سمجھانا نہیں انگریزی کا رعب ڈالنا ضروری ہے
قصہ مشہور ہے کہ ایک قریب الموت مریض کو تلاوت سنانے کے لئے ایک مدرسے کے طالب کو بلایا گیا تھا وہ مریض کے سرہانے بیٹھ کر زور زور سے سورۃ یسین پڑھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اہل خانہ نے دیکھا کہ مریض فوت ہو چکا ہے تو انھوں نے طالب سے کہا کہ بس کیجئے مریض فوت ہو چکا ہے۔ طالب نے جواب دیا مجھے مریض کی زندگی اور موت سے کیا لینا دینا میں تو اپنی سورۃ یسین کا گردان کر کے رٹا لگا رہا ہوں۔
مجھے یہ لطیفہ اکثر ان جگہوں پر یاد آتا ہے جہاں پشتونوں بلکہ ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ پشتونوں کے سامنے ہمارے ایلیٹ کلاس انگریزی میں تقریر فرما رہے ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ صاحب کیڈٹ کالج رزمک میں یوم والدین کی تقریب سے انگریزی میں خطاب فر ما رہے تھے۔ کیڈٹ کالج کے بچے انگریزی دان سہی کیا ان سب کے والدین انگریزی سمجھتے تھے۔ یقیناً نہیں۔ پھر والدین اور بچوں سے اپنی مادری زبان نہ سہی قومی زبان میں گفتگو کرنے کی بجائے انگریزی میں تقریر کر کے کیا حاصل کیا گیا یہ بات کم از کم میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
وزیر اعظم صاحب بیرون ملک جاکر انگریزی بولتے ہیں اچھی بات ہے۔ غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کے لئے یا کسی انگریز کو پیغام دینے کے لئے انگریزی میں بات کرنا بالکل معیوب نہیں مگر اپنے ہی پاکستانی عوام کے سامنے مقامی زبان یا پھر اردو کی بجائے انگریزی میں بات کرنا اپنی بات سمجھانے سے زیادہ عوام پر رعب جمانے کے مترادف ہے۔
گفتگو، بحث مباحثے تقریر اور خطاب کرنے کا بنیادی مقصد اپنی بات دوسروں تک پہنچانا اور سمجھانا ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے ملک چلے جائے جہاں نہ لوگ آپ کی زبان سمجھے نہ آپ لوگوں کی تو ایسی صورت میں دو آپشن رہ جاتے ہیں۔ یا آپ خاموش رہے یا پھر بولتے رہے اور اپنا مذاق بناتے رہے۔ جدید سائنسی اور ادبی دور میں اپنی مادری یا قومی زبان کی اہمیت بیان کرنا بھی غیر ضروری لگتا ہے اور چین، جرمنی، فرانس روس اور آسٹریلیا سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ وہ لوگ کسی اور زبان میں بات کرنا کتنا معیوب سمجھتے ہیں۔
مگر دوسری طرف ہم پاکستانیوں کی نفسیاتی غلامی ملاحظہ ہو کہ اکثر و بیشتر بلا ضرورت ایسی مقامات پر بھی انگریزی میں گفتگو یا تقریر جھاڑتے ہیں جہاں انگریزی میں بات کرنا ضرورت تو درکنار اپنا مذاق اڑانے کے مترادف ہوتا ہے۔ گزشتہ روز پشاور میں بھی ایک ایسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے چترال سمپوزیم کے نام سے ایک مقامی ہوٹل میں کیا تھا۔ اپنی نوعیت اور افادیت کے لحاظ سے تقریب قابل تحسین تھی۔ کیونکہ چترال جیسے پسماندہ دور دراز علاقے کے سیاحتی مواقع کو سرمایہ کاروں، سرکاری و غیر سرکاری اداروں، عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ مگر اس کی افادیت دو چند ہوجاتی اگر وزیر اطلاعات، چیف سیکرٹری اور آئی جی ایف سمیت تمام تقریریں انگریزی میں نہ ہوتی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حاضرین میں کوئی بھی انگریز نہیں تھا، بلکہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو انگریزی تقریر سننے کی بجائے آپس میں گفتگو کو ترجیح دے رہے تھے۔ کئی لوگوں کو شکوہ کنا سنا کہ یہ انگریزی میں تقریر کر کے کس کو سنانا چاہتے ہیں یا پھر ہمیں کس لئے بلایا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اگر غیر ملکی سیاحوں تک اپنی بات پہنچانا ہے تو اس کے لئے وہ آپ کی لمبی چوڑی تقریروں کو نہیں سنتے، انگریزی میں کوئی رپورٹ بنائے کوئی ڈاکومینٹری بنائے کوئی اشتہار بنائے اور اسے بیرون ملک نشر کرنے کا اہتمام کیجئے۔
مگر خدا کے لئے اپنے بے چارے غریب بلکہ نیم خواندہ عوام کے سامنے اپنی انگریزی دان ہونے کا رعب جمانے کی بجائے انہی کی سادہ زبان میں بات کیجئے تاکہ وہ آپ کی بات اور آپ کے مقصد کو سمجھ سکے۔ ورنہ ایسی تقاریب کا مقصد نشتا خوردن اور برخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔ اللہ تعالی ہمیں یہ سادہ سی بات سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


