونیوں کی رپورٹ دیکھنی ہو، کتنے ’انڈر پراسس‘ کیس ہیں؟ نئی آباد کاریوں کا پہلی ڈویلپمنٹ سے کتنا فاصلہ ہے اور اصل زمینی صورت حال کیا ہے۔ یہ سب زبانی کلامی ہوتا ہے۔ نقشوں خاص طور پر ڈیجیٹل نقشوں کا اس مد میں استعمال ایک ’انہونی چیز‘ ہے۔

ڈنگ ٹپاؤ پروگرام: اداروں میں پائیدار حل تلاش کرنے کی طرف کوشش بہت کم ہے۔ جس میں مطمح نظر ڈیپوٹیشن کا عرصہ پورا کرنا، ترقیاں حاصل کرنا، عارضی واہ واہ، بلے بلے وصول کرنا جیسی وجوہات سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ حقدار کی حق تلفی، بروقت ترقی نہ دینا، اے۔ سی۔ آر کی متعصب پڑتال، افسران کی ڈویلپرز اور مارکیٹ سے براہ راست تعلقات بھی عملے اور افسران کے حوصلے پست کرتے ہیں۔

بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے لیکن یہ چیدہ چیدہ کام بھی ہمارے اداروں میں ہو جائیں تو شاید ہمارے شہر بہتر نظر آئیں۔

Facebook Comments HS