بابا ”یو نو نتھنگ“
بلاول کا ہیاؤ کھل گیا ہے ۔ اب وہ تڑخے ہوئے انڈے سے نکلے بے بال و پر چوزے نہیں ہیں جسے زرداری صاحب اپنے گھنے پروں میں سمیٹے رہتے تھے۔ اب وہ بابا سے آگے کی چیز دکھائی دینے کی کوشش میں ان سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا نہ ہو۔ واقعتاً باپ بیٹے ایک دوسرے کو پانی پلاتے پلاتے تھک گئے ہوں۔ اب بلاول اپنی بہتی ناک خود صاف کر لیتے ہوں۔ ناک حقیقت میں بہہ رہی ہے یا نزلہ زکام سے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اقتدار کے حصول کی بے راہ روی میں سب کچھ ممکن ہے۔
زرداری صاحب مسلم لیگ نون سے مفاہمت کو خارج از امکان نہیں سمجھتے۔ انھیں الیکشن کمیشن کی جوہر شناسی پر بھی کوئی اعتراض نہیں، الیکشن کے سازگار ماحول پر بھی انھیں پیار آ رہا ہے۔ وہ الیکشن میں جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔ جب کہ بلاول نون لیگ کو برا بھلا کہنے میں سو سو ہاتھ اوپر اچھل رہے ہیں۔ نواز شریف کے وطن واپس آنے اور ”ساڈی گل ہو گئی اے“ کا تاثر ان سے ہضم نہیں ہو رہا۔ نواز شریف کی ٹانگیں اور اسٹبلشمنٹ کی سانسیں ایک ساتھ چلیں یہ انھیں گوارا نہیں۔
زرداری صاحب کا حالیہ انٹرویو لفظ و معانی کی وہ بہار تھا جس میں ہر لفظ اور اس کے معنی کھنچتے ہوئے بلاول کے خلاف جا رہے تھے۔ ایک طرف بلا ول بابوں سے اپنی الجھن کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف زرداری صاحب بھی انھیں اپنا ایسا متبادل ظاہر کر رہے ہیں جس کے پاس تجربہ نہیں۔ ایک طرف وہ بلاول کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ انٹرن شپ کر رہا ہے۔ بلاول کو تجربہ تو ہو گیا ہو گا صرف اپوزیشن ہی بدمزہ اور بدنام نہیں کرتی اپنے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ وہ بابا بھی یہ کام بحسن و خوبی کر سکتا ہے جسے ہر بیٹا You know nothing کی سان پر چڑھائے رکھتا ہے۔
زرداری صاحب ایسے باورچی ہیں جو ستر طرح کے سالن پکا سکتے ہیں۔ سالن پکا کر وہ بلاول کو صرف بھگار دینے کے کام پر رکھتے تھے لیکن اب بھگار کی ”چھن“ سے بلاول تنگ آتے جا رہے ہیں۔ اب وہ ہنڈیا چڑھانا بھی خود چاہتے ہیں اور پکانا بھی۔ زرداری صاحب چا ہیں تو ازراہ ”بابا نوازی“ بھگار دے سکتے ہیں اور بس۔ بلاول کی یہی آرزو ہے۔ بلاول کو کون سمجھائے کہ درخت اور والدین کتنے ہی بوڑھے ہو جائیں پھر بھی چھاؤں دیتے ہیں۔
زرداری صاحب اور بلاول میں اتنا ہی فرق ہے جو جرنیل اور معمولی سپاہی میں ہوتا ہے۔ بلاول اچھے مقرر بن گئے ہیں حالانکہ ان کی تقاریر میں مذکر مونث کی درستگی اتنی ہی ناپید ہوتی ہے جتنی ان کی والدہ مرحومہ کی تقاریر میں۔ وہ بھی ”اذان بج رہا ہے“ کہہ کر سننے والوں کو آزمائش میں ڈالتی تھیں، بلاول بھی ”جب بارش ہوتا ہے“ بول کر ثابت کرتے ہیں کہ کم ازکم اس معاملے میں وہ مرحومہ بے نظیر سے پیچھے نہیں ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی اور ضیا محی الدین مرحوم کو اللہ جنت الفردوس میں اعلی درجات عطا فرمائیں خدانخواستہ اگر وہ کسی گناہ کی پاداش میں سزا کے موجب قرار پائے تو عین ممکن ہے انھیں بلاول کی تقاریر سنوائی جائیں۔
اردو کی درگت پر بلاول داد کے قابل ہیں یاوہ کشتہ تیغ ستم ہجوم جو انھیں سننے آتا ہے اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ ویسے ایک بات تو بہرحال ہے خراب اور غلط اردو بولنے سے صرف جہلا ہی نہیں عوام بھی مقرر کو قابل سمجھتے اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ عوام کی حالت اگرچہ اخبار کے ان ملازمین کی طرح پتلی ہے چھ چھ سات سات مہینے گزرنے کے باوجود جنھیں تنخواہ نہیں مل رہی اور بصد درخواست کرنے پر ایک دو مہینے کی تنخواہ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ عوام بھی اسی طرح ایک پلیٹ بریانی پر ٹال دیے جاتے ہیں اور ووٹ صاحب بریانی کو کاسٹ کر دیتے ہیں۔ کیا کریں۔ کس سے کہیں۔ چونچ ٹوٹی ہے ہر الو کی۔
بات جوانوں اور بابوں کی نہیں ہے۔ مخلص قیادت کی ہے۔ عوام کے اعتماد کی ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی دوسری شادی کی وجہ جہاں دلی کی محبت بیان کی ہے وہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ ”اس سے پہلے موت کی ایسی محبوبیت کی دولت نصیب نہیں تھی“ ۔ ممکن ہے عوام بھی روز روز کے مرنے سے ایک ہی مرتبہ مرنے کی محبوبیت میں جوان اور بابے کا لحاظ کیے بغیر اپنے آزمائے ہوئے لیڈروں کو منتخب کرتی جا رہی ہے۔ ویسے نئے نویلے عمران خان کو منتخب کر کے بھی کیا ملا سوائے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے اور مزید مشکل زندگی کے۔ دیکھیں اب نواز شریف اس کمی کا تدارک کیسے کرتے ہیں۔
زرداری صاحب اور نواز شریف میں فرق یہ ہے کہ زرداری صاحب کو ”بعد از مرگ بیگم“ صدارت کی وجاہت نصیب ہوئی جب کہ نواز شریف بیگم کی زندگی میں بھی اقتدار کی دوسراہٹ کے مزے لوٹتے رہے اور اب بیگم کی وفات کے بعد بھی اس کوچے میں جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ زرداری صاحب کی ایسی ہر کوشش کی راہ میں ان کا بیٹا حائل ہے۔ زرداری، نواز شریف اور عمران خان میں ایک بات مشترک ہے تینوں ستر کے پیٹے میں اور تین بچوں کے باپ ہیں۔
نواز شریف اور عمران خان کے دو دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے جب کہ زرداری صاحب کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بلاول ہے۔ نواز شریف اور عمران خان کو اولاد کی طرف سے ہلڑ مچنے کا کوئی امکان نہیں جب کہ بلاول کھل کر پبلک کے سامنے بابوں کی واپسی کے امکان پر موڈ خراب کرتے نظر آتے ہیں چا ہے اس خرابی کی پہلی زد ان کے بابا پر ہی کیوں نہ پڑے۔
سول ہو یا فوجی پاکستان میں جو بھی اقتدار میں آیا سائرن کی آوازیں اپنے دم بہ قدم لے کر آیا۔ زندگی جنگ عظیم بن گئی۔ کسی کی حکومت میں سائرن ایک مرتبہ بجتا تھا کسی کی حکومت میں دو اور کسی کی حکومت میں تین مرتبہ۔ عمران خان اور شہباز شریف کے دور میں مسلسل بجنے لگا۔ بلاول کہنا یہ چاہتے ہیں کہ عوام پچھلی قیادت سے تنگ ہیں۔ وہ ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کی زندگی میں لنچ ڈنر اور کیک نہ سہی دو وقت کی روٹی کی رسائی تو ممکن بنا سکے۔ وہ آزمائے ہوؤں کو آزمانا نہیں چاہتے بلکہ کچھ نیا اور میٹھا ہو جائے کے طلبگار ہیں۔ زرداری صاحب نے ان کی اس اچھا کو چو بیس گھنٹے میں ہی شوٹ ڈاؤن کر دیا۔
نئی اور جوان قیادت کی بات پہلی مرتبہ نہیں کی جا رہی ہے۔ ضیاء الحق جن دنوں کراچی میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا شو لانچ کر رہے تھے تب بھی جماعت اسلامی اور کراچی کے پرانے خدمت گزاروں کے باب میں یہی عذر تراشا گیا تھا۔ عمران خان کو لاتے وقت بھی اسی کی تکرار کی گئی تھی کہ پچھلے نا اہل چور اور ڈاکو ہیں لیکن پھر الطاف حسین نے کراچی کا اور عمران خان نے پورے ملک کا وہ حال کیا کہ ادب اور سنجیدگی گالی، ہر گھر خالی اور پورا ملک زحمت کدہ بن گیا۔
شیطان نئی قیادت کے روپ میں بھی آ سکتا ہے اور آزمودہ قیادت کے روپ میں بھی۔ ضرورت نئی اور پرانی قیادت کی نہیں مخلص اور باصلاحیت قیادت کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ایک نئے نظام کی۔ کیونکہ اس نظام میں نئی قیادت آئے یا پرانی نافذ اس نے سرمایہ دارانہ نظام ہی کرنا ہے۔ دائروں میں سفر کرنے سے بہتر ہے کہ ایک نئے نظام کی جستجو کی جائے جو ہمارے عقائد کے مطابق ہو۔ موجودہ نظام ہمارے عقائد کے مطابق نہیں ان سے متصادم ہے۔ صرف اور صرف اسلام ہی ہمارے عقائد کے مطابق اور ہمارے مسائل کا حل ہے۔ اسے نئی قیادت نافذ کرے یا پرانی اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ ہر بات یو نو نتھنگ کی ذیل میں آتی ہے۔

