اپنوں کے ہاتھوں بے توقیر سائنسداں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام



ترجمہ و تخلیص : نعیم اشرف (کینیڈا)

پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ شخص عبد السلام کا دماغ ایک سائنسدان کا، دل ایک شاعر کا اور شخصیت ایک صوفی کی تھی۔ ان کے رفیق کار اور ہم عصر نوبل انعام یافتہ شیلڈن گلیشو نے عبدالسلام کے لیے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا : ”وہ ایک مہربان، شفیق اور معتبر انسان تھے۔“

عبدالسلام جہاں ہمہ گیر، کثیر جہتی اور کثیر صلاحیتی شخصیت کے مالک تھے وہاں ان کے کردار کے کئی گوشے ایسے بھی تھے جن سے ان کی زندگی میں چار چاند لگ گئے۔ مگر بد قسمتی سے کچھ پہلو ایسے بھی تھے جن سے ان کی زندگی اجیرن بن گئی۔ ان کو اپنی زندگی میں کئی ایک المیوں کا سامنا تھا۔ ان کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے تھے مگر پاکستانیوں نے کبھی ان کی محبت کا جواب محبت سے نہیں دیا۔ وہ مسلمانوں سے بھی بہت لگاوٹ رکھتے تھے مگر بہت سے قدامت پسند مسلمان بھی ان سے شدید نفرت کرتے تھے۔

زندگی کے آخری چند دنوں میں ان کو پی ایس پی نامی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ جس نے ان کو کمزور، ناتواں اور معذور کر کے رکھ دیا تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت وہیل چیئر پر گزرتا۔ اپنے وطن پاکستان کے ذکر پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے۔ وہ ایک ایسے عاشق کی طرح تھے جس کی محبوبہ نے اس کو بار بار مسترد کر دیا ہو۔ دیار غیر میں رہتے ہوئے وہ اکثر سوچتے تھے : ”میں ایک ایسی عورت ہوں جو اس شخص کے ساتھ رہتی ہے جس سے محبت نہیں کرتی اور ایسے شخص سے محبت کرتی ہے جس کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتی۔“ بالآخر عبدالسلام نے اسی بد قسمت اور لاچار عورت کی مانند ٹوٹے دل کے ساتھ اس دنیا کو خیر آباد کہہ دیا۔

جب ہم عبد السلام کی پاکستان سے محبت کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کو اس رشتے کو قائم رکھنے میں بہت سے جذباتی صدموں اور سیاسی بحرانوں کا سامنا رہا۔ اور بہت سے ناہموار اور بے جان رشتوں کی طرح انھوں نے جتنا اس رشتے کو سدھارنے کی کوشش کی اتنا ہی یہ رشتہ بگڑتا چلا گیا۔ بقول شاعر:

؎ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

ان کی زندگی میں پہلا بحران اس وقت آیا جب وہ 1951 ء میں انگلستان سے اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پاکستان لوٹے۔ وہ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے اور سائنسدان کے طور پر اپنے وطن اور اس کے لوگوں کی خدمت کر کے مادر وطن کا قرض اتارنا چاہتے تھے۔ وہ پاکستان کے بچوں کو تعلیم و تحقیق کی طرف مائل کرنا چاہتے تھے۔ سلام اس بات کے خواہاں تھے کہ پاکستانی حکومت اور جامعات ان کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ان کی معاونت کریں۔ تاکہ سائنسی علوم کی ترویج کا انتظام ہو سکے۔ مگر بد قسمتی سے ان کی درخواست بار بار مسترد کر دی گئی۔ ان کے خواب بکھر گئے اور التجائیں رائیگاں چلی گئیں۔ وہ اپنی تین سالہ جدوجہد کو ثمر بار نہ دیکھتے ہوئے اتنے مایوس ہو گئے کہ انگلستان واپس چلے گئے۔

ان کا دوسرا المیہ 1974 ء میں اس وقت رونما ہوا جب حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ان کی مادر وطن ان کی مذہبی برادری سے دست بردار ہو کر ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر لے گی۔ پاکستانی حکومت نے احمدیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو غیر مسلم قرار دے کر ان لوگوں کے لیے ان کی اپنی ہی سر زمیں تنگ کر دی تھی۔ ان کا دل اس قدر ٹوٹا کہ انھوں نے بطور چیف سائنٹفک افسر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

سیاسی بحران نے شدت اختیار کر کے جذباتی بحران کی صورت اختیار کر لی یوں عبدالسلام کی مذہبی شناخت بھی خطرے میں پڑ گئی۔ جب عبدالسلام نے 1974 ء میں کینیڈا کا دورہ کیا تو وہاں ان کی ملاقات اوٹاوہ میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات خالد حسن سے بھی ہوئی۔ خالد حسن نے مجھے بتایا کہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کو داڑھی رکھے ہوئے دیکھ کر حیران ہو گیا۔ ان کے استفسار پر ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جس دن پاکستان کی قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دیا تھا انھوں نے اسی دن داڑھی رکھ لی تھی۔ ایک نفسیات دان کی نظر سے دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ عبدالسلام کے ہاں داڑھی رکھنے کی وجہ ان کے ملک کا سیاسی بحران تھا نہ کہ روحانی بالیدگی۔

ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ تیسرا المیہ اس وقت پیش آیا جب 1979 ء میں نوبل انعام ملنے کے فوراً بعد مختلف مقامات پر خطبات دینے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ وہ کچھ طلباء کا متشددانہ رویہ دیکھ کر ششدر رہ گئے جن سے وہ اتنی محبت کرتے تھے۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر درانی نے عبدالسلام سائنس اکیڈمی کے بانی زکریا ورک کو بتایا کہ ملتان میں موجود روایتی اور بنیاد پرست گروہوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی ایک جماعت نے ڈاکٹر عبدالسلام کی یونیورسٹی آمد پر اس قدر اشتعال انگیز احتجاج کیا کہ انتظامیہ کو ان کا لیکچر ملتوی کرنا پڑا۔ ان کے میزبانوں کو عبدالسلام کی زندگی خطرے میں نظر آ رہی تھی۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں جس قدر سائنسی سرگرمیوں کو ترقی دینے کی کوشش کی اسی شدت سے پاکستانی طلباء نے ان کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ اس ضمن میں پرویز ہود بھائی نے اپنا تجربہ ان الفاظ میں بیان کیا:

”میں قائداعظم یونیورسٹی میں 1973 ء سے پڑھا رہا ہوں۔ سلام نے کبھی ہماری یونیورسٹی کا دورہ نہیں کیا تھا۔ میں ایک بات واضح کر دوں کہ اس کی وجہ مدرسین جامعہ کی کوتاہی نہیں تھی۔ 1979 ء میں جب ان کو نوبل انعام سے نوازا گیا تو شعبۂ طبیعات کے متعدد اساتذہ ان کو سمپوزیم کے لیے قائداعظم یونیورسٹی میں بلانا چاہتے تھے۔ مگر جامعہ کے کچھ طلباء کی طرف سے جن کا تعلق ایک ’بنیاد پرست سیاسی جماعت‘ سے تھا یہ دھمکی ملنے کے بعد کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی کسی سمپوزیم میں شمولیت کی صورت میں اس محفل کو سبوتاژ کر دیا جائے گا۔ دعوت نامہ منسوخ کرنا پڑا۔ طلباء کا گروہ اور اس کی پروردہ سیاسی جماعت یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک ملحد ہیں کیونکہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔“

ڈاکٹر عبدالسلام کا دل چوتھی دفعہ اس وقت ٹوٹا جب وہ وزارت تعلیم صوبہ پنجاب کی نظر میں معتوب ٹھہرائے گئے۔ اور ان کا نام پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتب سے مٹا دیا گیا جو انھوں نے پاکستانی طلباء کے لیے لکھی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک بنیاد پرست مذہبی جماعت نے وزارت تعلیم پنجاب پر یہ دباؤ ڈالا کہ سائنسی نصاب کی کتب سے یا تو ڈاکٹر عبدالسلام کا نام حذف کر دیا جائے یا یہ لکھا جائے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ یہ بات کسی المیے سے کم نہیں کہ وزارت تعلیم نے ان دھمکیوں سے خوف زدہ ہو کر مذہبی جماعت کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔

مجھے یہ جان کر بہت بے چینی ہوئی کہ پاکستان میں مذہبی عدم برداشت اس درجہ بڑھ چکا ہے کہ بنیاد پرست طاقتیں وزیر تعلیم کو دھمکا کر نصابی کتب میں تبدیلیاں کروا سکتی ہیں۔ سلام کو ان تکلیف دہ تجربات سے اس لیے گزرنا پڑا کہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا۔ جس سے تعلق رکھنے والے لوگ پاکستان میں امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا شکار ہیں۔

سلام اس وقت نہایت مشکل صورت حال میں گھر گئے جب حکومت اور پاکستانی مسلمانوں نے ان کو ”ایٹمی اسکینڈل“ میں ملوث کر دیا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ہیں مگر انھوں نے کئی ایٹمی راز غیر ممالک کو فروخت کیے تھے۔ جب کہ ایک دوسرے گروہ کا خیال تھا کہ عبدالسلام دنیا میں امن کے خواستگار ہیں اور وہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ احسن مسعود نے اسی قصے کو اس طرح بیان کیا ہے :

”ذوالفقار علی بھٹو 1971 ء سے 1977 ء تک پاکستان کے وزیراعظم تھے وہ ڈاکٹر عبدالسلام کے قدردان تھے مگر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے حوالے سے دونوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے اور نوبت قطع تعلق تک جا پہنچی۔ وجہ تنازعہ بھٹو کا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا تھا۔ سلام دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور پھیلاؤ کے مخالف تھے۔ اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا کہ پاکستانیوں کی اکثریت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ انھوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ نا کہ عبدالسلام کو، جنہوں نے منع کیا۔

سلام کو اس وقت ایک اور دل شکستگی کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے لاہور میں ایک اعلیٰ سائنسی تحقیق کا مرکز بنانا چاہا اور پاکستانی حکومت نے ان کو کسی قسم کی مالی اور اخلاقی مدد دینے سے معذرت کر لی۔ بالآخر انھوں نے مغربی حکومتوں کے کچھ نمائندوں سے رابطہ کیا جو تیسری دنیا میں تعلیم اور سائنسی تحقیق کو پروان چڑھانا چاہتے تھے۔ انھوں نے عبدالسلام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے اٹلی میں ایسا مرکز قائم کر دیا۔ ایسا ہی ایک ملک کینیڈا بھی تھا۔ خالد حسن نے کینیڈا میں عبدالسلام کی ملاقات کا حال یوں بیان کیا ہے :

”وہ کینیڈا میں یہاں کی حکومت کے ساتھ انٹر نیشنل سنٹر برائے تھیوریٹیکل INTERNATIONAL CENTRE FOR THEORITICAL PHYSICS جیسا ادارہ قائم کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنے آئے تھے۔ کیونکہ انھوں نے ایسا ہی ایک ادارہ اٹلی کے شہر ٹریسٹی میں تقریباً تن تنہا قائم کیا تھا۔ وہ ایسا ہی ایک ادارہ پاکستان میں بھی قائم کرنا چاہتے تھے بشرطیکہ پاکستانی حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کرتی۔“ (جاری ہے )

بحوالہ و شکریہ :
Book: Creative Minority, DREAMS AND DILEMMAS (Second Edition) ,
Author: Khalid Sohail MBBS, FRCP (C) , Publisher: Green Zone Publishing, Whitby, ON, Canada 2022.

Facebook Comments HS