بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 54
زاہدہ کا گھر، بہت پیارا گھر اسٹیشن سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ اس کے نیچے کی منزل میں ایک ڈرائنگ روم، ایک کمرہ اور کمرے کی بغل میں باورچی خانہ تھا۔ آخر میں ایک برآمدہ بھی تھا جسے شیشے کی دیوار سے بند کر کے لاؤنج مع ڈرائنگ روم میں بدل دیا گیا تھا۔ اس کے باہر ایک وسیع مستطیل لان تھا۔ دو کمرے اوپر کی منزل پر تھے۔ اس گھر کا ہر گوشہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ سلیقہ مندی اس کے باسیوں کا شعار ہے۔
میری مہمان نوازی کی ابتدا چائے سے ہو رہی تھی کہ سلیم آ گئے۔ وہ زاہدہ کے بلغمی مزاج کے مقابلے میں دھیمے مزاج کے آدمی تھے لیکن محبت اور اپنائیت میں۔
ع۔ ختم ہے سلسلہ مہرو وفا تیرے بعد
کی مثال تھے۔ ان کے بچوں نے بھی مجھ سے کچھ ایسی اجنبیت کا مظاہرہ نہ کیا۔ چند ہی گھنٹوں میں مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں اس خاندان کا ایک مستقل فرد ہوں۔
ہم رات دیر تک باتیں کرتے رہے۔ زاہدہ کے پاس مجھ سے کرنے کو اتنی باتیں ہوتی تھیں کہ لگتا تھا کہ مجھ جیسے سامع کو مہماں کیے اسے مدّت ہو چکی ہے۔ اس کی نہ ختم ہونے والی باتوں کے سبب، رات بہت دیر تک جاگنے کا یہ عمل تا دمِ قیام جاری رہا۔
ڈاکٹر سیموئل جانسن نے کہا تھا کہ اگر کوئی لندن سے بیزار ہے تو وہ زندگی سے بیزار ہے۔ لندن جو مغربی یورپ کا سب سے گنجان آباد شہر ہے، موسمِ سیاحت میں تو ایک میلہ گاہ کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ غروبِ آفتاب تک اس میلہ گاہ کا مرکز آکسفورڈ سٹریٹ ہوتی ہے اور شام ڈھلنے پر لیسٹر اسکوائر۔
لندن میں دو رانِ قیام، میں زیادہ تر شریکِ گروہِ عام ہی رہا۔ میری مصروفیات سیاحوں کی اکثریت سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھیں۔ آکسفورڈ سٹریٹ کے مراکزِ خریداری اور لیسٹر اسکوائر کے قہوہ خانوں کی رونق کچھ ایسی پر کشش تھی کہ کم از کم ان سے بیزاری، زندگی سے بیزاری کا ثبوت ضرور تھی۔ میکدے کی راہ سے ہو کر نکلنے سے سفرِ حیات کی طوالت بھی کیا مختصر ہوتی ہو گی کہ جیسے آکسفورڈ سٹریٹ کے مراکزِ خریداری کی راہ لینے پر دن مختصر ہو جاتا تھا۔ اس دوران لندن کا موسم اردو شاعری کے روایتی محبوب کے مزاج کی طرح اپنا رنگ بدلتا رہا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ چمکتی دھوپ میں کسی مرکزِ خریداری میں پہنچتا، لیکن جب آکسفورڈ سٹریٹ پر دوبارہ آتا تو بوندا باندی شروع ہوجاتی یوں کچھ ہی دیر پہلے کا خوشگوار موسم ہلکی سردی میں تبدیل ہو چکا ہوتا تھا۔ موسم کی اسی ادا پہ ایک پاکستانی نے کہا تھا کہ ہمارے ہاں تو چار موسم ایک سال میں ہوتے ہیں جب کہ لندن میں ایک دن میں چار موسموں سے سابقہ پڑ سکتا ہے۔
شام ہوتے ہی آکسفورڈ سٹریٹ کا سارا ہجوم پکاڈلی کے راستے لیسٹر اسکوائر کی طرف رواں ہو جاتا جہاں سینما ہال، قہوہ خانے اور تماشا گر اس کے منتظر ہوتے۔ لیسٹر اسکوائر کے تماشا گر اپنے ہاں کے مداریوں سے کچھ ایسے مختلف نہ تھے، البتہ ان کی حسِ مزاح قابلِ تعریف تھی۔ تماشے کے اختتام پر حاضرین سے مالی داد کی بھی اسی طرح توقع رکھی جاتی تھی جس طرح کہ ہمارے ہاں کا رواج ہے۔ اس مرحلے پر بہت سے تماش بین کھسکنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک ایسے ہی موقع پر انگریزوں کے نبض شناس شعبدہ گر نے یہ کہہ کر کہ جو لوگ مجمع چھوڑ رہے ہیں یقینی طور پر فرانسیسی ہیں بہت سے آمادہ بہ حرکت قدموں کو ساکت کر دیا۔
محفلِ واعظ کی طرح چونکہ آکسفورڈ کی رونق بھی تا دیر قائم رہتی تھی لہٰذا اس دوران لندن کے اہم مقامات کا نظارہ کر کے میں ایک بار پھر ادھر چلا آتا تھا۔ ان مقامات میں برٹش میوزیم، ٹرافلگر اسکوائر، بکنگھم پیلس، بگ بین، ہائیڈ پارک، سینٹ پال چرچ اور ہیرڈز وغیرہ شامل تھے۔
میں رات 9 بجے کے قریب لیسٹر اسکوائر یا پکاڈلی کے سٹاپ سے نارتھ ویمبلے جانے والی زیرِ زمین گاڑی پر سوار ہو جاتا تھا۔ اس دوران زاہدہ ایک ہی ذائقے والے مختلف کھانے تیار کر کے میرا انتظار کر رہی ہوتی۔ کھانے کے فوراً بعد زاہدہ کی طرف سے،
ع۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔
کا دور شروع ہو جاتا۔ یونیورسٹی کی اس لاپروا لڑکی کا معاملہ بوسنیا کے اس مسلمان سے مختلف نہ تھا جسے ایک دفعہ جب ہم نے رمضان میں سگریٹ پیتے ہوئے ٹوکا تھا کہ تم اچھے مسلمان ہو، رمضان کی بے حرمتی کر رہے ہو۔ تو اس نے جواب دیا تھا کہ وہ کہاں کا مسلمان ہے اسے تو سرب اور کروایٹ مسلمان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ زاہدہ کو بھی اہل انگلستان نے ایک کھلنڈری سی لڑکی سے ایک جذباتی پاکستانی اور ایک پکّی مسلمان بنا دیا تھا۔ وہ جس سکول میں پڑھاتی تھی وہاں اس کا اسلام اور پاکستان کے موضوع پر تقریباً روزانہ ہی اپنے ساتھیوں سے ٹاکرا رہتا تھا۔ ان دونوں موضوعات پر بات کرتے ہوئے اس کی جذباتی کیفیت کچھ ایسی ہوتی تھی کہ امجد اسلام امجد کا یہ مصرع یاد آ جاتا۔
ع۔ کچھ اس تیقن سے بات کرتی کہ جیسے دنیا اُسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
سلیم بھائی نے یہ پہلے دن سے اعلان کر رکھا تھا کہ دریائے ٹیمز کی سیر میں ان کے ساتھ کروں گا۔ لندن سے واپسی سے ایک دن قبل انھوں نے اسے عملی شکل دی۔ ہم پکاڈلی اسٹیشن پر اترنے کے بعد پیدل ٹرافلگر اسکوائر سے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کی عمارت کے پہلو میں ایک بجرے پر سوار ہوئے۔ یہ بجرہ یہاں سے لندن ٹاور برج تک جاتا ہے۔ دو رانِ سفر دریائے ٹیمز کے کنارے یا نواح میں واقع مختلف عمارتوں سے آپ کو روشناس کروا یا جاتا ہے۔ ہمارے بجرے پر یہ ذمہ داری کپتان از خود نبھا رہا تھا۔ وہ بڈھا ہر عمارت کو متعارف کروانے کے بعد اس کی شان میں اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ کہنا ضروری خیال کرتا تھا۔ اس کی ان موشگافیوں پر مسافروں کے بے ساختہ قہقہے وقفے وقفے سے بلند ہوتے رہتے تھے۔ ہانگ کانگ چائنا بینک کی نیچے سے لے کر اوپر تک شیشوں سے جڑی ہوئی عمارت کے تعارف کے بعد اس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اس عمارت کا نقشہ کسی Window Cleaner کی کاوش کا نتیجہ لگتا ہے جس نے اپنے ہم پیشہ افراد کو بے روزگاری سے بچانے کی بلاشبہ ایک اچھی اور کام یاب کوشش کی۔
لندن برج کا چکر لگا کر جب بجرا ساحل پر رکا تو میں نے کپتان سے مل کر اس کی ادائے خاص کی تعریف کی۔ اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور بولا
تم لوگ مجھے پاکستانی لگتے ہو۔
اس سے پہلے کہ ہم اثبات میں جواب دیتے اس کا بیان جاری رہا۔ پاکستان میں سُنی مسلمانوں کی اکثریت ہے جو چاروں خلفاء کا احترام کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے اقتدار کو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں خوب وسعت حاصل ہوئی۔ سپین بھی ان کے زیرِ نگین رہا۔ جہاں علم و فن کے میدان میں قابلِ قدر کارنامے سر انجام دیے گئے۔ لیکن یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سپین میں تمام بڑے نام ان لوگوں کے تھے جو مقامی تھے اور فاتحین کے گروہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
بڈھے کے علم میں اب فلسفے کی آمیزش ہونے لگی تھی اور جواب آں غزل کے طور پر کج بحثی کا آغاز ہونا یقینی تھا۔ لہٰذا ہم نے اُسے خدا حافظ کہا اور بجرے سے اتر آئے۔
9 مئی کی سہ پہر کو میری واپسی تھی۔ اس دن جمعۃ المبارک تھا۔ نماز جمعہ سلیم کے ہم راہ ویمبلے کی مسجد میں ادا کی۔ مسجد کی عمارت حیرت انگیز طور پر چرچ سے مشابہ ہونے پر سلیم سے جب استفسار کیا تو اس نے بتایا کہ یہ سینٹ آگسٹین چرچ کی ایک ویران عمارت تھی۔ اسے مسلمانوں نے خرید کر مسجد میں تبدیل کیا۔ گھر واپس لوٹ کر میں نے زاہدہ سے پوچھا۔
کیا تم نے اپنے مخالفین کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ کبھی مسلمانوں نے بھی اس طرح اپنی عبادت گاہ کا سودا کیا ہے جس طرح انہوں نے اپنے چرچ کا سودا کیا۔
میں بھلا اسے کیسے نظر انداز کر سکتی تھی لیکن اس کے جواب میں ایک گوری نے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ مسلمانوں نے جہاں اپنی عبادت گاہ کا کبھی سودا نہیں کیا، وہیں انہوں نے دوسروں کی عبادت گاہوں کو اپنی عبادت گاہ کے برابر درجہ بھی تو نہیں دیا۔ وہ سومنات کا مندر ہو آیا صوفیہ یا پھر سینٹ آگسٹین چرچ۔ وہ منہ لٹکا کر بولی۔
اس سہ پہر زندگی سے بھرپور لندن سے میری روانگی ہو رہی تھی اور واٹرلو سے چلنے والی یورو سٹار مجھے ایک بار پھر پیرس لے جا رہی تھی۔ زاہدہ مجھے رخصت کرتے وقت بے حد اداس تھی۔ یہ اس کی محبت کی معصومیت تھی کہ اس نے مجھے راستے کے لیے کھانا بھی بنا کر دیا کہ جیسے میں لندن سے پیرس نہیں بلکہ ہزارہ کے کسی گاؤں سے شہر کی طرف روانہ ہو رہا تھا۔
جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
تپشِ شوق نے ہر ذرے پہ اک دل باندھا


