اویس اقبال بمقابلہ مفتی یاسر ندیم الواجدی
مشہور میڈیا مین اویس اقبال نے اپنے کیریئر کا آغاز پاکستان میں مشہور اسلامک سکالر جاوید احمد غامدی کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام جس کی میزبانی وہ خود کیا کرتے تھے سے کیا۔ اس میں مختلف مذہبی معاملات زیر بحث آتے تھے، سامعین میں سے کچھ لوگ سوال کرتے تھے جسے بعض اوقات من و عن اور بعض دفعہ اویس اقبال کچھ متعلقہ اضافے کے ساتھ غامدی کے حضور پیش کر دیتے تھے اور غامدی صاحب ان سوالات کی روایتی تشریح کرنے کی بجائے عقلی توجیہ کرتے اور ان سوالات کو عقلی پیرائے میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتے۔
مذہبی بنیادوں پر پاکستان کے ٹی وی چینل پر دو ہی تو ایسے پروگرام تھے جن سے عقلی رویوں کو بہت فروغ ملا اور لوگوں نے مذہبی معاملات کو مختلف زاویوں سے دیکھنا شروع کیا۔
ایک پروگرام کا نام ”غامدی“ تھا جسے اویس اقبال ہوسٹ کرتے تھے اور دوسرا پروگرام ”الف“ تھا، یہ پروگرام تو خیر اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام تھا جس میں مذہبی اسکالرز کے علاوہ سیکولر اور غیر روایتی فکر سے تعلق رکھنے والے دانشور بھی موجود ہوتے تھے، جو اپنی اپنی فکر کا نچوڑ انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ احترام باہمی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پیش کیا کرتے تھے اور کبھی کسی پروگرام میں بدنظمی دیکھنے کو نہیں ملی اور گفتگو کا ڈیکورم یا پیٹرن اتنا شاندار ہوتا تھا کہ تقریباً ہر کوئی کم و بیش اپنی فکر بڑے آرام سے پیش کر دیا کرتا تھا۔
کاش یہ مکالمے کی فضا یونہی برقرار رہتی اور ہر ایک کو اپنی اپنی فکر پیش کرنے کی آزادی ہوتی لیکن بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں ہو پایا۔
مختلف مذہبی لشکر ”سر تن سے جدا“ کے نعرے لے کر میدان میں کود پڑے جو ذرا سا بھی مختلف یا ہٹ کے سوچتا اس پر جھپٹ پڑتے تھے۔
سلمان تاثیر، مشعال خان اور ان کے علاوہ کئی دوسرے عدم برداشت اور نفرتی رویوں کی نذر ہو گئے۔ پریانتھا کمارا، مشعال خان اور تلمبہ میں قتل ہونے والا مشتاق احمد یہ تین ایسی مثالیں ہیں جنہیں اس قدر بے دردی و سفاکی سے قتل کیا گیا اور لاشوں کے اتنے ٹکڑے کیے گئے کہ انسانیت کانپ جائے اور ممکن ہوتا تو شاید زمین ہی پھٹ جاتی۔
انسان نما زومبیز کے ان رویوں کو دیکھتے ہوئے بہت سے سنجیدہ اور مکالمے پر یقین رکھنے والے علماء و دانشوروں نے چپ سادھ لی اور جاوید احمد غامدی تو چپکے سے دیار غیر جا بسے۔
ایک طرح سے مذہبی میدان بعض غیر سنجیدہ اور جنونی ملاؤں کے ہاتھ میں چلا گیا جنہوں نے اپنے سخت اور بے لچک موقف اور رویوں کی بدولت بہت سے لوگوں کو مذہب سے دور کر دیا اور اس قدر خوف کی فضا قائم کر دی کہ بعض نیوٹرل اور سادہ لوح مسلمانوں نے مساجد جانا ہی چھوڑ دیا اور گھروں میں نماز ادا کرنے کو ترجیح دینے لگے۔
اب بھلے ان کو ایسا لگے کہ وہ اس قسم کے سخت رویوں اور انسانیت سوز لہجوں سے مذہب کی کوئی خدمت کر رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، لوگوں کی ایک نمایاں تعداد مذہب بیزار ہوتی چلی جا رہی ہے۔
کووڈ 19 کے بعد کی دنیا بالکل ہی مختلف ہے، سروے یہ بتاتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران ملحدین کے یوٹیوب چینلز کو خاصا بوم ملا ہے، نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں الحاد یا تشکیکی رویے خاصے فروغ پا رہے ہیں۔ مذہبی طبقے کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ یہ پڑھنے لکھنے یا تحقیق و جستجو سے کوسوں دور رہتے ہیں اور جو کچھ بھی بنیادی سورس کے طور پر پڑھ چکے ہیں انہی بنیادوں پر لوگوں کے دین و مذہب یا خروج و دخول کے فیصلے کرتے رہتے ہیں اور ظرف اس قدر چھوٹا سا ہوتا ہے کہ ذرا سی تنقید یا مختلف سوال پر لاوے کی طرح پھٹنے لگتا ہے۔
مذہبی فکر جب انتہاؤں کو چھونے لگے تو اس کا واضح مطلب یہی ہوتا ہے کہ ان کا دامن دلیل سے خالی ہو چکا ہے تبھی تو ہتھیار اٹھانے، گالیاں دینے، زور زبردستی کرنے اور نیوٹرل لوگوں کو دائرہ مذہب سے خارج کرنے اور داروغہ بننے کی ضرورت پڑتی ہے۔
سچائی کو پہرے یا خود کو منوانے کے لیے زور زبردستی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، یہ تو جستجو و تحقیق کرنے والوں کی خضر راہ ہوتی ہے، اور جس فلسفے کو تسلیم کروانے کے لیے محافظین یا داروغوں کی ضرورت پڑ جائے تو اس کی سچائی پر درجنوں سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اب آتے ہیں ایک مشہور زمانہ مناظرے کی طرف، جس کی آج کل سوشل میڈیا پر خوب دھوم مچی ہے اور ہر کوئی فتح مبین کے ڈونگرے برسا رہا ہے، یہ مناظرہ یا مباحثہ اویس اقبال اور مفتی یاسر ندیم الواجدی کے مابین ”ایگزسٹنس آف گاڈ“ یعنی خدا کے وجود پر ہوا۔
اس گفتگو کو مناظرے کا نام اس لیے نہیں دیا جا سکتا کہ مناظرے کی اصطلاح مذہبی یا روایتی فکر میں استعمال ہوتی ہے اور یہ عقیدے کی ڈومین میں مستعمل ہے اور شروع دن سے مذہبی علماء ”مناظرہ مناظرہ“ کھیلتے آئے ہیں اور اس قسم کا رویہ جچتا بھی عقائد والوں کو ہی ہے جو اب نجانے کتنے فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک آزاد، سیکولر یا دنیا دار بندے کے درمیان گفتگو یا مکالمہ ہوتا ہے جس میں اپنی اپنی فکر کے ماحصل کو دوسروں سے سانجھا کیا جاتا ہے، جس میں ماننے یا منانے کا تو کوئی چکر ہی نہیں ہوتا۔
مکالمے کے بعد کچھ باتوں میں اتفاق ہو جاتا ہے اور کچھ میں اختلاف جوں کا توں رہتا ہے مگر کسی کو زبردستی منوانے پر مجبور نہیں کیا جاتا، اس طرح سے اویس اور واجدی کے درمیان ہونے والی گفتگو کو مناظرے کی بجائے ”انا کی تسکین“ کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔ خدا کے وجود کی بحث ایک فکری پہلو ہے جو مختلف ناموں سے ہر فکر میں زیر بحث رہا ہے اور اس پر نجانے کتنے مباحث ہو چکے ہیں لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا اور نا ہی نکلنے کا کوئی امکان موجود ہے اور اس موضوع پر مذہبی فکر کے ساتھ مناظرہ کرنا خاص طور پر ایک ایسے شخص کا جو سائنٹیفک ہو اور تحقیق و جستجو پر یقین رکھنے والا ہو اور ارتقائی مراحل کو سچ تسلیم کرنے والا ہو زیب نہیں دیتا بلکہ بہت ہی فضول اور احمقانہ سی روش ہوگی۔ جس کا قطعی طور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ جیسا کہ اس مناظرے میں بھی ہوا۔
اویس اپنے نقطہ نظر کو سائنٹیفک پیرائے میں پیش کرتے رہے اور یاسر نے بھی اپنے مذہبی یا عقیدے کی پیراڈائم میں خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔
اب بھلا عقل اور عقیدے کے بیچ کیا سمبندھ ہو سکتا ہے؟
ڈیوائن حقائق یا سچائیوں کو دنیاوی و پریکٹیکل سچائیوں کے ساتھ کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟
ایک شخص جو اپنے سچ کو ابدی اور 100 فیصد حق سچ تسلیم کیے بیٹھا ہو اور وہ بات چیت کی بجائے آپ کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے کوشاں ہو اس سے بھلا بات چیت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟
جو آپ کے ساتھ اپنی فکر یا ماحصل کو بانٹنے کی بجائے منوانے کے لیے میدان عمل میں اترا ہو اس سے ڈائیلاگ کیسے ہو سکتا ہے؟
واجدی نے تو شروع میں ہی اویس کو بتا دیا تھا کہ وہ ایک داعی کی حیثیت سے یہ مناظرہ کرنے لگے ہیں تو اسی مقام پر معاملہ صاف ہو جاتا ہے کہ یہاں معاملہ ڈائیلاگ کا نہیں بلکہ حق اور سچ کو ثابت کرنے کی ایک جنگ ہے جس کا نتیجہ خوشگوار کیسے ہو سکتا ہے؟
تو پھر دو اڑھائی گھنٹے کی لاحاصل سی گفتگو کا کیا مقصد؟
مفتی یاسر ندیم الواجدی بہت شاطر نکلے انہوں نے خدا کے وجود پر اپنا واضح مقدمہ پیش کرنے کی بجائے اویس کو ادھر ادھر بھگاتے رہے، تھوڑا تنگ کیا اور اشتعال دلانے کی کوشش کرتے رہے اور اسے خوب تھکایا اور خود مشکل ترین راہوں سے فقط ”آئی ڈونٹ نو“ کہہ کر بچتے بچاتے رہے۔
لیکن اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ اس لاحاصل سی بحث میں بھی عقل والوں کے لیے بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں اور جستجو کے شائقین یا طالب علموں کو اپنے اپنے حصے کا بہت کچھ ملا ہو گا۔
باقی عقیدے کو مکالمے میں لایا ہی نہیں جا سکتا، عقیدہ و یقین سر تسلیم خم کرتے ہوئے آنکھ بند کر کے یقین کر لینے کی دنیا ہے اور اسے مکالمے کی سطح پر لانے کا مطلب عقلی تفہیم ہو گا اور عقیدے کو عقلی بنیادوں پر ثابت کرنا تو درکنار گفتگو کا حصہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے سوالات جنم لیں گے کیا عقیدہ سوال کی چوٹ برداشت سکتا ہے؟
اس کا جواب تو مذہبی فکر ہی دے سکتی ہے، جو بات عقیدے کے ماتھے کا جھومر ہے وہی منطق و دلیل میں نقص ٹھہرتی ہے۔
اسی لیے تو عقلمندوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عقیدہ جیسے نازک موضوع پر دو عقیدہ پرست ہی گفتگو کر سکتے ہیں بھلے جیسی مرضی زبان استعمال کریں یا اشارے کنائے کریں کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وہ دونوں ایک طرح سے پیٹی بھائی ہوتے ہیں، لیکن ایک غیر روایتی شخص کا عقیدہ و یقین رکھنے والے شخص کے ساتھ مناظرہ کرنے کی کیا منطق ہو سکتی ہے وہ کم از کم ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے۔
ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ بہت کچھ عیاں ہو جاتا ہے اور جو عیاں ہوتا ہے اس میں سے ہر کوئی اپنے حصے کی خیر چن سکتا ہے اور اپنے دماغ کو وسعت دے سکتا ہے۔


