مجاہد عیاش طلبا
بھائی مزے تو اس کہ ہیں، دیکھ کس طرح گوروں کے ملک میں سیر سپاٹے کر رہا ہے اور ساتھ میں مفت تعلیم وہ بھی فرسٹ کلاس یونیورسٹی میں۔ یہ مکالمہ تھا میرے ان دوستوں کا جو ایک بین الاقوامی طالب علم کی طرز زندگی کے متعلق کر رہے تھے۔ یہ ایک معمولی طرز گفتگو ہے جو عموماً بین الاقوامی طلباء کے متعلق پاکستان میں رہنے والے دوست احباب اور رشتہ دار کرتے ہیں۔
خیر یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو لوگوں کے اذہان میں نقش ہے۔ اگر آپ ان طلباء کا طرز زندگی دیکھیں تو آپ کو ایک مجاہد ان کے کردار میں نظر آئے گا۔ ایسا مجاہد جو کہ عملی طور پر ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کا خواہاں ہے، ایسا مجاہد جو چاہتا ہے کہ میری قوم اندھیروں سے اجالوں کی طرف سفر کرے، ، ایسا مجاہد جو نہیں کھاتا تو بھوک کی کسی سے شکایت نہیں کرتا، اگر کھاتا ہے تو ذائقہ کو برا نہیں کہتا، ایسا مجاہد کہ جس کی رگوں میں سے نخرہ کرنے کی نبض کٹ چکی ہے، ایسا مجاہد کہ جو یہ شکایت نہیں کرتا کہ میں تھک چکا ہوں لہٰذا میں محنت مزدوری نہیں کروں گا، ایک ایسا مجاہد کہ جس نے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے راتیں جاگیں کہ ایک دن میری آنکھوں کے سیاہ حلقے میرے وطن کے لیے وہ چراغ ثابت ہوں گے کہ جس کی تقلید نجات کا سبب ہو گی۔ ایسی نجات کہ جو بد حالی کو مار دے گی، ایسی نجات کہ جو بد نما نظام کو بدل کر ہمیشہ سلامت رہنے والے پھول کی مانند خوبصورت اور خوشبودار بنا دے گی۔ مگر مسئلہ یہ ہی ہے کہ کچھ صاحب تقویٰ و مصلا نشین صاحبان کو صرف یہ نظر آتا ہے کہ اس کے اردگرد نیم برہنہ عورتیں موجود ہیں، وہ جس اسٹور سے خریداری کرتا ہے اس پر شراب بکتی ہے، وہ جس جامعہ کا طالب علم ہے وہ بے حیائی کا مرکز ہے وغیرہ وغیرہ۔ مگر کچھ آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن کو جہاد کی جہت نظر آتی ہے اور یہ آنکھیں اس قدر خاموش زبان رکھتی ہیں کہ جون کا ایک شعر یاد آتا ہے کہ
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے ہیں زبان میں کیا؟
خیر، اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں۔ اب کچھ معاملات ایسے ہیں جن وجوہات پر ہر صورت دیار غیر میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے طلباء کو کوشش کرنی چاہیے اگر طالب علم آمادہ نہیں تو والدین کو چاہیے کہ آمادہ کریں۔ اس کے بارے میں کچھ نقاط کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے یہ ایک اہم عنصر ہے کہ ہم مشکلات سہنے کے اس قدر عادی نہیں ہوتے اور ہمیشہ ایک ہی طرز پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ ہے ”نواب زادہ“ ۔ میں اگر خود اپنی ذات کا تجزیہ کروں تو میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ جو میں اپنی زندگی تبدیلیاں فقط دو ماہ میں کر لی ہیں میں پاکستان کی ہوسٹل لائف میں پورے 6 سال نہ کر سکا۔ دیار غیر آپ کو وہ تربیتی پہلو سکھاتا ہے کہ جس کو اپنانے کے بعد آپ کم از ایک ایسے آزاد فرد کی طرح مانے آتے ہیں کہ جس کو اپنا کام خود کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی اور اندر کا خود ساختہ نواب بھی آپ اپنے ہاتھوں دفن کر دیتے ہیں۔ جو کہ آپ کی زندگی میں مثلِ عیسیٰ ؑ مسیحا ثابت ہوتا ہے۔ ”میں بھی اب کھانا اچھا پکانے لگ گیا ہوں“ باقی میں کچھ نہیں بتاؤں گا۔
میرے ساتھ اس دفعہ کوئی 50 پاکستانی بیرون ملک آئے ہیں جن میں سے 49 طلباء ایسے ہیں جو اپنی قابلیت کی بنیاد پر مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ایک جو فیس ادا کر رہا ہے وہ بھی آدھی ادا کر رہا ہے جو کہ معیار تعلیم کے مقابلے میں نہایت مناسب ہے۔ یہاں آ کر محسوس ہوا کہ تعلیم کا معیار کس جگہ وجود رکھتا ہے۔ ہم جیسے تو کبھی کبھی دنگ رہ جاتے ہیں کہ ایسے بھی پڑھنا پڑے گا یہ کبھی نہ سوچا تھا۔ اور نہ صرف ہم تعلیم مفت میں حاصل کر رہے ہیں بلکہ مقامی سفر اور رہائش کا خرچہ ہم کو یونیورسٹی کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ اور اضافی ضروریات پورا کرنے لیے روزگار کے مناسب مواقع بھی موجود ہیں۔ اگر بالفرض میں کوئی کام نہ کروں اور گھر سے اضافی ضروریات کے اخراجات لوں تو بھی پاکستان سے کم خرچہ بنتا ہے۔ میں ایک بار پھر دہراتا چلوں کہ میں آپ کے سامنے ”ٹاپ رینک“ یونیورسٹی کی میں بات کر رہا ہوں کہ جہاں تعلیم حاصل کرنا ایک نہایت مشکل ٹاسک ہے۔ اگر آپ بات کریں کم درجہ اداروں کی تو ادھر تو نہایت آسان اور اس سے بھی سستا ہے۔ لہٰذا تیاری کیجیے اور اپنی ذات کو نکھارنے کے لیے ایک قدم مزید بڑھائیے۔
ایک اور جو اہم تبدیلی آپ کی ذات میں واقع ہوتی ہے وہ یہ کہ آپ تھکنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ایک نہایت مثبت تبدیلی ہے جو آپ کو ایک منظم انسان بنانے میں کردار ادا کرتی ہے اور آپ کی ذات میں بہانہ سازی ختم ہو جاتی ہے اور آپ کو ہمت دیتی ہے کہ بہانہ ڈھونڈنے کی بجائے آپ راستہ ڈھونڈیں اور کمال یہ ہے کہ راستہ مل جاتا ہے۔ اب میں نے بھی تھکنا چھوڑ دیا ہے۔ میرا ایک دوست کہ جو بہت نازک مزاج تھا کچھ دنوں پہلے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا پچھلی دو راتوں سے وہ سویا ہی نہیں اور اس کی مستقل مزاجی دیکھ کر میں حیران تھا کہ کس لگن سے وہ اپنا کام کرنے میں مصروف ہے۔
آپ دیار غیر میں رہ کر یہ بھی سیکھ جاتے ہیں کہ ”سیکھنا کیسے ہے؟“ اس سیکھنے کو آپ ہر زاویے سے دیکھ سکتے ہیں، آیا کہ وہ سیکھنا صبر ہو، تعلیم ہو، پریکٹیکل فیلڈ ہو، سماجی سرگرمیاں ہوں، تکلفی میں اور بے تکلفی میں فرق ہو یا زندگی کا کوئی بھی پہلو جو میں ادھر بیان نہیں کر سکتا سب شامل ہیں۔
تو اس میں سستی مت کریں اگر آپ کو کچھ نئے انداز میں سیکھنے کا موقع مل رہا ہے تو ایک قدم اٹھائیے اور ملک و قوم کے لیے سیکھیے اور اس کی بنیاد پر تبدیلی کے خواب دیکھیے۔ میں اس کو بھی جہاد سمجھتا ہوں ایسا جہاد کہ جو متحرک عناصر پر شامل ہے۔


