غیرت کا جنازہ


آج بہت عرصے بعد ایک دوست کی امی ملیں۔ لوگ کہتے ہیں بہت صبر والی خاتون ہیں کبھی کسی کے سامنے اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا۔ نہ دعا میں، نہ کسی بات کو یاد کر کے اور نہ ہی کوئی ایصال ثواب کی نیت سے کسی محفل کا اہتمام کیا۔ بہت کم مائیں ایسی صابر اور غیرت مند دیکھی ہیں۔ لوگ ان کے صبر اور خاموشی کی عظمت کے گن گاتے۔

نجانے وہ کیسے بیٹی کا غم ضبط کیے پھرتی تھیں۔ جس کا کوئی قصور بھی نہیں تھا۔ ماں سب جانتے بوجھتے بھی لوگوں میں ڈر کے مارے شرمندہ سی سر جھکائے بیٹھتی۔ کہیں بیٹی کا نام لے کر کوئی طعنہ نہ دے۔ اور ان پر مزید بہتان لگائے۔ اس ڈر سے وہ بیٹی کو کسی کے سامنے یاد بھی نہ کرتیں۔

ہوا کچھ یوں جب ارم کی شادی ہوئی تو کچھ دن گزرے کہ ساس نند نے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا۔ فیض تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ ماں کا راج دلارا تھا۔ اپنی عقل سے زیادہ ماں بہنوں کی عقل سے کام لیتا تھا۔ ماں بہنوں کی باتوں میں آ کر وہ ارم سے بدظن ہونے لگا۔ بلکہ اب ہاتھ بھی اٹھانے لگا۔ بات بات پہ ارم کو طعنے دیے جاتے۔ تم میں سلیقہ نہیں، پھوہڑ ہو ماں نے تربیت نہیں کی۔ وہ کوشش کرتی کہ ان لوگوں کو شکایت کا موقع نہ ملے۔

لیکن وہاں کہانیاں گھڑنے والے کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اذیت دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ بات چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑھتی آگے بڑھنے لگی تو آہستہ آہستہ گلی محلے میں پھیل گئی۔ اس دوران ارم کے والدین کی بھی پیشی لگنے لگی۔ ساس نندوں کے دل میں نجانے کیا سمایا کہ وہ اب ارم پر تہمت لگانے لگیں۔ انہیں گھر کے معمولی جھگڑوں سے سکون نہ ملا تو کردار کشی پر اتر آئیں۔ ماں باپ بیٹی کے سسرال آتے ہاتھ جوڑتے، معافی مانگتے اور بیٹی کے حق میں صفائی دیتے۔ ہماری بیٹی شادی سے خوش تھی۔ اس کا کسی اور کے ساتھ افیئر نہیں تھا۔ لیکن وہاں کوئی ماننے کو تیار نہ تھا۔ ایک نند کہتی۔ اس نے بھابھی کو کال پہ باتیں کرتا سنا ہے۔ وہ ابھی تک اس لڑکے سے رابطے میں ہیں۔ جس کو پسند کرتی تھیں۔ اس کے بعد موبائل بھی چھین لیا گیا۔

ساس کہتی نجانے کس گناہ کی سزا ملی جو ایسی بدکردار بہو ملی۔ میرے بیٹے کی زندگی برباد ہو گئی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ارم کے والدین بھی بیٹی کو کوسنے لگے۔ سچ بات بتاؤ، کیوں ہمیں ذلیل کروا رہی ہو۔ جو بات سچ ہے کھل کر بتاؤ یوں نہ خود ذلیل ہو نہ ہمیں کرواؤ۔ ورنہ تمہارا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ ارم کے پاس کچھ کہنے کو نہیں تھا۔ وہ اپنے حق میں کچھ بولنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ سب نے مل جل کر حالات ایسے بنا دیے کہ اس کی ساری ذہانت اور تعلیم کسی کام کی نہیں رہی۔

ماں باپ اس کی سہیلیوں سے رابطہ کر کے چھان بین کرنے لگے۔ لیکن انہیں کہیں سے کوئی ایسی بات سننے کو نہ ملی جو ارم کے سسرال والوں نے گھڑی تھیں۔ تھک ہار کر وہ بیٹی کو اپنے گھر لے آئے۔ جہاں اب ان کے رشتے دار باتیں بنانے لگے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ سب نے دل کھول کر اپنا حصہ ڈالا۔ کچھ کہنے لگے۔ ایسی بیٹی کو سینے سے کیوں لگا رکھا ہے۔ ہماری بیٹی ایسی ہوتی تو گلا دبا دیتے۔ زہر دے دیتے۔ ہر طرف اس بات کا شور ہونے لگا۔

دو سال پہلے آج کے دن جب ایک دوست کی کال آئی ارم فوت ہو گئی ہے۔ جلدی پہنچنا ایک گھنٹے بعد جنازہ ہے۔ تو یقین نہیں آیا کیسے ماں باپ ہیں جنہوں نے لوگوں کی باتوں میں آ کر بیٹی کی جان لے لی۔ یہ کیسی شرافت تھی جو اولاد پر بھروسا نہیں کر سکی۔ میرے بہت ضد کرنے باوجود گھر والوں نے ارم کا آخری دیدار کرنے جانے نہ دیا۔

اماں کہنے لگیں۔

ہم اپنی بیٹی کو ایسے لوگوں میں نہیں بھیجیں گے جو اپنی بیٹی کی عزت کی حفاظت نہ کر سکے۔ ایسے لوگ دوستی میں دوسروں کی بیٹیوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ ان لوگوں کے قریب سے بھی نہیں گزرنا چاہیے۔ جس سے دوستی تھی وہ رہی نہیں وہاں جا کر کیا کرو گی۔

بعد میں پتا چلا کہ ارم کی تجہیز و تکفین کا انتظام اس کے مرنے سے پہلے ہو چکا تھا۔ شاید اس لیے ایسے جنازے بہت جلد ادا کیے جاتے ہیں۔ تاکہ میت کوئی راز نہ اگل دے وہ قضائے الٰہی کا لیبل لگائے قبر میں اتار دی جائے۔ چاہے دنیا والے اصل کہانی جانتے بھی ہوں پردہ پوشی لازمی ہوتی ہے۔ یہ بھی شرافت و غیرت کا اصول ہے۔ میں نے ایسی کہانیاں اپنی اماں اور دادی سے بہت سن رکھی تھیں۔ یقین نہیں آتا تھا ایسا بھی ہوتا ہے۔ بھلا کوئی اپنی جیتی جاگتی اولاد کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔

اب بھی ایسے بہت سے غیرت مند اپنی بہنوں بیٹیوں پر اعتماد کرنے کے بجائے جلدی جنازے پڑھاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں بہتان لگانے والے اور نام نہاد عزت عزیز ہوتی ہے۔ جو حق سچ جانتے ہوئے بھی غیرت کا پلڑا بھاری رکھتے ہیں۔

کہانی وہی پرانی گھسی پٹی ہے اور انجام بھی پرانا ہے لیکن یہ کب تک چلتا رہے گا؟ یہ سب کبھی ٹھیک ہو گا بھی کہ نہیں؟ یا ہم یوں ہی جہالت کی دلدل میں پھنسے رہیں گے۔ اور عورت کو کبھی انسان سمجھیں گے بھی کہ نہیں؟

Facebook Comments HS