نیدر لینڈ: سیاسی سمت کا فیصلہ ہونے کو ہے!
7 جولائی 2023 کو امیگریشن کے مسئلہ پر اختلافات پیدا ہونے کے باعث نیدر لینڈ میں قائم چار جماعتی مخلوط حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بعد ازاں، 22 نومبر کو نیدر لینڈز میں عام انتخابات منعقد ہوئے جس میں اسلام اور اقلیتوں کے سخت مخالف سیاست دان گیرٹ ولڈرز کی سیاسی جماعت پارٹی فار فریڈم ( PVV) نے پارلیمان کے ایوان زیریں کی 150 میں سے 37 نشستیں اپنے نام کر کے ڈچ پارلیمان میں دیگر جماعتوں کے مقابلے میں برتری حاصل کر لی۔ ان کی جماعت کو 25 لاکھ ووٹ ڈالے گئے جس عیاں ہوتا ہے کہ ہر چار میں سے ایک ووٹر ان کا حامی ہے۔ حالیہ انتخابات میں 26 سیاسی جماعتوں کے 1126 امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ دوسرے نمبر پر سابق وزیراعظم مارک روتاہ کی جماعت پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیموکریسی نے 24 نشستیں حاصل کیں۔ سابق حکمران جماعت کو گزشتہ الیکشن کی بہ نسبت 10 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان انتخابات سے محض چار ماہ قبل وجود میں آنے والی نیو سوشل کنٹریکٹ پارٹی نے حیرت انگیز طور پر 20 نشستیں حاصل کر کے مستقبل کی مخلوط حکومت سازی کے لئے ایک اہم جماعت کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کر لی ہے۔ اس نوزائیدہ جماعت کی مقبولیت کا راز نیدر لینڈ کے عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے والا اس کا منشور تھا جس نے حالیہ عام انتخابات میں ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بات سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پائیدار جمہوری نظام میں انتخابی منشور کس قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
اپنے روزمرہ کے معمول کے مطابق خبریں پڑھتے ہوئے جب فریڈم پارٹی کی کامیابی کی خبر اور گیرٹ ولڈرز کی تصویر میری نظر سے گزری تو مجھے ان کی تصویر سے کچھ شناسائی سی محسوس ہوئی۔ ذہن پر زور ڈالا تو بہت کچھ یاد آ گیا۔ یہ یاد آیا کہ کس طرح موصوف کی ایک ذہنی اختراع کے باعث پاکستان میں شدید بھونچال آ گیا تھا اور ملک میں پرتشدد احتجاج کا بہ ظاہر نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ تو خیریت ہوئی کہ ولڈرز کوسوں دور رہتا تھا ورنہ پاکستان میں جس طرح اس کے سر کی بولی لگ رہی تھی اس کے بعد وہ وہاں پہنچ جاتا جہاں سے کسی کی کوئی خبر نہیں آتی۔ اس تناظر میں سابق پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کا ذکر غیر متعلق نہ ہو گا جسے حال میں ہی 2018 میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے ذریعے لوگوں کو کسی کی جان لینے اور اس عمل پر اکسانے کے الزام میں ڈچ کورٹ نے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس ویڈیو میں موصوف نے گیرٹ ولڈرز کو قتل کرنے والے کو 23 ہزار ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
حالیہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت کے سربراہ گریٹ ولڈرز نے 2018 میں پیغمبر اسلام پر مبنی خاکوں کا مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد مسلم ممالک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ کئی مسلم ملکوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور بات اس نہج پر جا پہنچی کہ ترک حکومت نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا عندیہ تک دے دیا تھا۔ دیگر مسلم ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی حکومتی سطح پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ مسلم دنیا کے سخت ردعمل کے باعث اس وقت کی ڈچ حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے گیرٹ کے اس عمل کو اپنے ملک کی اعلیٰ سیاسی روایات کے منافی قرار دیا جس کے بعد ، گیرٹ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور انہیں مجوزہ مقابلے کے انعقاد کا اعلان منسوخ کرنا پڑ گیا۔ سفارتی سطح پر گیرٹ کے خلاف یہ مسلم ممالک کی بڑی کامیابی تھی۔
گیرٹ ولڈرز اسلام مخالف نظریات کے باعث مسلم حلقوں میں انتہائی نا پسندیدہ نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ 2008 میں فتنہ نامی فلم میں اسلام اور قرآن کی تشریح پیش کرنے کے بعد وہ اپنی ہر تقریر اور اب حالیہ انتخابی منشور میں باقاعدہ طور پر قرآن پر پابندی، مساجد کو بند کرنے کے ساتھ اسکارف کو ڈچ معاشرہ میں ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ اپنے ان سخت گیر نفرت انگیز نظریات کی بدولت وہ اپنے ملک کی 12 لاکھ کی مسلم کمیونٹی میں سخت نا پسند کیے جاتے ہیں۔ گیرٹ کھلے عام اسلام کو ایک فاشسٹ مذہب قرار دیتے ہیں۔
گیرٹ ولڈرز کو اپنی حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں 76 نشستیں درکار ہیں۔ وہ سیاسی مصلحت کے تحت اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور ملک کے آئین کی پاس داری بھی کریں گے۔
اس وقت نیدر لینڈ کی سیاسی جماعتوں، بالخصوص چار بڑی جماعتوں میں حکومت سازی کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔ نیدر لینڈ میں مخلوط حکومت سازی کا عمل عموماً آسان نہیں ہوتا ہے۔ اس عمل میں اکثر ہفتے نہیں بلکہ مہینے بھی لگ جاتے ہیں۔ 2021 اور 2017 کے انتخابات کے بعد مخلوط حکومتیں بنانے میں 229 اور 225 دن لگ گئے تھے۔ دیکھتے ہیں گیرٹ ولڈرز سیاسی مخالفین کو اپنے ساتھ حکومت میں شامل کرنے کے لئے کس طرح آمادہ کر سکیں گے اور ایسا کرتے ہوئے اپنے انتہائی نفرت انگیز خیالات سے کس حد تک دست بردار ہونے پر تیار ہوں گے۔ یورپ کے شان دار لبرل ملک کو انتہا پسند دائیں بازو یلغار کا سامنا ہے اور اس کی سیاسی سمت کا فیصلہ ہونے کو ہے۔ نئی مخلوط حکومت کی تشکیل کے بعد نئی سیاسی سمت کے کچھ خد و خال سامنے ضرور آ جائیں گے۔


