ہنری کسنجر: امریکن ڈپلومیسی کا بھگوان


 پروفیسر ہنری کسنجر ایک پروفیسر تھے، ہارورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور پھر وہاں پر استاد رہے۔ سو برس کی ایک شاندار زندگی گزارنے کے بعد حالیہ دنوں میں فوت ہوئے۔ امریکی تاریخ بڑے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ لوگ علم و دانش، تجارت، سفارت ہر شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے گزشتہ ایک صدی سے امریکہ دنیا کا سپر پاور ہے۔ اور اس ملک کی طاقت کا راز یہ ہے کہ اس کے کامیاب لوگوں کا تجربہ اور کام مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی تسلسل نے امریکہ کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں طاقتور بنایا ہے۔ امریکہ کو طاقتور بنانے میں اگر کسی ایک سب سے بڑی شخصیت کا نام لیا جائے تو بلا مبالغہ وہ ہنری کسنجر تھے۔

ہینز الفریڈ کسنجر 1923 میں جرمنی میں پیدا ہوئے، وہ اور ان کا خاندان 1938 میں نازی جرمنی سے فرار ہو کر نیویارک شہر میں آباد ہوا، جہاں 15 سالہ ہینز، ہنری بن گیا۔ کسنجر نے ہائی اسکول مکمل کیا اور امریکی فوج میں داخل ہونے اور دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں خدمات انجام دینے سے پہلے پارٹ ٹائم نیو یارک کے سٹی کالج میں تعلیم حاصل کی۔

کسنجر نے اپنی انڈر گریجویٹ ڈگری ہارورڈ کالج سے مکمل کی، ماسٹر اور پی ایچ ڈی بھی ہارورڈ یونیورسٹی سے کرنے کے بعد وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور زندگی کا ایک طویل عرصہ تدریس، تحقیق اور تخلیق کے ساتھ ساتھ سفارت و مشاورت میں گزار دی۔ ان کی مشوروں اور سفارت کاری نے امریکہ کو ہمیشہ ثابت قدم رکھا۔ وہ دہائیوں تک امریکی کے تمام صدور کے مشیر رہے، اور ان کو ہر دور میں سفارت کاری کے لیے ماہر ترین کے طور پر دیکھا گیا۔

انہیں دنیا ایک ”حقیقت پسند“ خارجہ پالیسی ساز کے طور پر یاد کرتی ہے۔ لاطینی امریکہ اور دیگر جگہوں پر امریکی مداخلتوں اور کمیونسٹ مخالف تحریکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو اس میں ہنری کسنجر کے سوا کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ چین کے ساتھ امریکی تعلقات، سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ اور ویتنام کے جنگ کا خاتمہ ان سب معاملات میں وہی پیش پیش رہے اور کامیاب بھی ہوئے۔ ویتنام جنگ کو ختم کرنے کے لیے ان کی کوششوں کی وجہ سے انہیں 1973 میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔

وہ یہ سب کام امریکی مفاد میں کر رہے تھے۔ وہ اندر کی سیاست سے زیادہ ملکوں کے درمیان تعلقات پر توجہ دیتے تھے ان کا نظریہ تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی کام دوسروں کی خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہے۔ یہ موضوعات ان کی ڈاکٹریٹ کے مقالے اور ان کی یادداشتوں سے لے کر جوہری ہتھیاروں، اتحادوں، سفارت کاری، موجودہ ورلڈ آرڈر، چین، اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں ان کی بہت سی کتابوں اور مضامین میں پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر کسنجر نے کبھی حکومت میں کام نہ کیا ہوتا، تب بھی وہ اپنے خیالات کی طاقت اور اپنی تحریر کی فصاحت کے ذریعے امریکی خارجہ پالیسی پر گہرا اثر ڈالتے۔

امریکہ میں ان کے علاوہ بھی سفارت کاری پر متعین بہت بڑے دماغ رہے ہیں، جیسے جارج مارشل، ڈین ایچیسن، اور جیمز بیکر۔ لیکن جب سفارتی اقدار اور تجزیہ کار دونوں ہونے کی بات کی جائے تو کسنجر کے مقابلے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے عہد کے ممتاز عالم تھے۔ وہ جس طرح پریس کا سامنا کرتے تھے اس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی تھی، ان کے متعلق سب متفق ہیں کہ وہ ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں انتہائی پرسکون رہتے تھے۔

اس لیے انہیں اپنے صدی کا سب سے بڑا اداکار ہونے کا خطاب بھی ملا اگرچہ انہوں نے کسی بھی فلم یا ڈرامے میں کام نہیں کیا تھا۔ وہ گفتگو کرتے ہوئے چہرے کے تاثرات سے ہی بہت کچھ بتا دیتے تھے۔ اور ان کے پاس اتنا علم تھا کہ وہ کسی بھی جگہ بیٹھ کر کسی بھی سفارتی اور عالمی موضوع پر گھنٹوں دلیلوں اور تاریخی حقائق کے ساتھ گفتگو کر سکتے تھے۔ انہیں بیک وقت چین، روس، ویتنام، کمبوڈیا، پاکستان، انڈیا، مصر، لبنان، ایران، فلسطین، کوریا، مشرقی وسطی، یورپ کے تمام داخلی اور خارجی معاملات کی خبر تھی اور وہ ان ممالک میں متعین سفیروں اور مشیروں سے زیادہ معلومات رکھتے تھے۔

وہ بہت زیادہ مطالعہ کرتے تھے اور پھر لکھنے میں بھی کمال رکھتے تھے۔ اس علم اور کمال نے انہیں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ناگزیر حقیقت بنا دیا تھا۔ وہ پاکستان ہندوستان کی 1971 کے جنگ میں ایک متنازعہ کردار کے طور پر بھی مشہور ہوئے۔ ان پر دنیا میں مختلف حکومتوں کے تختے الٹنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ انہیں کئی جنگوں کو طول دینے کا محرک بھی بتایا جاتا ہے۔ اور انہیں کئی جنگیں شروع کرنے کی وجہ بھی بتایا جاتا ہے۔

اب بھی انہیں ہی چلی اور سلواڈور کی جمہوری منتخب حکومت گرانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ یہ امریکن پالیسی کہ جہاں امریکہ کا مفاد ہو، وہاں انسانی حقوق سے زیادہ امریکی مفاد کو مد نظر رکھا جائے، انہیں کی بنائی ہوئی ہے۔ جہاں جہاں امریکی مفاد ہوتا وہاں بادشاہت، فوجی مارشل لاء اور غیرجمہوری حکومتوں کو اقتدار دینے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کا جو امریکی طریقہ کار ہے ، یہ ہنری کسنجر نے ہی بنایا تھا اور جب امریکی مفاد کا خاتمہ ہوجاتا تھا تو ان لوگوں کو مسلح جتھوں کے ہاتھوں مروانے کا سلسلہ بھی انہوں نے شروع کروایا تھا۔

رجیم چینج کی اصطلاح بھی ان کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ ہنری کسنجر نے بین الاقوامی تعلقات پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ طاقت کی حرکیات اور عملی ریاست سازی پر زور دیتے ہوئے ان کے حقیقی سیاسی انداز نے سرد جنگ کے دوران اور اس سے آگے کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو تشکیل دیا۔ ان کی زندگی، پالیسیوں اور علمی اور سفارتی اور سیاسی میراث پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ گزشتہ صدی کے نصف آخر کے بعد دنیا کی ترقی، تبدیلی اور سیاسی و سفارتی تاریخ پر ہنری کسنجر اثر انداز رہا ہے اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ امریکہ کیوں سپر پاور بنا اور اس نے اپنی طاقت کو کیسے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھایا۔

اس کے مقابلے میں روس ان جیسا دماغ پیدا نہیں کر سکا اور نہ ہی روس نے یونیورسٹیوں اور پروفیسروں کو اہمیت دی۔ وہ فوجی تھینک ٹینک کو ہی طاقتور سمجھتا رہا اور آخر کار اپنی عظیم قوت کھو بیٹھا جبکہ روس کے مقابلے میں امریکہ نے پینٹاگون سے زیادہ امریکہ یونیورسٹیوں اور تھینک ٹینکس پر زیادہ بھروسا کیا۔ تجارتی، سفارتی، مالیاتی یہاں تک کہ فوجی معاملات پر بھی امریکہ یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینک جن میں بھی زیادہ تعداد پروفیسروں کی ہے پر بھروسا کرتی ہے۔

امریکہ نے نہ صرف امریکہ میں اپنے بہترین دماغوں کے حامل لوگوں پر سرمایہ کاری کی ہے بلکہ امریکہ سے باہر جہاں جہاں امریکہ کا مفاد ہے وہاں کے بہترین دماغوں پر بھی سرمایہ کاری کی ہے اور کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ ہنری کسنجر کے اعلی دماغ کی وجہ سے ہے۔ امریکہ سالانہ دنیا بھر مستقبل کے چار ہزار ایسے افراد کو امریکہ کا دورہ کرواتی ہے جو مختلف شعبوں میں آگے جاکر کوئی نہ کوئی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہنری کسنجر پلان کے تحت امریکن سٹیٹ ڈپارٹمنٹ مختلف پروگرام چلا رہا ہے۔ جیسے آئی وی ایل پی یعنی انٹر نیشنل ویزیٹر لیڈرشپ پروگرام، بریج یو ایس اے پروگرام اور اس جیسے درجنوں پروگرام جن میں سالانہ ہزاروں کی تعداد میں با اثر لوگ مختلف ملکوں سے امریکہ آتے ہیں۔ انیس سو چالیس کی دہائی میں اس کا پہلا تجربہ لاطینی امریکہ کے ملکوں کے لوگوں کے لیے کیا گیا تھا۔ جسے ہنری کسنجر نے پوری دنیا تک پھیلا دیا۔ ان پروگراموں کی وجہ سے امریکہ سفارتی، تعلیمی، ثقافتی اور تجارتی طور پر روس اور دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت آگے نکل گیا اور ہر ملک میں امریکہ کے حامیوں میں اضافہ ہوا۔

ساٹھ کی دہائی میں کسنجر نے دنیا کے سترہ ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے بنانے کا منصوبہ پیش کیا جس نے عملی طور امریکہ کو ان ممالک کے وسائل تک رسائی دی اور روس کی پیش بندی روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی چین کے ساتھ طویل تنازعات کو حل کر کے تجارتی ترقی اور علاقائی برتری کو برقرار رکھا۔ اور دوسری طرف روس کو کئی محاذوں پر مسلسل مصروف رکھ اس کا معاشی محاصرہ کر کے اسے کمزور کیا۔ مشرقی وسطی میں امریکی اثر رسوخ کو بڑھایا اور تجارت کے لیے نہر سویز کی حفاظت کا انتظام کیا اور اسرائیل کو مستحکم کرنے کا عملی انتظام عربوں میں پھوٹ ڈلوا کر کیا۔

اس کے علاوہ ان کا بہت بڑا کارنامہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکی کی بالادستی قائم رکھنے کا عملی انتظام تھا جس کی بدولت آج امریکہ پوری دنیا کو عملاً کنٹرول کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی کام سارا کا سارا ہنری کسنجر کا کیا ہوا ہے۔ وہ امریکہ کے لیے دوراندیش اور مستقبل بین انسان تھے۔ اور دنیا کے لیے امریکہ ایجنڈا مسلط کرنے والا ایک سفاک منصوبہ ساز جس کی منصوبہ سازی جب تک امریکہ ہے موثر رہے گی۔

کہتے ہیں کہ ہارورڈ یونیورسٹی نے جتنے نوبل انعام یافتہ پیدا کیے اتنے پوری دنیا نے مل کر نہیں کیے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کا دنیا کی ترقی اور علم کے فروغ میں بہت اہم رول ہے۔ اور اس ادارے نے امریکہ کو ہر محاذ پر سرخرو رکھا ہے۔ جبکہ آپ پاکستان کی صورتحال دیکھیں یہاں یونیورسٹیوں کو کلاس فور ملازم بھرتی کرنے کا دفتر سمجھا جاتا ہے۔ منصوبہ بندی اور فیصلے پیر، بدمعاش، قبضہ گروپ، چینی چور، ٹیکس چور، چوہدری، ملک، خان، سردار، کھلاڑی اور ان کے بچے اور ٹی وی پر بیٹھے بی اے پاس تجزیہ نگار کرتے ہیں۔ اس ملک میں سفارتی امور اگر کسی یونیورسٹی میں طے ہوتے اور ان پر یونیورسٹیوں کی سطح پر کام ہوتا اور مسلسل ہوتا تو ہم آج بھیک نہ مانگ رہے ہوتے بلکہ اپنی اہم جیو اسٹریٹیجک پوزیشن کا استعمال کر کے جنوبی ایشیاء پر حکمرانی کر رہے ہوتے۔ اب دنیا میں ہنری کسنجر کو پڑھایا جا رہا ہے۔ وہ بلاشبہ امریکن ڈپلومیسی کا بھگوان پروفیسر ہے۔ جس نے امریکہ کو جنت اور باقی دنیا کو امریکی مفاد کے خاطر نرکھ بنا دیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments