دو ٹکے کا سیاسی ورکر


پسنی کے تنگ گلیوں میں جب لوگوں کا رش بڑھ جاتا ہے تو مجھ جیسے پاگلوں کے لئے یہ گلیاں اجنبی ہوتے ہیں، اور کبھی جڈی کے ساحل پر جاکر سمندر کی مست موجوں کے ساتھ خود کلامی کرتا ہوں تو کبھی دیگان کے قبروں سے بات کرتا۔

پتہ نہیں مجھ جیسے پاگل، جا اہل اور منفی سوچ رکھنے والا آدمی نے ایک ایسے معاشرے میں کیوں جنم لیا جہاں تعلیمی اداروں کے باہر پڑھنے والے ماہر اقتصادیات اور سیاسیات مستقبل کی سیاست پر ایسے پیشگوئی کرتے ہیں، کہ وہ تو اپنے شعبے کے ماہر ہیں۔

یہی سوچتے سوچتے اس پاگل کی نظریں سوشل میڈیا پر پڑتی ہیں تو ماؤں اور بہنوں کو شاہراہوں پر چیختے اور چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں جہاں سینے پر تصویریں لگائے انصاف کے متلاشی نظر آتے ہیں، مگر یہ دو ٹکے کے سیاسی ورکر منظر عام پر نظر نہیں آتے اور سوشل میڈیا میں ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے کہ گدھے کی سر پر سینگ۔

پھر لاشوں پر سیاست کرنے والے قوم پرست نظر آتے ہیں وہی قوم پرست جس کو عام زبان میں پیٹ پرست بھی کہا جانا بہتر ہو گا۔ جب کوئی ان سے سوال کرتا ہے تو یہ دو ٹکے کے ورکر کسی اژدھے کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔ اب عام سوچ رکھنے والا آدمی کو کیا پتہ ہے کہ سیاست کس بلا کا نام ہے۔

جب کوئی ٹینڈر آتا ہے، تو یہ دو ٹکے کے سیاسی ورکر ایک جان اور جسم بن کر فعال ہونا شروع ہو جاتے، اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے شمبو کو لیڈر بنا کر کسی دو ٹکے کے صحافی سے ایسے بیان لکھواتے ہیں کہ یہ موسمی لیڈر خوش ہو کر اس کو ایک ٹھیکہ نواز دیتے ہیں اور پھر کچھ عرصے تک شراب اور شباب کی محفل سج جاتی ہے۔

جب کسی محکمے کے سرکاری نوکری کسی انجان اخبار میں مشتہر ہوتے ہیں تو یہ دو ٹکے کے سیاسی ورکر میدان میں نمودار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے سیاسی قائد ایم پی اے سے اپنا کوٹہ مانگتے ہیں کہ فلاں بندے کو ایڈجسٹ کرنا ہے۔

یونیورسٹیز میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارغ التحصیل طلبا صرف یہ آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب یہ دو ٹکے کے سیاسی ورکر ان کو سیاسی رشوت کے طور پر ایک سفارشی نوکری دیں گے۔

پتہ نہیں اس معاشرے میں کیا ہو رہا ہے موبائل تھامے ہر وہ شخص عصر حاضر کا افلاطون اور سقراط سے کئی گنا زیادہ علم رکھتا ہے، جو سکول کے کسی برآمدے میں گونگے، اندھے اور بہروں کی طرح بیٹھ کر ڈگریوں کے حصول کے لئے چپراس سے لے کر ہیڈ ماسٹر تک کے احسانوں تلے دبے ہوئے ہیں۔

پھر لفظ ”سیاست“ سے نابلد ہو کر سیاست میں ایسے انٹری مار کر داخل ہوئے ہیں کہ جیسا بلی کے شکار سے بچنے کے لئے ایک تیز چوہا کسی انجانے بل میں داخل ہوتا ہے۔

اس معاشرے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بس آپ کو دو ٹکے کا ایک سیاسی ورکر بن کر جینا ہو گا چاہے آپ کسی کباڑ خانے میں کام کرتے ہو یا کسی دفتر میں منشی۔ بس دو ٹکے کا سیاسی ورکر بن کر سوشل میڈیا میں اپنی ذاتی رائے دوسروں پر مسلط کرنے کا غیر قانونی ہنر سیکھ لو۔

اپنے علاوہ سب کو غدار بنا دو اور جھوٹی تعریفوں کا سلسلہ شروع کرو اور یہ دو ٹکے کا سیاسی ورکر بن کر دوسرے لوگوں کی ذات پر کیچڑ اچھالتے رہنا۔

Facebook Comments HS