پہاڑوں کا عالمی دن اور پاکستان میں آنے والی ماحولیاتی تباہی
دنیا کے 27 فیصد رقبے پر پہاڑ ہیں۔ یہ پہاڑ دنیا کی 15 فیصد آبادی کا مستقل مسکن ہیں۔ ان پہاڑوں کی وجہ سے دنیا کی 50 فیصد آبادی کو پینے کا پانی میسر آتا ہے۔ اور زراعت کے لیے بھی اس کا پانی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ دنیا کی خشکی پر موجود نصف حیاتیات پہاڑوں پر بستے ہیں۔ دنیا میں ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کا سبب بھی پہاڑ ہی ہیں۔ دنیا میں ہر برس گیارہ دسمبر کو پہاڑوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ دنیا ہر برس اس دن کو نئے تھیم کے ساتھ مناتی ہے اس برس ”پہاڑی ماحولیاتی نظام کی بحالی“ کا تھیم رکھا گیا ہے اور دنیا کے ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دس برسوں میں کوشش کریں گے کہ پہاڑوں کے قدرتی ایکو سسٹم کو دوبارہ بحال کرسکیں۔
دسمبر 2002 میں اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہر برس گیارہ دسمبر کو پہاڑوں کا عالمی دن منایا جائے گا۔ جبکہ جاپان کے لوگ ہر برس گیارہ اگست کو پہاڑوں کا عالمی دن مناتے ہیں۔ اس دن جاپان کے سارے لوگ پہاڑوں کی طرف جاتے ہیں کھلی ہوا میں سانس لیتے ہیں اور فطرت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ فطرت میں وقت گزارنے سے جسمانی اور روحانی راحت اور سکون اور فرحت کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔ اس دن کے منانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ گزشتہ ایک سو برسوں میں انسان نے پہاڑوں پر موجود فطرت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور پہاڑوں پر موجود ایکو سسٹم کو انسانی یا شخصی فائدے کے لیے تباہ کیا گیا۔ جس سے ماحولیاتی تبدیلیوں نے جنم لیا اور انسان کو قدرت نے جو ماحولیاتی نظام دیا ہے اس میں خلل واقع ہونے لگا۔
پاکستان دنیا کے ان خوش قسمت ملکوں میں شامل ہے جہاں، میدانی، صحرائی، اور پہاڑی علاقے موجود ہیں۔ پاکستان میں کئی پہاڑی سلسلے ہیں جن میں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش بھی ہیں۔ دنیا کی دوسری اونچی پہاڑی چوٹی کے ٹو اور پچیس میں سے دس سب سے اونچی پہاڑی چوٹیاں نانگا پربت، گاشا بروم۔ 1، تریچمیر، راکا پوشی، براڈ پیک، وغیرہ پاکستان میں واقع ہیں۔ پاکستان میں ہر طرح کے پہاڑ ہیں۔ وہ پہاڑ جن پر جنگلات ہیں، وہ پہاڑ جو برف سے ڈھکے ہوئے ہیں اور وہ پہاڑ جہاں دنیا کے نایاب جانور اور پرندے اب بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پہاڑوں پر لاکھوں اقسام کے وہ نباتاتی پودے ہیں جو اب دنیا سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا زیادہ تر شکار یہ پہاڑی علاقے ہیں۔
خصوصاً وہ پہاڑ جہاں برف کے بڑے بڑے ذخیرے ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اور حدت بڑھنے سے بہت تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں۔ جس سے نشیبی علاقوں میں سیلابوں کا سلسلہ ہر برس اپنی شرح سے زیادہ بڑھ رہا ہے۔ قدرت کا وہ نظام جس سے انسانی بقا ان علاقوں میں ہے وہ شدت سے متاثر ہو رہی ہے۔ یہ برف کے ذخائر ہی ہیں جس کی وجہ سے ہم صاف پینے کا پانی اب تک حاصل کر رہے ہیں۔ جس تیزی کے ساتھ یہ ختم ہو رہے ہیں یا پگھل رہے ہیں اس حساب سے اگلے دو دہائیوں میں ان ذرائع سے ہم محروم ہوجائیں گے۔ اور میدانی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے چلی جائے گی۔ جس سے اس خطے میں انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے زراعت کا خاتمہ ہو جائے گا اور لوگ خشک سالی والے علاقوں سے ہجرت پر مجبور ہوجائیں گے۔ اسی سبب سے افغانستان، اور انڈیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پانی کے حصول کے لیے مزید بگڑ جائیں گے اور یہی صورتحال ایران اور تاجکستان کی افغانستان کے ساتھ ہوگی۔ اس لیے پہاڑوں پر موجود ایکو سسٹم کو برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کاربن کا اخراج زیادہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کاربن کا اخراج کم ہے لیکن اس کے ہمسایوں میں چین اور بھارت میں یہ مقدار خاصی زیادہ ہے۔ جس کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے شمال میں بڑے پہاڑی سلسلے ہیں جہاں برف کے دنیا کے چند بڑے ذخیروں میں سے کچھ واقع ہیں۔ یہ برف کے ذخیرے پاکستان کی لائف لائن ہیں۔ جو تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر ابھی سے اقدامات نہیں کیے گئے تو 2030 تک یہ برف پگھل جائے گی اور اس کے نتیجے میں جو سیلاب آئیں گے اس کی تباہ کاری کا اندازہ لگانا اس وقت ممکن ہی نہیں ہے۔ ان سیلابوں سے یہ علاقے اور نشیبی پاکستان مکمل تباہ ہو جائے گا۔ سڑکیں بہہ جائیں گی، پل ٹوٹ جائیں گے، دریاؤں اور نالوں کے اطراف میں آبادیاں سیلاب میں بہہ جائیں گی۔ اور سیلابی پانی شہروں میں داخل ہو جائے گا۔ سندھ اور بلوچستان میں اس قدر پانی جمع ہو جائے گا کہ وہاں زندگی گزارنا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔
یہ بہت ہی خوفناک صورتحال ہے۔ ہم گزشتہ برس کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھ چکے ہیں۔ ہمارے پاس نارمل حالات میں اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم لوگوں کو زندگی کے بنیادی سہولیات دے سکیں۔ جب ایسے ہنگامی صورتحال ہوگی تو ہمارا کیا حال ہو گا۔ پاکستان میں ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے۔ وہ ادارے جو اس سلسلے میں بنائے گئے ہیں وہ بھی کرپشن کا شکار ہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں آنے والے خطرہ کا ادراک نہیں کر رہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی عملی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہ ادارے عالمی اداروں کے ساتھ مل کر سال میں دس پندرہ سیمینار اور کانفرنسیں فائیو سٹار ہوٹلوں میں منعقد کرتی ہیں۔ جس کا اس مسئلے کے حل سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ مگر یاد رہے کہ اس مسئلہ سے سب سے زیادہ ہم متاثر ہو رہے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی ہم اس کا زیادہ شدت سے شکار بنیں گے۔ اس لیے دنیا سے زیادہ ہمیں فکر مند ہونا چاہئیے۔ اور اس کی شدت کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر نمائشی کاموں کی جگہ ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ پہاڑوں کا ہمیں دنیا کی طرح فائدہ اٹھانا چاہئیے، دنیا کے کئی ممالک پہاڑوں کی سیاحت سے اپنی معیشتوں کو چلا رہی ہیں۔ جبکہ ان کے پہاڑوں میں وہ سب کچھ نہیں ہے جو پاکستان کے پہاڑوں میں سیاحوں کو مل سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو اپنی آسان سیاحتی پالیسی بنانا ہوگی اور اس سلسلے میں سرمایہ کاری کے لیے لوگوں کو راغب کرنا ہو گا۔
ان پہاڑوں کو جس طرح اناڑی پن سے چند پیسوں کے لیے کھودا جا رہا ہے اس پر پابندی لگا کر، مائننگ کے عالمی اصولوں کے مطابق اس عظیم دولت سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ ان پہاڑوں میں جتنے معدنیات ہیں ان کو عالمی منڈی تک پہنچا کر ہم اپنے ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہت بہتر کر سکتے ہیں لیکن ہم جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہے۔ اس لیے کہ چند با اثر لوگوں کا کاروبار اس سے متاثر ہو گا۔ اس وقت دنیا کو اور خصوصاً چین کو جن معدنیات کی ضرورت ہے وہ ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ان معدنیات کو اپنے اصلی حالت میں لانے کے لیے ان علاقوں میں پراسیسنگ پلانٹ لگا کر اگر ان معدنیات کو عالمی منڈی میں بیچا جائے تو جو اس کی قیمت ملے گی وہ ہزار گنا زیادہ ہوگی اور اس سے ان خطوں میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوجائیں گے۔ ان پہاڑوں پر سب سے بڑا مسئلہ درختوں کی بے دریغ کٹائی کا بھی ہے جس پر قابو پانا ہو گا۔ اور ان جنگلات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ نئے جنگل اُگانا ہوں گے۔ بلین ٹری سونامی اور ٹین بلین ٹری سونامی کی طرح نمائشی اور کرپشن کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کے بجائے حقیقی معنوں میں کلسٹر بنا کر عملی طور پر ہمیں یہ کام کرنا ہو گا۔ تاکہ وہ قدرتی ماحول جسے انسانوں نے نقصان پہنچایا ہے وہ دوبارہ بحال ہو سکے اور ہم ماحولیاتی تبدیلیوں اور تباہیوں سے کم متاثر ہو سکیں۔
پہاڑ سانس لیتے ہیں، کبھی ان پہاڑوں میں جاکر ان سانسوں کو محسوس کریں، ان پہاڑوں کی آغوش میں قدرت نے سکون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ یہ پہاڑ انسان کو فطرت کی طرف بلاتے ہیں اور مشینی زندگی سے تھکے ہوئے ذہنوں کو سکون دیتے ہیں۔ دنیا کی طرح آپ خود اور اپنے بچوں کو لے کر سال میں دو مرتبہ ضرور ان پہاڑوں پر جایا کریں تاکہ اس کثافت زدہ دنیا سے دور کھلی اور تازہ ہوا میں سانس لے سکیں۔ قدرت کی بنائے ہوئے ان عظیم شاہکاروں کو دیکھ سکیں اور فطرت کو محسوس کرسکیں۔ اس لیے دنیا میں ہر برس پہاڑوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ آپ بھی دنیا کا حصہ ہیں اور انسان ہیں اس لیے جو دنیا کر رہی ہے آپ بھی اس میں شامل ہوں۔ اور اپنے بچوں کو بھی قدرت کے یہ عظیم نظارے دکھائیں۔ ورنہ شہروں میں گاڑیوں اور کارخانوں کی چمنیوں سے نکالنے والا دھواں /سموگ آپ کی سانس روک لے گی۔ دنیا پہاڑوں کے عالمی دن کو بہت ہی شاندار طریقے سے مناتی ہے اور ترقی یافتہ دنیا کے باشندے پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔ ہم ترقی یافتہ دنیا کے تمام خرافات اور خرابیوں میں ان کو ان سے زیادہ فالو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان کے اچھے کاموں میں ذرہ برابر دلچسپی نہیں لیتے۔ جس دن ہم نے ان کے اچھے کاموں میں بھی دلچسپی لینا شروع کیا تو وہ دن ہماری ترقی کا ہو گا۔


