ہم راز

سورج کی زرد کرنیں افق پر اپنا نور بکھیر رہیں تھیں گہرے بادلوں میں سے چھن چھن کر گزرنے کی وجہ سے اک انوکھا منظر پیش کر رہیں تھیں۔ سرد ہوا کے کھیتوں میں ہے سنسناتے ہوئے گزر نے کی وجہ سے دور دور تک چادر کی طرح پھیلے ہوئے کھیت اک عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔ ہوا کے جھونکوں کی وجہ سے کھیتوں کے کناروں پر اگی ہوئی سبز اور لمبی گھاس لہلہاتے ہوئے جنت کا منظر پیش کر رہی تھی۔ کچی دیواروں اور بانس کی چھت والے کمرے کے سامنے چارپائی پر بیٹھا ہوا بابا جاگو حقے کے گہرے کش لگا رہا تھا۔
بابا جاگو کا اصل نام چراغ حسین تھا، وہ ادھیڑ عمر کا ایک مضبوط شخص، جس کی عمر پانچ دہائیوں سے تجاوز کر گئی تھی مگر اس کی صحت اور طاقت ابھی بھی بیس سال کے نوجوان کی طرح تھی۔ اس کی داڑھی اور سر کے کچھ بال سفید ہو رہے تھے البتہ مونچھیں ابھی تک سیاہ تھیں۔ اس کے چہرے کی جھریاں اک عہد رفتہ کی کہانی سنا رہیں تھیں۔
بابے جاگو نے حقے کا کش لگا کر سامنے لیٹے ہوئے گندم کے کھیتوں کو اپنی تھکی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے سر سے پگڑی اتار کر چارپائی پر سرہانے رکھتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ دوبارہ حقے کا کش لگانے کے بعد اس نے کھیتوں کا مشاہدہ کیا اور اس بار اس کے چہرے پر بے رکھی اور پسماندگی کے آثار اور بھی واضح ہو رہے تھے۔ اسی طرح وہ بار بار کھیتوں کو دیکھتا اور پہلے سے زیادہ غمگین ہو جاتا۔ چند ثانیے گزرنے کے بعد اس کے کانوں پراک آواز پڑی ”بھئی جاگو او بھئی جاگو“ اس نے ہرن کی طرح چکنے ہوتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا مگر کچھ نظر نہ آیا، اتنے میں وہ ہی آواز دوبارہ آئی تو اس نے مڑ کر کچے کمرے کے عقب میں دیکھا تو وہاں اپنے دوست رحمے کو چادر سے لپٹے پایا۔
اسے دیکھتے ہی رحما اس کی طرف بڑھنے لگا (رحمے کا اصل نام رحیم بخش تھا دونوں گہرے دوست تھے ) ۔ آتے ہی رحمے نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور کمرے کے کھلے ہوئے دروازے سے داخل ہو گیا۔ گیلی چادر اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ رات کی بارش نے تو حد ہی کر دی ہے۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے تمام راستے کیچڑ کے دلدل بن چکے ہیں۔ بات جاری رکھتے ہوئے رحمے نے اپنی کمر کے ساتھ بندھی ہوئی بندوق کو اتار کر کمرے کی دیوار پر گاڑھی ہوئی لکڑی پر لٹکا دیا اور باہر آ کر جاگو کے ساتھ چار پائی پر بیٹھ کر حقہ پینے لگا۔
دو گہرے کش لگانے کے بعد گویا ہوا کہ اس بار موسم اور گوری سرکار کی ستم ظریفی شاید گٹھ جوڑ سے آئی ہیں۔ ایک طرف فصلوں کی بدحالی اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی لگان نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ خدا غرق کرے ان لٹیروں کو ہر طرف اودھم مچا رکھا ہیں انھوں نے۔ جاگو جو ابھی تک اس کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا قدرے ٹھہر کر گویا ہوا۔ ہم کیا جانے یارا ہر برق ہمارے ہی کا شانوں کیوں پر گرتی ہے؟ خیر یہ سب تو چلتا رہے گا تم سناؤ اور باقی دوستوں کے حالات کیسے ہیں؟
جاگو نے کمرے کے اندر رکھا ہوا دودھ کا کٹورہ بھر کر لے آیا اور رحمے کو پیش کرتے ہوئے کہا اس پر رحما مسکرایا اور قدرے ٹھہرتے ہوئے کٹورہ لے کر اپنے ہاتھ پر ر رکھ لیا۔ دودھ پینے کے بعد وہ چارپائی سے لگی ہوئی لاٹھی سے زمین کریدتے ہوئے بولا سچا سنگھ اور اس کے ساتھی پچھلے پندرہ دنوں سے غائب ہیں ان کی کوئی خبر خار نہیں ہے خدا جانے کہ گوری سرکار نے انہیں یہی کہیں قید کر رکھا ہے یا دور کالا پانی کی سزا سنا کر بھیج دیا ہے۔ اتنے میں جاگو کے چہرے پر اور بھی شکستگی چھا گئی اور وہ ایسے دکھائی دینے لگا جیسا اس پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہو اس نے خالی کٹورہ ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا خدا رحم کرے ہم سب پر ۔
تھوڑی دیر بعد انہیں کمرے کے پیچھے گنے کے کھیتوں میں موجود پگڈنڈی پر گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی جس پر جاگو بانس کی مضبوط لاٹھی کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام کر اٹھ کھڑا ہوا اس طرف دیکھنے کے لئے چل پڑا۔ رحما کمرے میں داخل ہوا دیوار پر لٹکتی ہوئی بندوق کو تیار کرنے کے بعد کمرے کی پچھلی دیوار میں موجود سوراخ سے بندوق کی نالی ایک دو انچ باہر نکالی اور اسی سوراخ سے سوار کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا اتنے میں جاگو جو ان کے بہت قریب پہنچ چکا تھا یک دم رک گیا جب اسے یہ آواز سنائی دی ”میں ہوں“ گھڑ سوار نوجوان گویا ہوا۔
یہ سنتے ہی جاگو نے لاٹھی گھما کر کندے پر رکھتے ہوئے اس گھڑ سوار کو خوش آمدید اور اسے آگے آنے کے لیے کہا اتنے میں گنے کے کھیتوں سے چار پانچ اور نوجوان اپنے گھوڑوں کی لگامیں تھامے اور کندھوں پر بندوقیں لٹکائے ظاہر ہوئے جو اس گھڑسوار کے اشارے کے منتظر تھے۔ وہ سب آگے بڑھے اور جاگو کو سلام کرنے کے بعد کمرے کے سامنے رکھی ہوئی چارپائی کی طرف بڑھنے لگے۔ اتنے میں کمرے میں موجود رحما بھی باہر آ گیا اور نوجوان کے گھوڑے سے اترتے ہی گلے ملا۔
آنے والے نو جوان سچا سنگھ اور اس کے ساتھی تھے۔ سچا سنگھ کے گھوڑے سے اترتے ہی رحمے نے اسے گرم جوشی سے گلے لگایا اور دیر تک اس کی پیٹھ تھپتھپاتا رہا بابا جاگو جو کمرے سے دو اور چارپائیاں نکال چکا تھا سب کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد سب کو دودھ کے بھرے ہوئے کٹورے پیش کیے۔ دودھ کے گھونٹ بھرتے ہوئے سچا سنگھ بولا شکر ہے تم سے ملاقات ہو گئی ہے، میں کافی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔
انگریزی فوج کے سپاہی شکاری کتوں کی طرح ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور سننے میں آیا ہے کی میرے سر پر تو غیر معمولی رقم کا انعام بھی رکھا گیا ہے۔ اور ہمارے کافی دوست ابھی تک ان کے قبضے میں ہیں ان کی رہائی سب سے اہم ہے۔ ان کی رہائی کے لیے کوشش جاری رکھیں گے مرتے دم تک۔ اتنے میں سچا سنگھ جاگو سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا ابھی کچھ دیر پہلے گاؤں سے خبر آئی ہے کہ فرنگی سپاہی ہماری تلاش میں گاؤں گئے ہیں تم گاؤں جاؤ اور ان کے بارے میں کوئی خبر ہم تک پہنچاؤ تاکہ کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
تب تک ہم یہاں آرام کرتے ہیں۔ جاگو نے گھوڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اپنی لگاموں کو منہ میں چبا رہے تھے لگتا ہے گھوڑے بھی کچھ دنوں سے فاقہ کشی کی حالت میں ہیں آپ سب کی طرح، اس پر سچا سنگھ اور اس کے ساتھی قدرے مسکرانے لگے۔ جاگو نے گھوڑوں کی لگامیں اتار لیں اور ان کو کھیتوں میں چرنے کے لیے چھوڑ دیا، گھوڑے دم ہلاتے ہوئے خوشی سے شبنمی گھاس چرنے لگے۔ اس کے بعد سچا سنگھ اور رحما چارپائیوں پر سستانے لگے اور جاگو گاؤں کی جانب جانے والی پگڈنڈی پر کیچڑ سے پاؤں بچاتے ہوئے چل پڑا۔
پگڈنڈی پر جگہ جگہ پانی کھڑا ہوا تھا۔ اس گاؤں کے شروع میں دوسرے گاؤں کی طرح رہٹ اور گھنی چھاؤں والے درخت موجود تھے اس گاؤں کے رہٹ کو پیپل کے گھنی چھاؤں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ یہ درخت کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اکثر اس کی چھاؤں میں چرواہے اپنی بکریوں کے ساتھ اور کسان سستاتے ہوئے اور حقہ پیتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اکثر اس کے نیچے باراتیوں کو بھی دن کے وقت آرام کی غرض سے ٹھہرایا جاتا تھا۔ مگر آج یہ رہٹ اور درخت دونوں ویران نظر آ رہے تھے۔
رہٹ سے آگے گاؤں کے شروع میں کچھ کچے مکانات تھے جن میں کام کرنے والے لوگ رہا کرتے تھے۔ بابا جاگو کچے مکانوں سے گزر کر گاؤں میں داخل ہو گیا۔ گاؤں کے پہلے ہی چوراہے پر زمیندار کا ڈیرہ تھا۔ یہاں پر بھی ہمیشہ چہل پہل رہتی تھی۔ اس بار بھی ڈیرے میں لوگوں کا اک جم غفیر موجود تھا۔ قریب جانے کے بعد جاگو کو پتہ چلا کہ فرنگی سپاہی آئے ہوئے ہیں جاگو نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اسی ڈیرے کا رخ کیا۔ فرنگی سپاہی لکڑی کی بنی ہوئی کرسیوں پر براجمان تھے ان کے سامنے گاؤں کے سبھی لوگ مؤدبانہ انداز میں کھڑے ہوئے تھے۔
زمیندار تسلیمات بجا لانے کے بعد مخاطب ہوا۔ صاحب بہادر ان لوگوں کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں۔ مہینے بھر سے وہ سب غائب ہیں اور جونہی ہمارے علم میں آئیں گے آپ کو اطلاع کر دی جائے گی۔ کیونکہ وہ سب کے سب ہمارے لیے بھی اتنے ہی خطر ناک ہیں جتنے آپ کے لیے۔ زمیندار جس کا لہجہ جو ہمیشہ کرخت اور جابرانہ ہوتا تھا نا جانے آج کیسے اتنا متانت بھرا ہو گیا تھا۔ جاگو بھی لوگوں کی سب سے آگے والی قطار میں اپنی لاٹھی کے ساتھ اسی کا سہارا لیتے ہوئے جا کھڑا ہوا۔ فرنگی سپاہی جو کہ کوئی عہدے دار معلوم ہوتا تھا۔ بڑے تکبرانہ لہجے میں بولا سچا سنگھ اور اس کے سب ساتھی ہمیں مطلوب ہیں۔ جلد از جلد ان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے وگرنہ آپ کے اس گاؤں کو بھی نظر آتش کر نے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس بات پر سبھی لوگ تلملا اٹھے مگر کر بھی کیا سکتے تھے سب محکوم تھے۔
یہ حکم صادر کرنے کے بعد بعد فرنگی سپاہی اٹھ کھڑے ہوئے ہوئے اور زمیندار نے نے دور کھڑے ملازموں کو ان کے گھوڑے کے پاس لانے کا اشارہ کیا جس کی فوری تعمیر کی گئی فرنگی سپاہی جانے سے پہلے اپنا حکم دوہراتے گئے اور ساتھ نمبردار کو سخت الفاظ میں تنبیہ بھی کی۔ ان کے جانے کے بعد بعد تمام گاؤں والے چہ مگوئیاں کرتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جب بابا جاگو ڈیرے سے باہر نکلنے لگا تو زمیندار آواز دے کے بلایا یا اور اور کرسی کے سامنے بچھی ہوئی چارپائی پر بیٹھنے کے لئے کہا۔
جب تمام گاؤں والے نظروں سے اوجھل ہو گئے تو زمیندار نے جاگو کے قریب بیٹھتے ہوئے ہوئے کہا کہ دیکھئے یہ سب ہماری جانوں، املاک، مال و متاع کے دشمن ہیں۔ ہمیں ایک ہو کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے، ہمارے بہت سارے نوجوان ان روپوش ہوچکے ہیں اور جو باقی بچے ہیں وہ سہمے ہوئے ہیں۔ کیا تمہیں ان کی کوئی خبر خا رہے؟ زمیندار نے سوالیہ نگاہوں سے جاگو کی طرف دیکھا تو جاگو نے اس پر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا نہیں مجھے ان کے بارے میں کوئی علم نہیں اور ہو بھی کیسے سکتا ہے میں تو گاؤں میں کبھی کبھار ہی آتا ہوں۔
نمبردار نے دوبارہ دکھ بھرے لہجے میں کہا کہا کہ کاش ہمارے نوجوان مل جائیں اور سب گاؤں والے مل کر کر ان بے لگام گھوڑوں کو لگام دے سکیں۔ نقاہت کے ساتھ زمیندار نے سر کھجاتے ہوئے کہا تمہیں ان کے بارے میں خبر کرنی چاہیے تاکہ ہماری طاقت دوبارہ سے ایک ہو سکے اور ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے۔ یہ بات کرتے ہوئے زمیندار کی کی آنکھوں سے اشک ٹپکنے لگے، یہ سب منظر دیکھ کر بابے جاگو نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ہوئے ہوئے زمیندار کو قریب آنے کا اشارہ کیا کیا اور ساری بات بتا دی۔ اور ساتھ میں اضافہ کیا کہ اگر گاؤں کے سب نوجوان مل رات کے اندھیرے میں چوکی پر شب خون ماریں تو پنے سپاہیوں کو دوبارہ آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ پر اس کے لیے ہمیں اسلحہ کی بھی ضرورت ہوگی۔ فرنگی سپاہیوں کے پاس جدید اسلحہ اور بارودی ساماں موجود ہے جبکہ ہمارے پاس تو صرف دو چار بندوقیں ہی ہیں۔
جاگو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوتے ہوئے کہا کہ ہمارے گاؤں میں تقریباً دس سے پندرہ ایسے نوجوان ہیں ہیں جو کہ ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں ہیں اور پانچ سے چھ لوگ وہ بھی ہیں ( سچا سنگھ اور اس کے ساتھی) اور اس طرح ہماری تعداد 25 سے 30 کے درمیان ہوگی ابھی اور یہ تعداد اس چوکی کو فتح کرنے کے لئے کافی ہوگی۔ اور دوسرا مسئلہ ہمارے سامنے اسلحہ کا ہے، اس پر زمیندار سوچ میں گم ہو گیا اور اچانک ہی اس کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ آئی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے تھوڑی دیر بعد بولا تم جوانوں کو تیار کرو اسلحہ میرے ذمہ کر دیجیے شام تک ہر چیز کا بندوبست ہو جائے گا۔
اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا یہ شام اس کام کے لئے سب سے موزوں ہے ہے کیونکہ بارش کی وجہ سے تمام راستے دلدل میں بدل چکے ہیں۔ ان راستوں پر فرنگیوں کی موٹر کاریں کام نہ آئیگی۔ اور ان کا قلعہ قمع کرنے میں مدد ملے گی۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد جاگو شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے نکل کر اپنے گھرکی جانب مڑ گیا۔
اپنے گھر پہنچ کے دروازے پر پہنچا تو ادھر ادھر دیکھنے کے بعد گھر میں داخل ہو گیا۔ اس کو دیکھ کر اس کا پوتا دوڑتا ہوا آیا جسے جاگو نے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔ اتنے میں اس کا بیٹا بھی نزدیک آ کر مؤدبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا ا اور تھوڑی دیر بعد گرم جوشی سے مصافحہ کرنے کے بعد دونوں ایک چارپائی پر بیٹھ گئے کچھ ثانیے وہاں بیٹھے رہنے کے بعد جاگو صحن سے گزرتے ہوئے دوسری طرف بنے ہوئے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگا جو کہ کافی دنوں سے مقفل تھا اور اس پر زنگ لگا ہوا تھا تھوڑی کوشش کے بعد کھل گیا تو وہ و کچھ کہے بغیر کمرے کے اندر داخل ہو گیا چیزیں ادھر ادھر رکھنے کے بعد نیچے دبی ہوئی دو ولایتی رائفلیں نکالیں جن پر کافی زنگ لگ چکا تھا۔
کپڑے سے صاف کرنے کے بعد باہر چارپائی پر لے آیا۔ ابھی سہ پہر کا وقت ہونے کو تھا۔ کچھ دیر بعد بابا جاگو اپنے گھر سے نکلا اور زمیندار کی حویلی کی طرف چلا گیا۔ دروازے پر پہنچ کر دربان کو کہا کہ زمیندار کو میرے آنے کی اطلاع دی جائے تھوڑی دیر بعد دربان بابا جاگو کو لے کر اندر داخل ہو گیا اور مہمان خانے کی جانب بڑھنے لگا۔ مہمان خانے کے برآمدے میں زمیندار ٹہل رہا تھا۔ اس نے جاگو کو خوشامد کہا اور اس کو لے کر ایک کمرے میں داخل ہو گیا۔
یہ کمرہ خصوصی طور پر سجایا گیا تھا دیواروں پر زمیندار کے آبا و اجداد کی ہاتھ سے بنی ہوئی تصاویر آویزاں تھیں۔ ساتھ ہی لکڑی کی بنی ہوئی کرسیاں اور پلنگ بچھے ہوئے تھے۔ یہ کمرہ خاص مہمانوں کے لیے مختص تھا۔ زمیندار نے جاگو جو ایک طرف کرسی پر بیٹھنے کی گزارش کی اور خود بھی پاس بیٹھ گیا۔ پھر کچھ یوں گویا ہوا۔ کیا آپ کے نوجوان امشب اس نیک فریضہ کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں؟ ہمارے نوجوان ہمہ وقت تیار رہیں، جاگو نے ترکی با ترکی جواب دیا۔
بات جاری رکھتے ہوئے اس نے کہا کہ آپ بس ہم سے کیا گیا اپنا وعدہ وفا کریں باقی میں جانوں اور میرے نوجوان یہ بات سننے کے بعد زمیندار کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ چھا گئی اور اس نے جب بابا جاگو کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور اسے دیوان خانے کے عقبی دروازے سے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا دروازے سے نکلتے ہی سامنے ایک برامدہ تھا جس پر سفیدی کی ہوئی تھی برامدے کے آگے دھوپ سے بچنے کے لیے کپڑے لٹکائے گئے تھے نمبردار کے پیچھے چلتے ہوئے جاگو ان کپڑوں سے گزرنے کے بعد ایک طرف بنے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوا جو کہ ایک خاص انداز میں ایک کونے میں بنایا گیا تھا کمرے کا دروازے پر بہت بڑا قفل تھا جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا تھا کہ اس میں کچھ بھاری خزانہ رکھا ہوا ہے تھوڑی کوشش کے بعد دروازہ کھل گیا اور زمیندار اس دروازے سے اندر داخل ہو گیا اور جاگو کو بھی ہاتھ سے اندر آنے کا اشارہ کیا اندر داخل ہوتے ہوئے بابا جاگو نے ادھر ادھر دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔
اس نے دیکھا کہ دیواروں کے ساتھ ولائتی رائفلیں اور دستی بم اور گولیاں ایک خاصی مقدار میں موجود ہیں جو کہ ایک پورا گاؤں تباہ کرنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتی تھیں بابا جاگو نے اپنے اوسان پر قابو پاتے ہوئے نمبردار سے التجا کی حضور یہ اسلحہ تو بہت زیادہ ہے ہمیں تو اس سے ادھا بھی مل جائے تو ہم ان فرنگیوں کو ناکوں چنے چبوا دیں خدا راضی ہو آپ سے اور بس خدائے بزرگ و برتر آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ جاگو کی اس بات پر زمیندار نے مسکراتے ہوئے بابا جاگو کی طرف دیکھا اور واپس مڑتے ہوئے دروازے کو مقفل کر دیا اور دھیمی آواز میں کہنے لگا آپ یہ اس اسلحہ کو اپنی طرف لے جانے کا کوئی بندوبست کریں اس پر بابا جاگو نے کہا کہ میں ابھی اپنے دوستوں سے ملوں گا اور رات کے اندھیرے میں ہم یہ اسلحہ یہاں سے اپنے ٹھکانے پر لے جائیں گے دوبارہ پھر اسی عقب میں بنے دروازے سے نکلتے ہوئے بابا جاگو نے جھک کر زمیندار کو سلام کیا اور وہاں سے باہر نکلتے ہوئے بازار میں اطراف کا جائزہ لینے کے بعد چلنے لگا اب بابا جاگو جان بوجھ کر ادھر ادھر گاؤں کے چکر لگا رہا تھا تاکہ فرنگیوں کے بارے میں مزید معلومات مل سکیں تھوڑی دیر بعد گشت کرنے کے بعد اس نے واپس اپنے کھیتوں کا رخ کیا اور کیچڑ سے بچتے بچاتے چلنے لگا سامنے پیپل کے درخت پر پرندے چہچہا رہے تھے کھیتوں میں ہوا چل رہی تھی گویا کہ ایک حسین منظر اس کی انکھوں کے سامنے تھا اور بابا جاگو کے اندر ایک عجیب خوشی موجود تھی اب وہ تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا کہ وہ جلد از جلد اپنے دوستوں تک پہنچ پائے اور اپنے ارادوں سے انہیں آگاہ کر سکے ابھی وہ گاؤں سے باہر نہ نکلا تھا کہ پیچھے سے اس کو ایک آواز سنائی دی اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو اس کا بیٹا دوڑا رہا تھا تھوڑی دیر تک وہ قریب پہنچ کر ہانپتے ہوئے بولا!
بابا جان ہم نے مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کیا ہے وہ بھی ساتھ لیتے جائیے اس پر بابا جاگو نے کہا کہ تم کھانا لے کر میرے پیچھے آ جاؤ مجھے ایک ضروری کام ہے اس لیے میں مزید یہاں نہیں رکھ سکتا اور یہ کہہ کر وہ کھیتوں کی طرف تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے پک ڈنڈی پر چلنے لگا تھوڑی دیر چلنے کے بعد وہ اپنے دوستوں کے پاس پہنچ گیا اس نے سب کو وہاں سب کو پایا سوائے سچا سنگھ کے اب اس نے سچا سنگھ کے بارے میں دریافت کیا تو سب حیران تھے کہ وہ بغیر کچھ بتائے یہاں سے چلا گیا ہے نہ جانے کہاں گیا ہے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے اس پر بابا جاگو نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے رحمے کو دیکھا اور کہا کہ اس وقت سچا سنگھ کہاں جا سکتا ہے؟
اس پر رحمے نے مسکراتے ہوئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا نوجوان خون ہے کچھ نہ کچھ تو ہو گا ہی۔ یاد ہے تمہیں ہم بھی جوانی میں کیا کیا گل کھلاتے تھے اس پر دونوں مسکرانے لگے اور بابا جاگو نے بیٹھتے ہوئے کہا کہ آج میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جسے سن کر آپ سب خوشی کے مارے پاگل ہو جاؤ گے لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ خبر سب سے پہلے سچا سنگھ کو سنائی جائے اس پر سب بڑی حیرت سے دیکھنے لگے اور ایک نوجوان تیزی سے بولا بابا جاگو کیا تم فرنگیوں کو اکیلا ہی بھگا کے آ گئے ہو جو اتنے خوش نظر آ رہے ہو اس پر بابا جاگو نے حقے کا کش لگاتے ہوئے اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بیٹا اس سے بھی بڑا کام کر کے آیا ہوں سنو گے تو حیران رہ جاؤ گے اس پر سب پر تجسس ہو کر بابا جاگو کی طرف دیکھنے لگے لیکن اس نے سوال داغا کہ سب سے پہلے سچا سنگھ کو میرے پاس پیش کیا جائے اس کے بعد خبر آپ تک پہنچائی جائے گی اس پر سب نوجوان بولے جناب سوچا سنگھ گاؤں کی طرف گیا ہے اور ہمارا گاؤں میں جانا خطرے سے خالی نہیں اب آپ ہی جائیے اور سچا سنگھ کو کہیں نہ کہیں سے تلاش کر کے لائیے اس پر بابا جاگو نے بغیر کچھ کہے اپنی مضبوط لاٹھی اٹھائی اور گاؤں کی طرف چل پڑا چلتے چلتے اس نے مشاہدہ کیا کہ شام کے سائے اب گہرے ہوتے جا رہے تھے پرندے اپنے کونسلوں کی طرف روا دواں تھے کہیں کوئی گاؤں کی عورت اپنے سر پہ لکڑیاں اٹھائے گاؤں کی طرف پلٹ رہی ہے تو کہیں کسان اپنی بکریوں اور بھینسوں کے ساتھ گاؤں کا رخ کر رہا ہے البتہ عجیب موسم تھا شام پر سکوت طاری تھی اور آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھا بابا جاگو قریب پہنچا تو اس نے پیپل کے درخت کے نیچے دو لوگوں کو بیٹھے دیکھا۔
وہ ان کے قریب ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے دونوں صاف نظر آنے لگے اس نے دیکھا کہ ایک نوجوان اور دوسری دوشیزہ پیپل سے پیٹھ گائے بیٹھے کچھ باتیں کر رہے ہیں بابا جاگو ان کی باتیں سننے کی کوشش کرنے لگا لیکن قوت سماعت جواب دے گئی جس کی وجہ سے اسے سننے میں پریشانی ہوئی اور جب قریب سے دیکھا تو وہ نوجوان سچا سنگھ ہی تھا بابا جاگو دور ٹھہر کر سچا سنگھ کے آنے کا انتظار کرنے لگا ہے تھوڑی دیر بعد نوجوان وہاں سے اٹھا اور اس عورت کو گاؤں کی طرف جاتے ہوئے دیر تک دیکھتا رہا اور دوبارہ پھر اپنی بندوق سنبھالتے ہوئے جاگو کے کمرے کی طرف جانے والے راستے پر چل پڑا تھوڑی دور پہنچنے کے بعد اسے جاگو نے روک لیا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا بیٹا کہاں چلے آئے تھے تمہیں پتہ ہے گاؤں میں آنا تمہارے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے ہمیں تمہاری اشد ضرورت ہے میں تمھارے لیے ایک بڑی خبر لایا ہوں اور شرط یہ ہے کہ یہ خبر میں سب کو تمہارے ساتھ سنانا چاہوں گا جب وہ بابا جاگو کے کمرے پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ سب کھانے میں مصروف تھے۔
رحمے نے نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ہاں آؤ ہمارے ساتھ کھانے میں شامل ہو جاؤ او تو وہ بھی کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے گئے تھوڑی دیر کے بعد جب سب کھانے سے فارغ ہوئے تو جاگو کی طرف طرف دیکھتے ہوئے سب نوجوان کہنے لگے اب ہم سے زیادہ انتظار نہیں ہوتا براہ کرم ہمیں اس اچھی خبر سے آگاہ فرمائیں اس پر جاگو نے نے خوش ہوتے ہوئے کہا کہا کہ زمیندار نے ہماری مدد کرنے کی حامی بھر لی ہے اور ایک بڑی مقدار میں اسلحہ کی فراہمی بھی یقینی بنائی ہے اس طرح ہم اپنے مقصد کے لیے لیے کامیاب ہو سکتے ہیں۔
یہ سن کر کر چند دوستوں نے تشویش کا اظہار کیا اس پر بابا جاگو نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے اب ہمیں زمیندار کی مدد سے ان فرنگیوں کو کو یہاں سے در بدر کرنا ہو گا وگرنہ یہ ہمارا سارا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیں گے اس اس سچا سنگھ تھوڑی دیر دیر سوچنے کے بعد بولا تو پھر ہمیں اسلحہ اور بندوق وہاں سے اٹھا کر کسی اور محفوظ مقام پر منتقل کر دینی چاہیے تاکہ ہم ہر قسم کے حملے کے لیے تیار ہو جائیں اس بات پر باقی سب نے بھی اس کی رائے میں رائے ملائی، بابا جاگو، چند اور نوجوانوں کو لے کر کر گاؤں کی طرف طرف چل پڑتا شام کے سائے مزید گہرے ہو چکے تھے طرف گہری خاموشی چھا چکی تھی جھینگروں کے بولنے کی آوازیں مسلسل سنائی دے رہی تھی چلتے چلتے جب وہ گاؤں کے قریب پہنچے تو سچا سنگھ گھومتے ہوئے بولا اس سے آگے جانا میرے لیے خطرناک ہو سکتا ہے میں یہاں پر تمہارا انتظار کروں گا اور تم جلد از جلد وہ سارا سامان مجھ تک پہنچ جاؤں او اس بات پر پر سب نے اتفاق کیا تو بابا جاگو چند نوجوانوں کو لے کر گاؤں میں داخل ہو گیا سبھی نے اپنی پگڑیوں کے شملوں کی مدد سے چہرے چھپا لیے۔
اب تک مکمل اندھیرا چھا چکا تھا۔ گاؤں کی گلیوں میں سناتا چھاپا ہوا تھا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ وہ سب احتیاط سے زمیندار کی حویلی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے حویلی کے سامنے شیشم کے جھکے ہوئے درخت تھے جاگو نے سب کو ان شیشم کے درختوں تو میں چھپا دیا اور خود اطراف کا جائزہ لینے کے بعد نمبردار گھر کی حویلی کے مرکزی دروازے کی طرف پڑھنے لگا، تھوڑی دیر بعد وہ دروازے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ ادھر ادھر دیکھا ہر طرف اندھیرا تھا اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اس نے آہستہ سے دروازہ پر دستک دی اندر سے دربان نے استفسار کیا کون ہے؟
جاگو نے کہا کہ نمبر دار کو خبر دو بابا جاگو تم سے ملنے آیا ہے ہے تھوڑی دیر انتظار کے بعد حویلی کا مرکزی دروازہ کھلا اندر سے ایک پہرے دار لالٹین ہاتھ میں پکڑے باہر نکلا اور جاگو کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کر کے واپس اندر داخل ہو گیا۔ بابا جاگو اس کے پیچھے چلتے ہوئے ہوئے سامنے والے مہمان خانے میں جا پہنچا جہاں پر اس کی زمیندار سے ملاقات ہوئی تھی۔ زمیندار ان کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔
اسے دیکھتے ہی زمیندار بولا بولا آپ تو اکیلے ہی آ گئے ہیں ہیں باقی دوستوں کو بھی ساتھ لے آتے اسلحہ کافی مقدار میں ہے ہے آپ اکیلے نہیں لے جا سکیں گے اس پر بابا جاگو نے کہا کہ میرے دوست میرا انتظار کر رہے ہیں ہیں آپ جلد از جلد اپنا وعدہ وفا کریں تاکہ ہم اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشش جاری کر سکیں زمیندار مسکراتے ہوئے اٹھا اور اور سارا اسلحہ ان کے حوالے کر دیا جاگو نے سارا اسلحہ اپنے دوستوں تک پہنچایا جو ابھی تک انھی درختوں کے نیچے اس کا انتظار کر رہے تھے
تقریباً نصف شب گزر چکی تھی انھوں نے اسلحہ وہاں سے اٹھایا اور واپس کھیتوں کی طرف چل پڑے۔ سچا سنگھ ابھی بھی گاؤں کے باہر انتظار کر رہا تھا انہیں دیکھتے ہیں گویا ہوا ہوا کہ کافی وقت لگا دیا میں یہاں پر پریشان ہو رہا تھا۔ سب دھیمی آواز میں باتیں کرتے ہوئے واپسی کی طرف چل پڑے اس وقت تقریباً رات کا تیسرا پر شروع ہونے کو تھا بارش کی بوندیں بھی گر رہی تھیں اس پر پر بابا جاگو نے کہا کہ کہ آج کی رات حملہ کرنا بہتر نہیں البتہ کل کی رات ہمارے لیے بہترین ثابت ہو سکتی ہے ہے اس لیے کل تک کا انتظار کیا جائے مگر جوشیلے نوجوان یہ نہیں چاہتے تھے کہ کہ ایک دن بھی انتظار کیا جائے سب نے نے اسی وقت حملہ کرنے کا کا تہیہ کیا، مگر وہ رحمے اور جاگو کے کہنے پر ٹل گئے۔
اس وقت پو پھٹ رہی تھی تھی اور صبح کے آثار نمودار ہو رہے تھے تھے تو سب نوجوانوں نے نے چلے جانے کا ارادہ کیا اور تھوڑی دیر بعد اپنے گھوڑوں کو لے کر اسی پگڈنڈی پر روپوش ہو گئے گئے جس سے وہ آئے تھے تھے اگلے دن کی شروعات ہو گئیں اور اور معمول کے مطابق تمام گاؤں والے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے با بے جاگو نے گاؤں کا رخ کیا اور دن بھر گاؤں میں میں ادھر گھومنے کے بعد بعد شام کو واپس اپنے اپنے کمرے کی طرف صرف چل پڑا وہاں پہنچ کر اس نے نے دیکھا کہ تمام نوجوان وہاں موجود تھے جو کافی جوش نظر آ رہے تھے تھے اب ان کی تعداد تقریباً بیس تھی اسی سب نے نے چوکی پر حملہ کرنے کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تو بابے جاگو نے نے کہا ہمیں دو حصوں میں بٹ کر حملہ کرنا ہو گا کا ایک حصہ آگے اور دوسرا پیچھے رہے گا۔ حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا ہمیں اپنے عقب کو مضبوط کرنا ہو گا۔ اگلے دستے کی کمان میں خود اور دوسرے کی سچا سنگھ سنبھالے گا۔
تھوڑی دیر بعد تمام اسلحہ سب نوجوانوں میں تقسیم کر دیا گیا کیا اور وہ وہ چوکی پر حملہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے۔ تھوڑی دیر بعد چوکی طرف جانے والے راستوں تو کا جائزہ لینے کے لئے اور چند دوستوں کو بھیج دیا۔ کافی وقت کے بعد واپس آئے اور نوید سنائی کہ راستے صاف ہیں ہمیں حملہ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی سب نوجوانوں نے مل کر کر تہیہ کر لیا اور چوکی کی طرف بڑھنے لگے۔ پہلے سے ہی کی گئی منصوبہ بندی کے تحت تمام نوجوانوں کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیا گیا پہلے دستے کی کمان سچا سنگھ اور دوسرے کی بات جاگو کے ہاتھ میں تھی اسی دستے میں رحما بھی شامل تھا۔ اس طرح وہ چوکی کے بہت قریب پہنچ گئے گئے لیکن اس وقت نصف شب کا وقت تھا
چوکی کے دروازے پر ایک پہرہ دار پہرہ رہا تھا جس نے سرخ رنگ کی فرنگی وردی پہن رکھی تھی۔ سچا سنگھ اور اس کے ایک ساتھی نے مل کر اسے ٹھکانے لگانے کے بعد بعد چوکی کے اندر اندر داخل ہو گئے گئے مگر وہ ششدر رہ گیا کہ کہ چوکی بالکل خالی تھی اس طرح انہوں نے سارے دوستوں کے بلایا اور چوکی کے عین وسط میں پہنچ گئے گئے تو اچانک ایک طرف سے گولیوں کی آوازیں آنے لگی تھوڑی دیر بعد ان پر چاروں طرف سے گولیاں برسنا شروع ہوگی۔
سب نے ادھر ادھر پناہ لینے کی کوشش کی جس میں بیشتر کامیاب ہو گئے اور آنے والی گولیوں کے جوابی فائر کرنے لگے اس طرح دونوں طرف سے جانوں کا ضیاع ہونا شروع ہو گیا۔ گولیوں کا یہ تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا مگر سچا سنگھ اور بابا جاگو کے کئی دوست شہید ہوچکے تھے اس پر کچھ دوست جان بچانے کی تجویز بھی پیش کر رہے تھے اس پر سچا سنگھ اور جاگو نے تجویز رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ میدان سے بھاگ کر نہیں جا سکتے البتہ جو جانا چاہتے ہیں بخوشی جائیں۔ اس طرح کافی دیر بعد گولیوں کا تبادلہ رک گیا مگر وہ اب بھی چوکی کے اندر تھے اور محصور ہو چکے تھے۔
تھوڑی دیر بعد دو بارا حملہ ہوا جس کے اختتام پر بابا جاگو، سچا سنگھ، رحما اور پانچ دوسرے نوجوان قیدی بنا لیے گئے۔
فرنگی سپاہیوں نے ان کو زنداں میں بند کر دیا اور چوکی میں موجود لاشوں شناخت کرنے میں لگ گئے۔ دن کی روشنی زنداں میں بنے ہوئے روشندان سے آنے لگی جو ان کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتی تھی۔ اسی طرح دن کے اختتام تک ان کو باہر کی دنیا کا کچھ علم نہ ہوسکا۔ شام ہوتے ہی زنداں میں پھر سے اندھیرا چھانے لگا۔ پہرہ داروں نے لالٹین روشن کیں اور واپس چلے گئے۔ تھوڑی دیر تک حوالات میں مکمل اندھیرا چھا چکا تھا۔ کچھ ثانیے بعد زنداں کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو سب انہماک سے اس دروازے کو دیکھنے لگے تھوڑی دیر بعد فرنگی سپاہی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لیے ان کی طرف بڑھے۔
سب کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی گئی اور کچھ دیر بعد ان کو زنداں سے نکال کر ایک کمرے میں لایا گیا جہاں پر اک عجیب منظر تھا جس کو دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی انھوں نے دیکھا کہ سامنے میز پر رکھی ہوئی شطرنج پر ایک فرنگی عہدیدار اور ساتھ میں ایک اور شخص موجود تھا جو بڑے انہماک سے چالیں چل رہے تھے۔
تھوڑی دیر کے بعد شطرنج کو ایک طرف کرتے ہوئے وہ افسر اٹھ کر ان کے قریب آیا اور ان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تم سب بہت بہادر ہو تمہیں علم ہے کہ تمھارے مٹھی بھر لوگوں نے میرے پچاس سپاہی شہید کر دیے ہیں مگر تم سب میں ایک خامی ہے کہ تم اپنے ہمراز غلط چنتے ہو۔ اتنی دیر میں شطرنج کے میز پر بیٹھا ہوا شخص وہاں سے اٹھ کر اس عہدے دار کے قریب آ گیا۔ اس نے اپنی پگڑی کے شملے سے چہرہ چھپا رکھا تھا۔ جب اس شخص نے چہرے سے شملا ہٹایا تو سب کی حیرت گم ہو گئی کہ وہ شخص ان۔ کا مدد گار زمیندار ہی تھا۔ جو ان کو دیکھتے ہی بے تحاشا ہنس پڑا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے افسر نے کہا کہ آج تمھاری اس سر زمین پر آخری رات ہے کل کا سورج تم کہیں اور دیکھو گے۔ اس پر افسر کے حکم پر سب کو دو بارا حوالات میں بند کر دیا گیا۔ حوالات کی دیوار سے سر لگاتے ہوئے بابے جاگو کی آنکھوں سے آنسوں کی لمبی قطاریں جاری تھیں۔ اور زبان پر بس ایک ہی جملے کا ورد تھا کہ
”ہمیں اپنے ہمراز سوچ سمجھ کر بنانے چاہئیں“ ۔ ہائے میرے ہمراز!
رات کے آخری پہر میں ان سب بہادروں کو اندھیری اگر انجان راہوں پر جلا وطن کر دیا گیا، اور صبح کی روشنی گاؤں اور اس کے مضافات کے باسیوں کے لیے قیامت صغرا کا روپ دھار کر آئی۔

