سہولتیں در سہولتیں
کون سی سہولتیں؟
کیا کیا سہولتیں؟
سکول اور ان میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد؟
اساتذہ کا کردار بمع ان کی تعداد و حاضری؟
طبی سہولیاتی سنٹرز؟
آئے قومی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور اپنے لئے نا سہی اپنوں بچوں کے لئے روش مستقبل کے ضامن بنے۔
میرا تعلق بنیادی طور پر کاکڑ خراسان سے ہے، جو کہ سینکڑوں کلومیٹر کے احاطے پر مشتمل ایک زرخیز مگر تا حال ایک بنجر تحصیل ہے، اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ بد قسمتی سے دنیا کے پسماندہ ترین قصبوں میں سے کسی ایک سے میرا بھی تعلق ہے جس کو اپنوں نے جبراً اور ظلماً پسماندہ بنایا گیا ہو، پسماندہ ترین اس لیے کہا کیونکہ یہ تحصیل جو کئی ہزار گھروں پر مشتمل ہزاروں افراد کا مسکن ہے یہاں پر جدید سہولیات مثلاً انٹرنیٹ اور باقی آسائش زندگی، ٹرانسپورٹ اسی طرح بے شمار مسائل کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگ ان سہولیات سے بھی نا محروم ہیں جو کہ ہر بنی نوع انسان کے لئے بے حد ضروری ہوتی ہیں، جسے بنیادی سہولیات (Basic amenities of life) کہتے ہیں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان۔
روٹی، کپڑا اور مکان بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے باشندے ساز و سامان اور خورد و نوش کی خرید و فروخت کے لیے بھی ژوب، قلعہ سیف اللہ اور قمر دین کا رخ کرلیتے ہیں جو کہ انتہائی کٹھن مراحل سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے، جہاں تک روٹی کی بات کی جائے تو یہاں کے باشندے مال مویشی سے جوڑے ہوئے ہیں، ان کے پیٹ کا اکثر بوجھ یہی مال و مویشی ہی پورا کر لیتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں پانی کا وافر مقدار ہونے کے باوجود بھی زمین کو اب تک قابل زراعت نہیں بنائی گئی جس کی وجہ سے اکثر لوگ غربت و مفلسی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ ایک طویل باب ہے کہ آخر کیوں ہماری زمین ناقابل زراعت ہے جس کی کئی ساری وجوہات ہو سکتی ہیں خیر اس پر بتدریج بات ہوتی رہی گی، کپڑے اور مکان کی بات اگر کی جائے تو لوگ خود ساختہ بنائی ہوئی چیزوں پر اکتفا کرتے ہیں، آج بھی اگر ان بچوں سے شہری زندگی کے متعلق کوئی سوال کیا جائے تو وہ لا علمی کا فن و مظاہرہ دکھائے گا۔
اور دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ تحصیل چونکہ کئی دہائی سے حکومتی سطح پر بھی برابر نظرانداز ہوتا جا رہا ہے وہ اس لئے کہ وہاں کوئی مناسب حکومتی میڈیکل ملے گا اور نا ہی کوئی سکول ملے گا میڈیکل نہیں ہے تو ظاہر سی بات ہے ایمبولنس کا تصور تک نہیں کیا جائے گا، نا کوئی سہولیاتی سنٹر ہے اور نا ہی کوئی اچھی خاصیت کی حامل سڑک ہے کہ لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب سے ملاتی ہو، کئی مریض خاص کر خواتین راستے میں ہی دم توڑ جاتی ہیں اور ان سب کا ذمہ دار بالعموم میں سب سے پہلے خود کو اور اہل علاقہ کو سمجھتا ہوں اور بالخصوص ہمارے بڑوں کو کیونکہ ہم نے بات کی ہیں اور نا ہی وہ قومی مسائل اور قوم کے مستقبل کے بارے میں کوئی موزوں اقدام آج تک اٹھا سکے۔

