کیا اسرائیل خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے؟
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مشرق وسطیٰ کا سرپرائزنگ وزٹ کر کے متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی حکمرانوں سے بھی اہم ملاقات کیں۔ بدھ کے روز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے صدارتی محل میں صدر کا 21 توپوں کی سلامی سے استقبال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے خطہ کے استحکام کو یقینی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا، یہ ملاقات اسرائیل، حماس جنگ کے عواقب سے زیادہ موثر انداز میں نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ تھی جو دراصل مشرق وسطی میں بتدریج سکڑتے امریکی کردار سے پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرنے کا کوشش تھی۔
بعد ازاں پوتن نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پوتن، جنہوں نے یوکرائن کی جنگ کے آغاز کے بعد سے شاذ و نادر ہی روس چھوڑا، دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ملک کے ولی عہد کے ساتھ خاص طور پہ جغرافیائی سیاست بارے کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی دو ماہ سے جاری بمباری کو پوتن نے امریکی ڈپلومیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے، اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے باعث ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔
عالمی طاقتوں کی طرف سے تنازعہ فلسطین بارے سنجیدہ اقدام حماس کی جدوجہد کی کامیابی کا واضح اشارہ ہیں، فلسطین ایشو اب ملکوں اور قوموں کے مابین تنازعہ سے آگے بڑھ کر خانہ جنگی کی حد تک پھیل گیا ہے، جسے زیادہ دیر تک برداشت کرنا اسرائیل کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ خود امریکی ایوان نمائندگان کی قابل لحاظ تعداد کے علاوہ حکمراں ڈیموکریٹ پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کی طرف سے جنگ بندی کے مطالبات سے لگتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے اسرائیلی جارحیت کی اندھی حمایت مغربی معاشروں میں بھی داخلی تقسیم بڑھا رہی ہے۔
ادھر اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز شمالی غزہ میں بمباری کی نئی لہر کے ساتھ زمینی جنگ کو وسعت دے کر بیشتر علاقوں تک پھیلا دیا، اسرائیلی فوج نے جنوبی شہر خان یونس میں جاری شدید لڑائی کو پانچ ہفتوں پہ محیط زمینی جنگ کا سب سے شدید دن قرار دیا۔ منگل کو دیر گئے نئے اعداد و شمار جاری کرنے والی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں 16,200 سے زیادہ شہری شہید جبکہ 42,000 زخمی ہوئے، مرنے والوں میں 70 فیصد خواتین و بچے شامل ہیں، بہت سے لوگ اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے الزام لگایا کہ عسکریت پسند رہائشی علاقوں میں شہریوں کو انسانی ڈھال بناتے ہیں لیکن اسرائیل نے ان فضائی حملوں کی تفصیلی نہیں بتائی جن میں پورے شہر کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے کی جنگ بندی کے دوران 100 سے زائد یرغمالیوں کے بدلے 240 فلسطینیوں کو اسرائیلی قید سے رہائی ملی، اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے منگل کو نیتن یاہو اور جنگی کابینہ کے ساتھ کشیدہ میٹنگ میں ارکان پر شور مچایا اور الزام لگایا کہ ان کے پاس باقی یرغمالیوں کو واپس لانے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
حماس کی شمال میں لڑنے کی مسلسل صلاحیت، جہاں اسرائیل ہفتے پہلے زبردست طاقت کے ساتھ داخل ہوا تھا، اس بات کا اشارہ ہے کہ مزید بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے بغیر حماس کو ختم کرنے کا دعوی مضحکہ خیز ثابت ہو گا، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ میں ان کے 88 فوجی مارے گئے۔ کئی ہفتوں کی بمباری کے بعد بھی، غزہ میں حماس کے سرکردہ رہنما، یحییٰ سنوار، جن کا مقام نامعلوم ہے، گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے پیچیدہ مذاکرات اور متعدد یرغمالیوں کی رہائی مینیج کرنے میں کامیاب رہے۔
یہ جنگ اگرچہ فلسطینی شہریوں کے لیے تباہ کن تھی مگر یہی عربوں کے خلاف اسرائیل کی پچھلی چاروں جنگوں کو گرہن لگا گئی، اس میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کے علاوہ جنگ کے طویل دورانیہ نے عالمی سطح پہ اسرائیلی بربریت اور مظلوم فلسطینوں کی مبنی برحق مزاحمت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا گویا مہیب جنگی مظاہر نے اسرائیل سمیت عالمی طاقتوں کے چنگیزی چہروں سے نقاب الٹ کر فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی اثابت کو دنیائے انسانیت سے منوا لیا۔
امریکہ میں فلسطینی حقوق کے علمبردار کانگریس کی اس قرارداد کی مذمت کر رہے ہیں جو صیہونیت مخالفت کو یہود دشمنی کے مترادف قرار دیتی ہے، جس کا مقصد آزادی اظہار کے حق کو ملتبس کر کے غزہ میں جاری جنگ جرائم سے عوامی توجہ ہٹانا تھا، یہ قرارداد امریکہ اور دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف عوامی ردعمل کو مسترد کرنے کی جسارت تھی۔ قرارداد میں ”دریا سے سمندر تک“ کے نعرے کی مذمت کی گئی، جسے فلسطینی حقوق کے علمبردار تاریخی فلسطین کے حوالہ سے مساوات کی فطری اپیل سمجھتے ہیں، اس کے برعکس امریکی ایوان نمائندگان نے قرارداد میں ان مظاہرین کو فسادی کہا جو گزشتہ ماہ واشنگٹن ڈی سی میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
یو ایس فلسطینی کمیونٹی نیٹ ورک کے منتظم حسام میراجدہ نے بتایا کہ یہ قرارداد فلسطینیوں کے حقوق کے حامیوں پر تعصب کا الزام لگا کر اسرائیلی پالیسیوں پر ان کی تنقید کو نفرت انگیز تقریروں سے منسوب کرنے کی خطرناک کوشش تھی، یہ واقعی بری مثال قائم کر گئی، قرارداد کا مقصد ہماری جدوجہد آزادی کے علاوہ انصاف، امن اور مساوات کے لیے انسانی کوششوں کو ناقابل فہم طور پہ مجرمانہ سرگرمی بنایا گیا۔ امریکی صدر جو بائیڈن سمیت کئی سرکردہ ڈیموکریٹس نے فلسطینی شہریوں پہ اسرائیل کے فوجی حملوں کی ”غیر متزلزل“ حمایت کر کے ڈیموکریٹک نظریہ کی بنیادیں ہلا دیں، تمام عوامی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت جنگ بندی کی حامی ہے لیکن رائے عامہ کے برعکس حکمراں جماعت کی قیادت نے واشنگٹن ڈی سی میں ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے صدر دفتر کے باہر جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف احتجاج کر کے نئی روایت بنا ڈالی، اس موقعہ پہ ڈیموکریٹک کانگریس مین بریڈ شرمین نے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنے والوں کو ”دہشت گردی کا حامی“ کہا۔
جیوش وائس فار پیس ایکشن کے پولیٹیکل ڈائریکٹر بیتھ ملر نے ڈیموکریٹس کی طرف سے جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والے سیاسی کارکنوں پر زبانی حملوں کو قابل رحم، حیران کن اور بڑی سیاسی غلطی قرار دیا۔ اس نے نوٹ کیا کہ رائے عامہ کے جائزوں میں زیادہ تر امریکی بالخصوص ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت غزہ میں جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے۔ گزشتہ ماہ جاری ہونے والے اپسوس سروے میں 68 فیصد رائے دہندگان نے اسرائیل سے جنگ بند کر کے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا، صرف ڈیموکریٹس میں یہ تعداد بڑھ کر 77 فیصد ہو گئی۔
بیتھ ملر کے بقول کانگریس کے ان اراکین کے لیے نہ صرف اسے مسترد کر کے ان لوگوں پر حملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیاسی ہواؤں کا رخ سمجھنے میں ناکام ہیں۔ ڈیموکریٹک پالیسی اور رائے عامہ کے درمیان بڑھتی ہوئی دراڑ اس امر کی غماز ہے کہ سال بعد آنے والے الیکشن میں ڈیموکریٹس کو خاص کر مسلمانوں اور بالعموم نوجوان امریکیوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا، کچھ تجزیہ کار یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں ریپبلکن کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکی جمہوریت کے خاتمہ پہ منتج ہو گی۔
اکتوبر میں، عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک، نے کہا کہ بائیڈن کے لیے عرب امریکی حمایت میں 42 فیصد کمی آئی۔ این بی سی کے حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 34 سال سے کم عمر کے 70 فیصد ووٹرز نے صدر جو بائیڈن کی جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار کو ناپسند کیا، ماہرین کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی وسیع تر رائے دہندگان کے ساتھ خود کو ہم قدم رکھنے میں ناکام رہی، صدر اور وائٹ ہاؤس کو فریق کے طور پہ نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے ساتھ منسلک کرنے کی جسارت نے ڈیموکریٹک ووٹروں کی اکثریت کو مشتعل کر دیا۔
امریکی خارجہ پالیسی شاذ و نادر ہی ووٹرز کے لیے اولین ترجیح ہوتی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں تشدد امریکہ کے جمہوری تمدن کے لیے فیصلہ کن مرحلہ بن گیا، اقوام متحدہ کے کچھ ماہرین نے نسل کشی کے سنگین خطرے بارے خبردار کیا، نہیں لگتا کہ اب سے ایک سال بعد کوئی اسے بھول پائے گا لیکن ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔


