ناروے کا راست اقدام:چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
مقدس کتابوں کی بے حرمتی اور انہیں جلانا مذہبی منافرت پر مبنی سنگین فعل ہے، آزادی اظہار رائے کی آڑ میں اس کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ ڈنمارک اور سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے پے در پے واقعات نے ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، ایسی مذموم حرکات کا مقصد عالمی برادری کے مابین تصادم پیدا کرنا، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کو نقصان پہنچانا ہے۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی منافرت، زینو فوبیا (غیر ملکیوں سے نفرت) اور اسلامو فوبیا کی ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔
ڈنمارک میں اسلامو فوبک انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن مجید کی بے حرمتی اور انتہائی دائیں بازو کی مسلم مخالف تنظیم پیٹر یاٹرن گار لائیو کے حامیوں کی جانب سے اسلامو فوبک پیغامات والے بینرز اور قرآن سوزی کو مسلم ممالک نے نفرت انگیز جرم ’قرار دیا اور ڈنمارک حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں اور یقینی بنائیں کہ مزید ایسے واقعات سے معاشرتی ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
قرآن مجید کی بے حرمتی ایک سنگین نفرت انگیز عمل اور اسلاموفوبیا کا مظاہرہ ہے جو تشدد، نفرت اور دیگر مذاہب کی توہین کو ہوا دیتا ہے اسے آزادی اظہار رائے نہیں کہا جاسکتا۔ آزادی اظہار رائے کے دعوے کے تحت قرآن مجید کی بے حرمتی کرنا پرامن بقائے باہمی کی اقدار کے لیے خطرہ اور مغربی دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔ عقیدے، نسل یا مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کی نفرت انگیزی کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ اگست 2023 کے آخر میں ڈنمارک حکومت نے ایک بِل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا لیکن یہ مخالفین کے شدید تحفظات اور اسے حق آزادی رائے کے مخالف قرار دینے پر منظور نہ کیا جا سکا۔ تاہم ترامیم کے بعد یہ بل دوبارہ منظور ہو گیا۔ ڈنمارک کی ملکہ کے دستخط کے بعد یہ بِل قانون بن جائے گا اور مقامی میڈیا کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اِس ماہ کے آخر تک اِس پر دستخط کر دیے جائیں گے۔ اِس بِل کے ابتدائی مسودے پر سیاستدانوں، فنکاروں، میڈیا اور آزادی اظہارِ رائے کے ماہرین نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ عملی طور پر اس توہین مذہب کے قانون کا دوبارہ نفاذ ہے جسے ڈنمارک نے 2017 ء میں ختم کیا تھا۔
ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں ترامیم کے بعد اب دو بارا قرآن پاک سمیت مذہبی تحریری مواد کی بے حرمتی اور توہین کو جرم قرار دینے کا بِل پاس کر لیا گیا ہے، اِس بِل کے مطابق عوامی مقامات پر مذہبی متن کو جلانے، پھاڑنے یا اُن کی بے حرمتی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
ایک تسلیم شدہ مذہبی کمیونٹی کے لیے مذہبی اہمیت کی حامل تحاریر کے ساتھ نامناسب سلوک پر پابندی ’کے عنوان کے تحت ڈینش پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا۔ 179 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں 94 ووٹ بل کے حق، جبکہ 77 مخالفت میں آئے۔
ڈنمارک کی پارلیمنٹ نے قرآن پاک سمیت مذہبی تحریری مواد کی بے حرمتی اور توہین کو جرم قرار دینے کا جو قانون منظور کیا ہے۔ اسے ملک میں ”قرآن قانون“ قرار دیا جا رہا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔ اِسی طرح ویڈیو میں مقدس اوراق کی بے حرمتی اور فوٹیج کو آن لائن پھیلانے والوں کو بھی جیل بھیجا جائے مبصرین کے مطابق ڈنمارک نے اِس قانون کے ذریعے آزادی اظہار کے قانون اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کیا ہے، کیونکہ قرآن کی بے حرمتی کے واقعات کے خلاف دنیا بھر اور ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 21 جولائی سے 24 اکتوبر کے درمیان ڈنمارک میں 483 کتابوں یا جھنڈوں کو جلانے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ مسلم ممالک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا، مظاہرے کیے گئے، جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ ترکیہ اور سویڈن کے تعلقات میں خرابی آئی جبکہ اِن واقعات کے باعث بعض مسلم ممالک نے نہ صرف ڈنمارک اور سویڈن کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا بلکہ اِن ممالک میں سکینڈے نیوین ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ قرآن پاک کو نذر آتش کیے جانے اور بے حرمتی کے واقعات کے باعث سکینڈے نیوین ممالک میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ڈنمارک کی انٹیلی جینس سروس پی ای ٹی نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے واقعات ملک میں دہشتگردی کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔
جولائی 2023 میں عراق میں ہزاروں مظاہرین نے بغداد کے گرین زون میں ڈنمارک کے سفارت خانے کی طرف مارچ کی کوشش کی اور سویڈن کے سفارت خانے کو نذر آتش کیا گیا۔
اگست 2023 میں جب، ڈینش حکومت کی جانب سے قوانین میں تبدیلیوں کے بارے میں تجاویز پیش کی جا رہی تھیں تو وزرا کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 170 مظاہروں جن میں بیرونی ممالک میں قونصل خانوں کے باہر قرآن نذرِ آتش کرنے کے واقعات کے بعد رد عمل پر دنیا کو ایک سگنل دینا چاہتے ہیں۔
وزیر انصاف پیٹر ہملگارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں ڈنمارک اور اس کے عوام کی سلامتی کی حفاظت کرنی چاہیے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اب ہمیں ایک عرصے سے جاری منظم توہین کے خلاف بہتر تحفظ حاصل ہو۔ عملی طور پر اب مقدس اوراق یا تحریری مواد کو عوامی سطح پر جلانا، پھاڑنا یا توہین کرنا ممنوع ہو گا۔ حالیہ بل پر بھی ڈنمارک کی پارلیمان فوکیٹنگ میں گرما گرم بحث ہوئی اور متعدد اپوزیشن اراکین نے اس قانون کے خلاف تقاریر کیں۔
ڈیموکریٹس سربراہ انگیر سٹوجبرگ کا کہنا تھا کہ ’تاریخ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی اور اس کی ٹھوس وجہ بھی موجود ہے۔ بات یہ ہے کہ کیا ہم بتائیں گے کہ آزادیِ اظہار کو کتنا محدود کرنا ہے یا اس میں بھی بیرونی مداخلت ہو گی۔ خیال رہے کہ یہ قانون بھاری اکثریت سے پاس نہیں ہوا اور اب بھی حزبِ اختلاف کی جانب سے اس قانون پر تنقید جا ری ہے۔ کہ یہ قانون مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی غیر منظّم اور ناکام ریاست جیسا ہے۔ ڈنمارک کو انتہا پسندوں کے دباؤ میں آ کر یہ فیصلہ کرنے پر شرم آنی چاہیے۔ ‘ ڈنمارک کا دہشتگردوں کو پیغام ہے کہ آپ جتنے پرتشدد ہوں گے ہم آپ کو اتنا خوش کریں گے آج دہشت کی آزادی پر فتح ہوئی ہے۔ یہ بہت مضحکہ خیز ہے کہ مغربی حکومتوں نے یہ قوانین اور رعایتیں ایسی ثقافتوں اور ممالک کے لیے کی ہیں جو جواب میں صرف نفرت اور عدم برداشت دیتے ہیں۔ مغرب اسی چھری کو تیز کر رہا ہے جو خود اس کے اپنے قتل کی وجہ بنے گی۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ڈنمارک کی پارلیمان کا عقلمندانہ فیصلہ اور درست جانب ایک قدم ہے۔ مقدس کتب کی بے حرمتی تمام مذاہب کے عقائد کے خلاف ہے چاہے یہ اظہارِ آزادی رائے کے پردے کے پیچھے ہی کیوں نہ کیا جائے۔ ’مقدس کتب اور علامات کو عوامی طور پر نذرِآتش کرنا نفرت کی بنیاد پر کیے گئے جرم کے علاوہ کچھ نہیں۔
ہم یہ امید کرتے ہیں کہ دیگر ممالک بھی ڈنمارک کی تقلید کرتے ہوئے نفرت انگیز کارروائیوں کو کالعدم قرار دینے کے لیے اسی طرح کے اقدامات کریں گے۔ اس بل منظور سے بین المذاہب ہم آہنگی پیدا ہوگی اور مختلف مذہبی عقائد کے حامل لوگوں کے درمیان نفرت کے ماحول کا خاتمہ ہو گا۔ بہر حال یہ ڈنمارک کا ایک راست اقدام ہے جو لائق تحسین ہے۔ گویا ڈنمارک نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ تمام مذاہبِ کے پیروکاروں کے احساسات اور جذبات کا احترام ملحوظ رکھنا ضروری سمجھتا ہے


