پرویز خٹک فارمولا
پرویز خٹک کو اپنی زندگی کے معرکوں کا معرکہ درپیش ہے۔ خٹک صاحب اپنے فرزندان کے ساتھ اپنی زندگی کے مشکل ترین الیکشن میں کھود چکے ہیں کچھ اس طرح کہ ایک جانب انہیں تحریک انصاف کا چیلنج درپیش ہے اور دوسری جانب ان کے برادر خورد ان کی مخالفت میں کمر کس جے یو آئی کا مورچہ سنبھال چکے ہیں
نوشہرہ کی سیاست ذرا مختلف ہے۔ خٹک اور غیر خٹک میں تقسیم اس علاقے میں زیادہ تر خٹک ہی اسمبلی پہنچتے آئے ہیں۔ بینظیر بھٹو نوشہرہ کو منی پارلیمنٹ کہتی تھی۔ قاضی حسین احمد، اجمل خٹک، نصیراللہ بابر، مولانا عبدالحق، سرتاج عزیز، نصراللہ خٹک، اسلم خٹک، میاں افتخار اور پرویز خٹک ان کئی سیاستدانوں میں چند ہیں جنہوں نے اعلیٰ ترین سطح پر پاکستانی سیاست میں اپنے اثرات ثبت کیے ۔
نوشہرہ کی موجودہ سیاست پر عرصہ دراز سے پرویز خٹک چھائے ہوئے ہیں۔ نوے کی دہائی میں صوبائی اسمبلی کی نشست دو بار جیتنے اور اتنے ہی بار ہارنے والے پرویز خٹک نے 1997 کے بعد اپنی سیاست کو ایک نیا رخ دینا شروع کیا۔ جب تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہوئی تو خٹک صاحب ہوا کا رخ بھانپتے ہوئے تحریک انصاف کے ہراول دستے میں شامل ہوئے۔ سیاست کچھ لو کچھ دو کا نام ہے، خٹک صاحب نے جب اپنا تجربہ اور حلقہ عمران خان کے قدموں میں رکھا تو ساتھ ہی نوشہرہ کے تمام حلقے عمران کی جیب سے نکال کر اپنی مٹھی میں رکھ لئے۔ عمران خان کو وزیراعظم بننا تھا اور چونکہ تحریک انصاف کے ناتجربہ کار نوجوانوں میں سوال کرنے کی صلاحیت نہیں تو چل سو چل کے مصداق پرویز خٹک نے اپنا پورا خاندان اسمبلی پہنچا دیا۔
اول نوشہرہ اور بعد ازاں پورے پختونخوا کے انتخابی سیاست میں میں اپنی افادیت بڑھانے کے بعد خٹک صاحب نے پی ٹی آئی میں ایک پی کا اضافہ کر کے اپنی جماعت بنا لی ہے۔ خٹک صاحب نوشہرہ سے باہر نکل کر پختونخوا کے طول و عرض میں پرانے ممبران اسمبلی کو گھیر گھار کر اپنی جماعت میں شامل کر رہے ہیں۔ نوشہرہ میں ان کے فرزند اسحق خٹک دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور سالہاسال کی محنت سے بنے اپنے والد کے کارکنوں کو فعال کیے ہوئے ہیں۔
پرویز خٹک کے پاس نوشہرہ میں پاپولر ووٹ بالکل نہیں ہے لیکن نوشہرہ کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں ان کے پاس کام کے بندے موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اور خٹک صاحب کے تعلقات میں بہت کم اتار چڑھاؤ آیا ہے، انہوں نے ہمیشہ اپنا تعلق برقرار رکھا ہے، ہر حکومت میں پرویز خٹک نے ان کے کام کیے ہیں اور ان لوگوں کو پتہ ہے کہ پرویز خٹک کی گاڑی چلے گی تو ان کی زندگی کی گاڑی بھی رواں دواں رہے گی۔
انتخابی سیاست اور الیکشن ڈے کی مینیجمنٹ کو پرویز خٹک سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ الیکشن سے پہلے کی جوڑ توڑ میں بھی پرویز خٹک کا کوئی ثانی نہیں۔ کمال یہ ہے کہ ملکی سطح کی جو جوڑ توڑ پرویز خٹک کا خاصہ ہے وہی علم اور ہنر وہ دیہاتوں بلکہ گلی محلوں میں بروئے کار لاتے ہیں۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ نوشہرہ میں جو لوگ بیٹ کے نشان پر الیکشن لڑیں گے، حقیقت میں پرویز خٹک کے ہی لوگ ہوں گے۔ کمزور بندوں کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دلوایا جائے گا تاکہ مقابلہ ہو ہی نہ سکے۔
حالات جیسے بھی ہیں اگر اس الیکشن میں پرویز خٹک نوشہرہ جیت جاتے ہیں تو ان کے سیاست کے گرو ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جائے گا۔ ایسا اگر ہوا تو آئندہ کے پاکستانی سیاست بالخصوص کے پی کے کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ سیاست میں آگے بڑھنے کے خواہشمند لوگ سیاسی پارٹیوں کے بجائے خٹک فارمولا اپلائی کرنے میں دلچسپی لینا شروع کریں گے۔


