کتابوں کا مقابلہ حسن۔ جسے ہے دماغ عزیز، وہ تو ضرور جائے گا!
ہیلن کیلر نے کیا خوب صورت بات کہی ہے کہ ”کتابیں میری ایسی ساتھی ہیں جو مجھ سے وہ باتیں کرتی ہیں، جو میں سننا پسند کرتی ہوں“ ۔ اس جملے میں پنہاں سچائی کی گواہی فقط وہی لوگ پورے تیقن کے ساتھ دے سکتے ہیں، جو کتابیں پڑھتے بھی ہیں اور انہیں خریدتے بھی ہیں۔ اگر آپ کا بھی شمار ایسے ہی چنیدہ صاحب ذوق عاشقان کتاب میں ہوتا ہے تو پھر خوش ہوجائیں کہ روشنیوں کے شہر کراچی میں کتب بینی کے شائق افراد کی ذہنی آسودگی اور فکری بالیدگی کے لیے 18 واں ”بین الاقوامی کتب میلہ“ جسے عرف عام میں ”کراچی انٹرنیشنل بک فیئر“ بھی کہا جاتا ہے ، کا ایکسپو سینٹر کی پرشکوہ عمارت میں 14 دسمبر سے باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور اب یہ 5 روزہ عالمی کتاب میلہ 18 دسمبر 2023 تک صبح 10 بجے سے رات 9 بجے تک بلا کسی وقفہ کے جاری رہے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر میں ہر برس باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہونے والا انٹرنیشنل بک فیئر کراچی کی ایک ایسی تہذیبی و ثقافتی شناخت بن چکا ہے، جس کا باذوق قارئین کو پورا سال بڑی شدت اور بے چینی کے ساتھ انتظار رہتا ہے۔ یہ انتظار قارئین کو فقط اس لیے نہیں ہوتا کہ سارا سال اچھی اور معیاری کتابیں انہیں شہر کے اردوبازار میں دستیاب نہیں ہوتیں یا پھر دنیا بھر میں کہیں بھی چھپنے والی کوئی کتاب ایک کلک پر آن لائن گھر بیٹھے منگوا نہیں سکتے۔
بلکہ بین الاقوامی کتب میلے کے سجنے کا انتظار کچھ اس لیے بھی کیا جاتا ہے کہ ایک چھت تلے لاکھوں خوب صورت اور دلکش کتابوں کا نظارہ کسی اردوبازار کی چھوٹی سی دکان یا کمپیوٹر اسکرین پر آن لائن بک اسٹور کی ویب سائٹ کھول کر کر ناممکن نہیں ہوتا۔ نیز کتاب میلے میں اپنی کتاب کی تعارفی رونمائی کے لیے خصوصی طور پر آنے والے ہر دلعزیز ادیبوں اور شاعروں سے ملنے کی ذہنی عیاشی کے ان گنت لوازمات مہیا ہونے کا لالچ بھی کتاب پرست افراد کو انٹرنیشنل بک فیئر کی سمت کشاں کشاں جانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
سچ پوچھیے تو ایکسپو سینٹر میں منعقدہ انٹرنیشنل بک فیئر کو کتاب میلہ نہیں بلکہ کتابوں کا ایک مقابلہ حسن قرار دے دینا چاہیے۔ یعنی ایک ایسی بہت بڑی جگہ جہاں ہزاروں لاکھوں کتابیں اپنے دیدہ زیب سرورق، پرکشش عنوانات اور سحر انگیز مواد سے وہاں آنے والے قارئین کو کھلے عام دعوت مطالعہ دے رہی ہوتی ہیں۔ جبکہ وہاں موجود کتابوں کے بناؤ سنگھار کے ذمہ دار پبلشرز اور بک سیلرز اپنے اپنے اشاعتی ادارے کے تحت طباعت پذیر ہونے والی کتابوں کی کی مانگ کو بڑھانے کے لیے کتب میلہ میں شریک افراد کو نت نئی اور منفرد پیشکش سے لبھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اپنے من پسند کتاب کے تخلیق کار کو ایک نگاہ، دیکھ لینے، اس کے ساتھ سیلفی بنوانے اور اس سے دستخط شدہ کتاب لینے کا نادر موقع کی دستیابی بھی ایسا کیف آور نشہ ہے جو اگر یہاں آنے والے کسی شخص کے دماغ میں ایک بار چڑھ جائے تو پھر اسے اپنی جیبیں خالی کر کے ہی یہاں سے جانا پڑتا ہے۔
یادش بخیر! کہ سابقہ روایت سے بھی کچھ بڑھ کر اس بار، انٹرنیشنل بک فیئر میں پاکستان کے تقریباً ساڑھے تین سو سے زائد پبلشرز اور بک سیلرز کے علاوہ کم و بیش 3 درجن کے قریب دیگر ممالک کے 100 سے زائد پبلشرز کی ہر موضوع پر مطبوعہ کتب کا ذخیرہ متلاشیان علم کے ملاحظہ، استفادہ اور خریداری کے لیے انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب رہے گا۔ لیکن ہمارے خیال میں مذکورہ عالمی کتب میلہ میں خوب صورت اور معیاری نئی کتابوں کی پیشکش اور فروخت کا اصل مقابلہ صرف دو پبلشروں کے درمیان ہی ہو گا۔
ایک بک کارنر جہلم اور دوسرا سنگ میل پبلشرز لاہور۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ اگر بک کارنر جہلم کے چیف ایگزیکٹیو، دو بھائی امر شاہد، گگن شاہد مذکورہ بین الاقوامی کتاب میلہ کے مہمان خصوصی ہوں گے تو وہیں دوسری جانب انٹر نیشنل بک فیئر کی صدارت کا منصب سنگ میل پبلشرز کے روح رواں افضال احمد کے پاس ہو گا۔ بک فیئر میں شریک سینکڑوں اشاعتی اداروں کے درمیان مذکورہ دو پبلشرز کی وہی حیثیت و اہمیت ہے جو کسی بین الاقوامی کھیل کے مقابلہ میں دو فیورٹ ٹیموں کی ہوتی ہے۔ بظاہر جیت کا مقابلہ سب شریک ٹیموں کے مابین ہوتا ہے لیکن دیکھنے والوں کی نگاہوں کا مرکز و محور صرف ہاٹ فیورٹ ٹیم اور دفاعی چیمپئن ہی ہوا کرتی ہیں۔ بالکل اسی مصداق جاری عالمی کتاب میلے میں بک کارنر جہلم اور سنگ میل پبلشرز کے اسٹال شائقین قلم و قرطاس کی سب سے زیادہ دست رس میں رہنے کی توقع ہے۔
دراصل سنگ میل پبلشرز لاہور کو ملک کے حالیہ تمام اشاعتی اداروں میں سب سے بڑا اشاعتی ادارہ ہونے کا اعزاز ہے۔ نیز اردو کے اکثر نامور مصنفین کی کتب کو زیور طباعت سے آراستہ کرنے کو سہرا بھی اسی پبلشنگ ہاؤس کو جاتا ہے ۔ جبکہ سنگ میل نے کلاسیکی اردو ادب کی کتابوں کو جس خوب صورتی سے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع کیا ہے، یہ اقدام بذات خود اپنی جگہ پر ایک سنگ میل ہے۔ اس لیے علمی حلقوں میں یہ ضرب المثل مشہور ہے اگر آپ کے پاس تھوڑی بہت کتابوں کا ذخیرہ بھی موجود ہے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اس میں سنگ میل لاہور سے شائع ہونے والی کتابیں شامل نہ ہوں۔
دوسری جانب شاہد حمید مرحوم کی منزل مراد، بک کارنر جہلم کی صورت میں ایک ایسا پبلشنگ ہاؤس ہے، جس نے تھوڑے ہی عرصے سینکڑوں کی تعداد میں دلکش کتابیں چھاپ کر عاشقان حرف و معنی کے دلوں پر ایسی گہری چھاپ ثبت کی ہے کہ وہ اب اپنا تعارف، اسیران بک کارنر کے طور پر فخریہ انداز میں کرواتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں مذکورہ اشاعتی اداروں نے کتاب کی اشاعت کو کاروبار سے بلند کر کے فنی مہارت کے جس اوج کمال تک پہنچا دیا ہے۔
اس کے بعد ہی ممکن ہوا ہے کہ پاکستان میں بھی لوگ نہ صرف کتاب کی طرف لوٹ آئیں ہیں بلکہ اب اچھی کتاب مہنگے دام پر خوشی خوشی خریدنے کا حوصلہ بھی کرنے لگے ہیں۔ اگر آپ نے کتاب کے نئے معیارات اور امکانات مشاہدہ کرنا ہے تو انٹرنیشنل بک فیئر میں بک کارنر جہلم اور سنگ میل پبلشرز لاہور کے اسٹال پر جانا بالکل مت بھولیے گا۔
ویسے تو انٹرنیشنل بک فیئر میں دستیاب ہر کتاب خریدنے کے ہی لائق ہے، بشرط یہ کہ وہ آپ کے ذوق مطالعہ کے مطابق ہو۔ مگر گزشتہ ایک دو ماہ کچھ ایسی کتابیں مختلف اشاعتی اداروں نے شائع کی ہیں۔ جنہیں آپ باآسانی Must Purchase کے زمرے میں نہیں تو کم ازکم Must See کی فہرست میں ضرور شمار کر ہی سکتے ہیں۔ عین ممکن ان میں سے کسی کتاب کو اپنے ہاتھ لے کر آپ کا دل اسے خریدنے کے لئے بھی للچانا شروع کردے۔ قصہ کوتاہ ”کراچی انٹرنیشنل بک فیئر“ سے لازمی خریدنے یا ملاحظہ کی جانے والی کتب میں سرفہرست معروف کالم نگار اور دانش ور، عامر خاکوانی کے منتخب کالم اور بلاگز کا چوتھا مجموعہ ”خیال سرائے“ ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ ”خیال سرائے“ کی تقریب رونمائی کراچی انٹرنیشنل بک فیئر میں ہی رکھی گئی ہے، جس میں عامر خاکوانی بھی شریک ہوں۔ یعنی اچھا موقع ہے کہ آپ یہ کتاب ان کے آٹوگراف کے ساتھ خریدیں۔ نیز معروف صحافی اور ادیب، اقبال خورشید کی نئی کتاب ”فکشن سے مکالمہ“ حقیقی معنوں میں اردو فکشن سے بات چیت کا احساس فراہم کرتی ہے۔ کتاب میں شامل 16 انٹرویوز فکشن کی وہ 16 ان کہی کہانیاں ہیں جو اردو فکشن سے محبت کرنے والے ہر قاری کو ضرور پڑھنی چاہیں۔ جبکہ کتاب ”شاہد حمید۔ اے عشق جنوں پیشہ“ داستان ہے، ایک ایسے دیوانے شخص کی جو کتابوں سے اتنی زیادہ ٹوٹ کر محبت کرتا تھا کہ آخر ایک دن خود ہی ایک خوب صورت سبق آموز کتاب میں ڈھل گیا۔ سچے عاشقان کتاب کیسے ہوتے ہیں اگر واقعی جاننے چاہتے ہیں تو یہ کتاب ضرور خریدیے گا۔
جدید فکشن کا داستان گو، اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ کیسی کتاب ہوگی۔ اس کا اندازہ آپ مستنصر حسین تارڑ کی اس رائے سے خود ہی لگا لیں کہ ”اسامہ بھی جوناتھن لونگ سٹن سیگل کی مانند پرواز کی طے شدہ حدوں سے پار جانا چاہتا ہے۔ ناول کی جو مقید حدود ہیں ان کو بھی عبور کرنا چاہتا ہے۔ اگر بڑی نثر بے یقینی کو عارضی طور پر معطل کر دیتی ہے تو اس کی ایک منفرد مثال اسامہ صدیق کا ناول“ غروب شہر کا وقت ”ہے“ ۔ نیز سمندر پار سے شاہ کار ناول ”اینا کر یننا“ ، جو ٹالسٹائی کے قلم کا معجزہ ہے اور جسے انگریزی سے اردو کے حسین و جمیل قالب میں مترجم، تقی حیدر نے ڈھالا ہے، خرید کر پڑھنے اور بک شیلف میں محفوظ کر کے رکھنے والی کتاب ہے۔
جبکہ صد شکر کے احمد فراز کا بیش قیمت شعری سرمایہ ”یہ میری غزلیں، یہ میری نظمیں“ کے عنوان سے تازہ کلیات ایسے باوقار اور دیدہ انداز میں شائع ہوئی ہے کہ جی خوش ہو گیا ہے۔ شاعری سے محب کرنے والے احباب کے لیے احمد فراز کی یہ مکمل ترین شعری کلیات کسی گراں قدر تحفے سے کم نہ ہوگی۔ علاوہ ازیں معروف محقق عقیل عباس جعفری نے ”معتوب کتابیں“ کے عنوان سے ایک انتہائی دلچسپ اور تحقیقی کتاب اپنے ذاتی اشاعتی ادارے ورثہ کے تحت شائع کی ہے۔
جس میں ان کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کبھی نہ کبھی معتوب قرار دے کر سخت پابندیوں کی زد میں رہیں تھیں۔ جبکہ بچوں کے مشہور قلمکار، ڈرامہ رائٹر، ابن آس محمد کی اسکرپٹ رائٹنگ کی تکنیک پر تصنیف کی گئی کتاب ”ابن آس محمد کے مشہور ڈرامے“ ان نوآموز ادیبوں کے لیے خاصے کی چیز ہے، جو ڈرامہ لکھنا چاہتے ہیں یا پھر اچھا ڈرامہ لکھنے کی تکنیک سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں۔ مذکورہ کتاب میں اسکرپٹ فارمیٹ، کیریکٹر ڈیویلپنگ، ڈائیلاگز کی تکنیک اور اسکرپٹ کرافٹنگ کے حوالے سے نہایت مفید اور تفصیلی مضامین موجود ہیں۔ معروف فلسفی سقراط نے کہا تھا کہ ”اپنا وقت کتابوں کے مطالعے سے اپنی لیاقت بڑھانے میں صرف کرو، اس طرح تمہیں وہ چیزیں باآسانی حاصل ہوجائیں گی، جس کے حصول کے لیے دوسروں کو محنت شاقہ کرنا پڑتی ہے“ ۔


