روبوٹک دعا اور دیسی بابا


ہمارے ایک ساتھی کے والد صاحب کی وفات ہوئی تو ہم سب پروفیسر ساتھی تدفین کے وقت ان کے گاؤں میں موجود تھے۔ تدفین مکمل ہوئی تو قبر پر قاری صاحب نے معمول کے الفاظ میں دعا کروانا شروع کر دی۔ سب نے ہاتھ کھڑے کیے اور روایتی دعا پر روایتی آمین کہنا شروع ہو گئے۔ اتنے میں پیچھے سے تھوڑے فاصلے پر ایک دیوار کے سہارے بیٹھے قریب 75 سالہ بزرگ نے انتہائی سوز کے ساتھ متوفی کا اونچے اونچے نام لے کر پنجابی میں انفرادی دعا کرنا شروع کر دی۔ تھوڑی ہی دیر میں زیادہ تر مجمع قاری صاحب سے منہ موڑ کر فاصلے پر بیٹھے اس بزرگ کی دعا پر بلند آواز میں آمین کہہ رہا تھا۔

ہم سب کو زبان دینے والا خدا بے شک کسی بھی زبان فہمی پر قادر ہے مگر ہم بشری محدودات سے گھرے انسان اپنی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں حقیقی درد دل اور مدعا بیان نہیں کر سکتے۔ دوسری زبان ہم پر اس طرح فکر، جذبات، شدت اور رقت طاری نہیں کر سکتی جو اپنی ماں بولی کا خاصہ ہوتا ہے۔

ستیاناس ہو اس گلوبلائزیشن کا جس نے ہم پے بے حد احسانات تو کیے مگر ہم سے ہماری مادری اور علاقائی زبان چھین کر ہمارے تعلیم اور شعور کو ایک ایسی بدیسی زبان پہ شفٹ کر دیا جو ہمارے جذبات اور ہمارے فکر کا اظہار نہیں کر سکتی۔ ہم محض کاٹھے انگریز بن کر رہ گئے ہیں۔

کئی بار میں سوچتا ہوں کہ اگر خدا دلوں کے حال نہ جانتا ہوتا تو مادری زبان کے علاوہ کی گئی ہر دعا کو ہمارے منہ پر مار دیتا کہ جاؤ ایسی روبوٹک دعا میرے دربار کی توہین ہے جو الفاظ کے چھلکوں پر مشتمل ہے مگر جذبات اور فکر کے گودے سے محروم ہے۔

دیکھئے انگریزی ذریعہ تعلیم کب ہم پاکستانیوں کو اس درجہ فکر سے روشناس کرواتا ہے جہاں ہم ٹرانسلیشن کے عذاب سے نکل کر تسخیر کائنات کی جستجو میں گم ہو جائیں۔ فی الوقت تو میرے بچے گریجوایشن میں بھی ڈیفائن سے آگے کی دنیا بارے کچھ نہیں جانتے اور ڈیفائن کرتے ہوئے بھی ان کے چہروں پر تعلیم حاصل کرنے کی چہک اور جستجو کے بجائے روبوٹ کے آہنی چہرے کی جذبات سے عاری اور علم سے بیزاری کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔

کئی بار مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انگریزی جس کو اب تک ہم اپنی ترقی کا در سمجھتے رہے ہیں وہ در نہیں دیوار ثابت ہوئی ہے جس کو نوے فیصد کے قریب بچے کراس نہیں کر پاتے اور جو کر جاتے ہیں وہ بعینہ اس دیوار کو پھلانگ کر واپس اپنی اصل کو نہیں لوٹ سکتے۔ وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS