7 اکتوبر کی کارروائی
اسرائیلی قوم اور حکومت اس وقت سٹپٹا کر رہ گئی تھی جب 6 اکتوبر 1973 کی شام کو فلسطین اور اس کے دیگر ہمسایوں جن کی سربراہی مصر نے کی مل کر اسرائیل میں گھس کر ایک جنگی کارروائی کر ڈالی تھی اور محسوس ہوتا تھا کہ اب اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ یوم کپور ہر سال یہودی اسرائیل کے قیام کے سلسلے میں بڑی شد و مد سے مناتے ہیں اس دن یہ جنگ چھڑی تھی۔ اس میں امریکہ نے بھرپور تائید و نصرت کی تھی مگر اس کے باوجود 2600 اسرائیلی فوجیوں نے جان دی تھی اور ہزارہا زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیلی خفیہ معلومات کا یہ پہلا بڑا امتحان تھا جس میں پورے طریقہ سے وہ ناکام رہا۔ پروفیسر ایرون برگمین جو برطانوی یہودی فلاسفر اور معروف تجزیہ نگار ہیں کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل کی پہلی بڑی ناکامی تھی کہ وہ بروقت اس حملے کا اندازہ نہ لگا سکے۔ بعد میں تو حکومت اور افواج کے سربراہان کو نہایت تند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب دوسری ہزیمت ان کو 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت اٹھانا پڑی تھی جب حماس کے سرفروشوں نے انتہائی دلیرانہ طریقہ سے ایک کارروائی کر کے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
اس میں 1200 لوگ مارے گئے، 250 افراد کو زندہ اغوا کر لیا گیا جو اب تک اکثر غزہ میں ہی مقید ہیں۔ اسرائیلی اس وقت شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں اور اپنی افواج اور حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس ناکامی کی وجوہات کیا ہیں اور کون اصل میں ذمہ دار ہے۔ پروفیسر ایرون برگمین جو یونیورسٹی کنگز کالج لندن میں تاریخ کے استاد ہیں کہتے ہیں کہ جانبازوں کی یہ دلیرانہ کارروائی آئندہ بڑے معرکوں کی طرح سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تاریخ کے طالبعلموں کو اسی طرح پڑھائی جائے گی جس طرح یوم کپور کی جنگ، پرل ہاربر، اور آپریشن بار باروسا وغیرہ پڑھائے جاتے ہیں۔
لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ اس قدر ناکامی دوچند ہوجاتی ہے کیونکہ حماس کا یہ پلان پہلے سے ہی اسرائیل کے ہاتھ لگ چکا تھا مگر کوئی احتیاطی تدابیر آخر کیوں نہ اختیار کی گئیں۔ کند ذہن اسرائیلی انٹیلی جنس کے افسران کا خیال تھا کہ حماس والے چوں کہ کسی اعلیٰ عسکری ادارے کے تربیت یافتہ نہیں تھے اور ان کی یہ خواہش اور تمنا تو ہو سکتی ہے مگر وہ اتنا دم خم نہیں رکھتے کہ وہ اسرائیل پہ حملہ کرسکیں لہذا یہ رپورٹ داخل دفتر کردی گئی۔
حماس نے حرف بحرف وہی کیا جو اس رپورٹ کے مطابق پلان کیا گیا تھا۔ اب خفیہ معلومات کی موجودگی اور اس کی حقانیت کا اسرائیلی خفیہ محکمے کے افسران سرعام کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ ساتھ ایک آہنی باڑ لگائی تھی جس پہ دیکھ بھال اور مرمت کا ہی حال ہی میں خرچہ ایک ارب ڈالر ہوا تھا اور ہر وقت اس کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی اس پہ انتہائی مضبوط اور خاردار تاروں میں بجلی چھوڑی جاتی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس میں سے کوئی حشرات الارض بھی نہیں گزر پائے گا۔
اس پہ ہر وقت شارپ شوٹر موجود ہوتے، اس کی بنیادیں اس قدر مضبوط کنکریٹ سے بنا دی تھیں کہ کوئی زیرزمین سرنگ نہ بنا سکے، مگر حماس کے جانبازوں نے کچھ ڈرون اڑا کر اور بلڈوزر چلا کر اس کی اس برتری کا احساس بھی زمین بوس کر دیا۔ جب وہ اسرائیلی باڑ کو روند کر اندر داخل ہوئے تو وہاں ہو پہلی چوکی تھی اس پہ 27 اسرائیلی فوجی خواتین تعینات تھیں ان میں سے 25 کو ہلاک کر دیا تھا اور جو دو بچ گئی تھیں وہ شکوہ سناں ہیں کہ انہوں اپنے اعلیٰ حکام کو بار بار تنبیہ کی تھی ایسا حملہ کسی وقت بھی متوقع تھا مگر ان کی کسی نے نہیں سنی اور یہ سب کچھ حقیقت میں ہو گیا۔
حماس کی تیاریوں اور تربیتی مشقوں کا کم ازکم تین ماہ سے مشکوک حرکات و سکنات کا ملنا بھی ثابت ہو چکا ہے۔ مگر خفیہ اداروں نے ان اطلاعات کو اہمیت نہ دی۔ ان بچ جانے والی خواتین فوجیوں نے بتایا کہ وہ کئی ماہ سے ان جنگی تیاریوں کا مشاہدہ کر رہی تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے پھر اس الصبح جب اس نے ڈیوٹی 3.30 پہ سنبھالی تو پو پھٹتے ہی 6.30 پہ حماس کے سرفروش آن کے آن پہنچے وہ موٹر سائیکلوں پہ سوار تھے اور بندوقوں سے لیس تھے۔
جب بچاؤ کے لئے انہوں رپیڈ ریسپانس فورس کو بلانے کی کوشش کی تھی مگر بروقت کوئی امدادی کارروائی نہ کی گئی اور ان کے سامنے ان کی ساتھی فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔ اسرائیل فخریہ جتاتا تھا کہ اس کی افواج میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج میں لازمی ملازمت کرنا ہر بالغ پہ فرض ہے کہ ہر مرد 32 ماہ تک اور خواتین کم ازکم دو سال فوجی خدمات سرانجام دے۔ اسرائیلی ناکامی جو اس دن ہوئی اس کی ذمہ داری پروفیسر ایرون برگمین ان خواتین پہ ڈالتے ہیں کہ سنتریوں والے سارے فرائض یہ ادا کر رہی تھیں جبکہ یہاں مردانہ کام تھا اور یہی سب سے پہلے اور اہم ترین کمزوری دکھائی گئی ہے۔
چونکہ یہ انتہائی خوبرو حسینائیں تھیں اور ان کے حسن کی تاب کوئی کیسے لاتا یا ان کی دی گئی معلومات کا کیسے کوئی اعتبار کرتا کیونکہ انہیں محض شوخ و چنچل حسینہ ہی سمجھا جاتا تھا۔ ان کو اس آہنی باڑ کی تعمیر کے بعد سے ہی یقین تھا کہ انہوں ایک انتہائی شاندار کارنامہ سرانجام دیا ہے اسے کوئی توڑ کر پار کرنا تصور بھی نہیں کر سکتا اور یہی ضرورت سے بڑھ کر خوداعتمادی ان کو مات دے گئی کیونکہ انہوں نے اپنی ریگولر آرمی مغربی پٹی پہ لگا دی تھی اور اس باڑ کی نگرانی ان حسیناؤں کے سپرد کردی تھی۔
بنجمن نیتن یاہو کو بھی اب بہت سے معاملات میں جواب دینا ہو گا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر حماس کو پیسہ دیا جائے اور ان کو اسرائیل کے اندر نوکریاں دی جائیں تو کچھ نہیں کریں گے مگر یہ خیال اسرائیلیوں کے دماغوں میں تھا حماس کے دماغوں میں نہیں تھا۔ یہ خیال دراصل بنجمن نیتن یاہو کے دماغ میں تھا کہ ان کو پیسہ دولت اور ملازمت کا جھانسہ دے کر بہلایا جاسکتا ہے اور وہ کسی عسکری قوت کا مظاہرہ نہیں کریں گے یہ خیال اس کے دماغ میں ہی نہ صرف راسخ ہوا بلکہ یہ فوجیوں کے دماغوں میں بھی راسخ ہوتا ہوتا نچلے طبقات تک بھی سرایت کر گیا اور نتیجہ واضح ہے۔
البتہ سوشل میڈیا کے مطابق یہ حملہ ایک خاص وجہ سے پہلے نظر انداز کیا گیا کہ ایک بھرپور جوابی کارروائی کرنے کا ارادہ تھا کہ اس طرح محصور و مجبور فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا جائے گا۔ کسی حد تک یہ ارادہ ایک خواہش تو ہو سکتی ہے مگر اس کو عملی جامعہ پہنانے میں کتنا وقت لگے گا اس کا اندازہ فوری طور پر لگانا ناممکن ہے۔ اب قیاس ہے کہ نیتن یاہو یہ چاہتا تھا کہ حماس مضبوط سے مضبوط ہو تاکہ دوقومی ریاست کا قیام ممکن نہ ہو سکے کیونکہ مغربی پٹی میں حکومت فلسطینی مقتدرہ کی ہے جس سے بات چیت وہ کرنا نہیں چاہتے اور اس کے اپنے اختیار میں کچھ بھی نہیں وہ ماسوائے میئر والے کام کے کچھ نہیں کر سکتے تھے سیاسی طور ان کی کوئی ساکھ برقرار نہیں قائم ہوئی۔
ان کے خیال میں حماس ایک طلسماتی قوت کا نام ہے انہوں نے پچھلے دو سال سے اسرائیل پہ کوئی حملہ نہیں کیا تھا اور اسرائیل کو دھوکے میں رکھا کہ وہ حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اب ایک بات تو طے ہے کہ جنگ اگر کبھی رکی تو لوگ جو اس سے متاثر زدہ ہیں وہ حق بجانب ہوں گے کہ ایک مفصل تفتیش ہو اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان خامیوں کا با عمیق غور جائزہ لیا جائے کہ جس وجہ سے وہ اس قدر زخم خوردہ ہیں۔ نیتن یاہو کا راج سنگھاسن تو شدت سے ڈھول رہا ہے۔ دیکھتے ہیں آنے والے دنوں میں اس کا کیا اختتام ہو گا۔


