افسانچہ: ہمارا معاشرہ


بلال نے جب یونیورسٹی سے گریجویشن کر لی تو وہ جاب ڈھونڈ رہا تھا۔ ان دنوں ملک کے حالات کچھ ٹھیک نہیں چل رہے تھے۔ بلال نے کراچی جانے کا سوچا تو اس کی ماں نے ادھر ادھر رشتہ داروں سے بلال کے لئے کرایہ اور کچھ دن رہنے کے لیے پیسے اکٹھا کیے ۔

بلال کے انکل خورشید کو جب معلوم ہوا تو دکھاوے کے لئے گھر پہنچا۔ بلال کو مشورے دیتا رہا کہ بیٹا یہ کرو، وہاں جاؤ۔ جاب مل جائے گی۔

خورشید صاحب نامی گرامی شخصیت تھے۔ کراچی میں اثر و رسوخ رکھنے والے بہت سارے دوست رکھتا تھا۔

بلال نے خورشید صاحب کی عزت میں گستاخی کر کے کہا کہ انکل اس فلاں شخص سے بات کر لو وہ مجھے آسانی سے جاب دلا دے گا۔

خورشید صاب کچھ دیر کے لئے خاموش ہو کر کہنے لگا جی ٹھیک ہے بیٹا میں کر لوں گا بات اور رخصت ہو گئے۔

رات کے وقت جب بلال بیگ تیار کر رہا تھا تو ایک اور رشتہ دار مختار کی کال آئی کہ بیٹا تمہاری ماں نے بتایا کہ تم کراچی جا رہے ہو۔

بلال نے ہاں کہنا ہی تھا کہ مختار صاب مشورے دینے لگا۔ پانچ منٹ مشورے سن کر بلال نے مختار صاحب کی عزت نفس مجروح کر کے فرمایا انکل آپ نے بھی تو کراچی میں آٹھ سال گزارے ہیں کسی سے جاب دلوانے کی بات کر لو نا۔

یہ سن کر مختار صاحب خاموش ہو گئے، بلال ہیلو ہیلو کہہ کر سمجھا کہ کال کٹ گئی لیکن دوسری طرف سے آواز آ گئی کہ ہاں بیٹا میں کچھ دوستوں سے بات کر لوں گا۔

بلال کراچی پہنچیں۔ دو تین دنوں تک جاب ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

بلال رات کو جب کمرے پہنچا تو سوچا خورشید انکل کو کال ملاؤں کہ انکل وہ آپ نے بات تو کی ہوگی تو پھر میں کل جاؤں آپ کے دوست کی طرف؟

لیکن خورشید صاب نے کال نہیں اٹھائی، بلال سمجھا شاید مصروف ہوں گے تیس منٹ بعد دوبارہ کال ملائی لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔

بلال نے مختار صاب کو کال ملائی، کہ پوچھ لوں گا کہ آپ نے اپنے دوستوں سے بات کر لی یا نہیں۔ لیکن مختار صاب بھی کال نہیں اٹھا رہے تھے۔

بلال نے کل پھر دونوں کو کال ملانے کی بارہا کوشش کی لیکن ایک بھی کال نہیں اٹھا رہا تھا۔
بلال نے ماں کو کال ملائی تو چند سیکنڈ میں کال پر دوسری طرف سے آواز آئی کہ ہاں بیٹا؟

بلال ماں سے کہنے لگا کہ ماں میں نے بہت کوشش کی لیکن جاب نہیں مل رہی۔ ماں تو ماں ہوتی ہے ماں جی نے بلال سے کہا بیٹا کوئی بات نہیں۔ واپس آ جاؤ مل جائے گی کبھی۔

بلال واپس گاؤں آ گیا۔
مسجد کے باہر خورشید صاب ملے کہ ہاں بیٹا کب آئیں؟ جاب کا کیا بنا؟
بلال خورشید کو مخاطب کرتے ہوئے جاب کون ڈھونڈ رہا تھا میں تو مجرے دیکھنے گیا تھا۔
خورشید صاب دانشمند آدمی تھے۔ خاموش ہو کر راہ فرار اختیار کر لی۔
بلال گھر کے دیوار کو ٹیک لگا کر خیالات کے ساتھ جنگ کر رہا تھا کہ وہاں مختار صاب نمودار ہوئے۔
بیٹا بلال کیا کر رہے ہو۔ جاب کا کیا بنا؟ اتنی جلدی واپس بھی آ گئے؟
بلال کہنے لگا جاب کے لئے کون گیا تھا میں تو وہاں رنڈیوں کی کوٹھوں پر حاضری دینے گیا تھا۔
مختار صاب نے اسے بدتمیز کہہ کر پکارا۔ مزید کچھ کہنے والا ہی تھا کہ بلال نے کہا چپ اور نکل یہاں سے۔

مختار صاب بھی سمجھ گیا اور سیدھا گھر آیا۔ اپنے جواں بیتے عمر سے کہا بلال سے دور رہو بہت بد تمیز لڑکا ہے۔

Facebook Comments HS