اپنا بوجھ خود ڈھونڈیے


ایک وقت تھا کہ لوگوں کو اپنے عزیز و اقرباء کی خبر بھی تاخیر سے ملتی تھی۔ اب ایک دور ہے کہ ماڈرن ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا حقیقتاً ایک ’گلوبل ویلج‘ بن گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں دنیا کے کسی بھی ایک حصے میں اگر کوئی اہم بات، کوئی خاص واقعہ یا کوئی غیرمتوقع عمل وقوع پذیر ہو جائے تو اگلے چند ہی منٹوں میں اس کی خبر دنیا کے دوسرے کونوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اور موبائل فون میں لگے کیمرے نے اس ترقی کی ایسی معراج بخشی ہے کہ خبر نہ صرف سنی جا سکے بلکہ یہ کیمرہ آنکھوں دیکھا حال ایسے کھلا بیان کرتا ہے کہ یار لوگوں کو موبائل فون کا استعمال ممنوع قرار دینا پڑا اور مزید یہ کہ بعضے تو موبائل فون داخلی دروازے پہ ہی ضبط کر لیتے ہیں۔

اسی موبائل کیمرے کی کارستانی کا شکار ایک ایسا ہی بصری فیتہ (ویڈیو کلپ) پچھلے دنوں موبائل سکرینوں کی رونق بنا، جس میں ایک گدھا (حقیقتاً چار ٹانگوں والا گدھا) ایک دوسرے زخمی گدھے کی سڑک پار کرنے میں مدد کر رہا ہوتا ہے۔ یار لوگ تو جیسے اسی کے منتظر بیٹھے تھے کہ وہ غل پڑا کہ الامان الحفیظ۔ انسانوں کے بستے اس معاشرے میں وفاداری کی مثال دینے میں کتا ہی کیا کم تھا جو مدد اور تعاون کی مثال سمجھانے کے لئے اب گدھے کی ضرورت پیش آ گئی۔

کہنے کو چند ثانیوں پہ مشتمل اس ویڈیو کو مزاحیہ ویڈیو کی فہرست میں ڈالا گیا ہے لیکن فی زمانہ مروجہ سماجی اور معاشرتی رویوں کے دیکھتے ہوئے اس ویڈیو کے بھیتر ایک مبہم سا پیغام ہے۔ آج کے دور میں اپنے جیسے دوسرے اشرف المخلوقات کی بے لوث اور کسی مطلب و لالچ کے بغیر مدد کرنے والا بھی ’گدھا‘ ہی کہلاتا ہے۔ سوٹڈ بوٹڈ، اچھے کپڑوں میں ملبوس، سلجھا ہوا، شستہ زباں بولتا، دید لحاظ کرتا دو ٹانگوں والا گدھا۔

دنیا اچھے لوگوں سے ابھی خالی نہیں ہوئی، ایسے نیک فطرت لوگوں کی بدولت ہی اس کار جہاں کا نظام چل رہا ہے۔ جس دن یہ اچھے لوگ بھی ختم ہو گئے اسی دن سے الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ قحط الرجال کے اس دور میں بھی عالم یہ ہے کہ اگر کوئی شریف النفس شخص اپنی فطرت سے مجبور ہو کے مدد کر ہی دے تو اگلا بندہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کا یہ عمل اس نیک بندے کا آخری عمل ہی ثابت ہو۔ پرانی کہاوتیں اب صرف مضامین میں لکھنے کی حد تک ہی اچھی لگتی ہیں کہ بندہ ہی بندے کا دارو ہوتا ہے۔ ایسے ہی موقعوں کے لئے دانائے راز بتاتے ہیں کہ کوشش کریں کہ نیکی کرنے والے کی نیکی یا اچھائی کو اس کی غلطی نہ بننے دیں۔

سب سے اہم کہ محنت سے شاقی نہ ہوتے ہوئے، عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھے ہوئے، حتی الوسع اپنے لئے خود مواقع تلاش کریں۔ ملنے والے مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔ ناصرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کی غرض سے آگے بڑھیں۔ اگر کوئی مدد کو آگے آئے تو مدد کو مدد ہی کی حد تک رکھیں نا کہ وہ مدد اس مدد کرنے والے کے لئے بوجھ بن جائے۔ کیونکہ نفسا نفسی سے بھی آگے بڑھے ہوئے اس معاشرے میں مدد کرنے والے کا مل جانا ہی کم غنیمت نہیں کہ اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ہم نے ایسے افراد معدوم ہونے کی حد تک ختم کر دیے ہیں۔ ترقی اور آگے بڑھنے کے لئے دوسروں کے ساتھ مل کر محنت کرنا اور سب کو اپنی کامیابی میں شامل کرنا ہی حقیقی ترقی ہے وگرنہ اکیلا دوڑنے والا جیت کی اصل خوشی سے محروم ہی رہے گا۔

Facebook Comments HS