عظیم حوصلوں سے سرشار فلسطینی، نہ تھکے ہیں، نہ جھکے ہیں
غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پہلی بار نہیں ہوا۔ فلسطینیوں کی شہادتوں اور بے گھر ہونے کی کہانی آج کی نہیں بہت پرانی ہے، فلسطینی پچھلے 75 برسوں میں اسرائیلی ریاست کے وحشیانہ مظالم جھلنے پر مجبور ہیں۔ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی ہے اس جنگ میں 6 ہزار بچے اور 5 ہزار خواتین بھی شہید ہوئی ہیں جب کہ 60,000 سے زیادہ زخمی ہیں۔
حماس کے حریت پسندوں نے اسرائیل کے جنگی جنون اور بربریت کا جس بے خوفی، جرات مندی اور بہادری سے مقابلہ کیا ہے، تاریخ میں ایسی مثال ملنا مشکل ہے۔ ایک طرف فلسطین آگ و خون میں نہا رہا ہے اور دوسری طرف عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا ہے۔ لگ ایسا رہا ہے کہ غزہ کو ہر طرف سے جانوروں اور درندوں نے گھیر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں، نام نہاد تہذیب یافتہ ممالک کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔
اسرائیل نے جنگ کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے کچلتے ہوئے معصوم اور بے گناہ شہریوں کا نشانہ بنایا، اسرائیل اپنے دفاع کی آڑ میں غزہ پر مسلسل وحشیانہ کارروائیاں کر رہا ہے۔ بے گناہ اور معصوم شہریوں کے قتل پر مغربی ممالک اسرائیل کے جنگی جرائم پر خاموش ہے۔ غزہ پر اسرائیل کی اندھا دھند بمباری سے بستیاں اور خاندان تباہ ہوچکے ہیں، جنگ کے نام پر رہائشی محلوں کو نیست و نابود کر دیا گیا ہے، ہسپتالوں، اسکولوں، گرجا گھروں، مساجد، طبی عملے، صحافیوں اور اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی بربریت اور انسانیت سوز مظالم کا اندازہ اس بات بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سفاک اسرائیلی فوج نے ہسپتال اور میڈیکل کمپلیکس کے انتہائی نگہداشت یونٹ، سرجری کی عمارت اور میٹرنٹی وارڈ پر حملے کر کے وہاں موجود مریضوں کو بھی نشانہ بنایا۔ 24 لاکھ آبادی رکھنے والا دنیا کا گنجان ترین علاقہ غزہ اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کے باعث ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ غزہ ہزاروں بے گناہ افراد کے قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔
فلسطینیوں کے قتل عام اور نسل کشی پر عالمی برادری جہاں بے حسی اور بے شرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اقوام متحدہ اپنی بے بسی کا ماتم کر رہی ہے۔ وہیں مسلم ممالک اور ان کی لیڈرز کا رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ مسلم اقوام اور لیڈر شپ خاموش تماشائی، امتہ مسلمہ بے بسی اور بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ دنیا میں مسلم اکثریت والے 57 ممالک ہیں، دنیا بھر میں مسلم آبادی کے لحاظ سے 62 فیصد یعنی تقریباً 1 بلین مسلمان ایشیا میں رہائش پذیر ہیں۔
جب کہ دنیابھر میں مسلمانوں کی آبادی 2 ارب سے تجاوز کر گئی ہے جو دنیا کی مجموعی آبادی کا 25 فیصد ہے۔ عیسائیت کے بعد اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ اس وقت دنیا کا 33 فیصد رقبہ مسلمانوں کے زیر اقتدار ہے۔ جبکہ دنیا میں ایک کروڑ چ 44 لاکھ 35 ہزار نو سو یہودی ہیں۔ 2014 ء میں اسرائیل کی کل آبادی 81 لاکھ 46 ہزار تھی ان میں یہودی 61 لاکھ 11 ہزار ہیں۔ او آئی سی مسلم ممالک کی بینالاقوامی تنظیم ہے جس میں مشرق وسطی، شمالی، مغربی اور جنوبی افریقہ، وسط ایشیا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر اور جنوبی امریکا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں۔
مسلم ممالک پیٹرولیم جیسی نعمت سے بھی مالا مال ہیں اس وقت صنعتی ترقی کا سارا انحصار پیٹرول پر ہے، دنیا میں اس وقت تیل پیدا کرنے والے 11 بڑے ممالک میں سے دس مسلم ممالک ہیں۔ جس سے عرب ممالک سرفہرست ہیں، سعودی عرب کے بعد تیل اور پیٹرول کے ذخیرہ میں عراق اور پھر ایران اور دیگر مسلم ممالک کا نام آتا ہے۔ یہ تمام وسائل رکھنے والے مسلم ممالک بھی فلسطین کے خلاف جاری اسرائیل کی بربریت اور انسانیت سوز مظالم کے خلا ف کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام ہے۔ 57 اسلامی ممالک مل کر بھی اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دینے، سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیل کو تیل کی فراہمی روک کا بھی فیصلہ بھی نہ کرسکے۔
اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ اور عارضی جنگ بندی کا معاہدہ یقیناً ان کی فتح ہے۔ جب کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کو اس کی شکست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے وزیرداخلہ کا یہ بیان ان کی شکست کا ثبوت ہے جس میں اس نے غزہ کے خلاف جنگ روکنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اسرائیل کی نابودی کے مترادف ہے۔ انہوں حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے اور عارضی جنگ بندی کو اسرائیل کے لئے تاریخی شکست قرار دیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں 47 روزہ جنگ کے بعد عارضی جنگ بندی کے نتیجہ میں دونوں طرف سے قیدیوں کو رہا بھی کیا گیا عالمی دنیا میں اس جنگ بندی کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے اس کے باوجود طاقت کے نشے میں چور اسرائیل نے ایک بار پھر امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر حملے شروع کر دئے ہیں، فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا غزہ پر حملوں پر مسلم ممالک کی بے حسی اور مغربی ممالک کی خاموشی نے فلسطینیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ جنگ انہوں نے خود جیتنی ہے۔
فلسطین میں مستقل امن اس وقت ہی قائم ہو گا جب فلسطین کی آزادی اور خود مختاری کا حال تلاش نہیں کر لیا جاتا۔ اپنی آزاد ریاست کے قیام تک فلسطین اپنی جنگ لڑتے رہیں گے۔ حماس نے اپنے پیاروں کے خون سے آزادی کی جو شمع روشن کی ہے اس نے دنیا کی سیاست کے رخ کو ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ چند ماہ پہلے تک عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اس سے سفارتی تعلقات اور کاروباری رابطے بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، لیکن حماس کی بروقت کارروائی نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، اسرائیل کے چہرے کو بے نقاب کیا ہے یہی اس کی کامیابی ہے۔
حماس کے حریت پسندوں کی یہ بھی بڑی کامیابی ہے کہ خطے میں سب سے بڑی فوجی طاقت اور نا قابل تسخیر کا دعویٰ کرنے والی صیہونی ریاست اسرائیل کا حماس کے چند سو جانبازوں کے ہاتھوں ذلیل و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حماس کے ہاتھوں 14 سو سے زیادہ اسرائیلیوں کی موت کے بعد اسرائیل اور ان کی حمایت کرنے والے اتحادیوں کے لئے یہ عبرت ناک شکست ہے۔
اسرائیل فلسطین کی سرزمین پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف مسلسل امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں پر طاقت اور ریاستی ظلم و جبر کی مدد سے اپنا تسلط کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اس مقصد کے لئے وہ مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ علاقے میں مقیم فلسطینیوں کے خلاف مظالم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ اسرائیل اور مقبوضہ علاقے میں، اسرائیلی حکام نے یہودی آبادیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اراضی حاصل کرنے اور زیادہ تر فلسطینیوں کو گنجان آباد مراکز تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے
عظیم حوصلوں سے سرشار فلسطینی، نہ تھکے ہیں، نہ جھکتے ہیں۔ ہر طرح کے ظلم و بربریت کے باوجود ان کے عزم و حوصلے چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں اپنے جگر گوشوں کے لاشے اٹھانے کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ایٹمی قوت، دنیا کی بڑی فوجی پاور، درندگی و بربریت کے باوجود صیہونی طاقت ان کے حوصلہ کو زیر نہیں کر سکی۔ دنیا کے 57 اسلامی ممالک کی بے رخی اور عرب ممالک کی خاموشی کے باوجود انہوں نے بے یقینی اور مایوسی کو گلے نہیں لگایا، معصوم بچوں اور خواتین کی لاشیں اٹھائیں۔ اللہ اکبر کی فضائیں بلند کرتے ہوئے اپنی آزادی کے لئے ایک ایسی طاقت سے ٹکرا گئے جس کی پشت پناہی امریکہ اور یورپ کر رہا ہے۔


